Akram Malik

Akram Malik it's all about new info... Follow for more jobs

19/11/2025
24/05/2025

سعودی عرب کے شہر جدہ میں ایک لیڈیز ٹیلر کی دکان تھی۔ گلف میں ٹیلرنگ شاپس کی عمومی پریکٹس یہ ہے کہ دکان میں ایک معلم اور ایک یا ایک سے زائد کاریگر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر سوٹ کی سلائی سو ریال ہے تو کاریگر کو 45 ریال ملیں گے۔ 55 ریال معلم لے گا۔ معلم سوٹ کاٹ کر سلائی کے لیے دیتا ہے دکان کا کفیل کے بعد ایک طرح سے مالک ہوتا ہے دکان کا کرایہ بجلی کا بل اور کفیل سے طے شدہ بھتہ وہ ہی ادا کرتا ہے۔ کیونکہ دکان کفیل کے نام پر اوپن ہوتی ہے۔ معلم اور کاریگر اپنی کفالت اور اقامہ وغیرہ خود ہی لگواتے ہیں۔ کھانا پینا رہائش وغیرہ بھی دونوں کی اپنی ہوتی ہے۔

خیاط یعنی ٹیلرنگ مارکیٹ میں ایک دکان ایسی تھی جہاں سب سے فینسی کام ہوا کرتا تھا۔ جو کام کوئی نہیں کر سکتا وہ کام اس شاپ پر جاتا تھا۔ اور ظاہر ہے ریٹ بھی اسکا ویسا ہی ہوتا تھا۔ عروسی لباس اور شاہی خاندان کی خواتین کے کاسٹیومز۔ جن کی سلائی ہزاروں ریال ہوا کرتی تھی۔ مگر اس دکان میں ایک ہی معلم تھا جو خود سوٹ کاٹتا اور خود ہی سلائی کرتا۔ نوے فیصد کام وہ واپس کر دیا کرتا تھا کہ ایک بندہ کتنا کام کر سکتا ہے؟ سب سے مہنگا کام پکڑتا منہ مانگی قیمت پر اور ہزار پندرہ سو ریال کی دیہاڑی لگا لیتا۔ ہنر تھا اور منہ مانگی قیمت ملتی تھی۔ ہزار ریال سلائی ہوتی تو وہ اپنی ہی ہوتی نہ تو اوپر کوئی معلم یعنی کٹنگ ماسٹر تھا۔

پاکستان میں گھر کو گرا کر کوٹھی بنی، بیٹیوں کی منگنیوں اور شادیوں پر پورے خاندان کو حیرت میں ڈال دینے والے اخراجات کیے۔بیٹے بلکل چھوٹے تھے۔ جب پاکستان چھٹی آتا تو دکان بند رہتی۔ بندہ ایسا تھا کہ جیسے ہی واپس جاتا پھر گاہکوں کی لائن لگ جاتی۔ ساتھ والی دکان کے ایک سینئیر کاریگر نے کہا کہ دو تین مہینے جو آپ پاکستان گزارتے ہیں۔ دکان کی چابی مجھے دے جایا کریں اور مجھ سے ایک ماہوار رقم طے کر لیں۔ وہ میں آپ کو دے دیا کروں گا۔ بولا نہیں دکان بند ہی اچھی ہے میرے گاہک بس مجھ سے ہی کام کرواتے ہیں۔ کاریگر نے کہا کہ آپ مجھے کام پر رکھ کر بتا دیں کہ آپ جیسا کام کرتے ہیں۔ آپ جیسا ہی کام میں کر سکتا ہوں۔ آپ سے ذیادہ کام کا تجربہ ہے۔ بولا مجھے منظور نہیں ہے۔

پاکستان چھٹی آیا۔ فالج کا اٹیک ہوا اور دائیں سائیڈ مکمل مفلوج ہونے کے ساتھ سپیچ بھی چلی گئی۔ پچاس سال عمر تھی۔ پاکستان اور سعودیہ بھی جا کر جو بن پڑا علاج کروایا مگر ایک فیصد بھی بہتری نہ آئی۔ اب مارکیٹ گیا کہ کوئی بندہ اس دکان کو مجھ سے ٹھیکے پر لے لے اور میرے اڈے کے پیسے مجھے ماہوار ادا کرتا رہے۔ وہ ڈیمانڈ بلکل مناسب تھی۔ مگر کوئی بھی ایگری نہ ہوا۔ سب کو یہی تھا کہ اس نے تو اب آنا نہیں۔ دکان کفیل بیچ دے گا ہم خرید لیں گے۔ کام ہم کریں اور اس کو فری میں ہر ماہ کس بات کے پیسے بھیجیں؟ جب اسے کہتے تھے تو بات ہی نہیں مانتا تھا۔ اب جائے واپس اور دکان کفیل سیل کرے۔ اس نے پاکستان سے ایک بندے کو تیار کیا کہ دکان چلا سکے مگر اسکے پاس ویسی اسکل نہیں تھی زبان نہیں تھی آتی اور چند ہی ماہ بعد دکان مسلسل خسارے میں جانے لگی۔ اور اس بندے نے کفیل کی ایک دکان پر ایک معلم کے انڈر کام کرنا شروع کر دیا۔

دکان برائے فروخت کا بورڈ کفیل نے لگا دیا۔ اب سب سے پہلا خریدار جو وہاں گیا وہ وہی کاریگر تھا جس نے اسے آفر دی تھی کہ مجھے بس اپنی چھٹی کے وقت چابی دے جایا کرو۔ دکان میں کونسا خزانہ رکھا ہے۔ میں نے جو سوٹ آنا ہے وہ سلائی کر دینا کرنا رننگ اخراجات میں ادا کر دوں گا۔ تم مجھ سے اضافی رقم بس اڈے کی بھی ریگولر لیتے رہنا۔ اس نے دکان پچاس ہزار ریال میں خرید لی۔

اس کا کہنا تھا کہ یہی کام وہ بندہ اپنی صحت کے دنوں میں کر لیتا۔ اپنے گاہکوں سے میرا تعارف کروا دیتا۔ مجھے تھوڑا ٹرین کر دیتا اور اتنا اعتماد دیتا کہ میں اسکے بعد بھی اسکے گاہکوں کو ڈیل کر سکوں۔ میرے ساتھ ایک قانونی معاہدہ کر لیتا کہ مالک وہ ہی رہے گا ماہانہ فکس اماؤنٹ میں اسے دیتا رہوں گا وہ دکان پر آئے یا نہیں۔ یہ اسکے گاہکوں اور اڈے کی قیمت ہونی تھی۔ جو اسے ایک لمبے عرصے تک ملنی تھی۔ اور اب جب کہ وہ مفلوج ہو چکا ہے اس کو اس معاہدے اور اپنے راز مجھے بتانے کا فائدہ ملنا تھا۔ مگر اسکی قسمت کہ اس نے خود کو ہی عقل کل سمجھا اور مستقبل کی پلاننگ نہ کی۔ جو کمایا ویسے ہی اڑایا۔ اور آج پائی پائی کا محتاج ہے۔

جس بندے کو اس نے اب بھیجا وہ پہلے سے موجود کاریگر کے پاس آتا تو وہ مالک بن کر آتا۔ کیونکہ بھیجنے والا کا داماد تھا۔ اور سسر کی دکان کا بس حساب ہی لیتا رہتا تو ماہانہ ہزاروں ریال کمائی ہوتی۔ ساتھ کام بھی سیکھ کر اس نے معلم ہی بننا تھا نہ کہ ایک اور معلم کے پاس جا کر کاریگر۔

مگر بدقسمتی سے ہم پاکستانی نہ یہاں نہ گلف اور یورپ میں ایسی کوئی پلاننگ کرتے ہیں کہ ہماری دکان، کوئی سروس یا سمال بزنس ہمارے بیمار ہونے یا مر جانے کی صورت میں کون چلائے گا؟ ہمارا اتنا جگرا اور حوصلہ ہی نہیں ہے کہ وہاں کسی کے ساتھ یا گھر سے کسی بھائی بہنوئی بھانجے بھتیجے کو بلا کر اپنے ساتھ ٹرین کریں۔ اپنے بزنس Secrets اسے بتائیں۔ اسے اعتماد دیں۔ اسکی اجرت سے کچھ ذیادہ پیسے اسے ادا کریں کہ وہ ملازم نہیں مالک خود کو فیل کرے۔ اسکے ساتھ ایک معاہدہ لکھ لیں کہ کسی آنجہانی صورت میں دکان یا اس سروس کے مالک آپ ہی رہیں گے۔ وہ قائم مقام مالک تصور ہوگا۔ اور کسی قابل پارٹنر شپ ایکسپرٹ وکیل سے مل کر اسکی فیس ادا کر شرائط و ضوابط طے کر لیں۔ جن کی خلاف ورزی پر قانونی چارہ جوئی ہو سکے۔ اور اگر قائم مقام فرد کوئی ہیرا پھیری کرے تو اس کو ہٹا کر کوئی نیا فرد وہاں لایا جا سکے۔

مگر ایسی سوچ اور ایسا دل اور ظرف ہزار میں سے ایک دو لوگوں میں دیکھنے کو ملے گا۔ میرا ایک بھائی رومانیہ ہے، ایک اٹلی ہے ایک اسپین ہے۔ وہ جہاں کام کر رہے ہیں وہاں سمال سیٹ اپس پر ہی کام کر رہے ہیں۔ ان کی مدد سے
مجھے یہ انفارمیشن ملی ہے کہ وہاں سمال بزنس حتی کہ ایک سبزی فروٹ کی گاؤں میں دکان کو چلانے کا بھی ایک سسٹم موجود ہے۔ وہاں بیٹھا فرد مر جائے یا بیمار ہو جائے اگلے دن سے کوئی بھی فرد اس بزنس کو ٹیک اپ کر سکتا ہے۔

مگر یہاں؟ اول تو راز کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ حتی کہ اسکی بیوی اور بچوں کے پاس بھی کوئی علم یا بزنس کا لین دین نہیں ہوتا۔ ادھر بندہ مرا یا کسی وجہ سے لمبے عرصے کے لیے جیل چلا گیا یا شدید قسم کا بیمار ہوا ، یا تو کام ٹھپ یا کوئی قریبی رشتہ دار اس کام کو مقروض ظاہر کرکے اسے ہتھیا لیتا ہے۔ اور بیوی بچے فاقوں پر آجاتے ہیں۔ اس ضمن میں شعور اور دل بڑا کرنے کی بہت اشد ضرورت ہے۔ زندگی کے اندر جو حصہ کسی کو دیں گے وہ ہمارے مرنے یا فالج ہوجانے کے بعد ہزاروں گنا فائدے کے ساتھ ہمارے اہل و عیال وصول کریں گے۔ بات صرف سوچ کی ہے کہ سب کچھ بس میرے ہاتھ ہی رہے۔ تو زندگی کے کسی موڑ پر آپ کو اس سوچ کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔آج ہی اپنی سوچ بدلیے اور فیوچر کی پلاننگ کیجئے۔

18/05/2025

ہم اکثر کہتے ہیں کہ چھوٹے دکانداروں، ریڑھی والوں سے چیز خرید لینی چاہیے، چاہے ضرورت نہ ہو۔ ایک بہانہ ہی سہی، لیکن ان کی مدد ہو جاتی ہے۔

ایک پرانا واقعہ یاد آ رہا ہے، شادی سے پہلے کا۔
ایک بار ایک ریڑھی والے سے چپس خریدنے کا اتفاق ہوا۔
پوچھا، "کتنے کی پاؤ؟"
کہنے لگا، "100 روپے کی پاؤ۔"
ہم نے کہا، "آدھا پاؤ دے دو۔"
میں اور چھوٹی تھیں، ایویں بس منچنگ کا شوق پورا کرنا تھا۔

اس نے 104 گرام تول دی۔
میں نے پوچھا، "ایک پاؤ میں کتنے گرام ہوتے ہیں؟"
کہنے لگا، "250 گرام۔"
میں نے پھر کہا، "تو آدھا پاؤ کتنے کا ہوتا ہے؟"
بولے، "125 گرام۔"
پھر میں نے سیدھا سوال کیا، "تو آپ نے 104 گرام کیوں دیے؟"
جواب میں آئیں بائیں شائیں...

پھر جناب نے 125 گرام پوری کی بڑے احسان کے ساتھ

آج بازار میں ایک طرف کھڑی سوچ رہی تھی کہ کیا کیا رہ گیا ہے لینے والا۔
ایک پھیری والا قریب سے گزرا، جس کے پاس کنگھیاں، شیشے، پونیاں وغیرہ تھیں۔
چھوٹی کنگھیاں نظر آئیں تو دل میں آیا لے لوں، میرے بیٹے کو آج کل جیب میں کنگھی رکھنے کا بڑا شوق ہے۔ وہ باریک کنگھی لیے پھرتا ہے

پوچھا، "کتنے کی ہے؟"
جواب ملا، "30 کی ایک، 50 کی دو۔"
اٹھا لیں۔ پھر زمر کے لیے بلیک پونیاں دیکھیں، وہ بھی پچاس کی لے لیں۔
پھر میری نظر سیفٹی پنز پر پڑی۔ پوچھا، "یہ کتنے کی؟"
کہنے لگا، "40 کی ایک، 100 کی تین۔"

اور بنا وقت ضائع کیے تین گچھے میرے ہاتھ میں تھما دیے۔
دماغ گھوم گیا۔
میں اسی طرح کی چیزوں کے سٹال کے سامنے کھڑی تھی، مجھے اچھی طرح علم تھا ان کی اصل قیمت کا۔

دل میں خیال آیا، یہ بندہ تو میرے 'ترس کھانے کی عادت' کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔

میں نے کہا، "واپس لے لو بھائی، یہ 20 کی آتی ہے ایک۔"
کہنے لگا، "یہ سٹیل کی ہے۔"

لو دسو اپنے جہیز کے سامان میں برتن والی ٹوکری اور گلاس سٹینڈ لیا تھا جو بقول دوکاندار سٹیل کا تھا اور مہینے میں وہ دونوں چیزیں زنگ سے خراب ہو گئی تھی کافی مہنگی دی تھی اس نے اور لائف ٹائم گارنٹی کے ساتھ۔
شکایت کی تو آئیں بائیں شائیں اور میں نے پھر وہ دونوں کباڑیے کو بیچیں

اب یہ بھائی مجھے سٹیل کی سیفٹی پنز سیل کر رہے تھے

پاس کھڑا سٹال والا بھی بول اٹھا، "اوئے، 20 کی ہے۔"

مگر مجال ہے کہ وہ مانے۔
"یہ اچھی والی ہے،" وہ اپنی بات پر اڑا رہا۔

میں نے وہ سیفٹی پنز واپس اس کی ٹوکری میں رکھ دی۔
مسئلہ 30، 40 روپے کا نہیں تھا،
غصہ اس بات پر آیا کہ لوگ کسی کی نیکی، کسی کی ہمدردی کو بیوقوفی سمجھتے ہیں۔

تھوڑا سا ناک بھوں چڑھانے کے بعد اس نے شرافت سے پانچ گچھے دے ہی دیے۔
اور سچ تو یہ ہے، مجھے صرف ایک گچھا ہی کافی تھا،
باقی چار صرف اس سے ہمدردی میں خریدے۔

یہ پاکستان کا وہ طبقہ ہے جسے سب سے زیادہ سہارا چاہیے،
لیکن جھوٹ، چالاکی، بے ایمانی یہاں بھی اتنی ہی گہری ہے جتنی اوپر کے طبقات میں۔

جس کا جتنا ہاتھ پڑتا ہے اتنا دا لگاتا ہے

ہاں ایک اور ڈرامہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے بازار میں
چھوٹے بچے آپ کو کہتے ہیں باجی بسکٹ لے لو ہم غریب ہیں
اور ہم ہمدردی کےمارے سوچتے ہیں چلو زیادہ لے لیتے ہیں اس کا بھلا ہو جائے گا
اور وہ محترم چھوٹو سا بچہ آپ کے ہاتھ سے سو کا نوٹ پکڑتا ہے آپ کے ہاتھ پر پانچ روپے والے پانچ بسکٹ رکھتا اور رفو چکر ہو جاتا ہے
اور آپ منہ دیکھتے رہ جاتے ہو
کہیں تو کیا کہیں

اور پھر ہم حکمرانوں کو گالیاں ، غربت کی دہائیاں ، مر گئے رڑ گئے کے نعرے
مگر محنت کر کے حق حلال کی کوئی بھی کھانا نہیں چاہتا

نوٹ: اب کوئی مجھ پر تھوڑ دلی ہونے کا فتویٰ نہ لگائے میں جانتی ہوں یہ باتیں بہت چھوٹی ہیں جن کے بارے میں بات کرتے ہوئے عموما لوگ جھجھکتے ہیں اور اسی بات کا بے ایمان طبقہ فایدہ اٹھاتا ہے
یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی انسان کا مزاج بھی بناتی ہیں اور معاشرے کا بھی .........

کل راہوالی سے گزرتے سکوٹر کا چھوٹا سا کام نکل آیا، قریب ہی ایک موٹر سائیکل مکینک کی دوکان تھی۔ ادھر پہنچا۔ دوکان مالک موبائل پر ٹک ٹاک دیکھنے میں مصروف تھا۔ اس نے اپنے شاگرد جس کی عمر بمشکل 16 سال ہو گی کو اشارہ کیا کہ اینوں ویکھ لے۔ شاگرد پہلے 15 منٹ خود سکوٹر سے زور آزمائی کرتا رہا۔ اسے شاید سمجھ نہیں آرہی تھی۔ میں نے استاد سے کہا کہ اسکو سمجھ نہیں آرہی۔ استاد نے بیٹھے بیٹھے اپنے بڑے شاگرد کو اشارہ کیا۔ بڑا شاگرد بھی میدان میں کود پڑا۔ خیر آدھے گھنٹے بعد 10 منٹ والا کام تکمیل کو پہنچا۔ میں نے شاگردوں سے پوچھا کتنے پیسے، شاگردوں نے کہا استاد کولوں پُچھ لو۔ استاد سے پوچھا تو اس نے اچھے خاصے پیسے بتائے۔ میں نے کہا جناب اتنے زیادہ؟ کہنے لگا مسئلہ پیچیدہ تھا اس پر وقت زیادہ لگا ہے۔ میں نے پیسے ادا کئے، واپس آتے شاگرد سے رازدارانہ انداز میں پوچھا کہ یہ تمہیں تنخواہ دیتے ہیں یا کام کے حساب سے؟ کہنے لگا مجھے ہر جمعرات کو 1500 روپے فِکس ملتے ہیں۔ میں کام سیکھ رہا ہوں۔ میں واپسی پر سوچ دہا تھا کہ اس 'شاگرد کلچر' نے پاکستانیوں کو صحیح تھوک لگا کر رکھی ہے۔ یہ کلچر آپکو صرف مکینک کی فیلڈ میں نہیں، ہر فیلڈ میں ملتا ہے۔ حجامت کروانے چلے جاؤ وہاں شاگرد رکھے ہوتے ہیں جو کہ آپکے بالوں پر 'کام سیکھ' رہے ہوتے ہیں، گھر میں پلمبر بلا لو الیکٹریشن بلا لو، کسی کے پاس کوئی سرٹیفکیٹ نہیں، کوئی بیک گراؤنڈ نہیں کہ وہ آپکی قیمتی چیزوں پر ہاتھ سیدھا کر رہا ہے یا واقعی اپنے کام کا فنکار ہے۔۔۔

آج اس بھائی سے 2 مگ لسی کے پیے، گپ شپ لگائی، فوٹو بنائی اور سرسری انٹرویو لیا۔ جو کام کی باتیں معلوم ہوئیں، وہ یہ تھیں۔۔۔۔۔
روزانہ 15 کلو دودھ کی دھی لگاتا ہوں، جس سے 100 لیٹر چاٹی کی لسی بناتا ہوں، دودھ، آگ، برف، نمک کا خرچ روزانہ 2 ہزار سے کم ہی رہتا ہے۔ 100 لیٹر لسی سے آدھا لیٹر والے 200 سے زیادہ مگ بن جاتے ہیں اور شام تک سکون سے بک بھی جاتے ہیں، جس سے 4 ہزار تک رقم مل جاتی ہے، یعنی خرچ نکال کر 2 ہزار روزانہ آمدن ہے۔😎
یہ کام مزید صفائی سے، بوتلوں میں پیک کر کے یا ڈسپوزیبل گلاسوں میں پڑھے لکھے انداز میں بھی کیا جا سکتا ہے اور اس سے بھی زیادہ آمدن حاصل کی جا سکتی ہے۔ 15 کلو دودھ سے لگ بھگ ایک کلو کے قریب دیسی گھی بھی روزانہ حاصل ہو جاتا ہے، جس کی قیمت کم از کم بھی 1200 روپے ہوتی ہے۔ مطلب روزانہ کی خالص آمدن 3 ہزار روپے سکہ رائج الوقت۔۔۔۔۔۔ایک لاکھ روپے مہینے کا۔۔۔۔
جس دن مرضی چھٹی کر لو، شادی بھگتا لو، بچے کی دوائی لے آؤ۔۔۔۔۔ کوئی چھک چھک کرنے والا باس، نہ کوئی جڑیں کاٹنے والا چاپلوس چپڑاسی نما کولیگ۔۔۔۔۔ہمارا سیاپا یہ ہے کہ لسی بیچنے کو تو توہین سمجھتے ہیں۔۔۔۔ لیکن بیچ سڑک کے کھڑے ہو کر مگے پر مگا لسی کا چڑھانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

دیسی گھی کا ریٹ بڑھا دیں اور کسی دن رش والی جگہوں پر دس گھنٹے مسلسل کھڑے ہو لگ پتہ جائے گا

لیکن یہ کام صرف گرمیوں میں چلتا ہے ساون پڑتے ہی لوگ لسی چھوڑ دیتے ہیں پھر سردیوں میں تو بلکل نہیں پیتے مشکل سب جگہ ہوتی ہے بس دوسرے کے ہاتھ میں نوالہ بڑا لگتا ہے

اپ کا کہنے کا مقصد ہے کہ پوری عوام لسی بیچنا شروع کر دے

05/05/2025

جو مناسب لگے دے دیجئے گا،
_________________________
ہمارے گلی میں ایک صاحب رھتے ہیں موصوف رکشہ
چلاتے ہیں مگر باتوں کا ہنر خوب جانتے ہیں. اپنی چکنی چپڑی باتوں سے اگلے بندے کو فوری شیشے میں اتار لینے میں کمال مہارت رکھتےہیں.
ایک روز موصوف نے ایک زنانہ سواری بمع ایک عدد بچہ اٹھائی. محترمہ نے کرایہ طے کرنے کا بولا تو جناب نے انتہائی خوش اخلاقی سے جواب دیا آپا جو آپ کو مناسب لگے دے دیجیئے گا اب آپ سے کیا بحث و تکرار کرنی.
خیر میڈم رکشے میں سوار ھوگئیں. پہلے اپنے ایک رشتے دار کے ہاں گئیں گھنٹہ ڈیڑھ وہاں قیام کیا. اس کے بعد مارکیٹ لے گئیں گھنٹہ سوا گھنٹہ شاپنگ میں صرف کیا اور رکشے والے بھیا کے لئے برگر بھی لے آئیں.
اس کے بعد میڈم ایک اور گھر میں گئیں آدھا پونا گھنٹہ وہاں گزارنے کے بعد وہاں سے بھی رخصت لی اور رکشے کو اپنے گھر کے پاس لے جانے کا حکم صادر کیا. جس کی بلا چوں و چراں تکمیل کی گئی. ڈرائیور صاحب بڑے خوش تھے ہزار پندرہ سو کی دیہاڑی لگ گئی اب گھر جاکر آرام کروں گا.
گھر کے پاس پہنچنے کے بعد ایک بار پھر محترمہ نے پوچھا بھیا کتنے پیسے ھوگئے آپ کے؟ ؟
ڈرائیور صاحب نے ایک بار پھر کمال شائستگی اور خندہ پیشانی سے جواب دیا " آپی آپ کو جو مناسب لگے دے دیجئیے "
محترمہ بھی ان کے اخلاق سے حد درجہ متاثر ھوئیں اور پھر اپنے پرس سے بیس روپے نکال کر حضرت کے ہاتھ پر رکھ دئیے
اب ڈرائیور صاحب کی یہ حالت کہ کاٹو تو لہو نہیں ۔۔کبھی بیس روپے کے نوٹ کو دیکھیں اور کبھی محترمہ کو۔۔۔۔۔۔!
اب اخلاقیات کا تقاضا بھی مزید رقم کے مطالبے کی راہ میں آڑے آ رہا تھا اس لئے کچھ بول بھی نہیں سکتے تھے۔۔۔۔۔!
خیر محترمہ نے اپنا سامان اٹھایا اور خراماں خراماں اپنے گھر کی جانب بڑھنے لگیں اور ڈرائیور صاحب پریشانی کے عالم میں رکشے سے اتر کر قریبی دکان پر پہنچے ایک عدد " گولڈ لیف" سلگایا اور لمبے لمبے کش لگا کر غم غلط کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگے
سگریٹ ختم کرنے کے بعد دوبارہ رکشے میں آن بیٹھے رکشہ اسٹارٹ کیا ہی تھا کہ محترمہ (جوکہ دروازے کی اوٹ سے ڈرائیور پر نظر رکھے ھوئے تھیں )پھر سے آن پہنچیں اور بولیں بھیا لالو کھیت جانا ھے کتنے پیسے لینگے؟؟؟....
ڈرائیور سہم گیا کہ بیس روپے کیلئے پھر سے اتنا کھجل ھونا پڑے گا اس لئے ٹال مٹول کر کے جان چھڑانے کی کوشش کی تو محترمہ نے بارہ سو روپے ان کے ہاتھ پہ رکھے اور بولیں "لگتا ھے اب عقل ٹھکانے آگئی ھے. امید ھے آئندہ حد سے ذیادہ اخلاقیات کا مظاہرہ کرنے سے گریز کریں گے.
اپنا جو حق بنتا ھو وہ مانگا کریں"
تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد اس رکشہ ڈرائیور نے کبھی کسی سے یہ نہیں کہا " جو مناسب لگے دے دیجئیے گا"

12/04/2025

عید کی خریداری کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں؟

عید کی خریداری کرتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ آپ ایک بہترین اور پرسکون خریداری کر سکیں:

1. خریداری کی فہرست بنائیں
• پہلے سے طے کریں کہ کیا کیا خریدنا ہے، جیسے کپڑے، جوتے، جیولری، بچوں کے تحائف، کھانے پینے کی اشیاء، اور عید کے خصوصی پکوانوں کے اجزاء۔
• غیر ضروری اشیاء پر خرچ سے بچنے کے لیے ایک بجٹ مقرر کریں۔

2. جلدی خریداری کریں
• عید کے قریب رش اور قیمتوں میں اضافے سے بچنے کے لیے پہلے سے خریداری کریں۔
• رش سے بچنے کے لیے صبح یا دوپہر کے وقت خریداری کرنا بہتر ہوتا ہے۔

3. قیمتوں کا موازنہ کریں
• ایک ہی چیز مختلف دکانوں پر دیکھیں اور قیمتوں کا موازنہ کریں تاکہ مناسب دام میں بہترین چیز خریدی جا سکے۔
• اگر ممکن ہو تو آن لائن اور آف لائن دونوں جگہ قیمتیں چیک کریں۔

4. کوالٹی اور برانڈ کا خیال رکھیں
• سستے کی بجائے معیاری چیز خریدنے کو ترجیح دیں، خاص طور پر کپڑے، جوتے اور جیولری کے معاملے میں۔
• بچوں کے کپڑوں اور جوتوں میں آرام دہ اور پائیدار چیزوں کا انتخاب کریں۔

5. خصوصی رعایت اور ڈسکاؤنٹ سے فائدہ اٹھائیں
• عید سے پہلے اکثر دکانیں سیل لگاتی ہیں، ان سے فائدہ اٹھائیں۔
• آن لائن خریداری کرتے وقت کوپن کوڈز اور ڈسکاؤنٹس تلاش کریں۔

6. ہجوم سے بچاؤ اور سیکیورٹی کا خیال رکھیں
• خریداری کے دوران رش میں اپنا سامان اور قیمتی اشیاء، جیسے موبائل اور بٹوہ، محفوظ رکھیں۔
• بچوں کے ساتھ خریداری کرتے وقت ان پر خاص نظر رکھیں تاکہ وہ گم نہ ہوں۔

7. عید کے کھانے پینے کی خریداری پہلے کریں
• گوشت، سبزیاں، اور دیگر پکوانوں کے اجزاء پہلے سے خرید لیں تاکہ آخری دنوں میں رش اور مہنگائی سے بچا جا سکے۔
• بیکری آئٹمز جیسے کیک، بسکٹ، اور مٹھائیاں تازہ خریدیں تاکہ وہ عید پر بہترین ذائقہ دیں۔

8. خریداری کے دوران آرام اور پانی ساتھ رکھیں
• طویل خریداری کے دوران وقفے لیں، پانی پئیں اور مناسب کھانے پینے کا انتظام کریں تاکہ توانائی بحال رہے۔
• بچوں کے ساتھ ہوں تو ان کے لیے پانی اور ہلکی پھلکی خوراک ساتھ رکھیں۔

9. غیر ضروری اخراجات سے پرہیز کریں
• مارکیٹ میں دیکھ کر غیر ضروری چیزیں خریدنے سے بچیں۔
• صرف وہی چیزیں خریدیں جو فہرست میں شامل ہوں۔

10. خریداری کے بعد چیزوں کو چیک کریں
• جو چیز خریدی ہے، اس کی کوالٹی، سائز، اور رسید اچھی طرح چیک کریں تاکہ بعد میں پریشانی نہ ہو۔
• اگر کسی چیز میں مسئلہ ہو تو فوراً دکاندار سے رجوع کریں۔

ان احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے آپ عید کی خریداری کو آسان، خوشگوار اور پریشانی سے پاک بنا سکتے ہیں!

✍️❤️

جوتے خریدتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیئے


جوتے خریدتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ آپ آرام دہ، پائیدار اور اپنی ضرورت کے مطابق بہترین جوتے خرید سکیں:

1. سائز کی درستگی
• ہمیشہ اپنے پیروں کے سائز کے مطابق جوتے خریدیں، کیونکہ بہت تنگ یا بہت ڈھیلے جوتے پہننے سے تکلیف ہو سکتی ہے۔
• اگر ممکن ہو تو شام کے وقت خریداری کریں کیونکہ دن بھر چلنے کے بعد پیر تھوڑے سوج جاتے ہیں، اور اس وقت لیے گئے سائز زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔

2. آرام دہ اور پائیدار جوتے منتخب کریں
• جوتوں کا اندرونی حصہ نرم اور آرام دہ ہونا چاہیے تاکہ چلنے میں پریشانی نہ ہو۔
• اگر جوتے سخت یا بہت پتلے ہوں تو وہ پیروں میں درد اور تھکن پیدا کر سکتے ہیں۔

3. جوتے پہن کر چیک کریں
• جوتے خریدنے سے پہلے دکان میں کچھ قدم چل کر دیکھیں کہ آیا وہ آرام دہ ہیں یا نہیں۔
• اگر جوتا پاؤں کے کسی حصے کو دبا رہا ہو یا چلتے وقت کھچاؤ محسوس ہو، تو وہ صحیح انتخاب نہیں ہوگا۔

4. مواد (میٹریل) کا جائزہ لیں
• چمڑے (Leather) کے جوتے زیادہ پائیدار اور سانس لینے کے قابل ہوتے ہیں، جبکہ مصنوعی میٹریل کے جوتے زیادہ سستے لیکن کم دیرپا ہو سکتے ہیں۔
• گرمیوں میں ہلکے اور ہوا دار جوتے جبکہ سردیوں میں موٹے اور گرم رکھنے والے جوتے بہتر ہوتے ہیں۔

5. جوتے کا استعمال مدنظر رکھیں
• اگر روزمرہ پہننے کے لیے خرید رہے ہیں تو آرام دہ اور مضبوط جوتے چنیں۔
• اگر رسمی موقع (Office یا تقریبات) کے لیے خرید رہے ہیں تو خوبصورت اور معیاری جوتے منتخب کریں۔
• کھیلوں یا لمبے سفر کے لیے ہلکے اور فلیکسیبل جوتے بہتر ہوتے ہیں۔یہ اویرنیس، ٹپس اور ہدایات حکیم زبیر، مطب حکمت کدہ لاہور نے اپنی ذاتی تجربات کو سامنے رکھ کر عوام الناس کے بہترین مفاد میں ترتیب دے کر شائع کی ہیں، ہر مرض کے شافی علاج کیلئے رابطہ کریں، المشہور لاہور کا خالص ادویات والا سستا دواخانہ

6. جوتے کا تلا (Sole) چیک کریں
• جوتے کا تلا مضبوط، ربڑ یا اچھی کوالٹی کا ہونا چاہیے تاکہ پھسلنے کا خطرہ نہ ہو۔
• زیادہ سخت تلے والے جوتے لمبے عرصے تک پہننے میں تکلیف دے سکتے ہیں۔

7. قیمت اور برانڈ کا موازنہ کریں
• مارکیٹ میں مختلف برانڈز اور قیمتوں کا موازنہ کریں تاکہ بہترین کوالٹی کے جوتے مناسب قیمت پر خرید سکیں۔
• غیر معیاری یا بہت سستے جوتے لینے سے گریز کریں، کیونکہ وہ جلد خراب ہو سکتے ہیں۔

8. فیشن اور اپنی ضروریات میں توازن رکھیں
• فیشن کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھیں کہ جوتے آپ کی روزمرہ کی ضروریات کے مطابق ہیں یا نہیں۔
• بعض فینسی جوتے خوبصورت تو لگتے ہیں لیکن پہننے میں تکلیف دہ ہو سکتے ہیں، اس لیے آرام اور اسٹائل دونوں کو مدنظر رکھیں۔

9. جوتوں کی گارنٹی اور واپسی کی پالیسی جانچیں
• اگر مہنگے جوتے خرید رہے ہیں تو گارنٹی یا وارنٹی ضرور چیک کریں۔
• اگر آن لائن خرید رہے ہیں تو ریٹرن اور ایکسچینج پالیسی کو اچھی طرح پڑھ لیں تاکہ اگر سائز یا کوالٹی کا مسئلہ ہو تو واپس کیا جا سکے۔

10. جوتے کی صفائی اور دیکھ بھال
• خریدنے سے پہلے معلوم کریں کہ جوتے کو صاف اور محفوظ رکھنے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔
• چمڑے، کپڑے اور ربڑ کے جوتے مختلف طریقوں سے صاف کیے جاتے ہیں، اس لیے خریدتے وقت ان کی دیکھ بھال کی تفصیلات بھی معلوم کریں۔

اگر ان نکات کو مدنظر رکھیں گے تو آپ آرام دہ، معیاری اور پائیدار جوتے خرید سکیں گے جو آپ کے پیروں کی صحت کے لیے بھی بہتر ہوں .

29/03/2025

"کتنے پیسے بھیجوں بیٹا؟"

میں نے اپنی ریڑھی سے آلو اٹھا کر ہوا میں اچھالتے ہوئے پوچھا۔ دوسرے ہاتھ میں فون تھا جس پر میرا بیٹا مجھ سے بات کر رہا تھا۔

"ابو ایک سو روپے بھیجیں گے تو ہمیں ایک ماہ کے لیے کافی ہیں"، بیٹے نے جواب دیا۔
"ایک سو روپے کے کتنے ڈالرز بنتے ہیں؟" میں نے سوال کیا۔
"بیس ہزار ڈالرز ابو"، بیٹے نے جواب دیا۔

میں امریکہ سے بسلسلہ روزگار پاکستان آیا تھا۔ میں نے امریکہ سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کیا تھا لیکن پاکستان میں میری ڈگری بی اے کے برابر تھی اور یہاں ہر کوئی پی ایچ ڈی تھا۔ اس لیے نوکری نہ ملی تو سبزی کی ریڑھی لگا لی۔ میرا تعلق کیلیفورنیا سے ہے۔ پاکستان میں آیا تو پتہ چلا یہاں انگریزی زبان پر پابندی ہے۔ اس لیے مجھے اردو سنٹر میں داخلہ لے کر اردو سیکھنا پڑی۔ اس دوران مجھے بیروزگاری الاؤنس کے تحت ماہانہ اتنے پیسے مل جاتے کہ تین ماہ میں میری فیملی نے واشنگٹن میں اپنا ذاتی گھر خرید لیا۔

"بیٹا اتنے کم مت مانگا کرو۔ یہاں میں ماہانہ دو لاکھ روپے کما لیتا ہوں۔ ٹیکس ادا کر کے میرے پاس اس وقت تین کروڑ روپے اکٹھے ہو چکے ہیں۔ سارے بھیج دیتا ہوں"، میں نے کہا۔
"ابو ہمیں پیسے نہیں چاہییں۔ ہمیں نکالیں یہاں سے۔ نہیں رہنا ہم نے اس گندے ملک میں۔ ہمیں بھی پاکستان لے چلیں"، میرا بیٹا اپنا مستقبل پاکستان میں بنانے پر بضد تھا۔
"بیٹا تمہاری امریکی تعلیم یہاں کسی کام کی نہیں۔ تمہاری اردو ابھی اتنی اچھی نہیں کہ تمہیں یہاں کلرک کی نوکری بھی ملے۔ رشوت سفارش کا تو پاکستان میں تصور بھی نہیں۔ یہ پاکستانی ہم امریکیوں جیسے کرپٹ نہیں ہیں۔ اور ویسے بھی دنیا کی ٹاپ پانچ سو یونیورسٹییز ساری پاکستان میں ہیں۔ عالمی نمبر ون یونیورسٹی آف منڈی بہاولدین میں داخلے کے لیے تمہیں دوبارہ پیدا ہو کر آنا پڑے گا پاکستانی شہریت کے ساتھ۔

پاکستانی ڈگری کے بغیر تمہیں یہاں نوکری ملنا ممکن ہی نہیں۔ تم ایسا کرو یہاں کی کسی دیہی یونیورسٹی میں آن لائن اپلائی کرو۔ شاید داخلہ مل جائے!" میں نے مایوس لہجے میں کہا۔
"جی ابو۔ اچھا یاد آیا۔ امی کا کینسر اب لاعلاج ہو گیا ہے۔ یہاں کے نیشنل ہیلتھ انسٹیٹیوٹ کے بورڈ نے کہا ہے کہ اب ان کا علاج پاکستان کے علاوہ دنیا میں کہیں نہیں ہو سکتا!" بیٹے نے پریشان ہو کر بتایا۔

"بیٹا تم فوراً ویزہ اپلائی کرو۔ یہاں علاج دوا سب مفت ہے۔ تم لوگ فوراً آ جاؤ۔ اچھا ابھی فون بند کرو، گاہک آیا ہے"، یہ کہہ کر میں نے فون بند کر دیا۔
میری ریڑھی دراصل ایک سنٹرلی ایئر کنڈیشنڈ کمپاؤنڈ میں ایک سٹال تھا جہاں پر سبزیاں پھل ڈبوں میں پیک کر کے دیے جاتے تھے۔ کمپاؤنڈ کی چھت سے لٹکی 7 ڈی سکرین پر خبر چل رہی تھی کہ کینیڈین وزیر اعظم کو بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دورانِ تلاشی روک دیا گیا تھا۔
"بہت سخت قوانین ہیں پاکستان کے!" میں نے تاسف سے سوچا۔

اسی دوران کمپاؤنڈ میں ایک برطانوی بھکاری داخل ہوا۔ فوراً کمپاؤنڈ کے سنسر نے خود کار طریقے سے پولیس کو اطلاع کر دی اور بھکاری ابھی کمپاونڈ کے وسط میں نہ پہنچا تھا کہ باہر پنجاب پولیس کی پندرہ سے بیس ٹربو کاریں آ کر رکیں اور سیاہ وردیوں میں ملبوس لیزر گنز سے مسلح پنجاب پولیس کے بیس پچیس کمانڈوز اندر گھس آئے۔ انھوں نے لیزر ڈیٹیکٹرز سے بھکاری کی تلاشی لی اور غیر مسلح ہونے کی تصدیق کر کے گرفتار کر لیا۔ اگلے دو منٹ میں کمپاؤنڈ کو کلیئر قرار دے کر پنجاب پولیس غائب ہو گئی۔

اسی لمحے سکرین پر خبر آنے لگی کہ جڑانوالہ سبزی منڈی سے ایک بھکاری گرفتار کر لیا گیا۔ ساتھ ہی وزیراعظم کا بیان چلنے لگ گیا جس میں عوام سے اس غفلت پر معافی مانگی گئی اور وعدہ کیا گیا کہ اس بھکاری کو فوراً انگلینڈ کے حوالے کیا جائے گا اور انگلینڈ سے ہرجانہ لیا جائے گا۔
اگلی خبر میں بتایا جا رہا تھا کہ چین اور روس پاکستان سے آسان شرائط پر قرضہ لینا چاہ رہے ہیں لیکن پاکستان نے سابقہ قرضہ کی وصولی کے لیے چین اور روس سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے عوام پر لگائے ٹیکسوں میں اضافہ کریں۔
جس خبر پر مجھے زیادہ دکھ ہوا وہ میرے اپنے ملک کے بارے تھی۔ اسلحہ سازی پر پاکستان کی جانب سے عائد پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر پاکستان نے امریکہ پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

22/03/2025

چار سال پہلے کی وہ شام آج بھی میری آنکھوں میں تازہ ہے جب علی اکبر مایوسی کے عالم میں میرے پاس آیا تھا۔ وہ بے روزگار تھا، آنکھوں میں امید کے آنسو لیے مجھ سے کہہ رہا تھا، "بھائی! کوئی راستہ نکال دو، میں اپنے بچوں کی بھوک نہیں دیکھ سکتا۔"

میرا دل پگھل گیا،
میں نے فوراً فیس بک پر ایک پوسٹ لگائی—
"ایک محنتی مگر بے روزگار نوجوان کو روزگار کے لیے مدد درکار ہے"—
اور اللہ کے حکم سے چند ہی گھنٹوں میں فیاض احمد بھائی کا پیغام آیا:

"میں زکات کی رقم سے اس کا کاروبار شروع کروا سکتا ہوں، کیا یہ ممکن ہے؟"

میں نے جواب دیا، "جی ہاں! اسلامی نقطہ نظر سے ایسا کیا جا سکتا ہے۔"

اور پھر چند ہی دنوں میں علی اکبر کی ایک چھوٹی سی برگر کی دکان کھل گئی۔ وہ شخص جو کل تک در در کی ٹھوکریں کھا رہا تھا، چند ہی دنوں میں حلال روزگار کمانے کے قابل ہو چکا تھا۔

وقت گزرتا گیا، فیاض بھائی دبئی شفٹ ہو گئے، اور میں اپنی زندگی میں مصروف ہو گیا۔ مگر آج جب میں دوبارہ علی اکبر کے پاس گیا، تو منظر ہی کچھ اور تھا۔
وہ چھوٹی سی برگر کی چھوٹی سی دکان اب ایک باقاعدہ ڈھابے میں بدل چکی تھی، اور وہاں گاہکوں کا رش لگا ہوا تھا۔ علی اکبر نے مجھے محبت سے برگر کھلایا چائے پلائی اور پھر گفتگو کے دوران اچانک ایک سوال کیا:

" مفتی صاحب! رمضان کے راشن پیک کے لیے زکات لگتی ہے؟"

میں نے حیرانی سے پوچھا،

"کیا تم اب صاحبِ نصاب ہو؟"

اس کی آنکھوں میں عاجزی جھلک رہی تھی، مگر چہرے پر ایک عجیب سی خوشی تھی۔ وہ مسکرا کر بولا، "جی ہاں! پچھلے سال سے میں خود زکات دے رہا ہوں۔"

یہ سنتے ہی میرے ذہن میں چار سال پرانی وہ شام پھر سے گھوم گئی—
وہی بے بسی، وہی امید، اور پھر زکات کی برکت سے زندگی کا بدل جانا!

یہ زکات سے برکت اور زکات کی رقم کو بہتر انداز میں مینیج کرنے کا ثبوت ہے۔ اگر
ہم اپنی زکات کو صرف فوری مدد کے بجائے کسی کے مستقل روزگار پر لگائیں، تو وہ نہ صرف خود سنبھل سکتا ہے بلکہ آگے جا کر دوسروں کے لیے بھی مددگار بن سکتا ہے۔

فیاض بھائی نے ایک مستحق کو زکات دی تھی، اور آج وہی مستحق خود دوسروں کی مدد کرنے کے قابل ہو چکا تھا۔ یہی زکات کی اصل حکمت اور برکت ہے!

اس سال یہ سسٹم لانچ کر رہے ہیں آپ بھی اپنی زکات کا ایک مخصوص حصہ کسی کے روزگار پہ لگائیے انشاء اللہ کئی زندگیاں بدل جائیں گی۔

22/03/2025

پھل خریدتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے - احتیاط

پھل خریدتے وقت درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ آپ تازہ، معیاری اور صحت بخش پھل خرید سکیں:

1. تازگی کا خیال رکھیں
• ہمیشہ تازہ اور موسمی پھل خریدیں، کیونکہ یہ زیادہ غذائیت بخش اور ذائقے میں بہتر ہوتے ہیں۔
• پھلوں کی جلد چمکدار اور قدرتی رنگ کی ہونی چاہیے، زیادہ دھندلے یا جھریوں والے پھل پرانے ہو سکتے ہیں۔

2. خوشبو چیک کریں
• کچھ پھل جیسے آم، خربوزہ اور کیلا خوشبو دیتے ہیں، اگر خوشبو تیز ہو تو وہ زیادہ پکے ہو سکتے ہیں اور جلد خراب ہو سکتے ہیں۔
• اگر کسی پھل سے غیر معمولی بدبو آ رہی ہو تو وہ خراب ہو سکتا ہے۔

3. زیادہ نرم یا داغ دار پھل نہ خریدیں
• پھلوں کو ہلکے سے دبا کر دیکھیں، اگر وہ زیادہ نرم ہو چکے ہوں یا ان پر دبانے سے نشان پڑ جائے تو وہ زیادہ پکے یا خراب ہو سکتے ہیں۔
• داغدار، کٹے ہوئے یا سڑے ہوئے حصے والے پھل خریدنے سے گریز کریں۔

4. کیمیکل سے محفوظ پھل خریدیں
• کچھ پھلوں پر موم (wax) یا دیگر کیمیکل لگائے جاتے ہیں تاکہ وہ چمکدار لگیں، ایسے پھلوں سے بچنے کی کوشش کریں۔
• پھلوں کو دھونے سے پہلے کچھ دیر پانی میں بھگونا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

5. غیر فطری طور پر زیادہ بڑے پھلوں سے پرہیز کریں
• بہت زیادہ بڑے یا غیر معمولی چمکدار پھلوں میں کیمیکل یا مصنوعی کھاد کا زیادہ استعمال ہو سکتا ہے، اس لیے مناسب سائز کے قدرتی نظر آنے والے پھل خریدیں۔

6. مقامی اور تازہ فروٹ کو ترجیح دیں
• اگر ممکن ہو تو مقامی کسانوں یا قریبی باغات سے تازہ پھل خریدیں، کیونکہ یہ زیادہ تازہ اور قدرتی ہوتے ہیں۔
• باہر سے درآمد شدہ پھلوں میں کیمیکلز کے ذریعے تازگی برقرار رکھی جا سکتی ہے، اس لیے انہیں احتیاط سے منتخب کریں۔

7. سیزنل پھل خریدیں
• جو پھل اس وقت کے موسم میں ہوتے ہیں، وہ تازہ اور غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں، جبکہ غیر موسمی پھلوں میں زیادہ تر کیمیکل کا استعمال کیا جاتا ہے۔

8. کیلے اور تربوز خریدتے وقت احتیاط
• کیلے زیادہ سخت اور ہرے نہ ہوں، اور نہ ہی زیادہ کالے دھبوں والے ہوں۔
• تربوز کو ہلکا سا بجا کر دیکھیں، اگر کھوکھلی آواز آئے تو وہ اندر سے پکا ہوا ہوگا۔

9. پیک شدہ پھل خریدنے میں احتیاط کریں
• اگر آپ کٹے ہوئے یا پیک شدہ پھل خرید رہے ہیں تو ان کی تیاری اور پیکنگ کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔

10. مقدار کا صحیح انتخاب کریں
• زیادہ مقدار میں پھل خریدنے سے گریز کریں تاکہ وہ خراب ہونے سے پہلے استعمال ہو سکیں۔
اگر ان احتیاطی تدابیر پر عمل کریں گے تو آپ تازہ، لذیذ اور صحت مند پھل خرید سکیں گے۔

🦋 🙋‍♂️ 🌸♥️

کچھ بھی خریدتے وقت دکاندار سے کیسے ڈیل کریں -

کچھ بھی خریدتے وقت دکاندار سے اچھے طریقے سے ڈیل کرنا نہ صرف آپ کو بہترین چیز خریدنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ اچھے تعلقات بھی بنا سکتا ہے۔ دکاندار سے ڈیل کرتے وقت درج ذیل نکات کو ذہن میں رکھیں:

1. خوش اخلاقی اور نرمی اپنائیں
• دکاندار سے ہمیشہ خوش اخلاقی سے بات کریں، سلام کریں اور عزت سے پیش آئیں۔
• سخت یا بدتمیزی والے لہجے سے گریز کریں، کیونکہ نرم رویہ آپ کو بہتر سروس دلا سکتا ہے۔

2. چیز کو اچھی طرح چیک کریں
• جو چیز خرید رہے ہیں، اس کا معیار، قیمت اور دیگر تفصیلات اچھی طرح جانچیں۔
• اگر کوئی نقص ہو تو دکاندار کو مؤدبانہ انداز میں بتائیں اور متبادل طلب کریں۔

3. قیمت پر بات چیت (بارگیننگ) کریں
• اگر لگے کہ قیمت زیادہ ہے تو دکاندار سے نرمی سے بحث کریں اور مناسب رعایت کی درخواست کریں۔
• اچھی بارگیننگ کے لیے بازار کے ریٹ پہلے سے معلوم کریں تاکہ زیادہ قیمت نہ ادا کرنی پڑے۔
• اگر ممکن ہو تو مختلف دکانوں سے قیمت کا موازنہ کریں۔

4. اضافی سہولیات کے بارے میں پوچھیں
• اگر آپ زیادہ خریداری کر رہے ہیں تو دکاندار سے کوئی اضافی رعایت، فری ڈلیوری یا دیگر سہولت کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں۔
• بعض اوقات دکاندار چھوٹے تحائف یا ڈسکاؤنٹ بھی دے دیتے ہیں، خاص طور پر اگر آپ کے ان سے اچھے تعلقات ہوں۔

5. ریٹرن اور گارنٹی کی تصدیق کریں
• اگر مہنگی یا نازک چیز خرید رہے ہیں تو پہلے ہی ریٹرن یا وارنٹی کی شرائط معلوم کر لیں۔
• رسید یا گارنٹی کارڈ لینا نہ بھولیں۔

6. زیادہ جلد بازی نہ کریں
• دکاندار کو یہ احساس نہ ہونے دیں کہ آپ بہت جلدی میں ہیں، ورنہ وہ قیمت کم کرنے میں دلچسپی نہیں لے گا۔
• پرسکون رہیں اور چیزوں کو سمجھ کر فیصلہ کریں۔

7. نقد اور آن لائن ادائیگی کے بارے میں دریافت کریں
• بعض دکاندار نقد ادائیگی پر رعایت دیتے ہیں، اس لیے پوچھ لیں کہ کون سی ادائیگی کا طریقہ بہتر ہوگا۔
• اگر آن لائن ادائیگی کر رہے ہیں تو تصدیق کریں کہ وہ محفوظ اور قابلِ اعتماد ہے۔

8. اچھے تعلقات بنائیں
• اگر آپ کسی دکان سے اکثر خریداری کرتے ہیں تو دکاندار سے اچھے تعلقات قائم کریں، اس سے آپ کو بہتر قیمت اور سہولت مل سکتی ہے۔
• نام یاد رکھنا، تھوڑا حال احوال پوچھنا اور نرمی سے بات کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

9. بل لینا نہ بھولیں
• مہنگی چیزوں کی خریداری کے بعد بل ضرور لیں تاکہ بعد میں کسی بھی مسئلے کی صورت میں ثبوت ہو۔

10. خریداری کے بعد اطمینان حاصل کریں
• خریداری کے فوراً بعد چیزوں کو چیک کر لیں تاکہ بعد میں کسی پریشانی سے بچا جا سکے۔
• اگر کچھ غلط لگے تو فوراً دکاندار سے رابطہ کریں۔

اگر آپ ان نکات پر عمل کریں گے تو نہ صرف آپ اچھی خریداری کر سکیں گے بلکہ دکاندار سے اچھے تعلقات بھی قائم ہوں گے، جو مستقبل میں مزید فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

✍️❤️
Tips 🦋 🙋‍♂️

پھل خریدتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے - احتیاط

پھل خریدتے وقت درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ آپ تازہ، معیاری اور صحت بخش پھل خرید سکیں:

1. تازگی کا خیال رکھیں
• ہمیشہ تازہ اور موسمی پھل خریدیں، کیونکہ یہ زیادہ غذائیت بخش اور ذائقے میں بہتر ہوتے ہیں۔
• پھلوں کی جلد چمکدار اور قدرتی رنگ کی ہونی چاہیے، زیادہ دھندلے یا جھریوں والے پھل پرانے ہو سکتے ہیں۔

2. خوشبو چیک کریں
• کچھ پھل جیسے آم، خربوزہ اور کیلا خوشبو دیتے ہیں، اگر خوشبو تیز ہو تو وہ زیادہ پکے ہو سکتے ہیں اور جلد خراب ہو سکتے ہیں۔
• اگر کسی پھل سے غیر معمولی بدبو آ رہی ہو تو وہ خراب ہو سکتا ہے۔

3. زیادہ نرم یا داغ دار پھل نہ خریدیں
• پھلوں کو ہلکے سے دبا کر دیکھیں، اگر وہ زیادہ نرم ہو چکے ہوں یا ان پر دبانے سے نشان پڑ جائے تو وہ زیادہ پکے یا خراب ہو سکتے ہیں۔
• داغدار، کٹے ہوئے یا سڑے ہوئے حصے والے پھل خریدنے سے گریز کریں۔

4. کیمیکل سے محفوظ پھل خریدیں
• کچھ پھلوں پر موم (wax) یا دیگر کیمیکل لگائے جاتے ہیں تاکہ وہ چمکدار لگیں، ایسے پھلوں سے بچنے کی کوشش کریں۔
• پھلوں کو دھونے سے پہلے کچھ دیر پانی میں بھگونا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

5. غیر فطری طور پر زیادہ بڑے پھلوں سے پرہیز کریں
• بہت زیادہ بڑے یا غیر معمولی چمکدار پھلوں میں کیمیکل یا مصنوعی کھاد کا زیادہ استعمال ہو سکتا ہے، اس لیے مناسب سائز کے قدرتی نظر آنے والے پھل خریدیں۔

6. مقامی اور تازہ فروٹ کو ترجیح دیں
• اگر ممکن ہو تو مقامی کسانوں یا قریبی باغات سے تازہ پھل خریدیں، کیونکہ یہ زیادہ تازہ اور قدرتی ہوتے ہیں۔
• باہر سے درآمد شدہ پھلوں میں کیمیکلز کے ذریعے تازگی برقرار رکھی جا سکتی ہے، اس لیے انہیں احتیاط سے منتخب کریں۔

7. سیزنل پھل خریدیں
• جو پھل اس وقت کے موسم میں ہوتے ہیں، وہ تازہ اور غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں، جبکہ غیر موسمی پھلوں میں زیادہ تر کیمیکل کا استعمال کیا جاتا ہے۔

8. کیلے اور تربوز خریدتے وقت احتیاط
• کیلے زیادہ سخت اور ہرے نہ ہوں، اور نہ ہی زیادہ کالے دھبوں والے ہوں۔
• تربوز کو ہلکا سا بجا کر دیکھیں، اگر کھوکھلی آواز آئے تو وہ اندر سے پکا ہوا ہوگا۔

9. پیک شدہ پھل خریدنے میں احتیاط کریں
• اگر آپ کٹے ہوئے یا پیک شدہ پھل خرید رہے ہیں تو ان کی تیاری اور پیکنگ کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔

10. مقدار کا صحیح انتخاب کریں
• زیادہ مقدار میں پھل خریدنے سے گریز کریں تاکہ وہ خراب ہونے سے پہلے استعمال ہو سکیں۔
اگر ان احتیاطی تدابیر پر عمل کریں گے تو آپ تازہ، لذیذ اور صحت مند پھل خرید سکیں گے۔

🦋 🙋‍♂️ 🌸♥️

Address

Model Town Lahore
Lahore

Telephone

+923087885626

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Akram Malik posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Akram Malik:

Share