10/08/2023
عمران خان نے بھی تو سائفر لہرایا تھا
ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ عمران خان نے ستائیس مارچ کے جلسے میں سائفر لہرا کر سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی تھی۔ ایسی چولیں اس وقت وجتی ہیں جب آپ اس کے فالورز ہوں جو جلسوں میں کہے کہ اب ممالک پاکستان کو سائفر بھیجتے ہوئے ڈرتے ہیں یا پھر اس کے فالوزر جو کہتے ہیں کہ سائفر گم ہو گیا ہے۔
سائفر ایک مخصوص کوڈنگ ( تاکہ لیک ہو تو کوئی سمجھ نہ پائے ) پہ مشتمل پیغام ہوتا ہے جسے پاکستانی سفیر اپنے ملک کو بھیجتا ہے جس میں آفیشل میٹنگز اور دیگر معلومات ہوتی ہے۔ سائفر روم میں بذریعہ فیکس موصول ہونے والے سائفر کو سگنل کور سے پاکستان آرمی کا حاضر سروس میجر دیکھتا ہے جو سیکورٹی اینڈ کمیونیکشن آفیسر ہوتا ہے۔ سائفر پیپر بھی ایک مخصوص پیپر ہوتا ہے جس پہ نمبرنگ اور کوڈ ہوتے ہیں۔ اسی پہ ڈی کوڈ کر کے پہلی کاپی بنائی جاتی ہے جسے سیکرٹری خارجہ کو بھیجا جاتا ہے۔ ماسٹر کاپی کبھی بھی اس روم سے باہر نہیں جاتی ۔ کاپیوں کو وزیر اعظم ، صدر ، وزیر خارجہ ، سیکرٹری خارجہ ، آرمی چیف ، ڈی جی آئی ایس آئی ، چیف آف جنرل سٹاف موصول کرتے ہیں۔ سات مارچ کو جو سائفر آیا اسے سول حکومت سے دور رکھا گیا ۔ سیکرٹری خارجہ نے یہ سائفر وزیر اعظم ، صدر اور وزیر خارجہ کو نہیں دیا تھا حالانکہ یہ دو گھنٹے میں ہمیشہ وزیر اعظم تک پہنچ جاتا ہے۔ پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ سات مارچ کو سائفر آیا اور گیارہ مارچ کو وزیر اعظم کو علم ہوا۔ یہاں سے گیم سٹارٹ ہوتی ہے۔
عمران خان نے اپنے سب سے بااعتماد ساتھی اعظم خان کو کال کی ۔ انھوں نے کہا کہ آپ سیکرٹری خارجہ کو طلب کریں اور سات مارچ کے سائفر پہ بریفننگ لیں ، میں اس پہ میٹنگ آف منٹس بنا لوں گا۔ یوں اس طرح قانونی دائرے میں رہ کر منٹس آف میٹنگ بنا لیے گئے جو اب سیکرٹ ایکٹ کے تحت نہیں آتے تھے ۔ اس کے بعد حکومت نے ان میٹنگ آف منٹس کو آفیشل کر دیا یعنی پبلک ڈومین میں لے آئے جس کے بعد اسی آفیشل منٹس آف میٹنگز کی کاپی کو عمران خان نے ستائیس مارچ کے جلسے میں لہرایا ۔ عمران خان نے سب کی توقعات کے برعکس ایسا قانونی کھیل کھیلا کہ مقدمہ قوم کے سامنے آ گیا اور یوں عوامی پریشر سے امریکی سفیر سے احتجاج کیا گیا۔
اب اگر کوئی کہتا ہے سائفر گم ہوا تو سائفر تو کیا اس کی ماسٹر کاپی بھی سائفر روم سے باہر آتی ہی نہیں ، وہ حاضر سروس میجر کی نگرانی میں ہوتی ہے۔
اگر سائفر لیک ہوا ہے تو بھی یہ معاملہ سیکورٹی اینڈ کمیونیکشن آفیسر کے سر پہ جاتا ہے ۔
اگر اس بات کی تحقیقات ہوتی ہیں کہ سائفر کیسے لیک ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ سائفر کے مندرجات حقیقت ہیں اور پھر اس متن کے مطابق باجوہ اور پی ڈی ایم کے ان کرداروں کے خلاف کاروائی بھی لازم ہے جو ملکی سازش کے مرتکب ہوئے اور بیرونی آشیرباد پہ ایک منتخب حکومت کو گرانے کا جرم بھی کیا۔ یہ سیدھا سیدھا غداری کا کیس بنتا ہے۔
سائفر لیک ہونے سے ایک بار پھر عمران خان اپنی قوم کی نظروں میں سرخرو ہوئے ہیں ۔ثابت ہوا کہ انھیں پاکستان کے قومی مفادات اور قومی وقار کی حفاظت اور بیرونی غلامی سے انکار پہ سزا دی گئی ۔ کون محب وطن ہے ، کون غدار ۔۔۔ اب قوم کے سامنے حقیقت بے نقاب ہو چکی ہے۔ فخر کریں کہ آپ عمران خان کے فالورز ہیں ۔
تحریر ایم ناصر صدیقی 🔥👍
َہ_رَگ_عمران_خان