Law and Lawyers

Law and Lawyers My basic purpose is to provide legal assistance and consultancy with the active assistance social media

18/02/2026
23/01/2026

زبردستی کا ولی 😂
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھا ۔
ایک دن بادشاہ کا بہترین گھوڑا اصطبل سے بھاگ گیا ۔
بادشاہ نے سپاہیوں کو گھوڑا تلاشنے کا حکم دیا ۔
سپاہی گھوڑے کو تلاش کرتے کرتے جنگل میں پہنچ گئے ۔
وہاں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا لیکن سپاہیوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے
انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہاں جنگل میں کوئی گھوڑا دیکھا ہے ؟
جواب ندارد ۔
انہوں نے کچھ دیر رک پھر سوال کیا ۔
دوسری جانب سے مکمل خاموشی ۔
سپاہیوں نے جھنجھلا کر تیسری مرتبہ پھر پوچھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اس شخص نے دائیں جانب سلام پھیرا ۔
سپاہی یہ سمجھے ہمیں اشارے سے بتارہا ہے کہ اس جانب دیکھ لو ۔
وہ دائیں جانب گئے تو گھوڑا مل گیا ۔
سپاہی خوش ہوگئے اور انہوں نے اپنی طرف سے اندازہ لگایا کہ یہ شخص کوئی پہنچا ہوا بزرگ ہے جس نے بغیر دیکھے مراقبہ کرکے ہمیں بتایا کہ گھوڑا جنگل میں دائیں جانب گیا ہے 🤔 ۔
کچھ عرصہ مزید گزرا بادشاہ کے سونے کے برتن محل سے چوری ہونا شروع ہوگئے ۔
بادشاہ نے پھر سپاہیوں کی دوڑ لگوائی کہ برتن تلاش کرکے لائیں ۔ اگر ناکامی ہوئی تو سخت سزا ملے گی ۔
سپاہی پریشان ۔
اچانک ایک سپاہی کو جنگل والا آدمی یاد آگیا جس نے گھڑا ڈھونڈنے میں مدد کی تھی ۔
اس نے بادشاہ کو اس شخص سے متعلق بتایا کہ وہ کوئی بہت بڑا ولی ہے اس نے گھوڑے سے متعلق بھی ہماری راہ نمائی کی تھی ۔ اگر وہ چاہے تو آپ کے برتن بھی ڈھونڈ کر دے سکتا ہے ۔
بادشاہ نے اسے پیش کرنے کا حکم دیا
سپاہی اسے دربار میں لے آئے ۔
بادشاہ نے برتنوں کی چوری سے متعلق بتایا اور اسے حکم دیا کہ وہ برتنوں سے متعلق بھی بتائے کہ برتن کون چوری کررہا ہے ؟
اس نے بڑا کہا بادشاہ سے کہ حضور آپکے سپاہیوں کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے میں کوئی ولی نہیں ہوں ایک عام سا آدمی ہوں ۔
سپاہیوں نے اصرار کیا کہ نہیں جناب یہ اپنی ولایت چھپا رہا ہے ۔ اس نے جنگل میں ہماری مدد کی تھی ۔
بادشاہ تو پھر بادشاہ ہوتا ہے اسنے اسے وارننگ دے دی کہ اگر کل صبح تک تم نے برتنوں کی چوری سے متعلق نہ بتایا تو تمہارا سر قلم 😅
وہ شخص بڑا پریشان ہوا
موت کے خوف سے رات کے وقت اسنے اللہ تعالیٰ سے مناجات شروع کردیں کہ یا اللہ مجھ پر رحم فرما اور چور کو سامنے لے آ ۔
چور اصل میں محل کا ایک ملازم تھا ۔ اسنے سوچا کہ دیکھوں تو سہی کہ جس ولی کے ذمے بادشاہ نے چور کو پکڑنے کا کام لگایا وہ کیا کررہا ہے ۔
اسنے دیکھا کہ ولی صاحب اللہ تعالیٰ سے مناجات کررہے ہیں ۔ اسکے دل میں ڈر پیدا ہوگیا کہ یہ شخص مناجات کے ذریعے چور کا پتہ نہ لگالے ۔
وہ فوراً جاکر مناجات کرتے شخص کے پاؤں میں گر گیا کہ محترم آپ اللہ کے ولی ہیں ولیوں کے دل نرم ہوتے ہیں آپ میرے متعلق بادشاہ کو کچھ مت بتائیے گا ۔ برتن میں نے ہی چوری کیے ہیں ۔
اس غیبی مدد کے ملتے ہی ولی صاحب شیر ہوگئے اور چور کا کان پکڑ کر پوچھا کہ بتاؤ کہاں چھپائے ہیں برتن ؟
چور نے بتایا کہ قبرستان میں بوڑھے درخت کے نیچے دفن کیے ہوئے ہیں ۔
صبح ہوتے ہی بادشاہ نے ولی کو دربار میں طلب کیا اور برتنوں سے متعلق پوچھا ۔
ولی صاحب نے بادشاہ کو بتادیا کہ جناب آپکے برتن فلاں جگہ پر دفن ہیں ۔
بادشاہ نے سپاہی بھیجے اور واقعی کچھ دیر کے بعد سپاہی برتن تلاش کرکے لے آئے ۔
بادشاہ نے خوش ہوکر اس شخص کو شاہی ولی کا خطاب دے دیا اور اسے کہا کہ آج سے تم یہیں محل میں رہو گے ۔
شاہی ولی بڑا پریشان ہوا کہ ابھی تو اتفاقاً یہ معاملہ حل ہوگیا ہے آگے جاکر لازمی بادشاہ کو معلوم ہو جائے گا کہ میرے پلے کچھ نہیں ہے ۔
اسی پریشانی میں دن گزرتے رہے ۔
پھر ایک دن بادشاہ کے ہاں پڑوسی ملک کا بادشاہ مہمان ہوا اور بادشاہ نے اسکے سامنے اپنے شاہی ولی کا ذکر کیا اور اسکی بڑی تعریفیں کیں ۔
پڑوسی ملک کا بادشاہ بڑا متاثر ہوا اور اس سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ۔
بادشاہ نے شاہی ولی کو طلب کرلیا ۔
پڑوسی ملک کے بادشاہ نے ٹہلتے ہوئے شاہی ولی سے بطور امتحان پوچھا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہم نے کیا چیز پی ہے؟
شاہی ولی صاحب بڑے پریشان ہوئے کہ آج تو کام سے گئے ۔
ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوگئے اور دل ہی دل میں خدا کو یاد کرنا شروع کردیا ۔
پڑوسی ملک کے بادشاہ صاحب ٹہل رہے ہیں اور جواب کا انتظار کر رہے ہیں ۔
اچانک شاہی ولی صاحب نے دیکھا کہ ٹہلتے ٹہلتے پڑوسی ملک کے بادشاہ کا پاؤں سُلگتے ہوئے سگار پر پڑنے لگا ہے ۔
شاہی ولی نے زور زور سے آواز لگائی
حضور سگار ۔ حضور سگار ۔
ولی صاحب نے تو سگار کی آواز اس لیے لگائی کہ بادشاہ کا پاؤں سُلگتے ہوئے سگار پر آکر جل نہ جائے ۔
اور بادشاہ یہ سمجھا کہ اسنے میرے سوال کا جواب دیا ہے ۔ کیونکہ کچھ دیر پہلے دونوں بادشاہ باتیں کرتے ہوئے سگار سے شغل کررہے تھے ۔
بادشاہ نے خوش ہوکر ولی صاحب کو گلے لگایا اور داد دی ۔
پڑوسی ملک کے بادشاہ نے بھی خوش ہوکر اپنے گلے کا ہار تحفے کے طور پر شاہی ولی صاحب کو عنایت کردیا ۔
ولی صاحب اس زبردست اتفاق پر خوش بھی اور پریشان بھی ۔
پریشانی اس بات کی کہ آج تو بچ گئے آئندہ پتہ نہیں کس طرح کے امتحان کا سامنا کرنا پڑے ۔
شاہی ولی صاحب کا ایک ایک دن بڑی پریشانی اور ڈپریشن میں گزرنے لگا کہ کسی بھی وقت بادشاہ کی طرف سے نئی فرمائش نہ آجائے ۔
اسی ڈپریشن میں ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ میں بادشاہ کو بھرے دربار میں تھپڑ مارتا ہوں ۔
یا تو بادشاہ اس بد تمیزی پر مجھے فورا قتل کرنے کا حکم دے دے گا اور یہ روز روز مرنے سے بہتر ہے ۔
یا مجھے اپنے دربار سے نکال دے گا ۔
ولی صاحب گئے اور جاکر بادشاہ کو بھرے دربار میں تھپڑ رسید کردیا ۔
بادشاہ کا تاج 👑 سر سے اتر کر دور جا پڑا ۔
بادشاہ اور درباری حیران کہ یہ کیا ہوا ۔
حیرانی کے لمحات گزرے تو بادشاہ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس گستاخ کو پکڑو اور سر قلم کردیا ۔
اتنے میں وزیر جو بادشاہ کا تاج اٹھانے کے لیے جھکا ہوا تھا کی چیختی ہوئی آواز آئی
بادشاہ سلامت ! 🐍 سانپ
بادشاہ وزیر کی طرف متوجہ ہوا تو دیکھا کہ تاج میں سانپ لپٹا ہوا ہے ۔
غصے کی جگہ خوشی نے لے لی ۔
بادشاہ سمجھا کہ ولی نے اصل میں مجھے تھپڑ نہیں مارا بلکہ تاج گرانے کے لیے ہاتھ چلایا تھا تاکہ تاج میں بیٹھا ہوا سانپ مجھے نقصان نہ پہنچائے ۔
بادشاہ نے خوش ہوکر ولی صاحب کو انعام و اکرام سے نوازا اور ولی صاحب اس اتفاق پر مزید پریشان کہ یہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے
مزید کچھ عرصہ گزرا عید قریب آگئی بادشاہ نے سلطنت میں منادی کروادی کہ عید کی نماز شاہی ولی صاحب پڑھائیں گے ۔
ایک بڑے میدان میں انتظامات شروع ہوگئے ۔
شرکاء کو گرمی سے بچانے کے لیے ایک عارضی چھت میدان پر دے دی گئی ۔
عید کا دن آپہنچا ۔
ولی صاحب نے منصوبہ بنایا کہ نماز کے دوران جب تمام لوگ سجدے میں ہوں گے تو میں بھاگ جاؤں گا ۔
نماز شروع ہوگئی
ولی صاحب سجدے میں گئے
پیچھے تمام لوگ بھی سجدے میں چلے گئے
ولی صاحب نے نماز چھوڑی اور بھاگ کھڑے ہوئے
لوگوں کو سجدے میں کافی دیر گزر گئی پریشانی لاحق ہوگئی کہ کہیں حضرت ولی صاحب انتقال تو نہیں کرگئے ۔
پہلی صف میں سے کچھ لوگوں نے سر اٹھا کر دیکھا تو مصلی امامت خالی تھا اور ولی صاحب دور ننگے پاؤں بھاگتے ہوئے دکھائی دیے ۔
لوگوں نے سوچا کہ لازمی اس میں کوئی حکمت ہے انہوں نے بھی ننگے پاؤں ولی صاحب کے پیچھے دوڑ لگادی ۔
ولی صاحب نے دیکھا کہ لوگ پیچھے بھاگے آرہے ہیں
ولی صاحب نے بھی رفتار بڑھا دی ۔
جیسے ہی لوگ عید گاہ سے باہر نکلے تو عید گاہ پر عارضی چھت جو ڈالی گئی تھی وہ دھڑام کی آواز کے ساتھ زمین پر آگری ۔
لوگوں نے سوچا کہ حضرت صاحب کو پہلے سے چھت گرنے کا علم ہوگیا تھا اسی لیے وہ نماز توڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور انکے پیچھے بھاگنے سے ہماری بھی جان بچ گئی ۔
کچھ ہی دیر میں لوگ ولی صاحب تک پہنچ گئے اور انکو کندھوں پر اٹھالیا ۔
شاہی ولی صاحب نے سوچا کہ شاید میری قسمت میں شاہی ولی بن کر رہنا لکھا ہوا ہے تو اسی لیے انہوں نے قسمت کا لکھا سمجھ کر اسے قبول کرلیا اور دوبارہ اس عہدے سے بھاگنے کی کوشش نہیں کی
😂😅😂

22/01/2026

عدالتوں اور کچہریوں میں آپ کو ہمیشہ دو قسم کے لوگ ملتے ہیں۔

ایک وہ جو فون پر سب کو بتاتے پھرتے ہیں:
“میں عدالت میں ہوں”
جیسے بار بار عدالت آنا کوئی فخر کی بات ہو۔

اور دوسرے وہ…
جو نظریں چراتے ہیں،
کسی سے بات نہیں کرتے،
کوشش کرتے ہیں کہ کوئی انہیں پہچان نہ لے۔
کیونکہ ان کے لیے عدالت آنا ایک شرمندگی بن جاتا ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ:
عدالت نہ فخر کی جگہ ہے، نہ شرمندگی کی۔
یہ وہ جگہ ہے جہاں بگڑے ہوئے معاملات سلجھتے ہیں،
جہاں کردار نہیں، حق دیکھا جاتا ہے۔

عدالت میں ہونا آپ کو نہیں پہچانتا—
آپ کا رویہ آپ کی پہچان بنتا ہے۔

اگلی بار جب کسی کو عدالت میں دیکھیں،
تو یاد رکھیں…
ہر شخص اپنی خاموش جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔

💭

20/01/2026

درخواست گزاران/مدعا علیہان کا مؤقف تھا کہ ڈونر ان کا نانا تھا اور اس نے اپنی زندگی میں باقاعدہ طور پر ہبہ (گفٹ) کر دیا تھا۔ ان کا مزید دعویٰ تھا کہ مدعیان نے پہلے ریونیو فورم پر متنازعہ انتقال (میوٹیشن) کو چیلنج کیا جو مسترد ہو گیا، اس لیے بعد میں دائر کیا گیا دیوانی دعویٰ اصولِ قضیۂ مختتم (Res Judicata) کے تحت ناقابلِ سماعت اور مدتِ معیاد سے باہر ہے۔
اس کے برعکس مدعیان کا مؤقف تھا کہ متنازعہ انتقال کے وقت ڈونر پہلے ہی شدید بیماری کے باعث وفات پا چکا تھا، اور اس کی درست تاریخِ وفات سرکاری انکوائری سے ثابت ہو چکی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ریونیو حکام کے فیصلے دیوانی عدالت میں دعویٰ دائر کرنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے، خصوصاً جب معاملہ دھوکہ دہی (Fraud) سے متعلق ہو، کیونکہ دھوکہ دہی کے معاملات میں ریونیو حکام کو اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ ریونیو کارروائیاں عموماً خلاصہ نوعیت کی ہوتی ہیں اور ان میں باقاعدہ شہادت ریکارڈ نہیں کی جاتی۔
عدالت نے واضح کیا کہ سیکشن 11 ضابطہ دیوانی (CPC) صرف اسی صورت لاگو ہوتا ہے جب سابقہ اور بعد کی دونوں کارروائیاں بااختیار عدالتوں میں ہوں۔ چونکہ ریونیو فورم عدالت کے زمرے میں نہیں آتا، اس لیے اصولِ قضیۂ مختتم لاگو نہیں ہوتا۔
مزید یہ بھی قرار دیا گیا کہ محض انتقال (Mutation) کسی قسم کا حقِ ملکیت پیدا نہیں کرتا جب تک یہ کسی جائز اور ثابت شدہ لین دین پر مبنی نہ ہو، خاص طور پر جب معاملہ ہبہ کا ہو جو قانونی ورثاء کو محروم کرتا ہو۔ موجودہ کیس میں نہ تو ہبہ کی پیشکش اور قبولیت کا وقت بیان کیا گیا اور نہ ہی کوئی گواہ پیش کیا گیا، اس لیے ہبہ ثابت نہ ہو سکا۔
نتیجتاً، متنازعہ انتقال قانونی حیثیت کا حامل نہیں سمجھا گیا۔

2024 CLC 1451

17/01/2026

پنجاب پراپرٹی اونرشپ ایکٹ ترمیم کے بعد
پنجاب بھر کے مکینوں کے لیے جائیداد کے تحفظ کے حوالے سے حکومت پنجاب کی جانب سے انتہائی اہم قانونی تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔ ان ترامیم کا مقصد برسوں سے عدالتوں میں لٹکے ہوئے جائیداد کے تنازعات کو ختم کرنا اور قبضہ مافیا کے خلاف گھیرا تنگ کرنا ہے۔ اب ریٹائرڈ ججز کے بجائے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز پر مشتمل ٹربیونلز مقرر کیے جائیں گے، جو نہ صرف انصاف کی فراہمی کو شفاف بنائیں گے بلکہ عدالتی وقار کو بھی برقرار رکھیں گے۔ اس نئے قانون کی سب سے اہم بات فیصلے کی مدت ہے؛ اب جائیداد کے قبضے یا حقوق سے متعلق کسی بھی درخواست کا فیصلہ ٹربیونل ہر صورت 60 سے 90 دنوں کے اندر کرنے کا پابند ہوگا۔ یہ اقدام ان شہریوں کے لیے بڑی خوشخبری ہے جو دہائیوں سے اپنے ہی حق کے لیے کچہریوں کے چکر کاٹ رہے تھے۔
اس قانون کے تحت عملدرآمد کا طریقہ کار انتہائی سخت اور موثر رکھا گیا ہے۔ ٹربیونل کا فیصلہ محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہوگا، بلکہ فیصلے کے فوراً بعد متعلقہ ایس ایچ او اور ضلعی انتظامیہ (ڈی سی اور اے سی) پابند ہوں گے کہ وہ پولیس کی موجودگی میں موقع پر جا کر جائیداد کا قبضہ مالک کے حوالے کریں اور ریونیو ریکارڈ میں فوری درستگی یقینی بنائیں۔ اگر کوئی فریق اس عمل میں رکاوٹ ڈالے گا یا مزاحمت کرے گا، تو ٹربیونل کو اسے موقع پر سزا اور بھاری جرمانہ کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔ جہاں تک سول عدالتوں میں پہلے سے چلنے والے کیسز کا تعلق ہے، تو سول جج صاحبان کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے کیس کو جہاں حق واضح ہو یا جہاں مدعی کو ہراساں کیا جا رہا ہو، فوری فیصلے کے لیے ٹربیونل کو منتقل کر سکتے ہیں۔ اس قانون کا مقصد سیاست سے بالاتر ہو کر خالصتاً عوامی مسائل کا حل اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔ اب کوئی بھی شخص دھوکہ دہی یا اثر و رسوخ کے زور پر کسی کی وراثت یا خریدی ہوئی زمین پر قابض نہیں رہ سکے گا۔
,ملک عامر ندیم کھوکھر ایڈووکیٹ ھائی کورٹ 03013107621

16/01/2026

Ya Allah Tujhe Tere Mehboob ki Meraj ka wasta Hamen 2026 me Madina Pak hazri Naseeb Farma. Aameen

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law and Lawyers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Law and Lawyers:

Share