24/05/2026
ڈی ایچ اے فیز 4 لاہور کے “چڑڑ نالے” کے زہریلے پانی، تیزابی گیسوں اور تعفن کے خلاف خواتین کا احتجاج، مستقل حل کا مطالبہ
ڈی ایچ اے فیز 4 لاہور کے علاقے میں واقع چرڑ نالے کے خلاف خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت، ڈی ایچ اے انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے فوری اور مستقل کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر نالے کو کور کرنے، زہریلے پانی کے اخراج کو روکنے اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے مطالبات درج تھے۔
احتجاج میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ چرڑ نالے سے اٹھنے والا شدید تعفن علاقہ مکینوں کے لیے مستقل اذیت بن چکا ہے۔ ان کے مطابق نالے میں صنعتی فضلہ اور کیمیکل ملے زہریلے پانی کے اخراج کے باعث ماحول آلودہ ہو رہا ہے جبکہ شہری مختلف بیماریوں اور سانس کے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ نالے سے اٹھنے والی تیزابی گیسوں کے باعث گھروں کے لوہے کے گیٹ، کھڑکیاں، گرلز اور دیگر دھاتی اشیاء تیزی سے خراب اور زنگ آلود ہو رہی ہیں، جبکہ شہریوں کا قیمتی انفراسٹرکچر بھی متاثر ہو رہا ہے۔
رہائشیوں نے دعویٰ کیا کہ کیمیکل گیسوں کے اثرات کے باعث گھروں میں نصب ایئر کنڈیشنرز کے کوائلز جلد خراب ہو جاتے ہیں اور ریفریجرینٹ گیس لیک ہونے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق بعض صنعتی کیمیکلز اور زہریلی گیسیں انسانی صحت، سانس اور ماحول کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
مظاہرین نے سوال اٹھایا کہ اگر لاہور کے دیگر علاقوں میں نالے بند اور کور کیے جا سکتے ہیں تو ڈی ایچ اے فیز 4 کے رہائشیوں کو اس بنیادی سہولت سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے۔ خواتین نے وزیر اعظم پاکستان، ڈی ایچ اے حکام اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ چرڑ نالے کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔
احتجاجی شرکاء نے مطالبہ کیا کہ چرڑ نالے میں زہریلے اور کیمیکل ملے پانی کے اخراج کو فوری روکا جائے، نالے کو مکمل طور پر کور کیا جائے تاکہ تعفن اور آلودگی سے نجات مل سکے، صنعتی فضلہ چھوڑنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور علاقہ مکینوں کو صاف، محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کیا جائے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔