09/10/2020
پچھلے چالیس سال سے ہونڈا 125 ایک ہی ڈیزائن اور ایک ہی انجن بنا رہی ہے جس کی کوالٹی دن بدن گرتی جاتی ہے اور قیمت ہر سال بڑھتی جاتی ہے..
ہر سال ٹینکی ٹاپے پر سٹیکر کا ڈیزائن تبدیل کر کے دو ہزار روپے بڑھا دئیے جاتے ہیں اور اسے نیا ماڈل قرار دے دیا جاتا ہے یوں چالیس سال میں اسی ہزار روپے بڑھ چکے ہیں. وہی موٹرسائیکل جو چالیس ہزار روپے میں ملتی تھی آج ایک لاکھ پچیس ہزار روپے کی ہو چکی ہے جبکہ کوالٹی نہایت خراب ہے. بہت ہی ہلکا میٹیریل استعمال کیا جاتا ہے موٹرسائیکل کا جسم تو وہی رہتا لیکن وزن گھٹتا جاتا ہے. پوائنٹ گاڑی کا وزن، سی ڈی آئی گاڑی کا وزن اور 2021 ماڈل یورو کے وزن میں ٹھیک ٹھاک فرق ہے.
وزن گھٹتا ہے تو سپیڈ بھی بڑھ جاتی لیکن روڈ گرپ ختم ہو جاتی ہے، موٹرسائیکل ستر اسی کی رفتار پر جا کر وائیبریٹ کرنے لگتی ہے اور بندہ ہوا میں اڑتا ہے. پاکستان میں بڑی کمپنیوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں، سٹینڈرڈ اور کوالٹی پیسے دے کر پاس کروا لی جاتی ہے اٹلس ہونڈا کے شیرازی ٹریڈنگ نے بھی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے.
ایک لاکھ پچیس ہزار روپے لینے کے بعد بھی موٹرسائیکل میں الائے رم نہیں ہیں، ڈسک بریک نہیں ہے، فیول گیج نہیں ہے، گئیر انڈیکیٹر نہیں ہے، ڈپر اور ہیزرڈ نہیں ہے. سیٹ نہایت ہی بےکار ہے آدھا گھنٹہ سفر کریں اور تھک جائیں، اگلے. پچھلے شاک نہایت غیر آرام دہ. سائلنسر کا شور بہت زیادہ ہے جس پر اٹھارہ سال کے لڑکے ہی خوش ہو سکتے ہیں کوئی سیریس آدمی یہ موٹرسائیکل نہیں چلا سکتا.
قمر نقیب خان