Youtube Permanent Subscribers

Youtube Permanent Subscribers Asslaam-O-Alekum...

Subscribe My Channels First With Opening These 2-Links And Leave Comment There.

*اگر پریشانی کا تعلق --- """دماغ 🧠🧠🧠""" سے ہے --- تو ہارٹ اٹیک کیوں ہوتا ہے...؟؟؟* 🤔🤔🤔*اور اگر عشق کا تعلق --- """دل 💓💓💓...
04/08/2026

*اگر پریشانی کا تعلق --- """دماغ 🧠🧠🧠""" سے ہے --- تو ہارٹ اٹیک کیوں ہوتا ہے...؟؟؟* 🤔🤔🤔

*اور اگر عشق کا تعلق --- """دل 💓💓💓""" سے ہے --- تو عشق میں لوگ پاگل کیوں ہوتے ہیں...؟؟؟* 🤨🤨🤨

*سوچیئے...!!! جب پتہ چل جائے تو --- """مینوں وی دسو --- کہ اے کی سسٹم اے"""* 🤔🤔🤔🧐🧐🧐🤨🤨🤨

19/07/2026

Asslaam-O-Alaikum... 👋👋👋

Mere PIYARAY GAOON JASSAR Ke NAZARAY... 😎🤩😎😇😇😇😎🤩😎

゚ ゚viralシ #foryourpage

*"""ہم دنیا کو اپنے مطابق نہیں چلا سکتے"""* 😇😇😇 *لیکن...!!!* 🧐🧐🧐*ہم اس پر اپنے ردِعمل کو ضرور قابو میں رکھ سکتے ہیں...,*...
18/07/2026

*"""ہم دنیا کو اپنے مطابق نہیں چلا سکتے"""* 😇😇😇
*لیکن...!!!* 🧐🧐🧐
*ہم اس پر اپنے ردِعمل کو ضرور قابو میں رکھ سکتے ہیں...,* 🙂🙃🙂
*زندگی میں ہمیشہ ایسے حالات --- آزمائشیں اور مایوسیاں آئیں گی --- جو ہمارے اختیار سے باہر ہوں گی...,* 😒🥺😒

*ہر چیز کو بدلنے کی کوشش میں --- اپنی توانائی ضائع کرنے کے بجائے --- اپنے سوچنے کے انداز کو مضبوط بنائیں --- اور اپنے دل کے سکون کی حفاظت کریں..,* 😎🤩😎

*"""خوشی ایک بے عیب زندگی کا نام نہیں --- بلکہ یہ فیصلہ ہے --- کہ کوئی بھی مشکل آپ کی مسکراہٹ نہ چھین سکے"""* 🤩🤩🤩🙂🙃🙂🤩🤩🤩

*"""شکایت کے بجائے شکرگزاری --- خوف کے بجائے امید --- اور غصے کے بجائے سکون کو منتخب کریں"""* 🤲😇🤲🙂🙃🙂🤲😇🤲

*حالات جیسے بھی ہوں --- آپ کا ردِعمل --- آپ کی مضبوطی کی پہچان ہونا چاہیے...,* 😎🤩😎

*"""خوش رہنے کا انتخاب کریں --- کیونکہ آپ کا اندرونی سکون وہ دولت ہے --- جسے دنیا کی کوئی طاقت آپ سے نہیں چھین سکتی"""* 😎🤩😎🙂🙃🙂😎🤩😎

*"""اور ہم وہ شاندار ہیں --- کہ جو"""* 😎😍😎😇😇😇😎🤩😎*"""شوق کی قیمت --- اور ضد کے نقصان --- نہیں دیکھا کرتے"""* 💪🏼💪🏼💪🏼👊👊👊💪🏼💪...
14/07/2026

*"""اور ہم وہ شاندار ہیں --- کہ جو"""* 😎😍😎😇😇😇😎🤩😎
*"""شوق کی قیمت --- اور ضد کے نقصان --- نہیں دیکھا کرتے"""* 💪🏼💪🏼💪🏼👊👊👊💪🏼💪🏼💪🏼

کہتے ہیں پہلے دور میں سبھی گجر تھے... پھر جو نہاتا گیا اپنا قبیلہ بساتا گیا...دیکھا جائے تو جنوبی ایشیاء کی عوام گجروں ک...
24/06/2026

کہتے ہیں پہلے دور میں سبھی گجر تھے... پھر جو نہاتا گیا اپنا قبیلہ بساتا گیا...

دیکھا جائے تو جنوبی ایشیاء کی عوام گجروں کا قرض ادا نہیں کر سکتی کہ انہوں نے جانور اور انسان کے باہمی روابط کو قائم رکھنے میں ناقابل فراموش خدمات سر انجام دیں...

مغربی مفکر اس بات پر مصر رہے کہ کتا انسان کا بہترین دوست ہے مگر مسلمانوں کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی...

اتنا ہی نہیں چاچا ڈارون نہیں تو باندروں کو ہمارا نانکا ثابت کرنے میں کوئی کسر روا نہیں رکھی...

پچھلے دنوں ایک پرانی پاکستانی فلم کا ٹکڑا دیکھنے کو ملا جس میں ثابت کیا گیا کہ "مج گجر کی ماں ہوتی ہے"

البتہ سنڈے اور ولدیت کے موضوع پر تاریخ اور فلم ساز خاموش ہیں...

لہذا گجروں نے بھارت سے سفارتی تعلقات بہتر کرنے میں بھی بہت مدد کی ہے کہ گاؤ ماتا کو پوجنے والوں کے ساتھ ایک عجیب ہمدردی کا احساس امنڈ پڑا...

گجروں نے دو قومی نظریے کو پاتھیوں پر جلا کر ہمسایوں کو محبت کی پوشل میں پرو دیا...

سنہ 81 کی بات ہے جب سلطان راہی کا سنہری دور ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ دودھ کے کاروبار میں کچھ "غیر گجر عناصر" نے قدم رکھا...

خیبر سے کراچی تک حاجی صاحبان نے نیسلے کے صاف ستھرے پانی میں دودھ کی ملاوٹ کر کے بیچنا شروع کر دیا...

دھیرے دھیرے یہ بگا پانی اور ملاوٹ کا کلچر افواہ کی طرح زمانے میں پھیل گیا...

11 سال کی آمریت نے دعا، دوا اور غذا کچھ بھی خالص نہیں چھوڑا...

یہاں تک کہ 2000 چڑھنے تک بغیر گائے کے دودھ بنانے کا نسخہ بھی مارکیٹ میں آگیا....

لوگوں نے حلیب کی جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اتنا دودھ بیچا کہ اس برینڈ سمیت ایک پوری نسل تباہ ہو گئی...

میرا دوست "ف" اپنی کتاب "حرام کی کمائی اور حلال کی Ding D**g" میں لکھتا ہے کہ:

"اگلے 200 سال میں گیزر، گائے، گیس، گوگل، گندم اور گجر کی ضرورت میں 65 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے "

گجروں کی تعداد میں کمی کی ایک بہت بڑی وجہ صفائی پسند حکمرانوں کی ستھرا پنجاب سکیم بھی ہے جس کی وجہ سے بعض گجر اپنی "مجیں" بیچ کر بنگلہ دیش کا ویزہ لگوا رہے ہیں...

سچا اور کھرا گجر محض دل کی صفائی کا قائل ہوتا ہے لہذا وہ ایمان کے بقیہ نصف حصّے کی تطہیر کے لیے کوشاں رہتا ہے...

اس تحریر میں درد کا منبع یہ ہے کہ گجر اور مولوی قوم کا سرمایہ ہیں....یہ نہ ہوتے تو ہمیں پڑھائی اور صفائی کی قدر نہ ہوتی...

میں پیدائشی کھوکھر ہوں...

بس آج کل گرمی نے گجر کیا ہوا ہے لہذا AC میں بیٹھ کر پڑھنا میری مجبوری ہے کہ میرے پُرکھوں نے ہمارے لئیے کوئی زمین اور مال ڈنگر نہیں چھوڑا...

ہم پیدائشی امیر نہیں ...

اگر آپ کا اور میرا دکھ سانجھا ہے تو آئیں مل کر پڑھتے ہیں...

90 دن والی رگڑا ٹریننگ کا اگلا بیچ شروع ہو رہا ہے...

صرف تین کلو دودھ کی قیمت فی مہینہ کہ عیوض میں آپ کو 12 ہفتوں میں 12 ڈیجیٹل سکلز سکھاؤں گا...

حلیب کی قسم میری کوشش طرح اگر اپ کی نیت بھی خالص ہو جائے تو آپ زندگی بھر خالص دودھ کو نہیں ترسیں گے...

مزید معلومات کے لیے کمینٹس میں "گجر" لکھئیے کیا پتہ نصیبو لال کا اگلا گانا آپ کی کامیابی پر مبنی ہو...

*"""جیلی فش کا دماغ نہیں ہوتا پھر بھی وہ ہزاروں سال جیتی ہے"""* 🤨🧐🤨*میرے مطابق --- جیلی فش ہزاروں سال جیتی ہی اس وجہ سے ...
13/06/2026

*"""جیلی فش کا دماغ نہیں ہوتا پھر بھی وہ ہزاروں سال جیتی ہے"""* 🤨🧐🤨

*میرے مطابق --- جیلی فش ہزاروں سال جیتی ہی اس وجہ سے ہے --- کہ اسکا دماغ نہیں ہوتا...,* 😂🤓😂😉😉😉😂🤓😂

*کیونکہ دماغ ایک جہنم ہے --- یہ جتنا بڑا اور وسیع ہو گا --- اتنا ہی عذاب سہے گا...,* 🤯😨🤯

*"""تب ہی تو دنیا میں --- جتنے دماغ والے لوگ گزرے --- انتہائی کم عمر پائی --- کچھ تو خود کشی کر گئے"""* ☹️😕🙁

*کیونکہ اس جہنم میں جینا آسان تھوڑی ہے...!!!* 😞😔😞

*"""لمحہ لمحہ سسکنا ---- لمحہ لمحہ فکر کے عذاب سہنا --- قدم قدم احساس و ادراک کی زنجیر زنی سہنا --- یہ سب آسان تھوڑی ہے"""* 😫😖😩

نارووال سے جسڑ کا فاصلہ زیادہ سے زیادہ چھ کلو میٹر ہے۔ یہ بسنتر نالے کے عین کنارے واقع ہے۔ اسٹیشن کے سامنے علی آباد کا ق...
08/06/2026

نارووال سے جسڑ کا فاصلہ زیادہ سے زیادہ چھ کلو میٹر ہے۔ یہ بسنتر نالے کے عین کنارے واقع ہے۔ اسٹیشن کے سامنے علی آباد کا قصبہ ہے جس کے مکین بھی یہ نہیں بتا پاتے کہ یہ ریلوے اسٹیشن کب سے آباد ہے جب کہ جسڑ گاؤں ریلوے اسٹیشن سے ذرا فاصلے پر ہے ۔ جسٹس ریلوے اسٹیشن اور علی آباد سے 1947 کی تقسیم کی بہت سی تلخ و شیریں یادیں وابستہ ہیں۔ 76 سال سے زائد طویل عرصہ تقسیم کو گزر چکا ہے۔ اتنے طویل عرصے میں گھر کے در و دیوار کو دیمک چاٹ جاتی ہے، نام و نشان مٹ جاتا ہے، دیواریں خراب ہو جاتی ہیں، چوکھٹ گر جاتی ہیں لیکن زخم کبھی نہیں بھرتے۔ یہ ہمیشہ ہرے رہتے ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کو تقسیم ہوئے پون صدی سے زیادہ ہو گئی لیکن وہ زخم نہیں بھرے۔ وہ سارا منظر فلم کی طرح گھومتا ہے کہ 1947 میں مسلمانوں، سکھوں اور ہندوؤں کے ساتھ کیا کیا ہوا تھا۔ لوگ مختلف داستانیں سناتے ہیں کہ مسلمانوں نے ہندوؤں کو مارا یا سکھوں کو مارا اور سکھوں نے مسلمانوں کو مارا۔ اس میں حقیقت ہے کہ دونوں نے ایک دوسرے کو مارا لیکن مسلمان زیادہ تر مظلوم ہی رہے۔ 1947 کی ہجرت روئے زمین کی سب سے بڑی ہجرت ہے اور ہجرت کے نتیجے میں پناہ گزینوں کا یا مہاجرین کا جو بحران پیدا ہوا وہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ حکومتی وسائل بھی کم پڑ گئے۔ اقوام متحدہ اس زمانے میں موجود تھی، بہت سارے دوست ملکوں نے امداد بھی کی لیکن جو پناہ گزینوں لاہور میں بننے والی بستی، جسے باب پاکستان کہا جاتا ہے وہاں تک وہ مدد نہیں پہنچ سکی۔ ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد نے 1947 میں ہجرت کی یعنی پاکستان سے ہندوستان گئے اور ہندوستان سے پاکستان آئے۔ ان ڈیڑھ کروڑ میں سے آٹھ سے دس لاکھ افراد قتل ہوئے اور بعض لوگ اس کی تعداد پندرہ لاکھ تک بتاتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ ہندوستان سے پاکستان آنے کے لیے چلے، ان میں سے تیرہ سے چودہ لاکھ مسلمان کبھی اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکے۔ اسی طرح ہندوؤں کی تعداد میں سے تقریباً اسی ہزار کے لگ بھگ ہندو اور سکھ وہ تھے جو پاکستان سے ہندوستان کے لیے روانہ ہوئے لیکن اپنے گھروں کو نہیں پہنچ سکے۔ فرض کریں اگر مسلمانوں نے ہندوؤں کو مارا بھی ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ تعداد اسی ہزار بنتی ہے لیکن اسی ہزار اور آٹھ لاکھ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اسی طرح خواتین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ امرت سر، گرداس پور، فیروز پور وغیرہ میں لاکھوں نہیں تو ہزاروں خواتین اغوا کر لی گئیں۔ کچھ عورتوں نے کنویں میں کود کر یا دریاؤں میں چھلانگیں لگا کر اپنی عزتیں بچانے کے لیے خودکشی کی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کسی کو لطیفہ محسوس ہو لیکن بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ سکھوں کی پوری نسل ان مسلمان عورتوں کی اولاد ہے جن مسلمان عورتوں کو سکھوں نے اغوا کر لیا تھا اور بعد میں ان سے جبری طور پر شادی بھی کر لی۔ اس کے مقابلے میں پچیس سے تیس ہزار ہندو اور سکھ خواتین پاکستان میں لاپتہ ہوئیں۔ حکومتی طور پر یہ کہا گیا کہ انہیں مسلمانوں نے اغوا کیا تھا۔
پاکستان بننے کے بعد ایک کمیشن بنا جس نے یہ کھوج لگانے کی کوشش کی کہ جو عورتیں یہاں رہ گئی ہیں، خاص طور پر نوجوان لڑکیاں انھیں تلاش کر کے واپس بھیجا جائے۔ پاکستان اور بھارت دونوں نے اپنے طور پر کوشش کی کہ ان عورتوں کو واپس بھیجا جائے۔ بازیاب ہونے والی دونوں اطراف کی اکثریتی عورتوں نے واپس جانے سے انکار کر دیا۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ انھیں اب ان کے گھر والے قبول نہیں کریں گے۔ لہٰذا دونوں اطراف کی بیشتر خواتین نے واپس گھروں کو جانے سے انکار کر دیا۔
جسڑ سے ایک طرف نارووال جنکشن ہے اور جسڑ خود بھی تقسیم سے پہلے ایک جنکشن تھا۔ یہاں سے ایک لائن سیدھا چک امرو جاتی ہے اور دوسری لائن ڈیرہ نانک صاحب سے ہوتے ہوئے گرداس پور جاتی تھی۔
جسڑ کا نام سردار بھگت ہرپال سنگھ جسڑ کے نام پر ہے۔ پہلے لاہور سے صبح ایک ٹرین 13 up چک امرو جاتی تھی اور وہی ٹرین 14 ڈوان کے نام سے واپس شام میں لاہور آتی تھی مگر غالباً 1922 سے نارووال تک چک امرو برانچ لائن بند ہے۔
جسڑ سے گرداس پور جانے والی ریل جسڑ سے مڑتے ہی راوی پر سے گزرتی تھی۔ ایک زمانے میں راوی پر دو منزلہ پل بنا ہوا تھا۔ نیچے سے ٹرین گزرتی تھی اور اوپر سڑک بنی ہوئی تھی لیکن 1965 کی جنگ میں پاکستان نے خود اس پل کو اڑا دیا کیوں کہ اس جانب سے بھی بھارت کے حملے کا خطرہ تھا۔ وہ الگ بات ہے کہ بھارت نے جسڑ کی جانب سے حملہ کیا ہی نہیں تھا۔ حملہ چونڈہ اور لاہور کی طرف سے ہوا یا پھر شاید پل اڑا دینے کی وجہ سے بھارت جسڑ کی طرف سے حملہ نہیں کر سکا۔
1965 کی جنگ میں جسڑ محاذ پر موجود ملک مبشر احمد اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ
"جسڑ پل نارووال کے قریب عین بارڈر پر دریائے راوی پر واقع ہے۔ دوسری طرف انڈیا کا شہر ڈیرہ نانک ہے۔ آزادی سے پہلے ریل اور سڑک دونوں اس پل سے گزرتی تھیں۔ بعد میں دونوں متروک ہو گئیں۔ 65 کی جنگ میں اس پل کا ایک ستون بارود سے اڑا دیا گیا تھا لیکن سٹیل سے بنا پل اس قدر مضبوط اور بھاری تھا کہ بجائے اڑنے کے ایک وی کی شکل میں ستون کے بقیہ حصے پر ٹک گیا تھا یوں کہ اوپر سے ہلکی ٹریفک بآسانی گزر سکتی تھی۔ بھاری ٹریفک کو گزارنے کا تجربہ نہیں کیا گیا لیکن میرے خیال ہے کہ چند ایک ٹینک تو آہستہ آہستہ چلا کر گزارے جا سکتے تھے۔ اس پل کی دوسری طرف چند مربع میل کا علاقہ پاکستان میں تھا۔ بارڈر پر تو رینجز تعینات تھے، پل فوج کی زیر نگرانی تھا۔ کمپنی کی ایک پلاٹون پل کے قریب پل کے دوسرے کنارے پر تعینات تھی اور باقی کمپنی پل کے اس طرف۔ دریا کے دونوں طرف کا علاقہ جنگلی گھاس سے ڈھکا ہوا تھا۔ پل کے عین نیچے کچھ جگہ صاف رکھی گئی تھی جہاں رہائشی ٹینٹ اور لنگر کی جگہ تھی۔"

پٹرول پمپ پر چند سیکنڈ کی توجہ آپ کو بڑی پریشانی سے بچا سکتی ہے۔زیادہ تر لوگ پٹرول ڈلواتے وقت صرف رقم، لیٹرز یا میٹر کا ...
01/06/2026

پٹرول پمپ پر چند سیکنڈ کی توجہ آپ کو بڑی پریشانی سے بچا سکتی ہے۔
زیادہ تر لوگ پٹرول ڈلواتے وقت صرف رقم، لیٹرز یا میٹر کا زیرو (0) چیک کرتے ہیں، لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ ایندھن کے معیار کی جانچ صرف اسکرین پر نظر آنے والے کسی ایک نمبر سے نہیں کی جا سکتی۔
لیکن پھر بھی سکرین پر موجود Density کی ریڈنگ ضرور دیکھیں کتنی آرہی ہے۔

ماہرین کے مطابق بہتر طریقہ یہ ہے کہ معروف اور مصدقہ پٹرول پمپ استعمال کیے جائیں، گاڑی کی اوسط (Mileage) پر نظر رکھی جائے اور اگر انجن کی کارکردگی اچانک متاثر ہونے لگے تو ایندھن کا معیار چیک کروایا جائے۔

چھوٹی سی احتیاط آپ کے انجن کو مہنگی مرمت سے بچا سکتی ہے۔

آپ پٹرول ڈلواتے وقت Density ریڈنگ بھی دیکھتے ہیں؟؟

゚viralシfypシ゚viralシalシ ゚ ゚

Address

Lahore Cantt
Lahore
54810

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Youtube Permanent Subscribers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Youtube Permanent Subscribers:

Shortcuts

Share