Sukoon-e-Dil

Sukoon-e-Dil Need Peace please follow this page

﷽*New Eid Collection 2K23**Biggest Eid Collection Offer🔥**New Heavy Embroidery Chiffon Banarsi Customers Huge Demanding ...
12/02/2023


*New Eid Collection 2K23*

*Biggest Eid Collection Offer🔥*
*New Heavy Embroidery Chiffon Banarsi Customers Huge Demanding Collection*

😘 *Trending New Collection*

*2.5 Gaz Net Organza flower Gotta Amazing silicon Lace Dupatta*

*Chiffon Heavy Embroidered With Tilla Heavy Stone nag jaal Demanded Shirt*

*2.5 Gaz Indian Self Masoori Trouser*

*🥳Free FANCY Golden Sitari Khussa sizeS 6 To 10*

*We provide best Rates With Best Quality*

Quality 100% gurranty neat clean Excellent fabric We don't compromise On Quality.....

*6 Colours Available*
*Price super Wholesale 3 piece Dress with Fancy khussa🥳*
*2250*

شبِ جمعہ میں پڑھیں
12/01/2023

شبِ جمعہ میں پڑھیں

04/07/2022
14/04/2022

*سلسلہ نصیحت و اصلاح*

-----------------------------------------

*🌴 خواتین کے اعتکاف کے فضائل اور چند اہم مسائل*۔

ماہ رمضان میں چونکہ مسلمان بھائی بہنوں کی اکثریت نیک اعمال کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور یہی ایک مسلمان کی شان بھی ہے. اسوجہ سے ضروری سمجھا کہ مرد حضرات کے اعتکاف کے مسائل کے ساتھ ساتھ خواتین کے اعتکاف کے مسائل بھی یہاں شئیر کئیے جائیں تاکہ امت مسلمہ کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی دینی مسائل کے سمجھنے میں آسانی ہو یا مرد حضرات بھی انکے مسائل سمجھ کر اپنے گھر کی خواتین کو سمجھا سکیں.

*🍁 فضائل اعتکاف🍁*

🌹 حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی رضا کیلیے ایک دن کا (نفلی) اعتکاف کرتا ہےتو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقوں کو آڑ بنا دیں گے، ایک خندق کی مسافت آسمان و زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے۔

(📚المعجم الاوسط للطبرانی)

*سبحان الله!* ایک دن نفلی اعتکاف کی یہ فضیلت ہے تو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے سنت اعتکاف کی کیا فضیلت ہو گی؟ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو رمضان کی مبارک گھڑیوں میں اعتکاف کرتے ہیں اور مذکورہ فضیلت کے مستحق قرار پاتے ہیں۔

🌹 حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اعتکاف کرنے والا گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کی تمام نیکیاں اسی طرح لکھی جاتی رہتی ہیں جیسے وہ ان کو خود کرتا رہا ھو۔
(📚 سنن ابن ماجۃ: باب فی ثواب الاعتكاف)

*سبحان الله*! معتکفہ خاتون جتنے دن اعتکاف کرے گی اتنے دن گناہوں سے محفوظ رہے گی اور جو نیکیاں باہر کرتی تھی اور اب اعتکاف کی پابندیوں کیوجہ سے یہ خاتون وہ نیکیاں نہیں کر پا رہی تو
اعتکاف کی حالت میں اس قسم کے اعمال کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں پھر بھی لکھی جاتی ہے۔

*🍁 مسائل اعتکاف 🍁*

*1-) مسنون اعتکاف کا وقت کب سے شروع ھوتا ھے؟*
بیس(20) رمضان کو سورج غروب ہوتے ہی مسنون اعتکاف کا وقت شروع ھو جاتا ہے؛ اس لیے معتکفہ خاتون کو غروب آفتاب سے کچھ دیر پہلے ہی نیت کر کے اپنے اعتکاف والی جگہ یا کمرے میں پہنچنا ضروری ہے، ورنہ اعتکاف مسنون ادا نہ ہو گا۰
اور نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں جب دل میں یہ ارادہ کر لے کہ میں اِس رمضان کی آخری عشرہ میں سنت اعتکاف کرتی ہوں بس اتنی نیت بھی کافی ہے لیکن یہ بات ذھن نشین رہے کہ سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے اعتکاف کی جگہ پہنچ کر نیت کرنی ہو گی ورنہ سورج غروب ہونے کے بعد سنت اعتکاف کی نیت معتبر نہ ہو گی وہ سب نفلی اعتکاف ہو جائے گی اور *نفلی اعتکاف* جس وقت چاہے ختم کر سکتی ہے اسمیں وقت کی پابندی نہیں۔

*2-) عورت کا اعتکاف گھر کی مخصوص جگہ میں* ۔
🍁 مرد مسجد میں جب کہ عورت اس جگہ جو اس نے اپنے گھر میں نماز کے لیے مختص کر رکھی ہے وہاں اعتکاف پر بیٹھے گی۔اگر کوئی جگہ نماز کے لیے مختص نہ ہو تو پہلے ایک جگہ مختص کرنا ضروری ہے ورنہ اس کے بغیر اعتکاف میں، عورت کے لئیے بیٹھنا جائز نہیں۔ اگر پورا کمرہ اعتکاف کے لیے مختص ہے تو اس میں اعتکاف درست ہے اور اگر کمرہ اعتکاف کے لیے مختص نہیں تو پہلے پورے کمرے کو اعتکاف کے لیے مختص کریں تب اس میں اعتکاف درست ہو گا۔ پھر اسی کمرے کے اندر پردہ لگا کر اس جگہ میں عبادت کرنا بھی درست ہے تاہم جب پورےکمرہ میں پہلے سے اعتکاف کئ نیّت کی ہو تو پردہ لگانے کئ ضرورت نہیں رہتی البتہ لگانا بھی منع نہیں۔

*3) عورت کا اعتکاف میں بیٹھنے کا کمرہ کتنا بڑا ہونا چاہیے؟؟*۔
🍁 بہتر یہ ہے کہ عورت جس کمرے میں اعتکاف کر رہی ہے وہ کمرہ چھوٹا ہو، سات سے آٹھ فٹ کی جگہ ہو تاکہ عبادات میں یکسوئی رہے۔البتہ اگر کوئی عورت نارمل کمرے میں جو کہ رہائشی کمرہ ہوتا ہے اس میں اعتکاف کے لئیے بیٹھ رہی ہے تو اس کی بھی گنجائش ہے،تاہم اس صورت میں عبادات میں یکسوئی کا خیال کرنا چاہیے تاکہ اعتکاف کا مقصد مکمل طور پر حاصل ھو۔

*4) شوہر کی اجازت ضروری ہے*۔

🍁 شادی شدہ عورت کو اپنے شوہر کی اجازت سے اعتکاف کرنا ہوگا،پھر جب شوہر ایک مرتبہ اجازت دے دے تو اب منع کرنے کا اس کو حق نہیں ہے۔

*5) اعتکاف میں گھر کے کام کاج کرنا*۔
🍁 اکثر خواتین کو گھر کے کام کاج کی دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے یا گھر کے کام کاج خود کرنے پڑتے ہیں،تو اعتکاف کی حالت میں اسی اعتکاف کی جگہ میں رہتے ہوئے گھر کے کام کاج ایک خاص حد تک کر سکتی ہیں لیکن ایسا بھی درست نہیں کہ اکثر اوقات اعتکاف کی جگہ پر گھر کے کام کاج میں گذارے۔

*6-) کھانا پکانا:*
🍁 اگر کوئی کھانا پکانے والی دوسری خاتون نہ ہو تو مجبوراً اعتکاف کی جگہ میں رہتے ہوئے کھانا پکا سکتی ہے،اعتکاف کی جگہ سے نکل کر نہیں پکا سکتی۔

*7-) سحری افطاری سب کے ساتھ کرنا*۔
🍁 عورت اپنے گھر والوں کےلئیے اعتکاف کی جگہ سے نکل کر سحری وغیرہ نہیں بنا سکتی اور نہ ہی باہر نکل کر گھر والوں کے ساتھ سحری و افطاری کر سکتی ہے اس سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے البتہ اعتکاف کی جگہ میں سب گھر والے آکر سحری و افطاری کر سکتے ہیں۔

*8-) انسانی ضرورت کے لیے اعتکاف کی جگہ سے باہر نکلنا*۔
🍁 اعتکاف سے صرف طبعی حاجت کے لیے نکل سکتی ہے ۔طبعی حاجت جیسے:
پیشاب پاخانہ یا فرض غسل(مثلاً :کسی کو خواب میں اح**ام ہو جائے) کے لیے نکلنا جائز ہے۔
سب سے بہترین بات یہی ہے کہ ایسے کمرے میں عورت اعتکاف کرے جہاں آٹیچ باتھ روم بھی ہو تاھم جب یہ سہولت میسر نہ ھو تو کسی بھی کمرہ میں بیٹھ سکتی ھے۔

*9-) نفلی وضو یا غسل کے لیے نکلنا*۔
🍁 نفلی وضو یعنی وضو کے ہوتے ہوئے تازہ وضو کرنا یا فرض غسل کے علاوہ غسل یعنی سُنت غسل (جیسے جمعہ کی نماز کا غسل)کے لیے نکلنا جائز نہیں۔جیسے ہی نکل کر غسل خانہ واشروم جائے گی اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
ہاں! اگر وضو نہیں ہے اور نفلی عبادت، جیسے: تلاوت ، نوافل وغیرہ کے لیے وضو کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے نکل سکتی ہے۔

*10-) گرمی لگنے کی صورت میں ٹھنڈک کے لیے غسل کرنا*۔
🍁 اگر اعتکاف کی جگہ کے اندر نہانے کا انتظام ہو سکتا ہے تو اعتکاف کی جگہ میں نہا سکتی ہیں، اگر وہاں پانی گرتا ہو تو بھی کوئی حرج نہیں، کیونکہ عورت کی اعتکاف کی جگہ حقیقی مسجد نہیں. بصورت دیگر واشروم جا کر نہانے سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔تاہم اس میں یہ صورت ہو سکتی ہے کہ اگر عورت وضو کے لیے یا قضائے حاجت کے لیے واشروم جائے تو وہیں اپنے اوپر جلدی جلدی میں پانی بہا کر نہا لے،لیکن زیادہ وقت لگانا درست نہیں،بلکہ جتنی دیر وضو میں لگتی ہے اتنی دیر میں نہا کر فارغ ہو کر جلدی نکلنے کی کوشش کرے۰

*11-) ہاتھ دھونے کے لیے کمرے سے بیت الخلاء Washroom کی طرف جانا*۔
🍁 کھانے کے لیے، ہاتھ دھونے کے لیے اعتکاف کی جگہ سے نکلنا درست نہیں گو یہ ایک سنت عمل ہے ،لیکن شرعی یا طبعی حاجت نہیں۔

*12-) صابن سے منہ ہاتھ دھونے کے ارادے سے اعتکاف کی جگہ سے نکلنا*۔
🍁 وضو کے ارادے کے بغیر صابن سے منہ ہاتھ دھونے کے ارادے سے اعتکاف والے کمرے باہر نکلنے سے یا صرف اسے مقصد کے لئیے بیت الخلاء Washroom جانے سے اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے۔ہاں! اگر وضو ٹوٹ گیا ہے اور وضو بنانے کے لیے صابن لے کر نکلی اور صابن سے جلدی جلدی میں منہ ہاتھ بھی دھو لیا تو اعتکاف نہیں ٹوٹے گا۔

*13-) سخت بیماری*۔
🍁 جو عورت سخت بیمار ھو جائے اور اعتکاف میں ٹہرنا مشکل ہو تو اگر ڈاکٹر کا اعتکاف والی جگہ پر آنا ممکن ہو تو بہت بہتر ہے ورنہ عورت علاج معالجہ کے لیے نکل جائے اس سے اعتکاف تو ٹوٹ جائے گا، ایک روزہ اور ایک دن رات قضا بھی کرنا پڑے گی مگر مُعتکفہ عورت گناہگار نہ ہو گی۔
قضا اعتکاف کا طریقہ یہ کہ صحت ملنے پر اسی رمضان میں یا عید کے بعد مغرب کے وقت سے پہلے پہلے اعتکاف والے کسی بھی کمرے میں اعتکاف کی نیّت سے موجود ہونا اور اگلے دن مغرب کے وقت تک ٹہرنا لَازم ہو گا اور قضا میں لَازم ہے کہ ساتھ روزہ بھی رکھے چاہے اسی رمضان میں فرض روزہ رکھنے کے ساتھ اعتکاف کی قضا کرے یہ بھی درست ہے یا عید کے بعد روزہ رکھنے کے ساتھ اعتکاف کی قضا کرے تاہم روزہ رکھنا قضا اعتکاف کے ساتھ لَازم ہے بغیر روزہ کے قضا اعتکاف نہیں ہوتا۔

*14-) بلا ضرورت شرعی و طبعی کے نکلنا*۔
🍁 شرعی یا طبعی حاجت کے علاوہ کسی اور کام کے لیے اعتکاف سے نکلنا جائز نہیں۔ اگر شرعی یا طبعی حاجت نہیں تھی پھر بھی اعتکاف سے نکل گئی تو جان بوجھ کر نکلی ہو یا بھول کر، ایک گھڑی کے لیے نکلی یا ایک گھنٹے کے لیے،سنت اعتکاف ختم ھو گیا اور وہ نفلی اعتکاف بن گیا۔ ایسی صورت میں ایک دن اعتکاف کی قضا روزہ سمیت کرنی چاہیے۔
قضا اعتکاف کا طریقہ اوپر بتلایا جا چکا ہے کہ اسی رمضان میں یا عید کے بعد مغرب کے وقت سے پہلے پہلے اعتکاف والے کمرے میں اعتکاف کی نیّت سے موجود ہونا اور اگلے دن مغرب کے وقت تک ٹہرنا لَازم ہو گا اور قضا میں لَازم ہے کہ ساتھ روزہ بھی رکھے چاہے اسی رمضان میں فرض روزہ رکھنے کے ساتھ اعتکاف کی قضا کرے یہ بھی درست ہے یا عید کے بعد روزہ رکھنے کے ساتھ اعتکاف کی قضا کرے تاہم روزہ رکھنا قضا اعتکاف کے ساتھ لَازم ہے بغیر روزہ کے قضا اعتکاف نہیں ہوتا۔

*15-) اعتکاف میں بات چیت کرنا*۔

🍁 بعض خواتین کا خیال ہے کہ اعتکاف میں بیٹھ کر بالکل بات نہیں کر سکتے یہاں تک کہ اپنے محرم مردوں سے بھی پردہ کرنا ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
یاد رہے شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں. ہاں بلا ضرورت باتیں کرنا اچھا نہیں، لیکن اعتکاف نہ تو بالکل چپ کا روزہ ہوتا ہے اور نہ ہی محرم سے پردہ. لہٰذا ضروری بات چیت کر سکتی ہیں،کوئی محرم مرد یا کوئی عورت ان کے پاس آئے تو ان سے مل بھی سکتی ہیں۔

*16-) اعتکاف میں حیض واستحاضہ*۔
🍁 اگر عورت حالت استحاضہ میں ہو تو اعتکاف کر سکتی ہے،*البتہ حالتِ حیض ونفاس میں اعتکاف درست نہیں*، کیونکہ حیض ونفاس سے پاک ہونا ہر طرح کے اعتکاف کے لیے لازم ہے اور اگر دورانِ اعتکاف حیض یا نفاس شروع ھو گیا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا اور پاک ہونے کے بعد اعتکاف کی قضا لَازم ہو گی۔
قضا اعتکاف کا طریقہ وہی ہے کہ اسی رمضان میں یا عید کے بعد مغرب کے وقت سے پہلے پہلے اعتکاف والے کمرے میں اعتکاف کی نیّت سے موجود ہونا اور اگلے دن مغرب کے وقت تک ٹہرنا لَازم ہو گا اور قضا میں لَازم ہے کہ ساتھ روزہ بھی رکھے چاہے اسی رمضان میں فرض روزہ رکھنے کے ساتھ اعتکاف کی قضا کرے یہ بھی درست ہے یا عید کے بعد روزہ رکھنے کے ساتھ اعتکاف کی قضا کرے تاہم روزہ رکھنا قضا اعتکاف کے ساتھ لَازم ہے بغیر روزہ کے قضا اعتکاف نہیں ہوتا۔

*17-) حیض روکنے والی دوائی استعمال کرنا*۔
🍁 عورت کے لیے اعتکاف کے دنوں میں حیض روکنے والی دوا استعمال کرنا جائز ہے تاہم بہتر نہیں اگر لازمی طور پر دوا استعمال کرنے کا ارادہ ھو تو دوا ڈاکٹر کی تجویز کے بعد استعمال کرے تاکہ کہیں صحت پر برا اثر نہ پڑے۔اگر صحت پر برا اثر پڑتا ہو تو دوائی استعمال نہ کرنا ہی بہتر ہو گا۔

*18-) بلا ضرورت موبائل فون کا استعمال*۔
🍁 اعتکاف میں بلا ضرورت موبائل فون کا استعمال مناسب نہیں۔لہٰذا اس سے احتراز کرنا چاہیے۔ تاہم وقت دیکھنے کے لیے یا خاص دینی لیٹریچر، یا بیانات سننا یا دینی مسائل موبائل میں پڑھنے کے لیے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں تاہم پھر بھی کثرت استعمال سے اجتناب بہتر ہے۔

*19-) اعتکاف سے نکلنے کا طریقہ*۔
🍁 عید کے چاند کا جیسے ہی اعلان ہو تو سنت اعتکاف مکمل ہو کر خود بخود ختم ہو جاتا ہے اسکے ختم کرنے کے لئیے کوئی بھی مخصوص عمل نہیں۔

*20-) بعض غیر ضروری رسومات*۔
🍁 بعض لوگ اعتکاف کے اختتام پر مُعتَکِف مرد یا مُعتَکِفہ خاتون کو مبارکباد دینا لازم سمجھتے ہیں اور اسی رات انکے گھر میں یا اپنے گھر بلا کر دعوت طعام وغیرہ کا پروگرام بھی لازم سمجھا جاتا ھے جسکے نہ ھونے کیوجہ سے بات ناراضگی کی طرف بڑھ جاتی ہے یہ سب محض ایک رسم ہے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

*21-) اعتکاف کی کوئی مخصوص دعا ہے کہ نہیں؟*۔
🍁اعتکاف کی کوئی مخصوص دعا نہیں البتہ نبی کریم ﷺ نے رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں یہ دعا مانگنے کی زیادہ ترغیب فرمائی ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ اگر مجھے لیلۃ القدر کا پتہ چل جائے تو میں اس رات کیا کہوں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ کہو *اَللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعَفُ عَنِّي۔*
(📚مُسند احمد)

*🌷 جو مسلمان بہنیں اعتکاف کا ارادہ رکھتی ہیں وہ مجھے بھی اپنی خصوصی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔*

🍀

Beshak ❤️
14/04/2022

Beshak ❤️

14/04/2022

*ماہِ مقدس اور نبی مکرمﷺ کا طرزعمل*
"سیدنا عبداللہ بن عباس رضي اللہ عنھما فرماتے ہیں: رسول اللّٰه ﷺ سخاوت اور خیر کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ کی سخاوت اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتی تھی جب جبرئیل علیه السلام آپ سے رمضان المبارک میں ملتے، اور جبرئیل آپ ﷺ سے رمضان کی ہر رات میں ملتے یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا، نبی ﷺ جبرئیل علیه السلام سے قرآن کا دور کرتے تھے، جب جبرئیل عليه السلام نبی ﷺ سے ملنے لگتے تو آپ چلتی ہوا سے بھی زیادہ بھلائی پہنچانے میں سخی ہوجایا کرتے تھے."
- *|[ صحيح البخاري : ١٩٠٢ ]|*

14/04/2022

*🌴درسِ حدیث🌴*
قالَ رسولُ اللہ ﷺ:
مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ، ‏‏‏‏‏‏جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ
ضِيقٍ مَخْرَجًا، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا،
‏‏‏‏‏‏وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ
*رسول اللہﷺ کافرمان*
جو کوئی استغفار کا التزام کر لے تو اللہ
اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے اور
ہر رنج سے نجات پانے کی راہ ہموار
کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے
رزق عطا فرمائے گا، جس کا
وہ تصور بھی نہیں کر سکتا ۔
*عنوان*
جو شخص کثرت سے استغفار کرتا ہے
اللہ تعالیٰ اسکے تمام مسائل حل فرما دیتے ہیں
*حوالہ*:سننِ ابی داود.حدیث نمبر:1518
🌙12رمضان المبارک 1443 ہجری
بمطابق 14 اپریل 2022بروز جمعرات

11/04/2022

بہت سمارٹلی کھیل گیا۔۔۔
کل آخری ڈیڈ لائن تھی، قومی اسمبلی کا انتہائی اھم اجلاس جان بوجھ کے آخری وقت تک کھینچا گیا، آخری بال، آخری چال، آخری گھنٹہ اور آخری پتہ، سب پریشان تھے کیا ھونے جا رھا ھے،
اعصاب کی جنگ تھی، سارا دن گزر گیا بات آخری لمحوں تک پہنچ گئی، ٹھیکیداروں کے اعصاب جواب دینے لگے انہیں ساری محنت ضائع ھوتی ھوئی نظر ائی، جو اب تک پس پردہ چھپے بیٹھے تھے انہیں مجبوراً سامنے آنا پڑا، ایکسپوز ھونا پڑا، آخری گھنٹے میں سب ایکٹو ھو گئے، چھٹی کے دن آدھی رات کو عدالتیں کھل گئیں، منصفان ریاست جوک در جوک پہنچنے لگے، ساری اپوزیشن آدھی رات تک قومی اسمبلی میں بیٹھی رھی، وزیراعظم ھاؤس میں ہیلی کاپٹرز پہنچے، قیدیوں والی گاڑیاں پہنچیں، لا انفورسمنٹ حرکت میں آئیں اور سب کنٹرول کیا جانے لگا،
یہی وہ ٹائم تھا جس کیلئے کپتان نے اتنی لمبی اعصابی جنگ لڑی اتنی زیادہ محنت کی تھی، کپتان نے میڈیا کو بلایا، سوشل میڈیا پہ سب لائیو جا رھا تھا، اندر کی خبریں باھر آ رھی تھی، کپتان نے معنی خیز مسکراہٹ کیساتھ پوچھا، کوئی رہ تو نہیں گیا جو میرے خلاف نہ ھوا ھو، مطلب کوئی رہ تو نہیں گیا جو واضح طور پر قوم کے سامنے ایکسپوز نہ ھوا ھو، صحافیوں نے کہا جی نہیں،
وہ اٹھا، ڈائری اٹھائی اور وکٹری نشان بناتا ھوا اپنے گھر کی طرف روانہ ھو گیا، بظاہر ھار کے جا رھا تھا مگر حقیقت میں یہی اس کی جیت تھی، وہ سب پردہ نشینوں کے منہ سے نقاب نوچ کے جا رھا تھا، وہ سب کو بے نقاب کر کے جا رھا تھا، وہ قوم کو اصل مجرم دکھا کے جا رھا تھا، اس کا مقصد پورا ھوا، 75 سالوں سے پردے کے پیچھے بیٹھے اصل ہرکارے قوم کے سامنے ایکسپوز ھو چکے تھے،یہی اس کی جیت تھی، یہی اس کا ماسٹر اسٹروک تھا۔
خدا بھلا کرے۔

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sukoon-e-Dil posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share