Legal Precedents & Providing LEGAL AID - DBA

Legal Precedents & Providing LEGAL AID - DBA Ambition is to help needy people

07/06/2026

‏پنجاب میں پراپرٹی ترمیمی ایکٹ فعال,575 کیسز میں حکم امتناعی ختم

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے 36اضلاع میں ایڈیشنل ججز کو ٹربیونل مقرر کردیا

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ٹربیونل کے لیے ایڈیشنل ججز کی نامزدگیاں پنجاب حکومت کو ارسال کردیں

ایڈیشنل سیشن جج بطور ٹربیونل بااختیار ہوں گے

ٹربیونل اراضی پر قبضہ ثابت ہونے پر 3سے10سال تک سزا سنا سکے گا

ساہیوال میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد نعیم نامزد

لاہور محمد بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج سیف اللہ سوہل نامزد

قصور میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد اشفاق نامزد

اٹک میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج ندیم احمد سہیل چیمہ نامزد

بہاولنگر میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد صلابت جاوید نامزد

بہالپور میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج ساحر اسلام نامزد

بھکر میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد اعظم جاوید نامزد

چنیوٹ میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج نعیم عباس نامزد

چکوال میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج قاسم علی بھٹی نامزد

ڈی جی خان میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج سرفراز حسین نامزد

فیصل آباد میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج عمران شفیع خان نامزد

گوجرنوالہ میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد فرحان نبی نامزد

گجرات میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج مظفر نواز ملک نامزد

حافظ آباد میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج عمر رشید نامزد

جھنگ میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج عمر فاروق خان نامزد

جہلم میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج مرزا اورنگ زیب نامزد

خانیوال میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج عبداللہ عثمان نامزد

خوشاب میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد بشیر نامزد

لودھراں میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج حمد ایاز نامزد

لیہ میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد پرویز نواز نامزد

منڈی بہاوالدین میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد فخر آفتاب احمد نامزد

میانوالی میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج عبدالغفور نامزد

ملتان میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج غزالہ یاسمین نامزد

مظفر گڑھ میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد احمد حسنین خان نامزد

ناروال میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج عالم شیر نامزد

ننکانہ صاحب میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج مجاہد شیردل چیمہ نامزد

اوکاڑہ میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج خلیل احمد خان نامزد

پاکپتن میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج اسد حفیظ نامزد

راولپنڈی میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج چوہدری قاسم جاوید نامزد

راجن پور میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد اشرف نامزد

رحیم یار خان میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد بلال نامزد

سیالکوٹ میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج عابد رضا خان نامزد

شیخوپورہ میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج عبدالحمید نامزد

سرگودھا میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج ظفر حیات نامزد

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد کاشف نامزد

وہاڑی میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد عمران نامزد

30/05/2026

2025 SCMR 923
منشیات مقدمات کا ٹرائل کرنے والے نوجوان وکلا کیلئے سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ.
منشیات مقدمات میں مال مقدمہ کی محفوظ تحویل اور ترسیل کا دستاویزی ثبوت پیش کیا جانا ضروری ہے ۔
محرر یا ، #انچارج-مالخانہ کا محض زبانی بیان متعلقہ رجسٹرز/ روڈ سرٹیفکیٹس پیش کیے بغیر قابل ادخال شہادت نہ ہے
((*2025 SCMR 923*

*فیصلے کے اہم پوائنٹس:*
*1. مال مقدمہ کی محفوظ تحویل = لازم*
عدالت نے کہا کہ منشیات کیس میں صرف محر یا انچارج مالخانہ کا زبانی بیان کافی نہیں۔
*لازم دستاویزات:*
- رجسٹر نمبر XIX میں اندراج
- روڈ سرٹیفکیٹ Rule 22.70 Form 22.70
- لیبارٹری بھیجنے کا ریکارڈ Rule 22.72 Form 10.17
اگر یہ دستاویزی ثبوت نہیں تو "safe custody" ثابت نہیں ہوتی۔ کیس کمزور ہو جاتا ہے۔

*2. زبانی شہادت ناقابل قبول*
Article 102, Qanun-e-Shahadat Order 1984 کے تحت جب قانون دستاویز مانگتا ہے تو زبانی شہادت نہیں چلے گی۔ PW-3 کی زبانی گواہی کو عدالت نے مسترد کر دیا۔

*3. سیکشن 20 CNSA 1997 کی خلاف ورزی*
عدالت کے اوقات میں prior information پر چھاپہ مارا گیا، لیکن سرچ وارنٹ نہیں لیے گئے۔ سیکشن 20 کی تعمیل ضروری ہے۔
رجسٹر نمبر II میں prior info درج کرنا بھی لازم ہے Rule 22.49 کے مطابق۔
*4. عدالت کا سخت ریمارکس*
ج صاحبان نے دکھ کا اظہار کیا کہ ANF/پولیس صرف "peddlers" پکڑ رہی ہے۔ اصل مجرم - کاشتکار، بنانے والا، بڑے ڈیلر - بچ نکلتے ہیں۔ ان کے اثاثے investigate نہیں ہوتے۔
عدالت نے کہا: "اگر صرف پھل کاٹو گے، درخت نہیں کاٹو گے تو منشیات کا مسئلہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔"

*وکلا کے لیے Takeaway:*
منشیات کیس میں پہلا سوال یہ کریں:
1. رجسٹر XIX کی مصدقہ کاپی فائل پر ہے؟
2. روڈ سرٹیفکیٹ لگا ہے؟
3. لیبارٹری ٹرانسمیشن کا ثبوت ہے؟
4. سیکشن 20 کی تعمیل ہوئی؟ رجسٹر II میں اندراج ہے؟

اگر نہیں، تو Article 129(g) + 102 کے تحت acquittal کا strong ground بنتا ہے۔
آپ اس فیصلے کو کس کیس میں استعمال کرنا چاہتے ہیں؟ میں آپ کو cross-examination کے سوالات بھی بنا دوں گا اس ججمنٹ کی روشنی میں۔))
No documentary evidence whatsoever has been brought on record by the prosecution to establish safe custody and transmission.

Neither entry of Register No. XIX was tendered in evidence nor Road Certificate as contemplated by rule 22.70, Form 22.70 and Rule 22.72, Form 10.17 of Police Rules, 1934. So, this sole contour of the case creates dent in the case of the prosecution.

The Police Rules mandate that case property be kept in the Malkhana and that the entry of the same be recorded in Register No. XIX of the said police station. It is the duty of the police and prosecution to establish that the case property was kept in safe custody, and if it was required to be sent to any laboratory for analysis, to further establish its safe transmission and that the same was also recorded in the relevant register, including the road certificate, etc. The procedure in the Police Rules ensures that the case property, when it is produced before the court, remains in safe custody and is not hampered with until that time. A complete mechanism is provided in the Police Rules qua safe custody and safe transmission of the case property to concerned laboratory and then to the Trial Court.

Under Article 129(g) of Qanun-e-Shahadat Order, 1984 ("the Order") it can be presumed that the prosecution did not produce Register No. XIX because the in-charge of the store room had not entered the receipt of parcels in the said register. Under Article 102 of the Order, in all cases in which any matter is required by law to be reduced to the form of a document, no evidence shall be given in proof of such matter except the document itself, or secondary evidence of its contents in cases in which secondary evidence is admissible under Article 76. Therefore, oral testimony of PW-3 with regard to the safe custody of parcels was not admissible under Article 102 of the Order. Hence prosecution failed to prove safe custody of the parcels beyond shadow of doubt.

It is a case of prior information that too in the court timings but the seizing officer neither tried to obtain search warrants as required by section 20 of the Act of 1997 nor he has offered any reason/justification for his non-compliance of the command of section 20. Similarly, the prior information was never recorded in Register No. II (naeem)as contemplated by rule 22.49 of the Police Rules.

Before parting with the judgement in hand, we have painfully observed in a number of cases that the legislation had introduced the Act of 1997 to curb the menace of drug abuse, prohibit possession of narcotic substances and rehabilitate victims of drug abuse, however, the Anti-Narcotics Force and Police Authorities have failed to adhere to the provisions of the Act of 1997. The law enforcing and investigating agencies are only dealing with the peddlers and if investigation is carried out in accordance with the provisions of the Act of 1997, it would bring to justice the whole chain i.e., cultivator/manufacturer, peddler, seller and drug abuser, and would serve as deterrent factor in the society.The manner in which narcotics cases are being investigated favours the real culprits and only drug peddlers are caught and sent to jail. Nobody dares to investigate the giants who derive profits out of such illicit drug/narcotic deals. Their assets are never investigated. We are afraid that the two ends i.e., drug dealer, cultivator, manufacturer and the drug/narcotic abusers are never held accountable. This would never have been the intention of the legislature while enacting the Act of 1997. The law enforcing agencies,particularly the Anti-Narcotics Force, has failed to adhere to the provisions of the Act of 1997 as well as the SOPs adopted by the force for investigation of criminal cases, which are very comprehensive and cover every aspect of a criminal case registered under the Act of 1997. In most of the cases, the provisions of the Act of 1997, the rules made thereunder and the SOPs adopted by the force, to the extent of tracing assets and discovering the complete chain of culprits, have not been complied with. As a result of such incomplete investigation, the society will face the menace of narcotics/drugs abuse forever. If the State prefers to penalize citizens for possessing fruit of the forbidden tree and opts not to cut that forbidden tree and holding its beneficiaries accountable, the outcome would be absurd. Similarly, not investigating the main culprits/sources of narcotic substances in a criminal case would grant them a license to violate the Act of 1997 and cause irreparable damage to the society.

02/05/2026

*vvip judgment against surety and death of judgment debtors*

*“مدیون کی وفات ضامن کو نہیں بچا سکتی — لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ”*

*2025 LHC 2559*
*"سیکشن 145 سی پی سی کے تحت ضامن کی ذمہ داری کا قانونی تجزیہ"مدیون کی وفات کے بعد ضامن کے خلاف ڈگری کا نفاذ: ضابطہ دیوانی کی روشنی میں""ضامن کے خلاف ڈگری کی تعمیل: کیا سی پی سی ضامن کو مدیون کے برابر رکھتا ہے؟"*

2025 LHC 2559
فیصلہ ۔۔۔
"مدیون (قرض دار) کی وفات کے بعد بھی ضامن اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوتا، جب تک ضمانت نامے میں ایسی کوئی شرط موجود نہ ہو جو اس کے برعکس ہو۔ قانون کی رو سے، محض مدیون کی وفات ضامن کو اس کے عہد سے آزاد نہیں کرتی۔

دیوانی مقدمات کے ضابطہ 1908 کے سیکشن 145 کے تحت، اگر کوئی شخص کسی ڈگری یا اس کے کسی حصے کی تکمیل، کسی جائیداد کی واپسی، یا عدالتی حکم کے تحت کسی رقم کی ادائیگی کی ضمانت دیتا ہے، تو اس حد تک جس میں اس نے خود کو ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا ہو، اس کے خلاف بھی ڈگری نافذ کی جا سکتی ہے۔"

مقدمہ: WP. 63942 of 2024
فریقین: رشید احمد بمقابلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج
فیصلہ: عدالت میں علانیہ سنایا گیا – 17 مارچ 2025
ریفرنس: 2025 LHC 2559
قانونی تجزیاتی جائزہ
(مدیون کی وفات کے بعد ضامن کی ذمہ داری سے متعلق)

1. بنیادی قانونی اصول:
قانونی اصول کے مطابق، جب کوئی شخص کسی مالی یا عدالتی ذمہ داری کی ضمانت دیتا ہے، تو وہ اس حد تک اس کی ادائیگی یا تکمیل کا ذمہ دار ہوتا ہے جتنا کہ اس نے ضمانت نامہ میں قبول کیا ہو۔ اس اصول پر ضمانت (Suretyship) کا قانون قائم ہے۔

2. ضابطہ دیوانی (Code of Civil Procedure, 1908):
سیکشن 145 - ضامن کے خلاف نفاذ ڈگری:
یہ دفعہ واضح طور پر بیان کرتی ہے:

"اگر کوئی شخص کسی ڈگری یا حکم کے نفاذ کی ضمانت دیتا ہے، تو اس کے خلاف بھی وہی ڈگری نافذ ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس نے اس حد تک خود کو ذمہ دار بنایا ہو۔"

تجزیہ:
یہ دفعہ ضامن کو مدیون کے ساتھ برابر کا فریق تسلیم کرتی ہے اور اس کے خلاف بھی عمل درآمد ممکن ہے، خواہ مدیون وفات پا چکا ہو۔

3. قانون شہادت (Qanun-e-Shahadat Order, 1984):
ضامن کی ذمہ داری کے تعین میں ضمانت نامے کی تحریری صورت اہمیت رکھتی ہے۔ اگر ضمانت نامے میں وفات کے بعد بری الذمہ ہونے کی کوئی شرط نہ ہو تو ضامن ذمہ دار رہے گا۔

4. عائلی قوانین (Family Laws):
اگر کیس خاندانی یا نان نفقہ سے متعلق ہو (مثلاً بیوی یا بچوں کے حقوق)، تو درج ذیل نکات لاگو ہوں گے:

مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961، دفعہ 9: بیوی نان نفقہ کی دعوے دار ہے۔

اگر مدیون کی وفات ہو جائے، تو بھی ضامن کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے (بشرطیکہ وہ نفقہ یا بقایا جات کی ادائیگی کی ضمانت دے چکا ہو)۔

سی پی سی کی روشنی میں، فیملی کورٹس کا فیصلہ بھی ڈگری کے زمرے میں آتا ہے، اور اس کی تعمیل کیلئے ضامن کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔

5. آئین پاکستان، 1973:
آرٹیکل 4 - قانون کے تحت جینے کا حق:
ہر شہری کو قانون کے مطابق تحفظ حاصل ہے، جس میں عدالتی احکامات کی تعمیل بھی شامل ہے۔

آرٹیکل 9 - زندگی اور آزادی کا تحفظ:
یہ آئینی حق ضامن اور مدیون دونوں پر لاگو ہوتا ہے، لیکن قانون کے مطابق، ذمہ داریوں کی تعمیل زندگی کے اس حق کا تقاضا ہے۔

نتیجہ:
اگر ضامن نے عدالت میں ضمانت دی ہو (تحریری یا زبانی)، تو مدیون کی وفات کے باوجود وہ اپنی ذاتی ضمانت کے مطابق ذمہ دار رہے گا۔

سی پی سی کی دفعہ 145، اور قانون شہادت کی روشنی میں، جب تک ضمانت نامے میں خلاف شرط نہ ہو، ضامن بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔

فیملی کیسز میں، اگر بیوی یا بچوں کا مالی حق متعلقہ ہے، تو ان کا حق مقدم ہے، اور ضامن سے بھی رقم کی وصولی کی جا سکتی ہے۔
*vvip judgment against surety and death of judgment debtors*
*"سیکشن 145 سی پی سی کے تحت ضامن کی ذمہ داری کا قانونی تجزیہ"مدیون کی وفات کے بعد ضامن کے خلاف ڈگری کا نفاذ: ضابطہ دیوانی کی روشنی میں""ضامن کے خلاف ڈگری کی تعمیل: کیا سی پی سی ضامن کو مدیون کے برابر رکھتا ہے؟"
2025 LHC 2559
فیصلہ ۔۔۔
"مدیون (قرض دار) کی وفات کے بعد بھی ضامن اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوتا، جب تک ضمانت نامے میں ایسی کوئی شرط موجود نہ ہو جو اس کے برعکس ہو۔ قانون کی رو سے، محض مدیون کی وفات ضامن کو اس کے عہد سے آزاد نہیں کرتی۔

دیوانی مقدمات کے ضابطہ 1908 کے سیکشن 145 کے تحت، اگر کوئی شخص کسی ڈگری یا اس کے کسی حصے کی تکمیل، کسی جائیداد کی واپسی، یا عدالتی حکم کے تحت کسی رقم کی ادائیگی کی ضمانت دیتا ہے، تو اس حد تک جس میں اس نے خود کو ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا ہو، اس کے خلاف بھی ڈگری نافذ کی جا سکتی ہے۔"

مقدمہ: WP. 63942 of 2024
فریقین: رشید احمد بمقابلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج
فیصلہ: عدالت میں علانیہ سنایا گیا – 17 مارچ 2025
ریفرنس: 2025 LHC 2559

قانونی تجزیاتی جائزہ
2025 LHC 2559 — WP No. 63942 of 2024
رشید احمد بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج وغیرہ
فیصلہ مؤرخہ: 17-03-2025
از Lahore High Court

اہم قانونی نکتہ
اس فیصلہ میں عدالتِ عالیہ نے یہ اصول واضح کیا کہ:

“مدیون (Judgment Debtor) کی وفات بذاتِ خود ضامن (Surety) کو اس کی ضمانتی ذمہ داری سے بری نہیں کرتی، الا یہ کہ ضمانت نامہ میں کوئی واضح شرط اس کے برعکس موجود ہو۔”

یہ اصول ضابطہ دیوانی 1908 کی دفعہ 145 CPC کی تشریح پر مبنی ہے، جو ضامن کو محدود حد تک مدیون کے برابر ذمہ دار قرار دیتی ہے۔

1۔ دفعہ 145 CPC کی قانونی حیثیت
دفعہ 145 CPC کا متن مفہومًا یہ ہے کہ:

اگر کسی شخص نے:

کسی ڈگری کی ادائیگی کی ضمانت دی ہو؛

کسی مال/جائیداد کی واپسی کی ضمانت دی ہو؛

یا کسی عدالتی حکم کے تحت رقم کی ادائیگی یا کسی فعل کی انجام دہی کی ضمانت دی ہو؛

تو اس کے خلاف بھی اسی عدالت کے ذریعے عمل درآمد ہو سکتا ہے۔

اہم قانونی اثر
یہ دفعہ ضامن کے خلاف الگ مقدمہ دائر کرنے کی ضرورت ختم کرتی ہے۔

یعنی:

Ex*****on can proceed directly against the surety.

یہی اصول عدالت نے اس کیس میں اپنایا۔

2۔ ضامن کی ذمہ داری “Co-Extensive” ہے یا محدود؟
عام اصول کے مطابق Contract of Guarantee میں ضامن کی ذمہ داری principal debtor کے ساتھ co-extensive ہوتی ہے، مگر:

پاکستانی قانون میں دفعہ 145 CPC کے تحت ذمہ داری ہمیشہ اسی حد تک ہوگی:

“to the extent to which he has rendered himself personally liable.”

یعنی:

اگر ضمانت نامہ میں رقم محدود ہو تو ذمہ داری بھی محدود ہوگی؛
اگر شرط مشروط ہو تو نفاذ بھی اسی شرط کے تابع ہوگا۔

عدالت نے یہی کہا کہ ضمانت نامہ (Surety Bond) کی زبان فیصلہ کن ہے۔

3۔ مدیون کی وفات کے بعد قانونی پوزیشن
عام طور پر مدیون کی وفات کے بعد:

اس کی جائیداد ورثاء / Legal Heirs کے ذریعے نمائندگی کرتی ہے؛

ڈگری اس کے ترکہ سے وصول کی جاتی ہے۔

لیکن جہاں ضامن موجود ہو وہاں:

قانون ضامن کو مستقل ذمہ دار مانتا ہے۔

کیونکہ ضمانت ایک independent undertaking ہے۔

لہٰذا مدیون کی وفات:

نہ ex*****on روکتی ہے؛

نہ surety کو discharge کرتی ہے؛

نہ decree-holder کو پہلے ورثاء کے خلاف جانے پر مجبور کرتی ہے۔

یہ اس فیصلہ کا بنیادی ratio decidendi ہے۔

4۔ قانونِ شہادت کا اطلاق
Qanun-e-Shahadat Order, 1984 کے تحت:

جب ضمانت نامہ تحریری ہو تو:

زبانی شہادت اس کی شرائط بدلنے کیلئے قابل قبول نہیں؛

اصل دستاویز کی wording دیکھی جائے گی۔

لہٰذا اگر surety bond میں یہ نہیں لکھا کہ:

“liability shall cease on death of judgment debtor”

تو عدالت ایسی شرط فرض نہیں کرے گی۔

5۔ عملدرآمد (Ex*****on Proceedings) میں ضامن کے حقوق
اگرچہ ضامن ذمہ دار ہے، مگر اسے یہ حقوق حاصل ہیں:

(i) اعتراضات دائر کرنے کا حق
سیکشن 47 CPC کے تحت ex*****on، discharge یا satisfaction سے متعلق سوال اٹھا سکتا ہے۔

(ii) حدِ ذمہ داری پر اعتراض
کہ:

ضمانت مخصوص رقم تک تھی؛

مخصوص مدت تک تھی؛

مشروط تھی؛

شرط پوری نہیں ہوئی۔

(iii) Fraud / Misrepresentation
اگر ضمانت دھوکہ سے لی گئی ہو۔

مگر محض یہ کہنا کہ:

“اصل مدیون فوت ہو گیا”

کافی دفاع نہیں۔

6۔ فیملی مقدمات میں اطلاق
یہ فیصلہ خاص طور پر فیملی لا پریکٹس میں اہم ہے۔

مثلاً:

اگر شوہر:

نان نفقہ؛

حق مہر؛

بچوں کے اخراجات

کی ادائیگی کیلئے ضمانت دے یا ضامن پیش کرے؛

تو decree-holder wife یا minors، ضامن کے خلاف ex*****on کر سکتے ہیں۔

یہ اصول Family Courts Act, 1964 کے تحت family decrees پر بھی لاگو ہو سکتا ہے۔

آپ کی پریکٹس میں Child Custody / Maintenance matters میں یہ نظیر بہت مؤثر ہے۔

7۔ آئینی پہلو
عدالت کے احکامات کی effective enforcement، آئینِ پاکستان 1973 کے تحت rule of law کا حصہ ہے۔

خصوصاً:

Constitution of Pakistan کا آرٹیکل 4
اور
آرٹیکل 10-A (Fair Trial)

یہ تقاضا کرتے ہیں کہ:

decree-holder کو موثر remedy ملے؛

surety کو fair hearing ملے۔

یہ فیصلہ دونوں حقوق میں توازن پیدا کرتا ہے۔

Ratio Decidendi
ضامن کے خلاف براہِ راست ex*****on maintainable ہے۔

مدیون کی وفات surety کو discharge نہیں کرتی۔

Surety bond کی شرائط فیصلہ کن ہیں۔

Separate suit کی ضرورت نہیں۔

ضامن کی liability bond کے مطابق limited یا co-extensive ہو سکتی ہے۔

قانونی اہمیت برائے وکلاء
یہ فیصلہ درج ذیل مقدمات میں cite کیا جا سکتا ہے:

Ex*****on against surety

Family maintenance decrees

Recovery suits

Stay orders کے عوض furnished securities

Bail bonds / indemnity related civil enforcement matters

موزوں قانونی عنوانات
“Death of Judgment Debtor Does Not Discharge Surety under Section 145 CPC”

“Ex*****on Against Surety after Death of Principal Debtor”

“Surety’s Liability in Ex*****on Proceedings: Scope of Section 145 CPC”

“ضامن کی ذمہ داری مدیون کی وفات سے ختم نہیں ہوتی”

“دفعہ 145 سی پی سی کے تحت ضامن کے خلاف براہ راست عملدرآمد”

02/05/2026

*“کنٹریکٹ ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری — تین سال سروس مکمل، مستقلی آپ کا قانونی حق!”*
*“کنٹریکٹ ختم ہونے کے باوجود مستقلی ممکن — لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ”*
*“محکمہ کی تاخیر اب آپ کے حق کو ختم نہیں کر سکتی!”*
یہ فیصلہ Lahore High Court کا ہے جس میں مسٹر جسٹس Shahid Karim نے قرار دیا

*Once three years’ continuous service is completed, right of consideration accrues; departmental delay or expiry of contract cannot defeat statutory entitlement.”*

2026 LHC 1090
تفصیلی فیصلہ ۔۔۔۔
درخواست گزاروں نے آئینی درخواست دائر کی تھی کہ 04-11-2025 کا حکم نامہ کالعدم قرار دیا جائے، جس کے ذریعے ان کی سروسز کو Punjab Regularization of Services Act, 2018 کے تحت مستقل کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔ یہ ایکٹ بعد میں Punjab Regularization of Services (Repeal) Act, 2025 کے ذریعے منسوخ ہو گیا۔

حکومت نے انکار کی یہ وجوہات بیان کیں:

درخواست گزار 5 سالہ کنٹریکٹ پر Punjab Public Service Commission کے ذریعے بھرتی ہوئے تھے، جو 05-03-2022 کو ختم ہوگیا۔

کنٹریکٹ کی بروقت توسیع یا تجدید نہیں ہوئی۔

کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد وہ قانونی طور پر ملازم نہ رہے۔

چونکہ مستقل کرنے کے وقت ان کا کنٹریکٹ موجود نہیں تھا، اس لیے وہ 2018 کے ایکٹ کے تحت اہل نہ تھے۔

ایکٹ منسوخ ہو چکا، اس لیے کوئی قانونی بنیاد باقی نہیں رہی۔

اگرچہ انہوں نے کنٹریکٹ ختم ہونے سے پہلے درخواست دی، مگر انتظامی تاخیر سے کوئی حق پیدا نہیں ہوتا۔

عدالت نے قرار دیا:

یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ درخواست گزاروں کا کنٹریکٹ 05-03-2022 کو ختم ہوا، مگر اس کے بعد بھی وہ محکمے کی رضا مندی سے کام کرتے رہے۔

10-01-2023 کے جواب میں خود محکمے نے تسلیم کیا کہ درخواست گزار ابھی بھی مختلف مقامات پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

اس سے بادی النظر میں یہ سمجھا جائے گا کہ ان کا کنٹریکٹ ضمنی طور پر (by implication) بڑھ گیا تھا۔

عدالت نے مزید کہا:

حکومت کا یہ مؤقف غلط ہے کہ صرف وہی ملازمین مستقل ہو سکتے ہیں جو غور کے وقت سروس میں ہوں۔
Section 1(3) of Punjab Regularization of Services Act, 2018 کے مطابق:

"یہ ایکٹ ان تمام کنٹریکٹ ملازمین پر لاگو ہوگا جنہوں نے تین سال مسلسل سروس مکمل کر لی ہو۔"

عدالت نے کہا کہ اصل شرط صرف تین سال مسلسل سروس کی تکمیل ہے، نہ کہ یہ کہ غور کے وقت کنٹریکٹ زندہ ہو۔

اگر تین سال بعد کنٹریکٹ ختم ہو جائے اور محکمہ دانستہ کیس نہ بھیجے، تو ملازم کا حق ختم نہیں ہو سکتا۔

مزید برآں Section 3(2) of Punjab Regularization of Services Act, 2018 کے مطابق تین سال مسلسل سروس والا ملازم مستقل تقرری کے لیے اہل ہوگا بشرطیکہ:

مستقل آسامی موجود ہو

وہ اہل ہو

اسپیشل پے پیکج پر نہ ہو

کارکردگی تسلی بخش ہو

کنٹریکٹ پر رہنے کا انتخاب نہ کرے

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ چونکہ درخواست گزار Punjab Public Service Commission کی سفارش پر بھرتی ہوئے تھے، اس لیے Section 4(1) of Punjab Regularization of Services Act, 2018 کے مطابق ان کا کیس براہِ راست اپائنٹنگ اتھارٹی کو بھیجا جانا چاہیے تھا، Scrutiny Committee کو نہیں۔

عدالت نے کہا کہ اصل غلطی محکمہ کی بیوروکریٹک سستی (bureaucratic inertia) تھی، جس کی سزا ملازمین کو نہیں دی جا سکتی۔

نتیجہ
درخواست منظور کر لی گئی۔

04-11-2025 کا حکم کالعدم قرار دے دیا گیا۔

حکومت کو حکم دیا گیا کہ درخواست گزاروں کو 21-11-2022 کے ورکنگ پیپر کے مطابق مستقل بنیادوں پر تعینات کرے۔

کنٹریکٹ کی توسیع ضروری نہیں، اور اس کے بغیر بھی مستقل کرنے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
قانونی تجزیاتی جائزہ
“کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کا حق، محکمانہ تاخیر، اور ‘تین سال مسلسل سروس’ کی قانونی تشریح—2026 LHC 1090 کا جامع قانونی تجزیہ”

یہ فیصلہ Lahore High Court از مسٹر جسٹس Shahid Karim سروس لاء میں ایک نہایت اہم نظیر ہے، جس میں عدالت نے واضح کیا کہ محکمانہ تاخیر، بیوروکریٹک سستی، یا کنٹریکٹ کی رسمی میعاد ختم ہونا کسی ایسے ملازم کے حقِ مستقلی کو ختم نہیں کر سکتا جس نے قانون کے مطابق اہلیت حاصل کر لی ہو۔

1) مقدمہ کا بنیادی سوال
اصل سوال یہ تھا کہ:

کیا ایسا کنٹریکٹ ملازم جس نے تین سال مسلسل سروس مکمل کر لی ہو، لیکن محکمہ کی تاخیر سے اس کا کیس فیصلہ نہ ہو سکا اور اس دوران کنٹریکٹ ختم ہو گیا، وہ مستقلی کے حق سے محروم ہو جائے گا؟

عدالت کا جواب: ہرگز نہیں۔

2) متعلقہ قانون
(الف) Punjab Regularization of Services Act, 2018
Section 1(3)
عدالت نے بعینہٖ نقل کیا:

“It shall apply to all persons employed on contract in a department, who have completed three years continuous service before or after the commencement of the Act.”

قانونی تشریح:
یہ دفعہ دو چیزیں واضح کرتی ہے:

all persons employed on contract
یعنی ہر کنٹریکٹ ملازم؛

completed three years continuous service
اصل شرط تین سال مسلسل سروس کی تکمیل ہے۔

عدالت نے لفظ “completed” کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ:

The crucial words are “completed three years continuous service”.

یعنی جب تین سال مکمل ہو گئے تو حق پیدا ہو گیا۔

(ب) Section 3(2)
“Notwithstanding anything contained in the Act, the contract employees who have continuously been serving as such for a period not less than three years shall be eligible to be considered for appointment on regular basis if…”

شرائط:

(a)
مستقل آسامی موجود ہو۔

(b)
ملازم پوسٹ کے لیے اہل ہو۔

(c)
Special Pay Package
پر نہ ہو۔

(d)
Performance satisfactory
ہو۔

(e)
خود کنٹریکٹ جاری رکھنے کا انتخاب نہ کرے۔

قانونی نکتہ
لفظ “shall be eligible” mandatory ہے،
directory
نہیں۔

(ج) Section 4(1)
“The case of a contract employee appointed on the recommendations of the Commission shall be submitted to the appointing authority for regularization without reference to the Commission or the Scrutiny Committee.”

یہاں لفظ shall لازمی حکم ہے۔

درخواست گزار چونکہ Punjab Public Service Commission کے ذریعے آئے تھے، لہٰذا کیس براہ راست اپائنٹنگ اتھارٹی کو جانا تھا۔

محکمہ نے غیر قانونی طور پر Scrutiny Committee کو بھیج دیا۔

3) Impugned Order کی خامیاں
(i) Misconstruction of law
حکومت نے کہا:

only those contract employees could be considered whose contracts are valid…

عدالت نے اسے erroneous and misconstruction of law قرار دیا۔

(ii) Subjective observation
عدالت نے کہا:

This observation is merely subjective…

یعنی قانون کی بنیاد پر نہیں۔

(iii) Whims of authority
عدالت نے کہا:

consideration … cannot be at the whims of the relevant office

یعنی افسر کی مرضی پر حق منحصر نہیں۔

4) Implied extension doctrine
اگرچہ تحریری توسیع نہ تھی، مگر ملازمین کام کرتے رہے۔

لہٰذا عدالت نے قرار دیا:

the contracts … will have been extended by implication.

یہ اصول درج ذیل قانونی اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے:

Acquiescence

Estoppel

Legitimate Expectation

5) Bureaucratic inertia
عدالت نے لفظ استعمال کیا

bureaucratic inertia

یعنی محکمانہ سستی۔

قانونی اصول:

Actus Curiae Neminem Gravabit
عدالت/ریاست کے فعل سے کسی کو نقصان نہ ہو۔

6) Repeal Act, 2025 کا اثر
Punjab Regularization of Services (Repeal) Act, 2025 بعد میں آیا۔

لیکن accrued / vested rights محفوظ رہتے ہیں۔

اصول:

Section 6 of General Clauses Act, 1897

repeal shall not affect accrued rights.

درخواست گزار کا حق repeal سے پہلے پیدا ہو چکا تھا۔

7) Legitimate Expectation
جب:

07-12-2020 کو scrutiny شروع ہوئی؛

01-04-2022 کو recommendation ہوئی؛

21-11-2022 کو working paper بنا؛

تو petitioners کے حق میں legitimate expectation پیدا ہوئی۔

8) Promissory Estoppel
ریاست نے:

کام لیا

consideration
کی

processing
کی

پھر انکار کیا۔

ریاست اپنے conduct سے مکر نہیں سکتی۔

9) Judicial Review under Article 199
یہ حکم Article 199 کے تحت کالعدم ہوا کیونکہ:

illegality

misreading

non-reading

arbitrary exercise of power

malafide in law

موجود تھے۔

10) Ratio Decidendi
اصلی ratio

تین سال مسلسل سروس مکمل ہوتے ہی
regularization consideration
کا حق پیدا ہو جاتا ہے؛
subsisting contract
شرط نہیں؛
departmental delay
حق ختم نہیں کرتی؛
repeal accrued rights
ختم نہیں کرتا۔

11) Relief Granted
عدالت نے

impugned order set aside
کیا

respondents
کو regular appointment کا حکم دیا

contract extension
غیر ضروری قرار دی۔

12 ..یہ فیصلہ درج ذیل مقدمات میں حوالہ بن سکتا ہے

Contract regularization
Service extension disputes
Legitimate expectation
Bureaucratic delay
Repeal and accrued rights
PPSC appointees cases

قانونی اصول و خلاصہ کلام

“جیسے ہی تین سال کی مسلسل ملازمت مکمل ہو جائے، ریگولرائزیشن/مستقلی کے لیے غور کیے جانے کا قانونی حق پیدا ہو جاتا ہے؛ محکمانہ تاخیر یا کنٹریکٹ کی میعاد ختم ہونا اس قانونی حق کو ختم نہیں کر سکتا۔”

02/05/2026

Under the Food Authority Act, there are “three regulatory regimes”, namely the FSO, FA, and the Special Court.2Each regulatory authority has its own distinct function. FSO has been defined in Section 12 of the Food Authority Act, while powers exercisable by FSO are specified in Section 13 of the Act of 2011. FA exercises the power mentioned in Section 7 of the Act ibid, and its jurisdiction is specified in Section 39 of the Act of 2011. Section 13(1) of the said Act pertains to seizures and stipulates in its clause (b) that the FSO may seize ‘any food, apparatus or utensil’ or, according to clause (c), enter or seal any “premises”, and while doing so, as per subsection (2) of Section 13, is under a bounden duty to prepare a statement ‘describing the food, apparatus, utensil or vehicle seized’ and deliver a copy thereof to the person from whom the item was so seized. The remedy against such seizures is provided under subsection (3) thereof, specifically, filing an application before the Special Court, within seven (7) days of the seizure. On receipt of the said application, the Special Court can either confirm seizure, which shall result in the items so seized being forfeited, wholly or partially, to the FA in terms of Section 13(3) of the Act of 2011, in which eventuality the items so seized shall stand forfeited in favour of FA as per subsection (4), or have FSO return the seized items to the person from whom they were taken from. Pertinently, where no application, in terms of subsection (3), has been filed before the Court within seven (7) days of the seizure, the items seized stand automatically forfeited in favour of FA under Section 13(5) of the Food Authority Act. At this junction, it is imperative to state that a careful and purposive construction of Section 13 of the Act of 2011 makes it evident that the term “vehicle”, which falls within the definition of “premises” under Section 2(t), has not been incorporated with the penal consequences as envisaged under subsection (5) of Section 13 but does find express mention in the preceding subsections thereof. The legislature, in its wisdom, has refrained from expressly including it within the ambit of automatic forfeiture contemplated in circumstances where the person from whom the property was so seized fails to approach the Special Court within the duration prescribed in subsection (3). This deliberate omission is of grave significance and indicative of legislative intent, and the same suggests that seizure of a “vehicle”, or “vehicles” where there is more than one, was not meant to be subject to automatic forfeitures in terms of Section 13(5). To construe otherwise would be erroneous, considering the settled canon of statutory interpretation that the Courts cannot, under the guise of interpretation, either add or omit even a single a word into any provision of a statute, which in this case has been consciously, and despite express mention in the preceding subsections, expressly excluded. Nothing could be added to a statute or a rule in order to rewrite the same, as that would be against the established principles of statutory interpretation.3Further, if the item is not destroyed or is returned to the claimant on an interim basis, the Special Court still possesses the power to pass an order pertaining to the said item or items after the conclusion of the trial in terms of Section 36 of the Act of 2011. 4. In other words, the Special Court may pass an order for interim custody of seized item(s) pending the conclusion of the trial. The said provision allows for the release of a seized item(s) before the completion of legal proceedings, thereby enabling the owner of the item(s) to apply for the restoration of the same on demonstrating lawful grounds and requisite documents to the Special Court, without first having to await the conclusion of a prolonged legal process before retrieving the possession of the items so seized. It is also trite that the release of seized items during the pendency of proceedings neither absolves the accused nor impairs the course of justice. On the contrary, it is a measure to prevent needless deterioration or deprivation of the property, subject to furnishing the surety bond, and without prejudice to the final determination of guilt and forfeiture, or otherwise of the property seized. Similar provisions exist under the Code of Criminal Procedure 1898 (“Code” or “Cr.P.C”), which governs the release of case property during the pendency of trial or inquiry.
Writ Petition No.10163 of 2026
(Abdul Qadeer v. The State, etc.)
2026LHC2581

02/05/2026

جعلی/مصنوعی دودھ سپلائی کرنا بھی سنگین جرم ہے۔ ضمانت خارج
PLJ 2026 CrC 273
Petitioner was found to be carrying the artificial milk from one place to another by means of a vehicle/tanker, as such I am confident to hold that he (petitioner) was transporting the milk, therefore, shall be squarely covered by the purview of “food operator”.

Synthetic Milk that is also called Sweet Poison is not the milk but an artificial imitation of natural milk with a high degree of adulteration to increase the volume of milk. Main components of Synthetic Milk are water, pulverized detergent or soap, sodium hydroxide, vegetable oil, salt and urea. Although it does not kill at once but it slowly makes the body a fertile ground or farm house for diseases. According to research, use for Synthetic Milk inflicts very serious harms on human body causing swelling in the eyes and complications in lever and kidney.
Crl. Misc. No. 76935-B of 2025
Muhammad Younas vs State

Address

Post Office Street
Khanewal
58150

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Precedents & Providing LEGAL AID - DBA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share