08/03/2026
کہتے ہیں کہ جب کسی ملک کو تباہ کرنا ہو تو سب سے پہلے اس کے تعلیمی نظام کو کمزور کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم ایک بار پھر ایسے ہی حالات کی طرف بڑھتے نظر آ رہے ہیں۔ اسکول بند ہو جائیں گے مگر تعلیمی مافیا پوری فیس وصول کرے گا۔ آن لائن کلاسز کا سلسلہ شروع تو ہو جاتا ہے، مگر اتنی بڑی آبادی میں نیٹ ورک کو سنبھالنا اور ہر جگہ معیاری انٹرنیٹ فراہم کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس کا تجربہ ہم پہلے بھی کر چکے ہیں، جہاں انٹرنیٹ سگنلز انتہائی کمزور تھے اور اس کا بوجھ اساتذہ اور والدین دونوں کو برداشت کرنا پڑا۔
میرے خیال میں اگر واقعی ورک فرام ہوم اور آن لائن کلاسز پر جانا ہے تو ہوم اسکولنگ ایک بہتر آپشن ہو سکتا ہے۔ اگر اپریل اور مئی میں اسکول بند رکھنے ہیں تو بہتر ہے کہ انہیں اگست میں کھولا جائے اور اس عرصے کی فیس بھی وصول نہ کی جائے، کیونکہ یہ بوجھ سب سے زیادہ ایک عام گھرانے پر پڑتا ہے۔ ہر گھر میں انٹرنیٹ موجود نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر والدین اتنے وسائل رکھتے ہیں کہ بچوں کی آن لائن کلاسز کے لیے کیفے یا کلب کا سہارا لیں۔
میں جناب وزیرِ تعلیم سکندر صاحب سے درخواست کرتی ہوں کہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں۔ یہ صرف میری آواز نہیں بلکہ ہر اُس ماں کی آواز ہے جسے اپنے بچے کی تربیت سے لے کر اس کی تعلیم تک ہر پہلو کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ایک اچھا انسان بنانے کے لیے وہ دن رات محنت کرتی ہے۔ لیکن اگر آخر میں نتیجہ ہی بہتر نہ ہو تو ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جس میں آدھا سال اسکول بند رہیں اور اخراجات کا بوجھ والدین پر ڈال دیا جائے۔
ہر ماں کا خواب ہوتا ہے کہ اس کا بیٹا بھی ایک اچھا سرکاری افسر بنے، مگر موجودہ حالات میں یہ خواب مدھم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔