24/09/2026
یا رسول اللہ ﷺ دنیا نے بہت ستایا ہے،
بہت رُلایا ہے، بہت کچھ برداشت کروایا ہے۔
دل بار بار ٹوٹا، اپنوں نے بھی آزمایا اور غیروں نے بھی۔
کبھی کسی کے رویّے نے دکھ دیا، کبھی حالات نے۔
اب یہ دل دنیا کی تلخیوں سے تھک چکا ہے…
نہ کہیں دل لگتا ہے، نہ کسی چیز میں پہلے جیسا سکون ملتا ہے۔
اب بس مدینے کی یاد آتی ہے…
میرے آقا ﷺ، اب تو بلا لیجیے۔
اس تھکے ہوئے دل کو مدینے کی گلیوں کی ٹھنڈی ہوا چاہیے،
ان آنکھوں کو گنبدِ خضراء کا دیدار چاہیے،
اور اس بے قرار دل کو اُس شہر کا سکون چاہیے
جس کی ہر فضا آپ ﷺ کی نسبت سے مہکتی ہے،
جہاں ہر سمت آپ ﷺ کا ذکر سنائی دیتا ہے۔
یا اللہ! ہم جانتے ہیں کہ ہم اس قابل نہیں۔
ہمارے اعمال کمزور ہیں، ہماری اوقات کچھ بھی نہیں۔
مگر تیرے محبوب ﷺ کی نسبت سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔
ہمیں وہ دن دکھا دے
جب ہم مدینۂ منورہ کی پاکیزہ فضا میں کھڑے ہوں،
لبوں پر درود و سلام ہو، آنکھوں میں آنسو ہوں،
اور دل بے اختیار کہہ اٹھے:
الحمدللہ… آخرکار بلاوا آ ہی گیا۔
اگر حضور ﷺ کا کرم شاملِ حال ہو جائے
تو ہماری کمزوریاں نہیں، تیرا کرم دیکھا جائے گا۔
بس ایک بار وہ حاضری نصیب ہو جائے،
ایک بار مدینے کی گلیوں میں قدم پڑ جائے،