29/06/2025
بات ساری ترجیحات کی ہے
جو سب کی اپنی اپنی ہوتی ہیں۔۔کُچھ لوگوں کو یہ تصویر عجیب لگے گی کہ پہلے مکان تو پکا کروا لیتا۔۔۔مگر اُسنے محدود ریسورسز میں کمفرٹ کو خوبصورتی پر ترجیح دے دی۔ اِس عالم میں ریسورسز محدود ہی ہوا کرتے ہیں۔ بار بار چوائس کا مشکل مرحلہ درپیش ہوتا ہے، بار بار ترجیحات متعین کرنا ہوتی ہیں۔۔۔۔کُچھ لوگ پرکھوں کے اثاثے نہیں بیچتے، ساری عمر غربت کاٹتے ہیں، افلاس برداشت کر لیتے ہیں مگر اثاثہ بچائے رکھنا اور اگلی نسل کو سونپ جانا اُنکی ترجیح ہوتی ہے۔۔۔جبکہ کچھ لوگ اثاثے فروخت کر کے بچوں کے مستقبل پر انویسٹ کر دیتے ہیں، بچے ترقی کر جاتے ہیں اور دوبارہ من چاہے اثاثے خرید بھی لیتے ہیں تاہم پرکھوں کے قربان کردہ اثاثے پھر واپس نہیں ملتے، بس حسرت بھری نگاہوں سے اُنہیں دیکھنا ہوتا ہے۔۔۔۔۔آپ دونوں میں سے کسی کو درست یا غلط نہیں کہہ سکتے، بس یہ دو الگ الگ ترجیحات ہیں جو ہر کوئی اپنے معروضی حالات کے تناظر میں اپنے لیئے سیٹ کرتا ہے۔
زندگی کُچھ کھونے اور کُچھ پانے کا نام ہے،
اس عالم میں کبھی وِن وِن صورت حال نہیں ہوتی۔