11/03/2023
مہنگائی کے اثرات سے کیسے محفوظ رہیں؟
(قسط نمبر 1)
یمین الدین احمد
آج کل ہر طرف مہنگائی کے بہت زیادہ بڑھ جانے کے سبب ہر شخص پریشان نظر آتا ہے۔ کسی بھی محفل میں شرکت کریں تو وہاں ہر کوئی اپنے علم و فہم کے لحاظ سے اس کے اسباب و وجوہات پر تبصرے کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
دنیا میں ہونے والے ہر معاملے میں کچھ اس کے ظاہری اسباب ہوتے ہیں اور کچھ اس کے پیچھے غیبی اسباب بھی ہوتے ہیں۔ میں اس مضمون میں کوشش کروں گا کہ دونوں قسم کے اسباب پر گفتگو ہو جائے اور پڑھنے والے دونوں اسباب کے تناظر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات سے بچنے کا اہتمام کر سکیں۔
ہمارے دین کی تعلیمات اس بارے میں کیا کہتی ہیں؟
سب سے پہلے ہم اپنے دین اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں یہ دیکھ لیتے ہیں کہ وہ کون سے حقیقی یعنی غیبی اسباب ہیں جن کی طرف بالعموم ہماری نگاہ نہیں جاتی اور ہم صرف ظاہری اور طبعی اسباب پر ہی گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ ایک بیمار شخص اپنی بیماری دور کرنے کے لئے دوائیں تو لے رہا ہو لیکن بیماری کے حقیقی اسباب اور عوامل دور کرنے اور پرہیز کرنے سے احتراز کر رہا ہو۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہوکر فرمایا:
"اے مہاجرین کی جماعت! پانچ باتیں ہیں جب تم ان میں مبتلا ہوجاؤ گے، اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ تم اس میں مبتلا ہو، (وہ پانچ باتیں یہ ہیں: پہلی یہ کہ جب کسی قوم میں علانیہ فحش (فسق و فجور اور زناکاری) ہونے لگ جائے، تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں جو ان سے پہلے کے لوگوں میں نہ تھیں۔ دوسری یہ کہ جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ قحط، معاشی تنگی اور اپنے حکمرانوں کی ظلم و زیادتی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تیسری یہ کہ جب لوگ اپنے مالوں کی زکاۃ ادا نہیں کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش کو روک دیتا ہے، اور اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو آسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا۔ چوتھی یہ کہ جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کے عہد و پیمان کو توڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے علاوہ لوگوں میں سے کسی دشمن کو مسلط کردیتا ہے، وہ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے چھین لیتا ہے۔ پانچویں یہ کہ جب ان کے حکمران اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، اور اللہ نے جو نازل کیا ہے اس کو اختیار نہیں کرتے، تو اللہ تعالیٰ ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈال دیتا ہے۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث: 4019)
مندرجہ بالا حدیث کی روشنی میں ہم میں سے ہر شخص خود اس بات کا جائزہ لے کہ مجموعی طور پہ کیا ہم ان پانچوں باتوں میں مبتلا ہو گئے ہیں؟
ان پانچوں چیزوں کو ایک سے دس کے اسکیل پر اپنے معاشرے کے بارے میں خود ہی ریٹنگ کر کے جائزہ لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اور ہم میں سے ہر شخص اپنا اپنا انفرادی جائزہ بھی لے کہ وہ خود اس اسکیل پر کہاں کھڑا ہے؟
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
’’ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! گرانی (مہنگائی) بڑھ گئی ہے، لہٰذا آپ نرخ مقرر فرما دیجیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، (میں نہیں) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا، روزی مہیا کرنے والا ہے، اور میری خواہش ہے کہ میں جب اللہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو (اس لیے میں بھاؤ مقرر کرنے کے حق میں نہیں ہوں)۔‘‘(سنن ابی داود، رقم الحدیث:3451)
حضرت ابو حازم ؒکے پاس کچھ لوگ آئے اور عرض کیا:
’’اے ابو حازم! آپ دیکھ نہیں رہے کہ مہنگائی کس قدر بڑھ گئی ہے؟ ہمیں اِن حالات میں کیا کرنا چاہیے؟ ابو حازم ؒ نے جواب دیا کہ مہنگائی کی وجہ سے تمہیں غم میں ڈالنے والی چیز کیا ہے؟ (اس بات پر یقین رکھو کہ) بے شک وہ ذات جو ہمیں کشادگی والے حالات میں رزق دیتی تھی وہی ذات اب تنگی اور مہنگائی والے حالات میں بھی رزق دے گی (اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، بس اس کی نافرمانی سے بچتے ہوئے اس کی فرمانبرداری میں لگے رہو) ۔ ‘‘
(حلیۃ الاولیاء، ج: ۳، ص:۲۳۹)
حضرت ابو العباس سلمی ؒ کہتے ہیں کہ میں حضرت بشر بن حارث کو یہ فرماتے ہوئے سنا :
’’إِذَا اہْتَمَمْتَ لِغَلَاءِ السِّعْرِ، فَاذْکُرِ الْمَـوْتَ، فَإِنَّہٗ یُذْہِبُ عَنْکَ ہَمَّ الْغَلَاءِ۔‘‘ (حلیۃ الاولیاء، ج: ۸، ص:۳۴۷)
’’جب تمہیں مہنگائی کا حد سے بڑھ جانا فکر میں ڈالے تو تم اپنی موت کو یاد کر لیا کرو، یہ (موت کا غم اور فکر) تم سے مہنگائی کی فکر کو دور کر دے گا۔‘‘
مولانا یوسف کاندھلوی صاحبؒ کے زمانے کا قصہ ہے کہ ان کے زمانے میں مہنگائی بہت بڑھ گئی، کچھ لوگ مولانا کے پاس آئے اور مہنگائی کی شکایت کی اور کہا کہ کیا ہم حکومت کے سامنے مظاہرے کرکے اپنی بات پیش کریں؟
حضرت ؒنے ان سے فرمایا : مظاہرے کرنا اہلِ باطل کا طریقہ ہے۔
پھر سمجھایا کہ دیکھو! انسان اور چیزیں، دونوں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ترازو کے دو پلڑوں کی طرح ہیں، جب انسان کی قیمت اللہ تعالیٰ کے یہاں ایمان اور اس کے اعمالِ صالحہ کی وجہ سے بڑھ جاتی ہے تو چیزوں کی قیمت والا پلڑا خودبخود ہلکا ہوکر اُوپر اٹھ جاتا ہے اور معیشت کھل جاتی ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی میں کمی آجاتی ہے۔ اور جب انسان کی قیمت اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کے گناہوں اور معصیتوں کی کثرت کی وجہ سے کم ہوجاتی ہے تو چیزوں والا پلڑا وزنی ہوجاتا ہے اور معیشت تنگ ہوجاتی ہے جس سے چیزوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، لہٰذا ! تم پر ایمان اور اعمالِ صالحہ کی محنت ضروری ہے، تاکہ اللہ سبحانه و تعالیٰ کے یہاں تمہاری قیمت بڑھ جائے اور چیزوں کی قیمت گرجائے۔
پھر فرمایا: لوگ فقر سے ڈراتے ہیں، حالانکہ یہ شیطان کا کام ہے: ’’اَلشَّیْطَانُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ‘‘
اس لیے تم لوگ جانے انجانے میں شیطانی لشکر میں شامل نہ ہو اور اس کے ساتھی مت بنو۔ اللہ کی قسم ! اگر کسی کی روزی سمندر کی گہرائیوں میں کسی بند پتھر میں بھی ہوگی تو وہ پھٹے گا اور اس کا رزق اس کو پہنچ کر رہے گا۔ مہنگائی اُس رزق کو روک نہیں سکتی جو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ نے لکھ دی ہے۔
اس واقعے سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلے تو ہم اللہ تعالٰی سے اپنا معاملہ سیدھا کرلیں، یعنی:
فرائض کا اہتمام کریں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّتوں کو سامنے رکھ کر زندگی گزاریں، کبیرہ گناہوں، حرام اور منکرات سے اپنے آپ کو بچائیں، تو ان شاء اللہ جب اللہ سے معاملہ سیدھا ہو جائے گا تو ہمارے حالات کے درست ہونے کی ترتیب بھی بن جائے گی۔
یمین الدین احمد
11 مارچ 2023
کراچی، پاکستان۔