Your News

Your News Your News

Muhammad Arif KhanA Journey of Learning, Business & ServiceAn educator, entrepreneur, social worker and writer with expe...
25/09/2026

Muhammad Arif Khan
A Journey of Learning, Business & Service
An educator, entrepreneur, social worker and writer with experience across education, real estate, consultancy, digital marketing and AI-driven business solutions.
His professional journey combines traditional experience with modern technology, with a continuing focus on business growth, education, community service and meaningful impact.
Education | Business | Social Service | Writing | AI & Digital Transformation

24/09/2026

محمد عارف خان (کھاریاں )
ہر غریب انسان کی خواہش ہے کہ کوئی ایسی پارٹی ہو جو اس کی مشکلات کو سمجھے، مہنگائی اور روزمرہ کی بڑھتی ہوئی مشکلات پر سوال اٹھائے اور آئی پی پیز، پیٹرول، چینی، گندم اور کھاد مافیاز سے عوام کی گردنوں کو آزاد کرانے کی جدوجہد کرے۔
عوام کو صرف وعدے نہیں، ریلیف، انصاف اور جواب دہی چاہیے۔ ایسی سیاست جو غریب کی تھالی، مزدور کی اجرت، کسان کی لاگت، بچے کی تعلیم اور مریض کی دوا کو اپنا مسئلہ سمجھے۔
آج عوامی امنگ یہی ہے کہ عوامی مسائل مستقل قومی ایجنڈا بنے، ہر پارٹی کا منشور بنے اور طاقتور مفادات کا شفاف احتساب ہو اور ریاستی فیصلوں میں عام آدمی کو مرکزیت حاصل ہو
یہ صرف کسی ایک جماعت یا حکومت کا سوال نہیں، یہ پاکستان کے عام شہری کا سوال ہے۔
غریب کی آواز، دراصل پاکستان کی آواز ہے۔

والد محترم کے چچا زاد بھائی،محمد  اختر ،  ارشد محمود، ناصر محمود کے والد محترم محمد رمضان مرحوم  کے درجات کی بلندی کے لئ...
19/09/2026

والد محترم کے چچا زاد بھائی،محمد اختر ، ارشد محمود، ناصر محمود کے والد محترم محمد رمضان مرحوم کے درجات کی بلندی کے لئے اجتماعی دعا میں گنجہ و گرد و نواح سے معززین کے ساتھ ساتھ دوست، احباب اور عزیز و اقارب کی کثیر تعداد میں شرکت

15/09/2026
خصوصی نشست، شفیق مسجد کھاریاںپیغامِ سیرت، یومِ تاسیس جماعت اسلامی اور ’’حق دو عوام کو‘‘ مہم پر اہم گفتگوکھاریاں: جماعت ا...
27/08/2026

خصوصی نشست، شفیق مسجد کھاریاں

پیغامِ سیرت، یومِ تاسیس جماعت اسلامی اور ’’حق دو عوام کو‘‘ مہم پر اہم گفتگو

کھاریاں: جماعت اسلامی کھاریاں سرکل شفیق مسجد کے زیر اہتمام 26 اگست 2026ء بروز بدھ بعد از نماز مغرب شفیق مسجد کھاریاں میں ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی، جس میں 12 ربیع الاول، پیغامِ سیرت النبی ﷺ، یومِ تاسیس جماعت اسلامی، ’’حق دو عوام کو‘‘ مہم اور لاہور دھرنے کے حوالے سے اہم امور پر گفتگو کی گئی۔

نشست کی صدارت چوہدری عمران انور، امیر جماعت اسلامی کھاریاں نے کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں سیرتِ نبوی ﷺ کو موجودہ دور میں فرد اور معاشرے کی اصلاح کے لیے عملی رہنمائی کا سرچشمہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم ﷺ کی سیرت محض واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ عدل، امانت، خدمت، حق گوئی اور اجتماعی ذمہ داری کا مکمل نمونہ ہے۔

انہوں نے جماعت اسلامی کے یومِ تاسیس کے حوالے سے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا، اقامتِ دین اور معاشرے میں عدل و انصاف کا قیام ہے۔ موجودہ حالات میں عوام کو درپیش مسائل کے لیے پُرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد کو مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اس موقع پر محمد عارف خان، سیکرٹری شعبہ تربیہ جماعت اسلامی ضلع گجرات نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیرت النبی ﷺ سے وابستگی کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے کردار، معاملات اور اجتماعی زندگی میں رسول اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو رہنما بنائیں۔ انہوں نے تربیتی اور دعوتی سرگرمیوں کو مزید منظم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

چوہدری محمد لطیف لنگڑیال، سابق امیر جماعت اسلامی کھاریاں و سابق صدر بار ایسوسی ایشن کھاریاں نے جماعت اسلامی کی جدوجہد، اس کی نظریاتی بنیاد اور معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام کے لیے مسلسل کردار پر گفتگو کی۔

سید فیاض شبیر شاہ، نائب امیر جماعت اسلامی کھاریاں نے بھی اظہارِ خیال کیا، جبکہ سید خرم عباس شاہ، عبدالمجید بٹ ناظمین سرکل، محمد فراس قاسم نائب قیم، وقار احمد ڈار صدر پاکستان بزنس فورم کھاریاں سمیت دیگر ذمہ داران و کارکنان نے خصوصی شرکت کی۔

نشست میں ’’حق دو عوام کو‘‘ مہم اور لاہور میں جاری دھرنے کے حوالے سے بھی کارکنان کو متحرک کرنے، عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور پُرامن جمہوری جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کرنے پر زور دیا گیا۔ اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے احتجاج کے ساتھ ساتھ مسلسل عوامی رابطہ، آگاہی اور دعوتی سرگرمیوں کو بھی جاری رکھا جائے۔

نشست کا اہم اور قابلِ ذکر پہلو محمد عمران ڈار کی جماعت اسلامی میں شمولیت تھا۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی دعوت، نظریاتی جدوجہد اور عوامی خدمت کے سفر میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ ذمہ داران نے انہیں خوش آمدید کہا اور امید ظاہر کی کہ وہ جماعت کی دعوت اور عوامی خدمت کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

نشست کے اختتام پر ملک و قوم، امت مسلمہ اور جماعت اسلامی کی دعوت و جدوجہد کی کامیابی کے لیے دعا کی گئی۔

01/08/2026

فرسودہ نظام انجوائے بھی، سیاسی شہادت کی تمنا بھی

(محمد عارف خان۔ کھاریاں)

پاکستان کی سیاست میں ایک عجیب و غریب تضاد ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ ایک طرف ہر سیاست دان، ہر تجزیہ کار، ہر عام شہری یہ کہنے کو تیار ہے کہ نظام فرسودہ ہے، ادارے کمزور ہیں اور حکمرانی کا ڈھانچہ عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتا۔ دوسری طرف اسی فرسودہ نظام کے اندر رہتے ہوئے اسے انجوائے کرتے سیاسی رہنماؤں اور ان کے حامیوں میں "سیاسی شہادت" کی ایک عجیب سی تمنا پائی جاتی ہے۔ یہ تمنا کبھی عدالتی کارروائیوں کے سائے میں ظاہر ہوتی ہے کبھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے آواز بن کر بلند ہوتی ہے اور کبھی سڑکوں پر احتجاج کے دوران نعروں کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

یہ کوئی نیا رجحان نہیں۔ ہماری سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل مچی تو کچھ رہنماؤں نے اس ہلچل کو اپنی سیاسی شناخت کا حصہ بنا لیا۔ انہیں نظام نے کبھی "ظلم کا شکار" قرار دیا تو کبھی "جمہوریت کا محافظ" اور کبھی سیدھے سادے لفظوں میں "سیاسی شہید"۔ عوام نے ان کی ہمدردی میں آوازیں بلند کیں، جلسے کیے اور کئی بار انہیں اقتدار تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ کچھ عرصے بعد وہی رہنما یا ان کے قریبی حلقے، نئے رنگ و روپ میں پھر سے حکمرانی کے ایوانوں میں نظر آئے۔ وہ جو کچھ دن پہلے "نظام کا شکار" تھے اچانک "فرسودہ نظام کے محافظ" بن گئے۔

یہ ایک ایسا چکر ہے جو بار بار دہرایا گیا ہے اور ہر بار عوام کو لگا کہ شاید اس بار کچھ بدلے گا۔ مگر بدلا کچھ نہیں۔ مہنگائی آج بھی قابو سے باہر ہے، بے روزگاری نوجوانوں کے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیل رہی ہے، بدانتظامی ہر سرکاری دفتر کی پہچان بن چکی ہے اور بدعنوانی اس قدر گہری جڑیں جمائے ہوئے ہے کہ اسے نکالنا اب ایک عام سیاسی ارادہ نہیں بلکہ ایک چیلنج بن چکا ہے۔

آئین پاکستان ہمیں جمہوری اداروں، قانون کی بالادستی اور عوامی فلاح کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا دستاویزی سہارا ہے جسے ہم نے ہمیشہ اپنے سینے سے لگایا مگر عملی زندگی میں اس کی روح کو نظر انداز کیا۔ اداروں کی کمزوری نے نہ صرف معاشی ترقی کو روکا بلکہ عام آدمی کے اعتماد کو بھی متاثر کیا۔ احتساب کا عمل جب غیر شفاف ہوتا ہے جب قانون کے محافظ خود قانون کی پاسداری سے گریزاں نظر آتے ہیں اور جب سیاسی استحکام ایک دور دراز خواب بن کر رہ جاتا ہے تب ایک خلا پیدا ہوتا ہے اور اس خلا کو پُر کرنے کے لیے "سیاسی شہادت" کا بیانیہ سامنے آ جاتا ہے۔

سیاسی شہادت کا تصور اگر محض جذباتی سطح پر دیکھا جائے تو یہ ایک مظلومیت کا دردناک بیانیہ نظر آتا ہے مگر جب اسے تجزیاتی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ اکثر نظام کی ناکامیوں کو ایک فرد کی قربانی سے جوڑنے کی ایک مہارت ورانہ کوشش نظر آتی ہے۔ یہ کوشش حقیقت کو ثابت نہیں کرتی بلکہ یہ بتاتی ہے کہ جب نظام خود اصلاح کی راہ نہیں اختیار کرتا، جب ادارے اپنی ذمہ داریوں سے عاری ہو جاتے ہیں تب سیاسی بیانیے میں قربانی کا عنصر غالب آ جاتا ہے۔ ایک رہنما کی ذاتی ناکامی کو قومی المیہ بنا دیا جاتا ہے اور قومی المیے کو ذاتی مشکل میں بدل کر نظام کی ناکامیوں سے توجہ ہٹا لی جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ فرسودہ نظام کی اصلاح کے بغیر نہ مہنگائی قابو میں آ سکتی ہے، نہ بے روزگاری کم ہو سکتی ہے اور نہ بدعنوانی پر مؤثر روک لگ سکتی ہے۔ یہ مسائل صرف ایک جماعت یا ایک دورِ حکومت تک محدود نہیں رہے۔ مختلف ادوار میں، مختلف جماعتوں نے اقتدار سنبھالا مگر عوام کی شکایات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسائل کا سرچشمہ صرف سیاسی قیادت میں نہیں بلکہ حکمرانی کے ڈھانچے میں ہے۔

کیا موجودہ حکمرانی کا ڈھانچہ ان مسائل کے حل کی صلاحیت رکھتا ہے؟ اگر آئین کی روح کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو جواب "ہاں" ہونا چاہیے۔ مگر عملی طور پر جواب اس کے برعکس نظر آتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت "سیاسی شہادت کے بیانیے" سے آگے بڑھے۔ عوام کو درپیش مسائل قومی ہیں اور ان کا حل بھی قومی سطح پر سوچنا ہوگا۔ ریاستی اداروں کو قانون کی بالادستی قائم رکھنے اور شفاف احتساب یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اقتدار کے لیے نہیں، بلکہ نظام کی اصلاح کے لیے مقابلہ کرنا ہوگا۔

عوام کو بھی اس سارے معاملے میں ایک ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ جمہوری عمل تبھی مضبوط ہوتا ہے جب شہری صرف حقوق کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ اپنے فرائض کا بھی احساس رکھتے ہیں۔ جب وہ سیاسی نعروں پر اندھا اعتماد نہیں کرتے بلکہ نتائج کا جائزہ لیتے ہیں۔ جب وہ "سیاسی شہادت" کے جذباتی بیانیے سے متاثر ہو کر نہیں بلکہ اصلاح کے عملی ایجنڈے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اصلاحِ نظام، مضبوط جمہوری ادارے اور عوامی فلاح ہی وہ راستہ ہے جو اس چکر کو توڑ سکتا ہے جو ہمیں بار بار ایک ہی نقطے پر لے آتا ہے۔

سیاسی شہادت کی تمنا سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ نظام کو ایسا بنایا جائے جہاں کسی کو شہادت کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔ جہاں عدالتیں آزاد ہوں، جہاں احتساب سب کے لیے یکساں ہو، جہاں ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں اور جہاں عوام کا ووٹ واقعی ان کی طاقت بنے۔

یہ مثبت اور تعمیری راستہ ہی پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ شہادت کے نعروں سے زیادہ پائیدار نظام کی تعمیر ہے۔ اور یہ تعمیر صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم سب — چاہے حکمران ہوں یا عوام — اس بات پر متفق ہو جائیں کہ ہمیں ایک ایسا پاکستان چاہیے جہاں سیاسی شہادت کی تمنا نہیں بلکہ ترقی اور فلاح کی ضرورت محسوس ہو۔

12/07/2026

🌙 Jummah Mubarak 🤲

May this blessed Friday bring *peace to your heart, barakah in your rizq, strength in your faith, and acceptance of all your duas.* May Allah ﷻ guide us toward righteousness and fill our lives with His endless mercy and blessings.

"Indeed, the remembrance of Allah brings peace to the hearts." 🤍

✨ Remember to:
Recite Surah Al-Kahf
Send abundant Durood upon Prophet Muhammad ﷺ
Make sincere Dua
Remember those in need

Jummah Mubarak from AHBAB PROPERTY
Builder & Constructor

📞 Muhammad Arif Khan
0331 111 7782

12/07/2026

🎓 Dreaming of Studying Abroad? Your Journey Starts Here! 🌍

Not sure where to begin? Ahbab Consultants Pvt. Ltd. is here to guide you every step of the way with FREE expert consultation.

🌟 Study Destinations:
🇬🇧 UK
🇭🇺 Hungary
🇲🇹 Malta
🇨🇾 Cyprus
🇹🇷 Turkey

✅ University Admissions
✅ Student Visa Guidance
✅ Career Counseling
✅ Application Assistance

📍 Visit Us: Dinga Road, Kharian
📞 Call Now: 0329 0600622

⏳ Limited Seats Available – Apply Today!

Address

Kharian

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Your News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Your News:

Shortcuts

Share