03/08/2025
ٹرمپ آگ بگولہ کیوں؟
یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ٹرمپ سیاستدان ہے اور اسکی بھی فالونگ ہے جسکو خوش رکھنا اسکی سیاسی ضرورت ہے۔ اس نے اپنے ووٹرز دو وعدے کیے تھے۔ ایک امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیگا اور دوسرا دنیا میں جنگیں روکے گا۔
وہ روس یوکرین جنگ نہیں روک سکا۔ مڈل ایسٹ میں بھی کامیاب نہیں ہوا۔ لیکن انڈیا پاکستان جنگ میں اس نے مرکزی کردار ادا کیا اور یاد رہے کہ یہ دونوں ممالک دنیا کی دو بڑی فوجی قوتیں ہونے کے ساتھ ساتھ ایٹمی ممالک بھی ہیں۔ ٹرمپ نے فوراً اپنی قوم کو بتایا کہ میں نے ایک ایٹمی جنگ رکوا کر دنیا کو تباہی سے بچا لیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بات کم و بیش 30 بار دہرائی۔
پاکستان معاملہ سمجھ گیا۔ نہ صرف ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا بلکہ اس کو نوبل پیس پرائز کے لیے بھی نامزد کر دیا۔ یعنی اسکو ایٹمی جنگ روکنے کا پورا کریڈٹ دے دیا۔ انڈیا اس کو سمجھ نہ سکا یا کسی زعم میں رہا۔ باقاعدہ ٹرمپ کا مذاق اڑایا گیا۔ مودی نے نہ صرف یہ کہ ٹرمپ کی اس بات کو مسلسل اگنور کیا بلکہ پارلیمنٹ کے سیشن میں مودی نے اپوزیشن کے زبردست دباؤ پر ٹرمپ کا نام لیے بغیر یہ بھی کہہ دیا کہ "کسی ملک کے سربراہ نے مجھے جنگ روکنے کا نہیں کہا تھا۔"
یہ ٹرمپ کو جھوٹا ثابت کرتی تھی اور اسکی اکلوتی بڑی ایچیومنٹ پر پانی پھیر رہی تھی۔ لہذا وہ آگ بگولہ ہوگیا اور اس نے باقاعدہ ٹویٹ میں لکھ دیا کہ "انڈیا کو تو مجھے شکریہ بولنے کی توفیق بھی نہیں ہوئی۔" پھر اس نے انڈیا کو رگیدنے کے لیے اعلانیہ دھمکی دی کہ "اب روس سے تیل خرید کر دیکھاؤ"۔ انڈیا کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور روس سے فوراً تجارت روک دی جس پر اپوزیشن مودی کے مزید لتے لینے لگی کہ یہ ہے تمہاری اوقات؟
دوسری طرف پاکستان نے موقعے کا بھرپور فائدہ اٹھایا نہ صرف انڈیا سے 10٪ کم ٹیرف لگوایا بلکہ امریکہ کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر بھی تیار کر لیا۔ پاکستان میں تیل کی ایکسپلوریشن میں سرمایہ کاری کا اعلان کرتے بھی ٹرمپ انڈیا پر طنز کرنا نہیں بھولا کہ "ہوسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں انڈیا پاکستان سے تیل خریدے۔" 😄