17/01/2026
پنجاب پراپرٹی اونرشپ ایکٹ ترمیم کے بعد
پنجاب بھر کے مکینوں کے لیے جائیداد کے تحفظ کے حوالے سے حکومت پنجاب کی جانب سے انتہائی اہم قانونی تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔ ان ترامیم کا مقصد برسوں سے عدالتوں میں لٹکے ہوئے جائیداد کے تنازعات کو ختم کرنا اور قبضہ مافیا کے خلاف گھیرا تنگ کرنا ہے۔ اب ریٹائرڈ ججز کے بجائے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز پر مشتمل ٹربیونلز مقرر کیے جائیں گے، جو نہ صرف انصاف کی فراہمی کو شفاف بنائیں گے بلکہ عدالتی وقار کو بھی برقرار رکھیں گے۔ اس نئے قانون کی سب سے اہم بات فیصلے کی مدت ہے؛ اب جائیداد کے قبضے یا حقوق سے متعلق کسی بھی درخواست کا فیصلہ ٹربیونل ہر صورت 60 سے 90 دنوں کے اندر کرنے کا پابند ہوگا۔ یہ اقدام ان شہریوں کے لیے بڑی خوشخبری ہے جو دہائیوں سے اپنے ہی حق کے لیے کچہریوں کے چکر کاٹ رہے تھے۔
اس قانون کے تحت عملدرآمد کا طریقہ کار انتہائی سخت اور موثر رکھا گیا ہے۔ ٹربیونل کا فیصلہ محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہوگا، بلکہ فیصلے کے فوراً بعد متعلقہ ایس ایچ او اور ضلعی انتظامیہ (ڈی سی اور اے سی) پابند ہوں گے کہ وہ پولیس کی موجودگی میں موقع پر جا کر جائیداد کا قبضہ مالک کے حوالے کریں اور ریونیو ریکارڈ میں فوری درستگی یقینی بنائیں۔ اگر کوئی فریق اس عمل میں رکاوٹ ڈالے گا یا مزاحمت کرے گا، تو ٹربیونل کو اسے موقع پر سزا اور بھاری جرمانہ کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔ جہاں تک سول عدالتوں میں پہلے سے چلنے والے کیسز کا تعلق ہے، تو سول جج صاحبان کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے کیس کو جہاں حق واضح ہو یا جہاں مدعی کو ہراساں کیا جا رہا ہو، فوری فیصلے کے لیے ٹربیونل کو منتقل کر سکتے ہیں۔ اس قانون کا مقصد سیاست سے بالاتر ہو کر خالصتاً عوامی مسائل کا حل اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔ اب کوئی بھی شخص دھوکہ دہی یا اثر و رسوخ کے زور پر کسی کی وراثت یا خریدی ہوئی زمین پر قابض نہیں رہ سکے گا۔
,ملک عامر ندیم کھوکھر ایڈووکیٹ ھائی کورٹ 03013107621