08/01/2026
اَلسَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ
مفہوم حدیث :
قرآن کی ایک آیت کو سمجھ کر پڑھنا
100رکعت نفل نماز پڑھنے سے بہتر ہے
ابن ماجہ ٢١٩
القرآن - سورۃ نمبر 4
آلنساء آیت نمبر 136
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا
ترجمہ فہم القرآن
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے اس نے نازل فرمائی ہیں ایمان لاؤ۔ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور قیامت کے دن کا انکار کرے وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا
تفسیر
دعوت تجدید : (ف2) ایمان کے کئی درجے اور مقام ہیں سرسری ایمان یہ ہے کہ اسلامی نظام عقائد وعمل کو مان لیاجائے ، ایثار وخلوص شرط نہیں ، اس حالت میں اس نوع کے لوگ سیاسی اعتبار سے مسلمان ہی شمار کئے جائیں گے ، مگر حقیقی اور واقعی ایمان یہ ہے کہ دلوں میں یقین وثبات کا کہر با دوڑ جائے اور مسلمان درد واضطراب کا مرقع بن جائے ، اس کے ہر بن ومو سے اسلامی شان وشوکت کے فوارے پھوٹیں ، اس آیت کا یہی مقصود ہے کہ مسلمانو ! قشر اور چھلکے کو چھوڑ کر حقیقت ومغز کو پہچانو ! اجمال وابہام سے نکل کر تفصیل وتشریح کی روشنی میں اپنے ایمان کا جائزہ لو اور دیکھو کیا واقعی اللہ کی تمام کتابوں پر تمہارا یمان ہے ؟ اور کیا تم اس کے تمام پیغمبروں کو برابر مانتے ہو ؟ اور کیا آخرت کے لئے تم نے کوئی تیاری کر رکھی ہے ؟ اگر ان میں سے کسی ایک صداقت کا بھی انکار ہے تو جان لو کہ یہ بدترین گمراہی ہے ۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ
اَللّٰهُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ .
اللہ رب العزت کمی بیشی اور کوتاہی معاف فرمائے
اور امت مسلمہ کو دین کا صحیح فہم و ادراک عطا فرماۓ