20/06/2023
"یونان کے ساحل پر "
یونان کے ساحل پر
بے گور و کفن بیٹے
کچھ لعل ہیں ماﺅوں کے
کچھ باپ کا دھن بیٹے
اک شوق کہ اٹلی کی بس راہ ملے ہم کو
اک خواب کہ یورپ کی
تنخواہ ملے ہم کو
آبائی حویلی کی ہر ایک نشانی کو
ماں باپ کی آنکھوں میں پُراشک کہانی کو
ہم رکھ کے چلے آئے
اک خواب کے دﺎﺅ پر ,,,,اک موت کی ناﺅ پر...
اب باپ کی مُٹھی میں کچھ دھن بھی نہیں یارو
کمزور کلائی میں کنگن بھی نہیں یارو
اب کون یہاں آکر یہ قرض چُکائے گا
گھر کون بلائے گا
دس لاکھ کے لاشے کو
یونان میں دفنا دو ...,!!
عاطف جاوید عاطف