Signature Grafix

Signature Grafix An effort to make people’s lives more proficient, rewarding and motivating.

13/01/2024

Google Chrome has more than 189,633 extensions

98% of people don't know the best among them

Here are 10 extensions to become 10x more efficient:

1. Save Image as Type

Change how you want to save images

🔗drp. li/8thJa

2. Mailtrack

Check who opened your email

🔗drp .li/gUswy

4. Dark Reader

Turn off the Screen lights

🔗drp .li/a1SFZ

5. Saima

AI based video speed controller

🔗drp. li/lJSlC

6. AIPRM for ChatGPT

Best for ChatGPT Prompts

🔗drp. li/2jqar

7. Textcortex

Fully Customizable AI Assistant

🔗drp. li/VhqYE

8. Buster

Skip the headaches with captchas

🔗drp .li/kmKEl

9. Smarbird Ai

Write comments Quickly with AI

🔗drp. li/Pvf2v

10. Textblaze

Writing shortcuts to speed up typing

🔗drp .li/yjXaw

07/11/2023

*کیا آپ ان سات سوالوں کے جواب جانتے ہیں؟*

*سوال نمبر1*
جنت کہاں ہے؟
جواب:
جنت ساتوں آسمانوں کے اوپر ساتوں آسمانوں سے جدا ہے،
کیونکہ ساتوں آسمان قیامت کے وقت فنا اور ختم ہونے والے ہیں،
جبکہ جنت کو فنا نہیں ہے،
وہ ہمیشہ رہے گی،
جنت کی چهت عرش رحمن ہے.

*سوال نمبر 2:*
جہنم کہاں ہے؟
جواب:
جہنم ساتوں زمین کے نیچے ایسی جگہ ہے
جس کا نام "سجین" ہے.
جہنم جنت کے بازو میں نہیں ہے،جیسا کہ بعض لوگ سوچتے ہیں.
جس زمین پر ہم رہتے ہیں
یہ پہلی زمین ہے،
اس کے علاوہ چھ زمینیں اور ہیں
جو ہماری زمین کے نیچے ہماری زمین سے علیحدہ اور جدا ہیں.

*سوال نمبر 3:*
سدر ة المنتهی کیا ہے؟
جواب:
سدرة عربی میں بیری /اور بیری کے درخت کو کہتے ہیں،
المنتہی یعنی آخری حد،
یہ بیری کا درخت وہ آخری مقام ہے
جو مخلوقات کی حد ہے.
اس سے آگے حضرت جبرئیل بهی نہیں جا پاتے ہیں.
سدرة المنتهی ایک عظیم الشان درخت ہے،
اس کی جڑیں چهٹے آسمان میں
اور اونچائیاں ساتویں آسمان سے بھی بلند ہیں،
اس کے پتے ہاتهی کے کان جتنے
اور پهل بڑے گهڑے جیسے ہیں،
اس پر سنہری تتلیاں منڈلاتی ہیں ،
یہ درخت جنت سے باہر ہے.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کو اسی درخت کے پاس ان کی اصل صورت میں دوسری مرتبہ دیکھا تها،
جبکہ آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں پہلی مرتبہ اپنی اصل صورت میں مکہ مکرمہ میں مقام اجیاد پر دیکها تها.

*سوال نمبر 4:*
حورعین کون ہیں؟
جواب:
حور عین جنت میں مومنین کی بیویاں ہوں گی،
یہ نہ انسان ہیں نہ جن ہیں اور نہ ہی فرشتہ ہیں،
اللہ تعالیٰ نے انہیں مستقل پیدا کیا ہے،
یہ اتنی خوبصورت ہیں کہ اگر دنیا میں ان میں سے کسی ایک کی محض جھلک دکھائی دے جائے،
تو مشرق اور مغرب کے درمیان روشنی ہو جائے.
حور عربی زبان کا لفظ ہے ،
اور حوراء کی جمع ہے،
اس کے معنی ایسی آنکھ جس کی پتلیاں نہایت سیاه ہوں اور اس کے اطراف نہایت سفید ہوں.
اور عین عربی میں عیناء کی جمع ہے
اس کے معنی ہیں بڑی بڑی آنکھوں والی.

*سوال 5:*
ولدان مخلدون کون ہیں؟
جواب:
یہ اہل جنت کے خادم ہیں،
یہ بهی انسان یا جن یا فرشتے نہیں ہیں،
انہیں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کی خدمت کے لئے مستقل پیدا کیا ہے،
یہ ہمیشہ ایک ہی عمر کے یعنی بچے ہی رہیں گے،
اس لیے انہیں "الولدان المخلدون" کہا جاتا ہے.
سب سے کم درجہ کے جنتی کو
دس ہزار ولدان مخلدون عطا ہوں گے.

*سوال نمبر 6:*
اعراف کیا ہے؟
جواب:
جنت کی چوڑی فصیل کو اعراف کہتے ہیں.
اس پر وہ لوگ ہوں گے
جن کے نیک اعمال اور برائیاں دونوں برابر ہوں گی،
ایک لمبے عرصہ تک وہ اس پر رہیں گے
اور اللہ سے امید رکهیں گے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی جنت میں داخل کردے.
انہیں وہاں بهی کهانے پینے کے لیے دیا جائے گا،
پهر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے جنت میں داخل کردےگا.

*سوال نمبر 7:*
قیامت کے دن کی مقدار اور لمبائی کتنی ہے؟
جواب:
پچاس ہزار سال كے برابر.

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
*تعرج الملئكة و الروح اليه في يوم كان مقداره خمسين الف سنة.*

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
"قیامت کے پچاس موقف ہیں، اور ہر موقف ایک ہزار سال کا ہو گا."

جب آیت
*"یوم تبدل الأرض غیر الأرض و السماوات"*
نازل ہوئی
تو
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ
"یا رسول اللہ جب یہ زمین و آسمان بدل دئیے جائیں گے تب ہم کہاں ہوں گے"؟

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"تب ہم پل صراط پر ہوں گے.
پل صراط پر سے جب گزر ہوگا
اس وقت صرف تین جگہیں ہوں گی
1.جہنم
2.جنت
3.پل صراط"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
"سب سے پہلے میں اور میرے امتی پل صراط کو طے کریں گے."

*پل صراط کی تفصیل*

قیامت میں جب موجودہ آسمان اور زمین بدل دئے جائیں گے
اور پل صراط پر سے گزرنا ہوگا
وہاں صرف دو مقامات ہوں گے
جنت اور جہنم.

جنت تک پہنچنے کے لیے
لازما جہنم کے اوپر سے گزرنا ہوگا.

جہنم کے اوپر ایک پل نصب کیا جائے گا،
اسی کا نام" الصراط "ہے،
اس سے گزر کر جب اس کے پار پہنچیں گے
وہاں جنت کا دروازہ ہوگا،
وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم موجود ہوں گے
اور اہل جنت کا استقبال کریں گے.

یہ پل صراط درج ذیل صفات کا حامل ہو گا:

1- بال سے زیادہ باریک ہوگا.

2- تلوار سے زیادہ تیز ہو گا.

3- سخت اندھیرے میں ہوگا،
اس کے نیچے گہرائیوں میں جہنم بهی نہایت تاریکی میں ہوگی.,
سخت بپهری ہوئی اور غضبناک ہوگی.

4- گناہ گار کے گناہ اس پر سے گزرتے وقت مجسم اس کی پیٹھ پر ہوں گے،
اگر اس کے گناہ زیادہ ہوں گے
تو اس کے بوجھ سے اس کی رفتار ہلکی ہو گی،
اللہ تعالیٰ ہمیں اس صورت سے اپنی پناہ میں رکھے.
اور جو شخص گناہوں سے ہلکا ہوگا
تو اس کی رفتار پل صراط پر تیز ہوگی.

5- اس پل کے اوپر آنکڑے لگے ہوئے ہوں گے
اور نیچے کانٹے لگے ہوں گے
جو قدموں کو زخمی کرکے اسے متاثر کریں گے.
لوگ اپنی بد اعمالیوں کے لحاظ سے اس سے متاثر ہوں گے.

6- جن لوگوں کی بے ایمانی اور بد اعمالیوں کی وجہ سے ان کے پیر پهسل کر وہ جہنم کے گڑهے میں گر رہے ہوں گے
ان کی بلند چیخ پکار سے پل صراط پر دہشت طاری ہو گی.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پل صراط کی دوسری جانب جنت کے دروازے پر کھڑے ہوں گے،

جب تم پل صراط پر پہلا قدم رکھ رہے ہوگے
آپ صلی اللہ علیہ و سلم تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے کہیں گے"
یا رب سلم، یا رب سلم"

آپ بهی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے درود پڑهئے:
اللهم صل وسلم على الحبيب محمد.
لوگ اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے بہت سوں کو پل صراط سے گرتا ہوا دیکھیں گے
اور بہت سوں کو دیکھیں گے
کہ وہ اس سے نجات پا گئے ہیں.
بندہ اپنے والدین کو پل صراط پر دیکهے گا
لیکن ان کی کوئی فکر نہیں کرےگا،
وہاں تو بس ایک ہی فکر ہو گی کہ کسی طرح خود پار ہو جائے.

روایت میں ہے کہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا قیامت کو یاد کر کے رونے لگیں،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا:
عائشہ کیا بات ہے؟

حضرت عائشہ نے فرمایا: مجهے قیامت یاد آگئی،
یا رسول اللہ کیا ہم وہاں اپنے والدین کو یاد رکهیں گے؟
کیا وہاں ہم اپنے محبوب لوگوں کو یاد رکھیں گے؟

آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
ہاں یاد رکھیں گے،
لیکن وہاں تین مقامات ایسے ہوں گے
جہاں کوئی یاد نہیں رہے گا(1) جب کسی کے اعمال تولے جائیں گے
(2) جب نامہ اعمال دیئے جائیں گے
(3) جب پل صراط پر ہوں گے.

دنیاوی فتنوں کے مقابلے میں حق پر جمے رہو.
دنیاوی فتنے تو سراب ہیں.
ان کے مقابلہ میں ہمیں مجاہدہ کرنا چاہیے،
اور ہر ایک کو دوسرے کی جنت حاصل کرنے پر مدد کرنا چاہئے
جس کی وسعت آسمانوں اور زمین سے بهی بڑهی ہوئی ہے.

اس پیغام کو آگے بڑهاتے ہوئے صدقہ جاریہ کی نیت کرنا نہ بهولیں.

یا اللہ ہمیں ان خوش نصیبوں میں کردیجئے
جو پل صراط کو آسانی سے پار کر لیں گے.

اے پروردگار ہمارے لئے حسن خاتمہ کا فیصلہ فرمائیے. آمین

اس تفصیل کے بعد بھی کیا گمان ہے کہ
وہاں کوئی رشتہ داریاں نبھائے گا،
جس کے لئے تم یہاں اپنے اعمال برباد کر رہے ہو؟

مخلوق کے بجائے خالق کی فکر کرو.
اپنے نفس کی فکر کرو
کتنی عمر گزر چکی ہے اور کتنی باقی ہے
کیا اب بهی لا پرواہی اور عیش کی گنجائش ہے؟


یااللہ اس تحریر کو میری جانب سے بهی او ر جو بهی اس کو عام کرنے میں مدد کرے سب کے لئے اس کو صدقہ جاریہ بنادیجئے آمین.

15/07/2023

ہجرت کریں
کشتیوں میں ڈوب کر نہیں بلکہ باعزت طریقے سے
Digital Nomad Visa
ویزہ لے کر
اگر آپ فری لانسنگ کر رہے ہیں یا آئ ٹی کی کسی بھی فیلڈ میں دو ہزار ڈالرز ماہانہ کی ویلیو کی بیرونی ممالک کو سروسز دے رہے ہیں تو اس وقت دنیا کے ساٹھ 60 ممالک آپ کو اپنے ملک کا
Digital Nomad Visa
آفر کر رہے ہیں
کون کون سے ممالک ؟
کمنٹس میں دیکھیں

اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰٮهُمُ الْمَلٰۤٮِٕكَةُ ظَالِمِىْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْۗ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِىْ الْاَرْضِۗ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِيْهَاۗ فَاُولٰۤٮِٕكَ مَأْوٰٮهُمْ جَهَـنَّمُۗ وَسَاۤءَتْ مَصِيْرًا

جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے اُن کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور و مجبور تھے فرشتوں نے کہا، کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے
دنیا میں کون کون سے ممالک آپ کو
Digital Nomad Visa
دے رہے ہیں کمنٹس میں دیکھیں

ۙشیئر کریں یا کاپی پیسٹ
یہ پیغام لوگوں تک پہنچائیں

18/06/2023

. خوشحالی کی دستک

نیکی موٹو کوکی چی ایک جاپانی کاروباری آدمی تھا. اس نے 1885 میں پہلی بار پتہ چلایا کہ کہ سیپ میں موتی کس طرح بنتا ہے. اس نے جانا کہ جب کسی حادثہ کے نتیجہ میں کوئی ریت کا ذرہ یا کسی دوسرے جانور کا کوئی ٹوٹا ہوا حصہ سیپ کے گوشت والے حصہ میں داخل ہوجاتا ہے تو سیپ کو بہت الجھن اور خارش کا احساس ہوتا ہے. اس خارش سے بچنے کیلیے وہ خودکار طریقے سے اسی مادہ کی تہیں اس ریت کے ذرے گرد بنانا شروع کردیتا ہے جس سے اس کا باہری شیل بنا ہوتا ہے.

تہہ در تہہ کیلشیم کے مرکبات سالہا سال میں اس ریت کے پرچڑھتے رہتے ہیں تاوقتیکہ وہ ایک موتی کی شکل اختیار کر لیتا ہے. اس جانکاری کے بعد نی کی موٹو نے مصنوعی طورپر ریت کے ذرے کی جگہ سیپ کے جسم کا ہی دوسرا حصہ اس کے گوشت میں داخل کرنے کے تجربات کیے. اور کچھ ہی عرصہ میں وہ مصنوعی طریقے سے پیدا کردہ اصل موتی جسے کلچرڈ پرل کا نام دیا گیا حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا.

اس کامیابی کے بعد اس نے کلچرڈ موتیوں کا پہلا فارم بنایا. اور یوں جاپان میں اس صنعت کی بنیاد پڑی. جو 1930 تک جاپان کے سارے مشرقی ساحلی علاقوں تک پھیل چکی تھی. 1944 میں جب امریکہ نے جاپان پر ایٹمی حملے کئے تو جاپانی صنعت اور معیشت بالکل ختم ہوکر رہ گئی. بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ ان حملوں کے بعد اگلے پندرہ سال تک جاپان کی معیشت کا سارا بوجھ صرف اور صرف ان موتیوں کی صنعت نے اٹھایا. آج جاپان دنیا میں موتی سپلائی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے. اس وقت جاپانیوں کے سیپ فارمز میں پالے جانے والے سیپ کی تعداد اربوں میں ہے. سن 2018 میں انہوں نے لگ بھگ دوسو ارب روپے کے موتی ساری دنیا کو سپلائی کیے.

جاپان کی دیکھا دیکھی خطے کے سبھی ملکوں بشمول تھائی لینڈ، ویت نام، منیلا بھارت، انڈونیشیا، ملیشیا یہاں تک کہ میانمار میں بھی کلچرڈ پرل کی فارمنگ کی جاتی ہے. چین نے بہت بڑے پیمانے پر اس کو شروع کردیا ہے. بدقسمتی سے پورے خطہ میں فقط ہم پاکستانی ہیں جو ہر فکر سے آزاد خواب مست کے مزے لوٹ رہے ہیں.

اور اس خطے سے باہر آسٹریلیا، امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک سالانہ اربوں ڈالر اس صنعت سے کمارہے ہیں. آسٹریلیا کے ساحل پر پائے جانے والے سیپ خاص طور پر بڑے سائز کے موتی بنانے میں شہرت رکھتے ہیں. وہاں اس کام میں لوگوں کے شوق کا یہ عالم ہے کہ سمندر سے سیپ پکڑنے کیلیے باقاعدہ لائسنسنگ سسٹم کا اجراء کرنا پڑا تاکہ سمندر میں ان کی آبادی خطرہ کا شکار ہی نہ ہو جائے.

آجکل جنیٹک انجینئرنگ کی مدد سے سیپ میں جینیاتی تبدیلیوں سے اپنی مرضی کے رنگوں کے موتی بھی تیار کیے جاتے ہیں. جن کی قیمت ظاہر ہے کہ عام موتیوں سے بہت زیادہ ہوتی ہے. بطور خاص نیلے رنگ کے موتی بہت قیمتی تصور کیے جاتے ہیں. حال ہی میں کالے رنگ کے موتی بنانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا جس کی پہلی کھیپ لاکھوں ڈالر میں نیلام ہوئی.

موتی کیلیے سیپ کو مصنوعی طریقے سے سینچنے کے عمل کو پرل گرافٹنگ کہتے ہیں. یہ ایک انتہائی آسان عمل ہے. سیپ کو کچھ دیر کیلیے نیم گرم پانی میں رکھا جاتا ہے جس سے اس کے اعضاء کھل جاتے ہیں. اس کے بعد کسی دوسرے سیپ سے حاصل کیے گئے چھوٹے سے ٹکڑے کو ایک چاقو جیسے اوزار کی مدد سے چھوٹا سا کٹ لگا کر سیپ کے بدن میں داخل کردیا جاتا ہے. میرے خیال میں یہ بچوں کے ختنے کرنے سے بھی کہیں آسان کام ہے جو کہ لاکھوں لوگ اس ملک میں بغیر کسی ڈگری کے انجام دے رہے ہیں.

ذرا تصور کریں. پاکستان کا ہزاروں کلومیٹر لمبا ساحل سمندر، سارے ساحل کے ساتھ ساتھ پرل فارمنگ ہوئی ہو تو کتنے لوگ برسر روزگار ہوں اور کتنا زر مبادلہ کمائیں. ایف ایس سی میڈیکل کرنے والے لاکھوں بچے ہر سال جو میرٹ نہ ہونے کی وجہ سے میڈیکل کالج میں نہیں جاسکتے ان کیلئے کوئی بی ایس سی پرل فارمنگ کا سلیبس بناکر یونیورسٹیز میں کورسز کروا دیے جائیں.

بالکل چھوٹا سا ایک آپریشن ہے، دس بیس لوگوں کو جاپان، یا چین سے تربیت دلواکر ان یونیورسٹیز میں تربیت پر معمور کردیا جائے. سرمایہ دار لوگ تو کاروبار کے متلاشی ہیں. ہنر مند تیار کریں. لوگوں کی راہنمائی کریں. سب شوق اور لگن سے کام کریں. دیکھیں دس بیس سالوں میں علاقہ بھر کی کایا پلٹتی ہے یا نہیں.

( ابنِ فاضل)

09/06/2023

"آم کی گٹھلی کا مکھن"
پاکستان میں اوسطاً سالانہ پندرہ لاکھ ٹن آم پیدا ہوتے ہیں . ان میں سے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ ٹن آم برآمد کیئے جاتے . باقی ہم وطن عزیز میں استعمال کرتے ہیں . آم میں ،اس کی قسم کے مطابق، بحساب وزن بیس سے چالیس فیصد تک گٹھلی ہوتی ہے. اگر اوسطاً پچیس فیصد بھی گٹھلی ہو تو تیرہ لاکھ ٹن آموں سے تین لاکھ ٹن سے زائد گٹھلیاں نکلتی ہیں جنہیں ہم کچرے میں پھینک دیتے ہیں.
جب ہم کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے ارد گرد ہر شے پر غور کرنا چاہیے، تو اس کا یہی مطلب ہوتا ہے اپنے ارد گرد چھوٹی سے چھوٹی شے پر اس کی ساخت پر ، اس کے اجزاء ترکیبی پر ، اس کے ممکنہ استعمال اور بنی نوع کے لیے اس کی افادیت پر غور و تحقیق کرنا چاہیے.
اب دیکھیں ہم دہائیوں سے آم کھا رہے ہیں اور گٹھلیاں کچرے میں پھینک رہے ہیں. آج تک ہمارے کسی دانا، کسی حکیم یا کسی خوراک سے متعلقہ سائنسدان یا پروفیسر نے اس پر سوال نہیں اٹھایا کہ اس گٹھلی یا اس کے اندر موجود گری کی کیا کمپوزیشن ہے یا اس سے انسانوں کو کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں. اور آخر کار ہمیں ہمارے آم سے نکلنے والی گٹھلی میں موجود گری کی کیمیائی ساخت اور افادیت و اہمیت کی بابت بھی گوروں نے ہی آگاہ کیا.
آم کی گٹھلی سے نکلنے والی گری میں دس سے بارہ فیصد ایک طرح کا مکھن ہوتا ہی جس کی کیمیائی ساخت کوکا بٹر کے قریب ہے. کوکا بٹر کوکا پھلیوں سے نکلنے والے اس مکھن کو کہتے ہیں جسے بہترین چاکلیٹ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے. کوکا مکھن کی تھوک میں عالمی منڈی میں قیمت پاکستانی روپوں میں گیارہ سو روپے فی کلو گرام ہے. جب کہ واقفان حال کا کہنا ہے کہ آم کی گٹھلی سے نکلنے والے مکھن کی خوشبو کوکا بٹر سے بھی بہتر ہوتی ہے.
اس کے علاوہ آم کی گٹھلی سے نکلنے والے مکھن میں موجود مختلف اقسام کے تیل اور مائکرو نیوٹرینٹس انسانی جلد اور بالوں کے لیے انتہائی مفید ہیں. اس مکھن میں سے عمل تخلیص کے ذریعے ایک تیل بھی نکالا جاتا ہے. یہ تیل کھانوں اور ادویات میں استعمال ہوتا ہے. اسے مینگو سیڈ آئل کہتے ہیں. اس کی قیمت قریب پانچ ہزار روپے پاکستانی فی کلو گرام ہوتی یے. جبکہ تیل کے بعد بچ رہا پھوک بہترین گلوٹن فری آٹا ہے. جسےہم گندم کے آٹے میں مکس کر کے کھا بھی سکتے ہیں. اگر کسی وجہ سے انسانی خوراک میں نہ بھی شامل کرنا چاہیں تو مرغیوں یا گائے بھینسوں کی خوراک میں مکئی کے بہترین نعم البدل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے.
اندازہ لگائیں کہ اگر تیرہ لاکھ ٹن آم سالانہ جو ہم کھاتے ہیں اس کی گٹھلیاں ہم گھروں کی چھت ہر اکٹھا کرتے جائیں اور کسی گٹھلیاں جمع کرنے والے کو دے دیں تو سالانہ سوا تین لاکھ ٹن گٹھلیاں جمع ہوسکتی ہیں. گٹھلی میں گری کی مقدار اوسطاً آدھی ہوتی ہے. اس حساب سے ہم سالانہ ڈیڑھ لاکھ ٹن سے زائد گری جمع کرسکتے ہیں. اس ڈیڑھ لاکھ ٹن گری سے بحساب دس فیصد پندرہ ہزار ٹن آم کی گری کا مکھن حاصل ہوگا.
اس مکھن کی کم سے کم قیمت (ایمزون پر 200 گرام کا پیک 20 ڈالر کا فروخت ہورہا ہے.). کوکا بٹر سے آدھی بھی لگائیں تو یہ قریب آٹھ ارب روپے بنتے ہیں. جبکہ تیل نکالنے کے بعد کا آٹا بحساب تیس روپے بھی لگائیں تو چار ارب کا ہوگا. اسی طرح صرف ایک بیکار ترین نظر آنے والی شے سے ہم سالانہ بارہ ارب روپے کے وسائل مہیا کرسکتے ہیں. اور بارہ ارب روپے کا مطلب ہے چالیس ہزار خاندانوں کی سال بھر پچیس ہزار ماہانہ آمدن.
یہاں یہ بتانا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ بھارت میں بڑے پیمانے پر آم کی گٹھلی سے تیل نکالنے کا کام ہورہا ہے اور وہ اسے دنیا بھر میں برآمد بھی کررہا ہے. حال ہی میں ان کی سرکار نے تیس ہزار ٹن سالانہ مکھن حاصل کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے جو ان کی کل ممکنہ پیداوار کا تیس فیصد ہے.
آم کی گٹھلی کی گری سے مکھن نکالنے کے لیے ہائیڈرالک پریس کی تکنیک سب سے کارآمد ہوتی ہے. ہائیڈرالک پریس سے مکھن نکالنے سے پہلے گری کو خشک کیا جانا چاہیے. ایک چھوٹا سا سولر ڈی ہائیڈریٹر اور کم استطاعت کا ایک ہائیڈرالک آئل ایکسٹریکٹر زیادہ سے زیادہ پانچ سے چھ لاکھ میں بن جائے گا. اس طرح کے ایک سیٹ سے تیس سے ساٹھ کلو روزانہ مکھن حاصل کیا جاسکتا ہے. مطلب ایک ماہ کی پیداوار کی مالیت اس سارے سسٹم کی مالیت سے زیادہ ہوگی.
پھر کہتا ہوں قدرت نے فیاضی میں کمی نہیں کی. ہم نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں. اگر ہم خدا کی تفویض کردہ نعمتوں کا درست استعمال شروع کردیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم خوشحال نہ ہوجائیں.

17/05/2023

عید الاضحی یا عید قربان کی آمد آمد ہے
اگر کوئ دوست یہ کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں تو اس موقعہ سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے
پاکستان میں حلال جانوروں کے گوشت کا استعمال ایک عام سی بات ہے لیکن ذبح کیے جانے والے جانوروں کی آلائشوں کا بہت کم استعمال نظر آتا ہے۔ ان میں جانوروں کی انتڑیاں اور اوجھڑیاں وغیرہ شامل ہیں جو زیادہ تر کوڑے کچرے کے ڈھیروں پر نظر آتی ہیں۔
تاہم ان آلائشوں سے جو کھانے کی اشیا بنا کر برآمد کی جاتی ہیں اس کے بارے میں کم ہی افراد کو معلوم ہے۔
پاکستان میں قائم ایک کمپنی نے ایک قدم مزید آگے بڑھاتے ہوئے جانوروں کی آلائشیں درآمد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ انھیں پراسیس کر کے ان سے تیار کیے جانے والے فوڈ آئٹمز کو برآمد کیا جا سکے۔
پاکستان سے جانوروں کے گوشت کی بیرون ملک برآمد اور غیر ملک سے اندرون ملک گوشت کی درآمد کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔
تاہم اب پاکستان میں کام کرنے والی کسی کمپنی کی جانب سے جانوروں کی آلائشیں درآمد کرکے انھیں پراسیس کرنے کے لیے فیکٹری لگانے کا منصوبہ ایک منفرد کام ہے۔
دی آرگینک میٹ نامی اس کمپنی کا دو فیکٹریاں لگانے کا منصوبہ ہے جس میں سے ایک فیکٹری میں بیرون ملک سے جانوروں کی آلائشوں کو درآمد کر کے انھیں پراسیس کر کے برآمد کیا جائے گا تو دوسری فیکٹری میں مقامی طور پر جانوروں کی آلائشوں کو اکٹھا کر کے انھیں برآمدی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
پاکستان میں یہ کمپنی محدود پیمانے پر آلائشوں کو پراسیس کر کے انھیں بر آمد کرنے کا کاروبار پہلے سے کر رہی ہے تاہم آلائشیں درآمد کرکے انھیں پراسیس کر کے برآمد کرنے کا کام یہ کمپنی اب شروع کرنے جا رہی ہے۔
جانوروں کے جسم کا کوئی حصہ بے مقصد نہیں ہے
دی آرگینک میٹ کمپنی لمیٹڈ کا گوشت اور آلائشیں پراسیس کرنے کا ایک پلانٹ کراچی سے باہر لگا ہوا ہے۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فیصل حسین نے آلائشیں حاصل کرنے، انھیں پراسیس کرنے اور ان کی برآمد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جانوروں کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے کہ جس کا استعمال کھانے اور دوسرے مقاصد کے لیے نہ کیا جا سکے۔
جانور کی گردن تک کی کھال چمڑے کی منصوعات جیسے گارمنٹس، جوتے اور پرس وغیرہ بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ منھ کی کھال کی افریقہ میں بہت بڑی مارکیٹ ہے جو اسے بطور خوراک استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح جانور کی ناک کان تک استعمال ہوتے ہیں۔
اسے س±کھا کر اس سے پاو¿ڈر بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح جانور کی زبان کو بھی بہترین کھانے کے طور پر دنیا بھر میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اسی طرح جانوروں کے جسم سے نکلنے والی انتڑیاں، اوجھڑی اور پتو جھڑی بھی ان میں شامل ہیں، جنھیں ہمارے ہاں اکثر پھینک دیا جاتا ہے لیکن دنیا میں ان سے خوراک تیار کی جاتی ہے۔
آلائشوں کی کتنی قسمیں ہیں؟
جانوروں میں دو قسموں کی آلائشیں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک سرخ آلائشیں ہوتی ہیں اور دوسری سفید آلائشیں کہلاتی ہیں۔
سرخ آلائشوں میں سری پائے، گردے، کلیجی اور پھیپھڑے وغیرہ شامل ہیں تو سفید آلائشوں کا تعلق معدے سے ہوتا ہے جن میں انتڑیاں، اوجھڑی اور پتو جھڑی شامل ہیں۔
فیصل نے بتایا کہ پاکستان میں سرخ آلائشوں یعنی سری پائے، گردے، دل اور کلیجی کا استعمال عام طور پر نظر آتا ہے اور وہ ہمارے کھانوں کا حصہ ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں ملک میں سفید آلائشوں کا نہ تو استعمال کیا جاتا ہے اور نہ ہی وہ ہمارے کھانے کا حصہ ہیں۔ ہمارے ملک میں آنتوں سے ساسیج اور اوجھڑی سے س±وپ بنانے کا رواج نہیں ہے لیکن دنیا میں یہ چیزیں کھانے کا حصہ ہیں اور اس کی عالمی سطح پر طلب بھی ہے۔
آلائشوں سے فوڈ آئٹمز بنانے کا کاروبار
دنیا میں آلائشوں کو پراسیس کر کے ان سے فوڈ آئٹمز بنانے کے کاروبار کی تاریخ ڈیڑھ سو سال پرانی ہے اور دنیا کے مختلف خطوں میں یہ کام ہوتا رہا ہے۔
آلائشوں سے بنے فوڈ آئٹمز کی عالمی تجارت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا میں اس کی تجارت کا حجم ساڑھے آٹھ ارب ڈالر ہے۔ دنیا میں امریکہ سب سے زیادہ اس قسم کے فوڈ آئٹمز برآمد کرتا ہے اور چین ان آئٹمز کو درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔
فیصل نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے ملک شام میں آلائشوں کو پراسیس کرنے کی صنعت بہت مضبوط رہی ہے جو مختلف عرب ممالک سے آلائشیں اکٹھی کر کے ان سے فوڈ آئٹمز تیار کر کے دنیا کے مختلف خطوں میں اس کی برآمد کرتا رہا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ فار ایسٹ یعنی مشرق بعید کے ملکوں میں آلائشوں سے تیار ہونے والی خوراک کی بہت زیادہ طلب ہے اور اسی طلب کو دیکھ کر انھوں نے اس سلسلے میں اس منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔
آلائشیں کیوں درآمد کی جائیں گی؟
فیصل حسین نے بتایا کہ ان کا خاندان اسی برسوں سے جانوروں کے گوشت اور آلائشوں کی پراسیسنگ کے کاروبار سے وابستہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ان کا آبائی پیشہ ہے تو ان کی لیبر کا کام بھی نسلوں سے آلائشیں صاف کرنا ہے۔ آلائشیں جمع کر کے اور ان میں ویلیو ایڈیشن کر کے اسے بر آمد کرتے چلے آئے ہیں۔
آلائشیں ایک ایسی چیز ہے جو پاکستان کے لیے کچرا ہے تاہم دنیا میں یہ ایک بہت بڑا کاروبار ہے۔ فیصل نے بتایا کہ ان کے موجودہ پلانٹ میں روزانہ ڈھائی سو جانور ذبح ہوتے ہیں اور اس کے گوشت اور آلائشوں کو پراسیس کیا جاتا ہے۔
یہ پلانٹ کراچی سے باہر ہے جہاں کراچی سے آلائشیں لا کر پراسیس کرنا مشکل ہے کیونکہ آلائشیں بہت جلد خراب ہو جاتی ہیں۔ اس لیے انھیں جلد سے جلد اکٹھا کر کے پراسیس کرنے کے لیے ان کی کمپنی کراچی کے علاقے کورنگی میں فیکٹری لگا رہی ہے تاکہ آلائشوں کو جمع کر کے کم سے کم وقت میں اس فیکٹری میں پہنچا کر ان کی پراسیسنگ کی جا سکے۔
انھوں نے بتایا کہ آلائشوں کو درآمد کر کے ان کی پراسیسنگ کے لیے ان کی کمپنی ایکسپورٹ پراسیسنگ زون میں ایک فیکٹری لگا رہی ہے تاکہ وہاں ان سے ایسے فوڈ آئٹمز تیار کیے جا سکیں جو عالمی معیار کے مطابق ہوں۔
انھوں نے بتایا کہ آلائشیں یورپ سے منگوانے کی وجہ وہاں کے جانوروں کا بڑا سائز ہے۔
پاکستان میں جو جانور ذبح کیے جاتے ہیں وہ سائز میں یورپین جانوروں سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی آلائشیں بھی چھوٹی ہوتی ہیں۔ 'ہمارے ہاں تین سے چار سو کلو کے جانور کو بڑے سائز کا جانور سمجھتے ہیں لیکن یورپ میں تو جانور کا سائز ہی سات سو کلو سے شروع ہوتا ہے۔
ان کی اوجھڑیاں اور پتوجھڑیاں بھی اسی سائز کی نکلتی ہیں جو اے کیٹیگری کی ہوتی ہیں اور ان سے بنے فوڈ آئٹمز کی دنیا میں بہت زیادہ طلب ہے۔' فیصل نے بتایا کہ ان کی کمپنی ان آلائشوں کو جن میں پتوجھڑی شامل ہے انھیں پراسیس کرے گی اور اس سے تیار کردہ فوڈ آئٹمز برآمد کر دے گی۔
مقامی آلائشیں کیوں زیادہ سود مند نہیں
پاکستان میں ذبح کیے جانے والے جانوروں اور ان کی آلائشوں کو پھینک دینے کے بارے میں فیصل نے کہا کہ آلائشوں کو اگر نہ سنبھالا جائے تو وہ تھوڑے وقت میں خراب ہو جاتی ہیں۔ اگر آلائشوں کو فوراً سنبھال لیا جائے اور اسے مناسب طریقے سے محفوظ کر لیا جائے تو یہ اے کلاس آلائشیں ہوتی ہیں جن سے بننے والی خوراک بھی اعلیٰ معیار کی ہوتی ہے اور اس کی دنیا بھر میں طلب ہے۔
تاہم پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا ہے اور آلائشوں کو محفوظ بنانے میں اتنا وقت گزر جاتا ہے کہ وہ ’بی کلاس‘ آلائشیں بن جاتی ہیں۔
انھوں نے عید قربان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا میں واحد مسلم ملک ہے جہاں جانوروں کو گھروں اور گلی محلوں میں لاکر ذبح کیا جاتا ہے۔ قربانی کے وقت آلائشوں کو سنبھالنے کا کلچر ہمارے ہاں نہیں ہے اس لیے وہ اکثر پھینک دی جاتی ہیں یا خراب ہو جاتی ہیں یا پراسیسنگ تک پہنچنے تک ’بی کلاس‘ کی بن چکی ہوتی ہیں۔
فیصل نے کہا کہ جانور کے ذبح ہونے کے بعد آلائش میں چھ سات گھنٹے تک حرارت رہتی ہے اور اس کے دوران ہی اسے دھو کر صاف کر کے چار ڈگری درجہ حرارت سے کم پر رکھا جائے تو یہ اے کلاس آلائش ہو گی اور اس سے بننے والی غذا بھی اعلیٰ معیار کی ہوتی ہے۔
Thanks to Doctor Khalid Shouq sb

08/12/2022

کچھ عرصہ قبل تک بیگم کی ایک عجیب عادت تھی وہ یہ کہ اسے کوئی چیز چاہیے ہوتی اور میں نہ دلا رہا ہوتا تو وہ یوٹیوب کھول کر اس پراڈکٹ کی ویڈیو لگا دیتی اور آواز اونچی کر دیتی۔ مثال کے طور پر اسے MAC کی مکمل میک اپ کِٹ چاہئیے تھی جو کہ صرف مبلغ ڈھائی لاکھ کی بنتی تھی۔

ایک دن وہ اس کی ویڈیو لگا کر فل والیم میں چلا بیٹھی۔ میں نے اسے کہا کہ یہ کیا دیکھ رہی ہو ؟ جواب آیا:
“ لے نہیں سکتی تو دیکھوں بھی ناں کیا ؟”
پھر اس نے کہنا شروع کیا کہ آپ اگر ملک میں ہوں تو اکثر کام کے سلسلے میں شہر سے باہر دیگر شہروں میں ہوتے ہیں۔ پیچھے سے مجھے گھر کا سودا سلف سبزی وغیرہ لانی پڑ جائے تو مارکیٹ تک پیدل جاتے گرمی میں حشر ہو جاتا ہے۔ اگر ملک سے باہر ہوں تو آپ کی گاڑی مہنگی ہے اور میرے لیے بڑی ہے مجھے چلاتے ڈر لگتا ہے۔ اس لیے مجھے ایک چھوٹی سی منی گاڑی لے دیں۔ مِیرا یا آلٹو ایسی قسم کی کوئی۔۔۔ گلی میں سب خواتین کے پاس چھوٹی گاڑیاں ہیں صرف میرے پاس ہی نہیں ہے۔

جب کہہ کہہ کر تھک گئی تو ایک دن اس نے یوٹیوب پر کار کا ریویو اونچی آواز میں لگا دیا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا دیکھ رہی ہو اتنی اونچی آواز میں ؟ جواب آیا :
“ لے نہیں سکتی تو کیا دیکھوں بھی ناں ؟”
اس دن میں نے سوچا کہ اس حرکت کا توڑ کرنا لازم ہو چکا ہے۔ مجھے یہ معلوم تھا کہ بیگم کی عادت ہے جب وہ مجھے موبائل کی سکرین کے سامنے مسکراتا ہوا دیکھ لے فوری بھاگ کر یہ چیک کرنے آتی ہے کہ مبادا کسی خاتون سے تو چیٹ نہیں کر رہا جو اتنا مسکرا رہا ہوں۔ میں نے گوگل کر کے برائیڈل تصاویر نکالیں۔ دلہنوں کی تصاویر کھول کر میں بیگم کے سامنے بیٹھا مسکراتا دیکھنے لگا۔وہی ہوا، وہ اچانک اٹھی اور میرے سر پر آ پہنچی۔ جب اس نے دلہنوں کی تصاویر دیکھیں تو بولی “ یہ کیا دیکھ رہے ہیں آپ ؟ “
صاحبو اب کے میں نے بڑے اعتماد اور بھاری آواز سے کہا:
“ لے نہیں سکتا تو کیا دیکھوں بھی ناں ؟”
اس دن کے بعد سے تاحال بیگم نہ کوئی ڈیمانڈ کر رہی ہے نہ کچھ دیکھ رہی ہے۔ شائد اس نے تجزیہ کر لیا ہے کہ آلٹو گاڑی ،میک اپ کٹ وغیرہ اتنی بھی ضروری نہیں!!۔۔۔۔

07/12/2022

Blessings of Zamzam Water: ‎The Prophet Muhammad ﷺ said that the best water on the surface of the earth is that of Zamzam. In it there is a food for the hungry and a cure for the ill.

Address

Karachi
75300

Opening Hours

Monday 11:00 - 20:00
Tuesday 11:00 - 20:00
Wednesday 11:00 - 20:00
Thursday 11:00 - 20:00
Friday 11:00 - 20:00
Saturday 11:00 - 20:00
Sunday 11:00 - 20:00

Telephone

03442955027

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Signature Grafix posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share