Aqsa Garmenst

Aqsa Garmenst Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Aqsa Garmenst, Advertising/Marketing, Karachi.

21/04/2026

غیبت اور چغلی الگ چیزیں ہیں:
غیبت: کسی شخص کی غیر موجودگی میں اس کی ایسی بات کرنا جو اگر وہ سن لے تو اسے برا لگے، چاہے بات سچی ہی کیوں نہ ہو۔
چغلی: ایک شخص کی بات دوسرے تک اس نیت سے پہنچانا کہ جھگڑا یا نفرت پیدا ہو۔
مثال:
“وہ بہت سست ہے” پیٹھ پیچھے کہنا غیبت ہو سکتی ہے۔
پھر یہی بات جا کر اس شخص کو بتانا کہ “وہ تمہارے بارے میں یہ کہہ رہا تھا” چغلی ہے۔
اسلام میں دونوں سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے کیونکہ یہ رشتوں اور دلوں کو خراب کرتی ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ اگر کسی میں واقعی کوئی مسئلہ ہو تو اس سے نرمی سے سامنے بات کی جائے، پیٹھ پیچھے نہیں.

19/04/2026

“زندگی” دنیا میں گزارا جانے والا وقت ہے، اور “ایمان” وہ روشنی ہے جو زندگی کو صحیح راستہ دکھاتی ہے۔
ایمان کے بغیر زندگی صرف دن گزارنے کا نام بن جاتی ہے، لیکن ایمان کے ساتھ انسان ہر حال میں اللہ پر بھروسہ، صبر اور اچھائی کے ساتھ جیتا ہے۔
قرآن میں اللہ فرماتا ہے کہ جو ایمان اور نیک عمل کے ساتھ زندگی گزارے گا، اسے پاکیزہ زندگی دی جائے گی۔
یعنی:
“ایمان زندگی کو خوبصورت نہیں، بلکہ بامقصد بناتا ہے

18/04/2026

حرام وہ چیز ہے جسے اللہ اور رسول نے صاف صاف منع فرمایا ہو، اور اس کا کرنا گناہ ہو۔
مثال: شراب پینا، سود لینا، چوری کرنا۔
• ناجائز کا مطلب ہے “درست نہ ہونا” یا “غلط ہونا”۔ بعض ناجائز کام حرام ہوتے ہیں، اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو شریعت یا اخلاق کے خلاف ہوں مگر ان کے لیے “حرام” کا لفظ صاف نہ آیا ہو۔
آسان لفظوں میں:
حرام = جس کی سخت ممانعت ہو۔
ناجائز = جو غلط یا مناسب نہ ہو۔
مثال:
کسی کا حق مارنا حرام بھی ہے اور ناجائز بھی۔
نماز کے وقت کھیل میں لگے رہنا ناجائز ہے، لیکن اگر نماز چھوڑ دی تو وہ حرام ہو گیا۔
یعنی ہر حرام چیز ناجائز ہوتی ہے، لیکن ہر ناجائز چیز ضروری نہیں کہ حرام ہو۔
قرآن میں سود کو حرام کہا گیا ہے، اس لیے وہ صرف ناجائز نہیں بلکہ حرام ہے

17/04/2026

• تقویٰ کا مطلب ہے اللہ سے ڈرتے ہوئے گناہوں سے بچنا اور اُس کی بات ماننا۔
• توکل کا مطلب ہے پوری کوشش کرنے کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا اور اُس پر بھروسہ رکھنا۔
آسان مثال:
اگر امتحان ہے تو:
تقویٰ: نقل نہ کرنا، جھوٹ نہ بولنا، محنت کرنا۔
توکل: پڑھائی کے بعد کہنا: “یا اللہ! اب بہتر فیصلہ تو ہی فرما۔”
یعنی:
تقویٰ = اللہ کی نافرمانی سے بچنا۔
توکل = اللہ پر بھروسہ رکھنا۔
القرآن میں اللہ فرماتا ہے کہ جب مشورہ اور کوشش کر لو تو پھر اللہ پر بھروسہ کرو۔
اور حدیث کا مطلب ہے کہ پہلے اپنی کوشش کرو، پھر اللہ پر بھروسہ رکھو۔
ایک لائن میں:
“تقویٰ راستہ درست رکھتا ہے، اور توکل دل کو سکون دیتا ہے۔”

13/04/2026
07/05/2017

Address

Karachi
74900

Telephone

03003970620

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aqsa Garmenst posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share