Zubair Khan

Zubair Khan I'm Trying to be the best version of Myself 😍❤️

02/04/2026

اگر تم آئی فون کو سامنے جیب میں رکھنے والی ٹچی حرکت نہیں کرتے ـ
کسی اچھی جگہ کھانا کھا کر اُس کے اسٹیٹس نہیں لگاتے ـ
جہاں دل نہ مانے وہاں منافقت کے بجائے صاف الگ رائے رکھتے ہو ـ
انسان کو کپڑوں سے نہیں بلکہ کردار سے پہچانتے ہو
بات کسی انسان کے بھلائی کی ہو تو بغیر لالچ کے مشورہ دیتے ہوـ
تو میری جان… تم جو بھی ہو،

ہم دوست ہیں ❤

02/04/2026

زندگی میں ہر چیز پر یقین نہ کرو…
کبھی کبھار زمین بھی prank کر دیتی ہے! 😂😅

01/04/2026

دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں 😄❌🚫

01/04/2026

غَیر ضَروری تَعریفیں تھوڑی کَم کِیا کَریں
بُرے لوگوں کو احساس ہونے دیں کہ وَہ بُرے ہیں، مُنافِقَت کی ضَرورت نہیں۔

27/02/2024

پیج بھی فالوو کرتے جاٸیں 😗

محبت ہو تو کہہ دینا یہاں اب ہم نہیں رہتے ✨
06/04/2023

محبت ہو تو کہہ دینا یہاں اب ہم نہیں رہتے ✨

Sir Hisham Sarwar ❤️A Sentence of Worth of Millions of Dollars 💵   💙🙏
29/10/2022

Sir Hisham Sarwar ❤️
A Sentence of Worth of Millions of Dollars 💵 💙🙏

Perfect 👌
06/10/2022

Perfect 👌

‏تم  اپنے  عہدِ  جنوں کی ساری خراب گھڑیاں سمیٹ لانا وہ چل پڑیں تو یہ مان جانا کہ ہم زمانوں کے کاریگر ہیں
02/10/2022

‏تم اپنے عہدِ جنوں کی ساری خراب گھڑیاں سمیٹ لانا
وہ چل پڑیں تو یہ مان جانا کہ ہم زمانوں کے کاریگر ہیں

رات کو سب نو ساڑھے نو بجے تک سو جایا کرتے تھے ، رات دیر تک جاگنےکو نحوست تصور کیا جاتا تھا ، صبح آذان کی آواز کانوں میں ...
17/09/2022

رات کو سب نو ساڑھے نو بجے تک سو جایا کرتے تھے ، رات دیر تک جاگنے
کو نحوست تصور کیا جاتا تھا ، صبح آذان کی آواز کانوں میں گونجتی تھی اور
اُس کے بعد گھر یا ہمسایوں کے مرغے أذان دیا کرتے تھے ، گھر میں درخت
موجود ہوتا تھا اور صبح صبح چڑیوں کی آواز کانوں کو سنائی دیتی تھی ۔
گھر کے مرد نماز پڑھنے چلے جاتے تھے اور یوں دن کا آغاز بہت جلدی ہو
جاتا تھا ۔
دوپہر میں اکثر گھروں میں روٹی بنائی جاتی تھی اور ساتھ اناردانہ ، پودینہ ، ٹماٹر
اور پیاز کی چٹنی بنائی جاتی تھی ، اُس کے بعد ظہر کا اہتمام کیا جاتا تھا اور
پھر قیلولہ کیا جاتا تھا ، گھر میں دادا دادی کے وجود کو رحمت سمجھا جاتا تھا
اور اُن کا کہا ہوا حرفِ آخر ہوتا تھا ، محلے داروں کے دُکھ سُکھ سانجھے ہوتے
تھے اور کسی بارات یا فوتگی پہ اتحاد کا جذبہ دیکھنے کے قابل ہوتا تھا ۔
نا کوئی بیرا ہوتا تھا اور نا ہی شادی ہال ، محلے کے تمام لوگ مل کر شادی
کی ساری تیاریاں کرتے تھے اور فوتگی پہ ہمسائے بھی کئی کئی دن چولہا نہیں
جلاتے تھے ۔
پھر🧡🍁🍂🧡
دیواریں اونچی ہونا شروع ہوئیں ، درخت ختم ہوئے ، پرندے اڑ گئے ،
مرغ پولٹری فارمز میں چلے گئے اور دیواریں اتنی اونچی ہو گئیں کہ مسجد کے
لاؤڈ سپیکر کی آواز بھی کم آنے لگی ، ایک وقت میں کئی کھانے کھانے کی ٹیبل
کی زینت بننے لگے ، برکت ختم ہو گئی اور ایک گھر میں رہتے لوگ بھی ایک
دوسرے سے انجانے ہو گئے ، پرائیویسی کے نام پر علیحدہ علیحدہ رومز بن گئے
اور گھر میں رہتے ہوئے رابطے موبائلز پر ہونے لگے ، شادی ہالز اور مارکیز میں
ہونے لگیں اور محلے میں فوتگی پر منہ دکھانے کی رسم چل نکلی ۔
تیس سال کے اس سفر میں ہم نے سب کچھ کھو دیا ، پایا کچھ نہیں.

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zubair Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Zubair Khan:

Share