21/08/2026
خاموشی کا درد اور حساس دل
زندگی میں کچھ خاموشیاں ایسی ہوتی ہیں جو شور سے زیادہ گہری اور بااثر ہوتی ہیں۔ یہ خاموشی عام انسان کے لیے شاید صرف ایک لمحاتی سناٹا ہو، لیکن حساس دل رکھنے والوں کے لیے یہ ایک خاص قسم کا باطنی لمس اور اداسی کا پیغام بن جاتی ہے۔
تصور کریں اسکول کی چھٹی کے بعد کا وہ خالی میدان، جہاں کچھ دیر پہلے بچوں کی ہنسی اور چہچہاہٹ گونج رہی تھی، اب وہاں صرف خاموش ہوائیں چلتی ہیں۔ بالکل اسی طرح، دلہن کی رخصتی کے بعد کا گھر، جہاں ہر طرف رونق تھی، یکایک ایک عجیب سی تنہائی کے سپرد ہو جاتا ہے۔
کسی عزیز کی میت کے اٹھ جانے کے بعد گھر کی دیواروں میں پھیلی ویرانی، یا کسی ویران ریلوے اسٹیشن سے ٹرین کے نکل جانے کے بعد پٹریوں پر چھا جانے والا سناٹا—یہ تمام مناظر ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: "موسموں، جگہوں اور رونقوں کا بدلنا"۔
گھر سے مہمانوں کے رخصت ہو جانے کے بعد کا خالی پن بھی انہی لمحات میں سے ایک ہے۔ حساس لوگ ان تمام خاموشیوں میں چھپے ہوئے رشتوں کے لمس، بچھڑنے کے غم اور وقت کے تیزی سے گزر جانے کے احساس کو گہرائی سے محسوس کرتے ہیں۔ یہ اداسی کوئی بیماری یا کمزوری نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کے اندر احساس اور ہمدردی کی شمع ابھی روشن ہے۔
کیا آپ نے بھی کبھی ان میں سے کسی لمحے کی خاموشی کو اس طرح گہرائی سے محسوس کیا ہے؟