16/04/2026
تضحیکِ نسواں اور سوشل میڈیا: اخلاقیات کا جنازہ
یہ بات تو سمجھ آتی ہے کہ فرد اور معاشرے کے باہمی تعلق میں لباس یا وضع قطع بحث کا موضوع بن سکتے ہیں، لیکن کسی انسان کی اجازت کے بغیر اس کی تصویر کھینچنا، اسے سماجی ویب سائٹس کی نذر کرنا اور اس فردِ واحد کو تضحیک آمیز بحث کا ایندھن بنانا کس ضابطہِ اخلاق کا درس ہے؟ یہ عمل نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس معاشرتی پستی کی علامت ہے جہاں دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے کو 'اصلاحِ معاشرہ' کا لبادہ پہنا دیا گیا ہے۔
اس کی بدترین مثال حال ہی میں صحافی غریدہ فاروقی اور ایک ایرانی اینکر پرسن کی تصاویر کا تقابلی موازنہ ہے۔ کسی کی نجی زندگی یا اس کے پہناوے کو بنیاد بنا کر وائرل ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے اسے تذلیل کا نشانہ بنانا دراصل اس مخصوص طبقے کی اپنی اخلاقی گراوٹ کی ایک کڑی ہے جو 'تقویٰ' اور 'تہذیب' کے نام پر دوسروں کی عزتیں اچھالتے ہیں_
لباس پر بحث کرنا کسی کا نظریہ ہو سکتا ہے، لیکن کیا کسی کی اجازت کے بغیر تصویر بنانا اور اسے سوشل میڈیا پر تماشہ بنانا اخلاقیات ہے؟ غریدہ فاروقی ہوں یا کوئی بھی عام خاتون، کسی کی نجی زندگی کو تضحیک کا نشانہ بنانا 'اصلاح' نہیں بلکہ 'اخلاقی دیوالیہ پن' ہے۔
آئیے دوسروں کے انتخاب پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے اخلاق کا جائزہ لیں-
آپ کے خیال میں کیا کسی کی اجازت کے بغیر اس کی تصویر وائرل کرنا درست عمل ہے؟ اپنی رائے دیں اور شیئر کریں?