SAR Creatives

SAR Creatives 🎨Creative graphic designer specializing in unique branding, logo design, and digital art. Let's create something amazing together.🎨

Passionate about bringing your ideas to life with a blend of creativity and precision.

05/08/2026

IEC Shab e Husain | Saturday Aug 8th 2026 | 8:30pm
Please join us with your family InshaAllah

17/07/2026

YA SAAHIB UZ ZAMAAN (as) ADRIKNI

🏴🏴 Exclusive Noha 🏴🏴
Shahadat e Bibi Sakina (sa)

SAKINA (sa) WATAN CHALEIN

Inshallah will be released shortly.

Reciters:
Azadaran-e-Dare Abbas (as)
MUNTAZIR IMAM
SHAKIR ALI KHAN
ALI RAZA

Poet: Mohsin Riaz Mohsin
Composition: Shahid Ali (Haideri Brothers)
Audio & Video: OneTen Productions (Rizwan Zaidi)
Creatives: SAR Creatives (Alamdar Raza)
Special Thanks: Saleem Mastan

Please subscribe to our YouTube Channel :
https://www.youtube.com/

And Follow us on our page for updates : https://facebook.com/DAKarachi110

15/07/2026

*بسم رب شہدا*

*ایسا نہ ہو عمو یہیں مر جائے سکینہ*

ایام شہادت چھوٹی شہزادی کی امد ہے
جب کربلا کے مقتل میں شامِ الم کا اندھیرا پھیلا، تو وہ معصوم شہزادی، جس کے لیے غازی (ع) کا وجود ایک ڈھال تھا، تنہائی کے عالم میں مقتل کی طرف نکل پڑیں۔ وہ منظر کتنا کرب ناک ہوگا جب شہزادی نے اپنے محافظ، حضرت عباس (ع) کے کٹے ہوئے ہاتھوں کو دیکھا۔
ان کے لبوں سے نکلی ہوئی فریاد *"اموں یہیں مر جائے سکینہ (س)"*، صرف ایک جملہ نہیں بلکہ اس معصومہ کی روح کی پکار تھی، جو اپنے بابا امام حسین (ع) کے بعد خود کو بالکل بے سہارا محسوس کر رہی تھی۔ اس نوحے کے اشعار میں وہ درد، اور شمر (لعین) کے ظالمانہ قدموں کی آہٹ کو محسوس کیا جا سکتا ہے، جس نے آلِ رسول (ص) کی حرمتوں کو پامال کرنے کی کوشش کی۔

* **یوٹیوب چینل:**
https://youtube.com/

21/06/2026

.........Releasing Soon.......
جوان بیٹے کی آخری سانسیں، باپ کی بے بسی، اور کربلا کی تپتی ریت...
وہ لمحہ جب شہزادہ علی اکبرؑ نے اپنے بابا کو صدا دی اور مولا حسین ع شہزادہ علی اکبر ع کی طرف بڑھے ۔ ایک طرف دم توڑتا جوان بیٹا، دوسری طرف غموں سے نڈھال باپ۔
کربلا کا یہ درد آج بھی دلوں کو رُلا دیتا ہے۔
"دم توڑتا حسینؑ کا بیٹا بتائے گا"
ایک ایسا نوحہ جو باپ اور بیٹے کی جدائی کے اَن مٹ غم کو آواز دیتا ہے۔ سنیں، اشک بہائیں، اور شہزادۂ کربلا حضرت علی اکبرؑ کے مصائب کو یاد کریں۔

21/06/2026

IEC Kids Workshop | 1st to 9th Muharram InshaAllah

21/06/2026

SAVE The Date Nov 7th 2026 | Shab e Aza | Ayyam e Fatamiya Bibi Syeda Fatima Zahra SA | IEC Husaini

21/06/2026
20/06/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم
جیسے جیسے ایام عزا گزرتے جارہے ہیں اسی طرح گریہ و ماتم کا جوش بھی بڑھتا جارہا ہے ہر دن ایک شہید سے منسوب ہے اور اس کی یاد منائ جارہی ہے، کبھی علی اکبر یاد کبھی قاسم یاد کبھی عون و محمد تو کبھی معصوم چھ ماہ کے علی اصغر کا ماتم۔

سفیر عزا و ولا جناب میر حسن میر صاحب نے گذشتہ برسوں میں جناب علی اصغر کے مصائب پہ مبنی کئ نوحے آپ مومنین کی سماعتوں کو ہدیہ کیئے ہیں جنہیں آپ نے پسند فرمایا اس برس بھی ایک نوحہ حاضر خدمت ہے۔

بعد از شام غریباں جب ظالموں نے ہر اک شہید کا سر کاٹ کے نیزے پہ بلند کیا تو ایسے میں ان ظالموں نے چھ ماہ کے اصغر بے شیر پہ بھی رحم نا کیا اور انکا بھی سر کاٹ کے نوک نیزہ پہ اٹھایا، یہ موضوع اسی روایت سے اخذ کیا گیا ہے کہ جناب علی اصغر اپنی ماں سے کہہ رہے تھے ماں ربابؑ! ذرا نگاہ اٹھا کر دیکھو، تمہارا بیٹا علی اصغرؑ جسے تم نے اپنی آغوش میں جھلایا تھا، آج اس کا سر نیزے کی نوک پر بلند ہے۔ ماں! تم نے مجھے پیاسا رخصت کیا تھا، دیکھو میں اب بھی پیاسا ہوں، مگر بابا حسینؑ کی راہ میں اپنی قربانی پیش کرکے سرخرو ہوگیا ہوں۔ ماں! میرے گلے پر جو تیر چلا تھا، اس کا زخم اب بھی تازہ ہے، اور میرا کٹا ہوا سر تمہاری طرف سے بارگاہ جناب سیدہ میں نذر ہے،اے ماں تم اپنے لعل کا لاشہ بھی نہ دیکھ سکی، اور اب میرا کٹا ہوا سر نیزے کی بلندیوں سے تمہیں صدا دے رہا ہے۔

یہ کللام آج 3 بجکر 6 منٹ پر جناب میر حسن میر کے آفیشل یوٹیوب چینل پر ریلیز کیا جائے گا

https://youtube.com/

پروردگار ہماری کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں مقبول و منظور فرمائے آمین۔

والسلام
ٹیم میر حسن میر

19/06/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
عزاداری امام مظلوم اپنے عروج پہ ہے اور اب وہ قیامت کے دن آگئے ہیں نام حسین سنتے ہی آنکھوں سے اشکوں کی فرات جاری ہوجاتی ہے ہر مومن یاد امام حسین میں مغموم ہے۔

سفیر عزا و ولا میر حسین میر کی جانب سے بعد از عاشورہ بپا ہونے والی قیامت اور آل رسول پہ ڈھائے جانے والے مظالم کے ذکر مصائب پر مبنی نوحہ جات ہمیشہ سے آپ کی سماعتوں کو ہدیہ کیئے جارہے ہیں،
اس برس ایک کلام اپنی نوعیت کا ایک خاص کلام اس لیئے بھی ہے کہ کئ برس بعد نوحہ جات کے سلسلے میں میر حسن میر صاحب نے ادائیگی کے ساتھ ساتھ اپنی شاعری اور طرز نگاری کے جوہر بھی دکھائے ہیں۔

مستند روایات یہ بتاتی ہیں کہ بازارِ شام میں جب اہلِ بیتؑ کا قافلہ داخل ہوا تو ہر طرف شور تھا، ہجوم تھا، تماشائی تھے اور قیدیوں کے درمیان علیؑ و فاطمہؑ کی بیٹی حضرت زینبؑ بھی تھیں۔ وہ زینبؑ جو عصمت و حیا کے ایسے حصار میں پلی بڑھی تھیں کہ ہر نگاہ ان کے احترام میں جھک جاتی تھی۔ مگر آج زمانے کی ستم ظریفی یہ ہے کہ اسی بی بی کو بے پردہ، اسیری کی حالت میں، شور کرتے ہوئے لوگوں کے ہجوم کے درمیان لایا گیا تھا یہ وہ بی بی تھیں جن کے گھر میں گفتگو بھی ادب اور نرمی سے ہوتی تھی، جن کے بابا علیؑ اپنی لختِ جگر سے دھیمی آواز میں بات کرتے تھے، جن کے کانوں نے کبھی بازاروں کا ہنگامہ اور مجمعوں کا شور نہیں سنا تھا۔ آج وہی دخترِ حیدرؑ ایک ایسے بازار میں تھیں جہاں آوازیں بلند تھیں۔

جب بھی بازارِ شام کا ذکر آتا ہے تو دل یہ سوچ کر لرز اٹھتا ہے کہ کائنات کے سب سے پاکیزہ گھرانے کی بیٹی کو ایسے ماحول میں لایا گیا جس کا تصور بھی انہوں نے کبھی نا کیا تھا۔

ہمارا یہ نوحہ اسی روایت کی عکاسی کرتا ہے، امید ہے کہ آپ مومنین اسے پسند فرمائیں گیں۔

یہ کلام آج 3 بجکر 6 منٹ پر جناب میر حسن میر کے آفیشل یوٹیوب چینل پر ریلیز کیا جائے گا

https://youtube.com/

جناب زہرا سلام اللہ علیہ ہماری کاوشیں مقبول فرمائیں آمین

والسلام
ٹیم میر حسن میر

18/06/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ایام عزائے سید الشہدا اپنے عروج پہ ہیں، ہر عزادار جناب سیدہ کو انکے مظلوم لعل کا پرسہ دینے میں مصروف عمل نظر آرہا ہے ہر طرف یاحسین کی صدائیں سنائ دے رہی ہیں اور کربلا کے شہدا کا ماتم جاری ہے۔

سفیر عزا و ولا جناب میر حسن میر ہر برس جناب علئ اکبر کی شہادت کا ایک خاص نوحہ پیش کرتے چلے آرہے ہیں جسے آپ مومنین نے ہر برس پسند فرمایا اور اپنی دعائوں سے نوازا، اسی روایت کے تسلسل میں اس برس کا نوحہ حاضر خدمت ہے۔

روایات میں درج ہے کہ جس وقتِ شہزادہ علی اکبر میدانِ کربلا میں جانے کی اجازت طلب کرنے آئے تو امامؑ نے اپنے جوان فرزند کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا، جس کا چہرہ، گفتار اور کردار رسولِ خداؐ سے مشابہ تھا، امام حسینؑ جانتے تھے کہ علی اکبرؑ کا جانا کبھی واپس نا آنے کے لیئے ہے۔۔
ھائے وہ غربت کا عالم جب ایک باپ اپنے جوان بیٹے سے کہہ رہا تھا کہ بیٹا میرے جیتے جی تم نا جائو اے مرے لخت جگر پہلے ہم مرجائیں تو ہمارا جنازہ تم اٹھانا اے علی اکبر ترے ضعیف باپ سے ترا لاشہ نا اٹھ سکے گا۔۔
مگر اللہ رے صبر حسین ابن علی اپنے جواں پسر کو اپنی آنکھوں کے سامنے ایڑیاں رگڑتے اور اپنے ہاتھوں پہ دم توڑتے دیکھا۔۔

ہمارا نوحہ اسی روایت کے پس منظر میں لکھا گیا ہے امید ہے کہ یہ نوحہ سنکر آپ مومنین کی آنکھیں اشکبار ہوکے امام حسین کو انکے جوان بیٹے کا پرسہ پیش کریں گی۔

یہ کلام آج شام 3 بجکر 6 منٹ پر ریلیز کیا جائے

https://youtube.com/

خداوند ہماری کاوشوں کو مقبول فرمائے۔آمین

والسلام
ٹیم میر حسن میر

Address

D-51 Rizvia Society, Nazimabad #1
Karachi
74600

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SAR Creatives posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share