26/03/2020
بیاسی ہزار ایک سو اناسی مریضوں کے ساتھ امریکہ اس وقت پُوری دُنیا میں کرونا کا شکار ہونے والے ممالک میں پہلے نمبر پر آ چکا یے ۔
لیکن پہلی سات پوزیشنز میں امریکہ میں کرونا سے موت کا شکار ہونے والے مریضوں کی تعداد سب سے کم ہے ۔
اس کی بڑی وجہ کرونا اسکریننگ یعنی ٹیسٹ کرنے کی طوفانی رفتار ہو سکتی ہے ۔
امریکہ میں جاری باقی ہنگامی انتظامات کی ادنی سی جھلک یہ ہے کہ صرف عوام پر معاشی بدحالی کے اثرات سے مقابلہ کرنے کے لیے شاید پانچ سو بلین ڈالرز مختص کیے گئے ہیں ، یہ کتنے روپے بنتے ہیں ؟ میری ریاضی کمزور ہے ۔
اب تک اس عالمی وبا کی رفتار میں سست ہونے کے کوئی آثار سامنے نہیں آ رہے ۔
پاکستان میں معاملہ بہت مختلف ہے ۔
نا بالغ سیاسی قیادت , وسائل کی کمی ، موجود وسائل پر لگی حریص نظریں ، عام پرائیویٹ اسپتالوں کا حفاظتی سامان کی عدم موجودگی کے سبب کرونا مریضوں سے بجا طور پر خوفزدہ ہونا ، سیاسی ، فرقہ وارانہ چپقلش اور جہالت وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے سرکاری اعداد و شمار قابلِ اعتبار نہیں کہ یہاں ہمیں نہ اپنے ملک کا خود جغرافیہ معلوم ہے نہ ہی آبادی کی چھوٹی اکائی یعنی یونین کاونسل پر کوئی انتظامی کنٹرول ہے ۔
سارا لوڈ مطلب بوجھ پولیس پر ہے اور پولیس کو ہم نے تخلیق پاکستان سے اب تک اتنا ترقی یافتہ بنا لیا ہے کہ وہ "" شُف شُف "" پڑھتے ہیں اور انسان مُرغا بن جاتا ہے ۔
کرونا کو روکنا یا مریضوں کا علاج ایک الگ موضوع ہے ۔
مشہور جملہ ہے کہ " جنگ کی تیاری امن کے دنوں میں کی جاتی ہے "
سرکاری اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز عام دنوں میں بھی قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتا تھا ۔
اس وقت کے حالات کا اندازہ آپ خود کر سکتے ہیں ۔
پرائیویٹ سیکٹر اس جنگ میں حتی الامکان کودنے سے گریز کرے گا کہ یہ موسم منافعے کا نہیں ۔
اچھی بات یہ ہے کہ کرونا کے سائیڈ ایفیکٹ یعنی معاشی بدحالی کے خلاف پاکستانی عوام اس وقت یک جان ہے اور ہر کوئی اپنی ہمت اور استطاعت کے مطابق اپنے دائیں بائیں کا خیال رکھ رہا ہے ۔
یہی جذبہ احتیاطی تدابیر کے حوالے سے بھی درکار ہے ۔
احتیاطی تدابیر اختیار کیجیے کہ آپ چین یا امریکہ کے شہری نہیں !!! پلیز
۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی