21/02/2026
پاکستان میں فراڈ کی ایک نئی قسم: مدد کے نام پر ڈیجیٹل ڈکیتی!
📢 ایک التجا! 🚩 انسانیت کے نام پر یہ پیغام آگے شیئر کریں۔
یہ پیغام اپنے والدین، بچوں اور دوستوں کے ساتھ ابھی شیئر کریں۔ آپ کا ایک "شیئر" کسی سفید پوش خاندان کو خودکشی کرنے سے بچا سکتا ہے۔
آج آپ نے کسی کو اے ائی کے ذریعے ہونے والے فراڈ سے بچایا، تو یہ آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہوگا۔
پاکستان کی مصروف شاہراہوں سے لے کر جدید شاپنگ مالز تک، ایک ایسا فراڈ کیا جارہا ا ہے جس کا شکار کوئی بھی ہو سکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایف آئی اے (FIA) اور سائبر کرائم کے دیگر اداروں کو ایسی لرزہ خیز شکایات موصول ہوئی ہیں جنہوں نے تفتیشی افسران کو بھی چکرا کر رکھ دیا ہے۔ یہ کوئی عام چھینا جھپٹی نہیں، بلکہ مصنوعی ذہانت (AI) اور ٹیکنالوجی کا وہ شیطانی ملاپ ہے جو آپ کی زندگی بھر کی جمع پونجی اور عزت سیکنڈوں میں خاک میں ملا سکتا ہے۔
لاہور کے علاقوں گلبرگ، ڈی ایچ اے اور لبرٹی مارکیٹ میں اب تک 3 ایسے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جو بالکل ایک ہی مخصوص طریقے (Pattern) سے انجام دیے گئے۔
واقعہ نمبر 1: ایک ریٹائرڈ پروفیسر صاحب کو مال روڈ پر ایک انتہائی خوش لباس شخص نے روکا اور کہا، "بیٹا، میری نظر کمزور ہے، ذرا دیکھنا میرے بینک کی ایپ سے پنشن آئی ہے یا نہیں؟" پروفیسر صاحب نے ہمدردی میں فون پکڑا اور کچھ ہی دیر بعد ان کے نام پر لاکھوں کا قرضہ نکل چکا تھا۔
واقعہ نمبر 2: ایک شخص کو میٹرو اسٹیشن پر ایک خاتون نے روکا جو بظاہر بہت پریشان تھیں، انہوں نے مدد کے بہانے اپنا فون اس کے سامنے کیا اور اس کا چہرہ اسکین کر لیا گیا۔
اصل میں فراڈ کس طرح کیا جاتا ہے۔ جیسے ہی آپ ان فراڈیوں کا فون ہاتھ میں لیتے ہیں، درحقیقت آپ ایک ڈیجیٹل پھندے میں پھنس چکے ہوتے ہیں جب آپ اسکرین کی طرف دیکھتے ہیں، فون کا فرنٹ کیمرہ ہائی ڈیفینیشن میں آپ کے چہرے کا 3D اسکین کر لیتا ہے۔۔ فون کی اسکرین پر خاص قسم کے کیمیکلز یا سافٹ ویئر ہوتے ہیں جو آپ کے انگوٹھے اور انگلیوں کے نشانات کو ڈیجیٹلائز کر لیتے ہیں۔ باتوں باتوں میں آپ کی آواز ریکارڈ کی جاتی ہے اور پھر AI کے ذریعے آپ کی ہو بہو نقل تیار کر لی جاتی ہے۔
خوفناک حقیقت: صرف 30 منٹ کے اندر آپ کی ڈیجیٹل شناخت (Digital Identity) استعمال کر کے آپ کے نام پر بھاری قرضے لیے جا سکتے ہیں یا آپ کی آواز میں آپ کے گھر والوں سے پیسے بٹورے جا سکتے ہیں۔
خود کو اور اپنے پیاروں کو کیسے بچائیں؟
ایف آئی اے کی جانب سے جاری کردہ الرٹس اور ان واقعات کے پیشِ نظر ان باتوں کو پلے باندھ لیں:
اجنبی کا فون ہرگز نہ پکڑیں: چاہے سامنے والا کتنا ہی معصوم یا مجبور کیوں نہ لگے، اسے کہیں کہ وہ کسی دکان دار یا سیکیورٹی گارڈ سے مدد لے۔
کیمرے سے بچیں: کسی بھی انجان شخص کے فون کی اسکرین کو اپنے چہرے کے قریب نہ لائیں، یہ آپ کا فیس آئی ڈی (Face ID) چوری کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
پکار پکار کر کوڈ نہ بتائیں: اگر کوئی آپ سے او ٹی پی (OTP) یا کوئی نمبر پڑھنے کو کہے تو ہرگز ایسا نہ کریں۔
لاہور میں ہونے والے یہ چند واقعات آہستہ آہستہ پورے پاکستان میں پھیل رہے ہیں۔ آپ کا ایک "شیئر" کسی سفید پوش خاندان کو معاشی خودکشی اور عمر بھر کی اذیت سے بچا سکتا ہے۔