30/06/2026
میدانِ کربلا میں جب امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثاروں کو پیاسا شہید کر دیا گیا، تو اس وقت جنابِ سکینہؑ کی عمر مبارک تقریباً 4 سے 5 سال تھی۔ 10 محرم کی شام کو جب خیموں کو آگ لگائی گئی تو یہ معصوم بچی بھی دیگر مستورات کے ساتھ جلتے ہوئے خیموں سے نکلنے پر مجبور ہوئی۔ کربلا سے کوفہ اور پھر کوفہ سے شام (دمشق) کے طویل اور کٹھن سفر میں: اہلِ بیتؑ کی مستورات اور بچوں کو بے کجاوہ اونٹوں پر سوار کیا گیا۔ معصوم سکینہؑ کے کانوں سے بالیاں زبردستی چھینی گئیں جس سے ان کے کان زخمی ہوئے۔ شام کے تپتے ہوئے راستوں اور دربارِ یزید میں آپؑ کو شدید ذہنی و جسمانی اذیتیں دی گئیں اور آپؑ مسلسل اپنے بابا کو یاد کر کے روتی تھیں۔ یزید نے اہلِ بیتِ اطہارؑ کو دمشق کے ایک ایسے ویران زندان (قید خانے) میں رکھا جہاں نہ دھوپ سے بچاؤ کا سایہ تھا اور نہ سردی سے حفاظت کا انتظام۔