29/10/2024
بیٹی کو یونیفارم پہناتے ہوئے اچانک نگاہ پڑی کہ قمیص کا نیچے والا بٹن ٹوٹ چکا ہے دوبارہ ٹانکنا پڑے گا ، وقت کی کمی کا سوچتے ہوئے جلدی سے اوپر والا بٹن جونہی بند کیا تو یہ کیا۔۔؟؟؟ نیچے والے کو وہ ڈھانپ چکا تھا اور بلکل بھی اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ یہ بٹن ٹوٹا ہوا ہے۔ یعنی میں اسکے اسکول سے آنے کے بعد سکون سے یہ کام کر لوں تو بھی مضائقہ نہیں (مسکراہٹ)
یہ تھی تو چھوٹی سی بات لیکن کیا آپ جانتے ہیں ہماری زندگی اور ہمارے گھروں میں بڑوں کی مثال اوپر والے بٹن کی سی ہی ہے۔ اگر وہ اچھے اور سمجھدار ہوں تو وہ رشتوں کو یونہی ڈھانپ کر رکھتے ہیں کہ چھوٹوں کی اونچ نیچ اور غلطیاں اپنے سائے میں چھپا کر رشتوں کو جوڑے رکھتے ہیں ۔ وقتا فوقتا انہیں سمجھاتے اور اصلاح کرتے رہتے ہیں لیکن معاشرے کے سامنے انکا پھٹا ہوا اور ٹوٹا ہوا پہلو نمایاں نہیں ہونے دیتے۔
کوشش کریں مستقبل میں آپکا شمار بھی ان سمجھدار بڑوں میں ہو کہ جنکا ہونا گھر کے لیے باعثِ رحمت و سکون ہوتا ہے۔۔
سلامت رہیں۔۔
زینب بلال
۲۹۔۱۰۔۲۰۲۴