Fayyaz Mehmood Shaikh

Fayyaz Mehmood Shaikh مانندِ سحَر صحنِ گُلستاں میں قدم رکھ
آئے تہِ پا گوہرِ ش?

25/03/2026

Quran Class || آو قران سمجھیں || Lesson No 1A&B || Presented by Umar Farooq Sheikh

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔تقبل الله منا ومنكم صالح الأعمال.عيد فطر مبارك وسعيد!May this blessed occasion bring e...
22/03/2026

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔
تقبل الله منا ومنكم صالح الأعمال.
عيد فطر مبارك وسعيد!

May this blessed occasion bring endless joy, prosperity, and spiritual growth to you and your loved ones. May Allah accept our deeds, guide us to remain steadfast in His path, and inspire us to continually seek knowledge and righteousness beyond Ramadan. May He increase our faith, forgive our shortcomings, and grant us a place among the dwellers of paradise. Ameen.
Umar Farooq Sheikh
Lahore Pakistan

09/03/2026

CARROM BOARD TOURNAMENT || اختتامی تقریب || Speech Ahmed Mukhtar Shaikh

06/03/2026

The virtues of Ramadan || رمضان کے فضائل || Presented by Ahmed Mukhtar Shaikh

25/02/2026

Important points of the Prophetic prayer method || طریقہ نماز نبوی ﷺ اہم نکات || by Ahmed Mukhtar

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہر سال کی طرح اس بابرکت مہینے رمضان المبارک میں *حلقہ خواتین...
17/02/2026

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔

جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہر سال کی طرح اس بابرکت مہینے رمضان المبارک میں *حلقہ خواتین جماعت اسلامی* بحریہ آرچڈ کی جانب سے *دورۂ قرآن* کے پروگرامز کا باقاعدہ انعقاد کیا جا رہا ہے۔
الحمدللہ کلاسز کا آغاز ہو چکا ہے۔ تمام مقامات پر قرآن کلاسز کا وقت صبح 11:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک ہے۔
📍 مقامات کی تفصیل درج ذیل ہے:
1) *سدرن بلاک* — مکان نمبر 732
2) *سی بلاک* — مکان نمبر 110
3) *جی بلاک* — مکان نمبر 864
4) *سینٹرل بلاک* — مکان نمبر 514
5) *سینٹرل* (نزدیک عوامی ویلاز ) — مکان نمبر 964
6) *ایسٹرن ڈسٹرکٹ* — مکان نمبر 30
تمام خواتین سے گزارش ہے کہ اس بابرکت موقع سے بھرپور استفادہ کریں اور اپنے لیے و دیگر خواتین کے لیے صدقۂ جاریہ کا ذریعہ بنیں۔

برائے رابطہ ۔
03324121637
03336189196


جزاکم اللہ خیراً 🌿

13/02/2026

Miswak and prayer || مسواک اور نماز کی اہمیت || Presented by Ahmed Mukhtar Shaikh

07/02/2026

Death is an irrefutable fact. || موت ایک اٹل حقیقت ہے ۔ || Fayyaz Mehmood Shaikh

05/02/2026

Self-promotion leads a person to disbelief.|| خودنمائی || Presented by Fayyaz Mehmood Shaikh

01/02/2026

The style of the Quran is very beautiful || قرآن کا اسٹائل بڑا خوبصورت ہے|| Fayyaz Mehmood

دو کشتیوں کا مسافر، نظریاتی ہجرت کا منشور اور ”پرینیئلزم“ کا رد: سورہ الکافرون کا علمی، سماجی اور کائناتی مطالعہ! - بلال...
31/01/2026

دو کشتیوں کا مسافر، نظریاتی ہجرت کا منشور اور ”پرینیئلزم“ کا رد: سورہ الکافرون کا علمی، سماجی اور کائناتی مطالعہ! - بلال شوکت آزاد

انسانی تاریخ کا ایک قدیم اور مستقل المیہ یہ رہا ہے کہ حق اور باطل کے درمیان ہمیشہ ایک ”سرمئی لکیر“ (Grey Line) کھینچنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، ایک ایسی مبہم لکیر جہاں تھوڑا سا سچ اور تھوڑا سا جھوٹ ملا کر ایک نیا ”کاک ٹیل“ تیار کیا جا سکے جسے دنیا ”رواداری“، ”وسعتِ قلبی“ اور ”سفارت کاری“ کا نام دیتی ہے، لیکن قرآن کی الہیاتی زبان میں اسے ”مداہنت“ (Ideological Compromise) کہا جاتا ہے جو دراصل دین کی موت ہے۔

جب مکہ کی سنگلاخ وادی میں توحید کا سورج طلوع ہوا اور اس کی کرنیں شرک کے صدیوں پرانے اندھیروں کو چیرنے لگیں، تو قریش کے سرداروں نے تشدد، بائیکاٹ اور پروپیگنڈے کے تمام حربے آزمانے کے بعد اپنا آخری اور سب سے خطرناک پتا کھیلا، اور وہ پتا تھا ”مفاہمت“ کا۔

قریش کا ایک وفد، جس میں ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، امیہ بن خلف اور اسود بن مطلب شامل تھے، نبی کریم ﷺ کے پاس ایک بہت بڑی اور بظاہر پرکشش پیشکش لے کر آیا۔

امام طبریؒ اور ابن کثیرؒ نے اپنی تفاسیر میں اس واقعے کو نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا:

”اے محمد (ﷺ)! آؤ صلح کر لیتے ہیں، اس جھگڑے کو ختم کرتے ہیں۔ ایک سال ہم تمہارے رب کی عبادت کرتے ہیں اور ایک سال تم ہمارے خداؤں (لات و عزیٰ) کی پوجا کرو، یا کم از کم ہمارے بتوں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دو اور ان کو ہاتھ لگا کر تبرک حاصل کر لو، ہم تمہیں عرب کا بادشاہ بنا دیں گے، دولت کے انبار لگا دیں گے اور خوبصورت ترین عورتوں سے تمہارا نکاح کر دیں گے۔“

یہ وہ نازک ترین لمحہ تھا جب بظاہر ایک ”درمیانی راستہ“ (Middle Ground) نکل سکتا تھا، جسے آج کی جدید سیاسی اصطلاح میں ”Conflict Resolution“ کہا جاتا ہے۔

لیکن اللہ رب العزت نے جبرائیل امین علیہ السلام کو سات آسمانوں کے اوپر سے ایک ایسی سورت دے کر بھیجا جس نے قیامت تک کے لیے حق اور باطل کے درمیان ”مفاہمت“ کے تمام پل ڈائنا مائٹ لگا کر اڑا دیے اور ایک ایسی واضح دیوار کھڑی کر دی جسے عبور کرنا ناممکن ہے۔

یہ سورت ”سورہ الکافرون“ ہے، جسے نبی کریم ﷺ نے ”شرک سے براءت“ کی سند قرار دیا۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی سنتوں اور مغرب کی سنتوں میں اکثر اس سورت اور سورہ الاخلاص کی تلاوت فرماتے تھے (جامع ترمذی)، گویا دن کا آغاز اور اختتام ”نظریاتی براءت“ کے ساتھ ہوتا تھا۔

یہ سورت صرف مکہ کے کفار کو جواب نہیں ہے، بلکہ یہ آج کے اس جدید دجالی دور کا بھی منہ توڑ جواب ہے جہاں ”بین المذاہب ہم آہنگی“ (Interfaith Harmony) کے خوبصورت ٹائٹل کے نیچے ”وحدت ادیان“ (Unity of Religions) یا ”Perennialism“ کا فتنہ پھیلایا جا رہا ہے اور مسلمان کو یہ سکھایا جا رہا ہے کہ ”سب کا سچ ایک ہی ہے“ اور ”تمام مذاہب سچائی کے مختلف راستے ہیں۔“

آج ہم اس سورت کی اتھاہ گہرائی میں اتریں گے اور دیکھیں گے کہ کس طرح یہ چھ مختصر آیات مسلمان کو ”شناختی بحران“ (Identity Crisis) سے نکال کر ایک ٹھوس ”نظریاتی چٹان“ پر کھڑا کر دیتی ہیں۔

سورت کا آغاز ایک ایسے دھماکہ خیز لفظ سے ہوتا ہے جو ساری سفارتی زبان، مصلحتوں اور ڈپلومیٹک آداب کو ختم کر دیتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

”قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ“
(ترجمہ: آپ کہہ دیجیے، اے کافرو! [سورہ الکافرون: 1])۔

یہاں اللہ نے یہ نہیں کہا کہ ”اے لوگو“ (یا ایہا الناس) یا ”اے قریش“، حالانکہ قرآن میں یہ الفاظ کثرت سے آئے ہیں۔

یہاں انہیں ان کے اصل نظریاتی ٹائٹل ”الکافرون“ (انکار کرنے والے / چھپانے والے) سے پکارا گیا۔

یہ ”ٹیگنگ“ (Tagging) اس لیے ضروری تھی تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اب رشتہ داری، قومیت، قبیلے اور زبان کی بنیاد پر بات نہیں ہوگی، اب بات صرف اور صرف ”عقیدے“ کی بنیاد پر ہوگی۔

لفظ ”قُلْ“ (کہہ دیجیے) بتاتا ہے کہ یہ نبی ﷺ کا ذاتی غصہ یا ردعمل نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کا ”اعلانِ جنگ“ اور ”شاہی فرمان“ ہے۔

جدید عمرانیات (Sociology) میں اسے ”Social Identity Theory“ کے تحت سمجھا جا سکتا ہے، جسے ہنری ٹاجفل (Henri Tajfel) نے پیش کیا۔

یہ تھیوری کہتی ہے کہ کسی گروہ کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ”In-group“ (اپنے لوگ) اور ”Out-group“ (غیر لوگ) کے درمیان واضح لکیر کھینچے۔

جب تک آپ یہ واضح نہیں کرتے کہ ”آپ کیا نہیں ہیں“، تب تک آپ یہ نہیں بتا سکتے کہ ”آپ کیا ہیں۔“

اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی زبان سے سب سے پہلے ”غیر“ (The Other) کا تعین کروایا۔

یہ خطاب نفرت پھیلانے کے لیے نہیں تھا، بلکہ حقیقت کو بے نقاب کرنے کے لیے تھا کہ تم جس راستے پر ہو، وہ انکار (کفر) کا راستہ ہے اور میرا راستہ اقرار (اسلام) کا ہے، اور ان دونوں کا کیمیائی سنگم ناممکن ہے۔

یہ ”Coexistence“ (بقائے باہمی) کا انکار نہیں، بلکہ ”Conflation“ (خلط ملط) کا انکار ہے۔

اس کے بعد اگلی آیت میں وہ تاریخی اور فیصلہ کن جملہ ادا کیا گیا جو مشرکین کی اس امید پر پانی پھیر دیتا ہے کہ شاید محمد ﷺ کسی موڑ پر ان کے بتوں کو قبول کر لیں گے۔

ارشاد ہوتا ہے:

”لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ“
(ترجمہ: میں اس کی عبادت نہیں کرتا/کروں گا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ [سورہ الکافرون: 2])۔

عربی گرائمر کی رو سے یہاں فعل مضارع استعمال ہوا ہے اور اس پر ”لا“ داخل ہوا ہے، جو حال (Present) اور مستقبل (Future) دونوں کا احاطہ کرتا ہے، یعنی یہ ایک مستقل پالیسی بیان ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ نہ میں اب تمہارے ان پتھروں، لات و عزیٰ، ہبل اور منات کو پوجتا ہوں اور نہ ہی مستقبل میں اس کا کوئی امکان ہے۔

لیکن یہاں بات صرف پتھروں کی نہیں ہے۔ جدید دور میں ”مَا تَعْبُدُونَ“ (جن کی تم عبادت کرتے ہو) کا دائرہ بہت وسیع ہو چکا ہے۔

آج کا انسان ”پتھروں“ کو نہیں پوجتا، لیکن وہ ”ازمز“ (Isms) کو پوجتا ہے۔

آج کے بت ”جمہوریت“، ”سیکولرازم“، ”لبرل ازم“، ”فیمنزم“, ”کمیونزم“, ”سوشل ازم“, ”نیشنلزم“ اور ”کیپٹلزم“ وغیرہ وغیرہ ہیں۔

جب ایک مسلمان یہ آیت پڑھتا ہے تو وہ دراصل ان تمام جدید خداؤں کا انکار کر رہا ہوتا ہے جو وحی کے مقابلے میں کھڑے کیے گئے ہیں۔

یہ آیت اس بات کا اعلان ہے کہ میرا ”قبلہ“ اور تمہارا ”قبلہ“ کبھی ایک نہیں ہو سکتے۔

لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوئی، اگلی آیت میں ایک زبردست نفسیاتی اور الہیاتی وار کیا گیا:

”وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ“
(ترجمہ: اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ [سورہ الکافرون: 3])۔

یہ جملہ بظاہر عجیب لگتا ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ مشرکینِ مکہ اللہ کو مانتے تھے، وہ اللہ کو ”خالق“ اور ”رازق“ مانتے تھے اور طواف کرتے ہوئے ”لبیک اللھم لبیک“ پکارتے تھے۔

تو اللہ نے ان کی عبادت کی نفی کیوں کی؟

یہاں توحید کا ایک باریک ”علمی نکتہ“ چھپا ہے۔

اللہ یہ کہہ رہا ہے کہ ”عبادت“ کا مطلب صرف پوجا پاٹ یا رسمیں ادا کرنا نہیں، بلکہ ”اطاعتِ محض“ اور ”خالص بندگی“ ہے۔

چونکہ تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو، اپنی خواہشات کو مانتے ہو اور رسم و رواج کو دین کا حصہ بناتے ہو، اس لیے تمہاری وہ عبادت اللہ کے نزدیک ”سرے سے عبادت ہے ہی نہیں“۔

یہ ایسا ہی ہے جیسے دودھ کے بڑے ڈرم میں پیشاب کا ایک قطرہ گر جائے تو پورا دودھ ناپاک ہو جاتا ہے۔

اللہ ”خالص“ (Pure) ہے اور وہ صرف خالص عمل قبول کرتا ہے۔

یہ آیت آج کے ان ”پرینیئلسٹ“ (Perennialist) فلسفیوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو کہتے ہیں کہ

”رام اور رحیم ایک ہیں“

یا

”سب کا مالک ایک ہے، بس راستے الگ ہیں۔“

قرآن کہتا ہے کہ نہیں!

اگر تمہارے خدا کے تصور میں شراکت ہے، اگر تمہارا خدا تمہارے ہاتھوں کا تراشہ ہوا ہے یا تمہاری عقل کا بنایا ہوا ہے، تو وہ میرا خدا نہیں ہے۔ ہم ”Same Page“ پر نہیں ہیں۔

تمہارا ”مفروضہ خدا“ (Illusionary God) ہے اور میرا ”حقیقی خدا“ (Real God) ہے۔

اس کے بعد والی آیات میں بظاہر تکرار نظر آتی ہے، جسے مستشرقین (Orientalists) نے قرآن پر اعتراض کا ذریعہ بنایا کہ یہ جملے دہرائے گئے ہیں۔

لیکن عربی بلاغت اور تفسیر کی رو سے یہ تکرار نہیں بلکہ ”معنوی تاکید“ اور ”کیفیت کا بیان“ ہے۔

ارشاد ہوا:

”وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ، وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ“
(ترجمہ: اور نہ میں (آئندہ کبھی) عبادت کرنے والا ہوں اس کی جس کی تم نے عبادت کی، اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ [سورہ الکافرون: 4-5])۔

پہلی آیات (2 اور 3) میں ”فعل“ (Verb) استعمال ہوا تھا جو ”کام“ کی نفی کرتا تھا، یہاں ”اسم فاعل“ (Noun/Doer/Active Participle) استعمال ہوا ہے (عَابِدٌ) جو ”شخصیت“، ”صفت“ اور ”طریقے“ کی نفی کرتا ہے۔

اس کا گہرا مفہوم یہ ہے کہ

(1) میرا ”معبود“ (Object of Worship) تمہارے معبود سے الگ ہے، اور
(2) میرا ”طریقہ عبادت“ (Mode of Worship) بھی تمہارے طریقے سے بالکل الگ ہے۔

یہ بہت اہم نکتہ ہے۔

بعض اوقات لوگ ایک ہی خدا کو مانتے ہیں لیکن طریقہ اپنی مرضی کا گھڑ لیتے ہیں (جیسے قریش ننگے ہو کر طواف کرتے تھے یا سیٹیاں بجاتے تھے، جیسا کہ سورہ انفال میں ذکر ہے)۔

اللہ فرما رہا ہے کہ میں نہ تمہارے جھوٹے خداؤں کو مانوں گا اور نہ ہی تمہارے گھڑے ہوئے ”طریقہ عبادت“ (بدعت) کو اختیار کروں گا۔ میں صرف اس طریقے پر چلوں گا جو وحی کے ذریعے آیا ہے۔ یہ آیت ”Syncretism“ (دو مختلف مذاہب کو ملا کر نیا مذہب بنانا) کی جڑ کاٹتی ہے۔

سورہ الکافرون کہتی ہے کہ جب راستے (شریعت) الگ ہوں گے تو منزل بھی الگ ہوگی۔

میرا راستہ توحید ہے اور تمہارا شرک، اور یہ دو متوازی لکیریں ہیں جو کبھی نہیں مل سکتیں۔

یہ تکرار دراصل ”مایوسی“ پیدا کرنے کے لیے ہے کہ

اے کفار! تم مجھ سے امید چھوڑ دو، میں بدلنے والا نہیں ہوں۔

آخر میں سورت کا اختتام اس ”فیصلہ کن اور تاریخی جملے“ پر ہوتا ہے جسے آج کل کے لبرل طبقے اور مداہنت پسند علماء نے اپنی مرضی کا مطلب پہنا کر ”رواداری“ کا نعرہ بنا لیا ہے، حالانکہ یہ ”براءت“ اور ”علیحدگی“ کا اعلان تھا۔

ارشاد ہوتا ہے:

”لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ“
(ترجمہ: تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔ [سورہ الکافرون: 6])۔

عام طور پر اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ

”سب ٹھیک ہیں، تم اپنے راستے خوش رہو، میں اپنے راستے خوش ہوں، سب جنت میں جائیں گے۔“

یہ سراسر غلط فہمی اور قرآن کی تحریف ہے۔ اگر سب ٹھیک ہوتے تو شروع میں ”یا ایہا الکافرون“ نہ کہا جاتا اور نہ ہی نبی ﷺ تبلیغ کرتے۔

اس آیت کا اصل مفہوم ”Total Separation“ (مکمل علیحدگی) ہے۔

عربی لغت میں ”لام“ (لکم) یہاں ”اختصاص“ کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور ”انجام“ کے لیے بھی۔

اس کا مطلب ہے:

”اگر تم میری بات نہیں مانتے، تو سن لو! میں تمہارے ساتھ کمپرومائز نہیں کر سکتا۔ اب تمہارا انجام تمہارے دین کے ساتھ ہوگا اور میرا انجام میرے دین کے ساتھ۔ میں تمہارے باطل نظام کا حصہ نہیں بن سکتا۔“

یہ ”پرامن بقائے باہمی“ (Peaceful Coexistence) کا سیاسی اصول تو ہے کہ ہم تم پر تلوار نہیں اٹھائیں گے اور نہ تمہیں زبردستی مسلمان کریں گے (لا اکراہ فی الدین)، لیکن یہ ”نظریاتی انضمام“ (Ideological Merger) کا انکار ہے۔ یعنی ہم ایک سوسائٹی میں رہ سکتے ہیں، تجارت کر سکتے ہیں، لیکن ہم اپنے عقیدے میں تمہارے کفر کی آمیزش برداشت نہیں کریں گے۔

یہ آیت دراصل ”مداہنت“ (Mudaahinat) کا رد ہے۔ مداہنت یہ ہے کہ انسان دنیاوی فائدے یا تعلقات بچانے کے لیے اپنے دین کے کچھ حصے کو چھوڑ دے یا باطل کو ”سچ“ مان لے۔

اس کے برعکس ایک چیز ”مدارات“ (Mudaraat) ہے، یعنی حسنِ اخلاق سے پیش آنا۔

اسلام ”مدارات“ کا حکم دیتا ہے لیکن ”مداہنت“ کو حرام قرار دیتا ہے۔

سورہ الکافرون کہتی ہے کہ دین ”پیکج ڈیل“ ہے، یہ سارا مانا جائے گا یا سارا چھوڑا جائے گا، اس میں ”Give and take“ نہیں ہو سکتا۔

جدید دور کے تناظر میں دیکھیں تو ”سورہ الکافرون“ مومن کے لیے ”نظریاتی ہجرت“ کا سامان ہے۔

آج کے دجالی فتنے میں مسلمان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ”انتہا پسند“ نہ بنے، وہ ”سب کو ساتھ لے کر چلے“، وہ سود کو ”انٹریسٹ“ کہہ کر قبول کر لے، وہ فحاشی کو ”کلچر“ کہہ کر اپنا لے، اور وہ دیگر مذاہب کی رسومات (دیوالی، کرسمس، ہولی) میں شرکت کر کے ”رواداری“ کا ثبوت دے۔ ایسے وقت میں سورہ الکافرون ایک ڈھال بن کر سامنے آتی ہے۔

یہ سورت مسلمان کو سکھاتی ہے کہ ”انکار کرنا“ (The Art of Saying No) بھی ایمان کا حصہ ہے۔ ہر بات پر ”ہاں“ کہنا مومن کی شان نہیں۔ نفسیات میں اسے ”Assertiveness“ کہتے ہیں، یعنی اپنے اصولوں پر کھڑے رہنا۔

مومن وہ ہے جو بھری محفل میں، جہاں کفر اور فواحش کا بازار گرم ہو، کھڑا ہو کر کہہ سکے کہ

”لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ“
(میں اس کلچر، اس فیشن، اس نظام اور اس سوچ کی عبادت نہیں کرتا جس کے تم غلام ہو)۔

یہ سورت انسان کو ”کموڈٹی“ (Commodity) بننے سے بچاتی ہے اور اسے ایک ”صاحبِ کردار“ (Man of Character) بناتی ہے۔

یہ ہمیں بتاتی ہے کہ حق کی کشتی اور باطل کی کشتی الگ الگ ہیں۔ اگر تم ایک پاؤں حق کی کشتی میں اور دوسرا باطل کی کشتی میں رکھو گے، تو تم ڈوب جاؤ گے۔

نجات صرف اس میں ہے کہ دو ٹوک فیصلہ کر لو۔ ”میرا دین“ صرف اللہ کی غلامی ہے، اور اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے (چاہے وہ کتنا ہی چمکدار، ماڈرن اور سائنسی کیوں نہ ہو)، وہ ”تمہارا دین“ ہے اور مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں۔

یہ وہ ”غیرتِ ایمانی“ ہے جو سورہ الکافرون اپنے پڑھنے والے کی روح میں پھونک دیتی ہے اور اسے دجالی نظام کے سامنے جھکنے سے بچا لیتی ہے

Address

Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923344367836

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fayyaz Mehmood Shaikh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Fayyaz Mehmood Shaikh:

Share