15/05/2026
سیالکوٹ بھر میں غیر قانونی منی پٹرول پمپس کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کے لیے سنگین خطرہ بننے لگے کم پیمانہ اور ناقص پٹرول کی سیل پھر بھی جاری
اطلاعات کے مطابق ہیڈ مرالہ، جوگو چک، بجوات، کوٹلی لوھاراں اور ہڈالی گوندل سمیت مختلف علاقوں میں رہائشی آبادیوں کے درمیان منی پٹرول پمپ قائم ہیں، جہاں حفاظتی اقدامات اور معیارِ تحفظ کے تقاضے پورے کیے بغیر پٹرول و ڈیزل کی فروخت جاری ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گھروں کے قریب آتش گیر مادہ ذخیرہ کرنا کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ معمولی سی چنگاری، بجلی کا شارٹ سرکٹ یا کسی بھی قسم کی غفلت بڑے دھماکے یا آگ لگنے کا باعث بن سکتی ہے، جس سے جانی و مالی نقصان کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے غیر قانونی پمپس کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ذرائع کے مطابق ان منی پٹرول پمپس میں اکثر حفاظتی آلات، فائر سیفٹی انتظامات اور لائسنسنگ کے تقاضوں پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا، جس کے باعث یہ کاروبار نہ صرف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی جانوں کے لیے خطرہ بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق آتش گیر مادوں کی رہائشی علاقوں میں فروخت سخت ضوابط کے تحت ہی ممکن ہونی چاہیے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ محکموں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر ان منی پٹرول پمپس کا سروے کر کے قانونی کارروائی کریں، غیر معیاری ذخیرہ اندوزی روکیں اور رہائشی علاقوں میں اس طرح کے کاروبار کی اجازت نہ دی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بڑے حادثے کی ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔