Digital Ninjas

Digital Ninjas Digital Ninjas: From creating a stellar websites to optimizing your digital presence across the Globe

05/02/2025

𝐘𝐨𝐮𝐫 𝐎𝐧𝐥𝐢𝐧𝐞 𝐩𝐫𝐞𝐬𝐞𝐧𝐜𝐞 𝐬𝐭𝐚𝐫𝐭𝐬 𝐢𝐧 𝐉𝐮𝐬𝐭 𝐑𝐬 𝟓𝟎𝟎.

Click below Whatsapp button to bring your business online.

‏فروری کے وسط میں وہ اچانک "گم" ہوگیا۔ وہ کوئی عام آدمی نہیں ، بلکہ عمان کے دارالحکومت مسقط میں قائم بڑے اسپتال "مستشفى ...
18/03/2024

‏فروری کے وسط میں وہ اچانک "گم" ہوگیا۔ وہ کوئی عام آدمی نہیں ، بلکہ عمان کے دارالحکومت مسقط میں قائم بڑے اسپتال "مستشفى خولة" کا مشہور ڈاکٹر تھا۔

کسی کو کچھ پتہ نہیں چلا کہ آخر اتنا مشہور ڈاکٹر کہاں چلا گیا۔ آسمان اچک گیا یا زمین کھا گئی۔ اہلخانہ کو بھی کچھ علم نہیں۔

لیکن اب انکشاف ہوا کہ یہ انسان نما فرشتہ دراصل وادیٔ شہادت روانہ ہوا تھا۔ کسی کو بھی بتائے بغیر وہ مصر پہنچا اور وہاں سے رفح بارڈ کراس کرکے یہ غزہ پہنچ گیا ، نہایت طویل اور کٹھن سفر کے بعد ۔

اس نے اب اپنی زندگی زخمیوں کے علاج کے لیے وقف کر دی۔ غزہ کے لوگوں کا مسیحا ، جسے وہاں کےبچے بوڑھے سب فرشتہ سمجھتے ہیں۔ ایک لمحہ رک کر تصور کیجئے ، ویل سیٹل لائف گزارنے والا عمان جیسے دولت مند ملک کی زندگی چھوڑ کر موت کی وادی کا رخ کرتا ہے۔ جہاں 354 ڈاکٹرز اور طبی عملہ اب تک شہید ہوچکا ہے۔

یہ عمان کے پلاسٹک سرجن ڈاکٹر ایمن السالمی ہیں۔ جو اپنے اسلامی اور انسانی فریضے کی پکار کے جواب میں غ.ز.ہ کے یورپی اسپتال (مستشفى الأوروبي) میں دن رات مصروف ہیں اور یومیہ 10 سے 11 آپریشن کر رہے ہیں۔

سلام ہے تجھے اے مسیحا ، اے انسانیت کے ماتھے کے جھومر

Copied

18/03/2024

موٹر وے پولیس میں گریڈ سات سے پندرہ تک کی بھرتیاں شروع۔ ملازمت کی تفصیلات اور درخواست کے مکمل طریقہ کار کی ویڈیو۔

‏ارسطو اپنے شاگرد سکندر کو کہا کرتا تھا کہ عورتوں سے دور رہا کرو۔ محل کی عورتوں نے ارسطو کے پیچھے ایک خوبصورت لڑکی لگا د...
14/03/2024

‏ارسطو اپنے شاگرد سکندر کو کہا کرتا تھا کہ عورتوں سے دور رہا کرو۔

محل کی عورتوں نے ارسطو کے پیچھے ایک خوبصورت لڑکی لگا دی ۔۔تاکہ اسے سبق سکھایا جائے اور وہ ان کے اور سکندر کے بیچ مداخلت نہ کرے

ایک دن اس لڑکی نے ارسطو سے فرمائش کی کہ اسے گھوڑے کی سواری کرنی ہے ، ارسطو گھوڑا بنا اور اس لڑکی نے سواری کی

اسی دوران سکندر کو اطلاع کر دی گئ کہ جو استاد آپ کو ہم سے روکتا ہے اسکی اپنی حالت ملاحظہ کی جائے

جب سکندر وہاں پہنچا اور پوچھا استاد جی یہ کیا ؟؟

ارسطو نے جواب دیا ۔۔اسی لئے تو تمہیں روکتا ہوں کہ یہ عورتیں مجھ جیسے فلسفی کو بھی گدھا بنا دیتی ہیں

Copied

13/03/2024

‏ہر دور میں یزید ہوتے ہیں
مُردہ یزید کو گالیاں دینا آسان ہے
زندہ یزید کو للکار پھر تُجھے پتا چلے گا کہ حُسینیت کِسے کہتے ہیں

12/03/2024

‏انتہائی اہم
سحری میں زیادہ پانی پینا آپ کے معدے میں سٹور نہیں ہو گا۔
یہ خاصیت صرف اونٹ میں ہوتی ہے لہذا پیٹ کو تربیلا ڈیم نہ بنائیں۔

کُچھ سائنسی طبیعت کے لوگ سحری میں تین پراٹھے صرف اس وجہ سے کھاتے ہیں کہ راکٹ کے فیول کی طرح پہلا پراٹھا ظہر تک چلے گا۔ پھر دوسرا پراٹھا آن ہوگا اور عصر تک چل جائے گا پھر تیسرا ایکٹیو ہو جائیگا اور مغرب تک پہنچا دیگا۔
حالانکہ حقیقت میں ایسی کوئی بات نہیں، جتنے مرضی پراٹھے کھا لیں معدے نے اکٹھے ہضم کر لینے ہیں اور دوپہر کو بھوک پھر بھی لگ جانی ہے۔لہذا انسانوں کی طرح کھایئں۔ معدے کو بھوک لگنے دیں۔

11/03/2024

‏*توبۃ النصوح💞*
نصوح ایک عورت نما آدمی تھا، باریک آواز، بغیر داڑھی اور نازک اندام مردوہ اپنے ظاہری شکل وصورت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زنانہ حمام میں عورتوں کا مساج کرتا اور میل اتارتا تھا، کوئی بھی اسکی حقیقت نہیں جانتا سبھی اس کو عورت سمجھتےتھے۔یہ طریقہ اسکے لئے ذریعہ معاش بھی تھا اور عورتوں کے جسم سے لذت بھی لیتا رہاکئی بار وجدان کے ملامت کرنے پر اس نے اس کام سے توبہ بھی کیا لیکن ہمیشہ توبہ توڑتا رہا.ایک دن بادشاہ کی بیٹی حمام گئی حمام اور مساج کرنے کے بعد پتہ چلا کہ اسکا گرانبھا گوھر (موتی یا ہیرا) کھوگیا ہےبادشاہ کی بیٹی نے
حکم دیا کہ سب کی تلاشی لی جائے۔سب کی تلاشی لی گئی ہیرا نہیں ملانصوح رسوائی کے ڈر کی وجہ سے ایک جگہ چھپ گیاجب اس نے دیکھا کہ شہزادی کی کنیزیں اسے ڈھونڈ رہی ہیںسچے دل سے خدا کو پکارا اور خدا کی درگاہ میں دل سے توبہ کی اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی بھی یہ کام نہیں کرے گا میری لاج رکھ۔اچانک باہر سے آواز آئی کہ نصوح کو چھوڑ دو ہیرا مل گیا،نصوح نم آنکھوں سے شہزادی سے رخصتی لے کر گھر آگیانصوح نے قدرت کا کرشمہ دیکھ لیا تھا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کام سے توبہ کردی۔کئی دنوں سے حمام نہ جانے پر ایک دن شہزادی نے بلاوا بھیجا کہ حمام آکر میرا مساج کرے لیکن نصوح نے بہانہ بنایا کہ میرے ہاتھ میں درد ہے میں مساج نہیں کرسکتا ہوںاس کے بعد کبھی حمام نہیں گیا۔نصوح نے دیکھا کہ اس شہر میں رہنا اس کے لئے مناسب نہیں ہے سبھی عورتیں اس کو چاہتی ہیں اور اس کے ہاتھ سے مساج لینا پسند کرتی ہیں۔
جتنا بھی غلط طریقے سے مال کمایا تھا سب غریبوں میں بانٹ دیا اور شہر سے نکل کر کئی میل دور ایک پہاڑی پر ڈیرہ ڈال کر عبادت خدا میں مشغول ہوگیا۔ایک دن اس نظر ایک بھینس پر پڑی جو اس کے قریب گھاس چر رہی تھی اس نے سوچا کہ یہ کسی چرواہے سے بھاگ کر یہاں آگئی ہے تب تک میں اس کی دیکھ بھال کر لیتا ہوں جب تک اس کا مالک نہ آئے،لہٰذا اس کی دیکھ بھال کرنے لگا کچھ دن بعد بھینس نے بچہ دیا اور نصوح اس کا دودھ استعمال کرنے لگا۔کچھ دن بعد ایک تجارتی قافلہ راستہ بھول کر ادھر آگیا جو سارے پیاس کی شدت سے نڈھال تھےانہوں نے نصوح سے پانی مانگانصوح نے سب کو دودھ پلایا اور سب کو سیراب کردیا،قافلے والوں نے نصوح سے شہر جانے کا راستہ پوچھانصوح نے انکو آسان اور نزدیکی راستہ دکھایاجانے سے پہلے تاجروں نے نصوح کو بہت سارا مال دیا۔نصوح نے ان پیسوں سے وہاں کنواں کھودوایا آہستہ آہستہ وہاں لوگ بسنے لگے اور عمارتیں بننے لگےوہاں کے لوگ نصوح کو بڑی عزت اور احترام سے دیکھتے تھے۔رفته رفته نصوح کا آوازه پادشاه تک پہنچا وہی بادشاہ جو اس شہزادی کے باپ تھے،بادشاہ کی دل میں نصوح سے ملنے کی بڑی اشتیاق پیدا ہوگئی ۔انہوں نے نصوح کو پیغام بھیجا کہ بادشاہ اس سے ملنا چاہتے ہیں مہربانی کرکے دربار تشریف لے آئے۔جب نصوح کو بادشاہ کا پیغام ملا انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا اور معذرت چاہی کہ مجھے بہت سارے کام ہیں میں نہیں آسکتا،بادشاہ کو بہت تعجب ہوا انہوں نے کہا کہ اگر نصوح نہیں آسکتے ہم خود اس کے پاس جائیں گے۔جب بادشاہ نصوح کے علاقے میں داخل ہوئے خدا کی طرف سے ملک الموت کو حکم ہوا کہ بادشاہ کی روح قبض کرلے۔اس زمانےکے رسم و رواج کے مطابق اور بادشاہ کو نصوح سے ملنے کی وجہ سے، لوگوں نے نصوح کو تخت پر بیٹھایا۔نصوح نے اپنے ملک میں عدل اور انصاف کا نظام قائم کیا اور اسی شہزادی سے شادی کرلی۔ایک دن نصوح تخت پر بیٹھ کر لوگوں کی داد ستانی کررہے تھےایک شخص وارد ہوا اور کہنے لگے کہ کچھ سال پہلے میری بھینس گم ہوگئی تھی آپ کی عدالت سے اپنی بھینس کا طلب گار ہوںنصوح نے کہا کہ تمہاری بھینس میرے پاس ہےآج جو کچھ میرے پاس ہے وہ تمہاری بھینس کی وجہ سے ہےنصوح نے حکم دیا کہ اس کے سارے مال اور دولت کا آدھا حصہ بھینس کے مالک کو دیا جائے۔وہ شخص خدا کے حکم سے کہنے لگا:ائے نصوح جان لو، نہ میں انسان ہوں اور نہ ہی وہ جانور بھینس ہےبلکہ ہم دو فرشتے ہیں تمہیں امتحان کرنے کے لئے آئے تھےیہ سارا مال اور دولت تمہارے سچے دل سے توبہ کرنے کا نتیجہ ہےیہ سب کچھ تمہیں مبارک ہو،وہ دونوں فرشتے نظروں سے غائب ہوگئے۔اسی وجہ سے سچے دل سے توبہ کرنے کو (توبه نصوح) کہتے ہیں

).کتاب: مثنوی معنوی، دفتر پنجم:انوار المجالس صفحہ 432۔)
اے اللہ رمضان المبارک کے مہینے میں تمہارے رحمت کے سارے دروازے کھلے ہوئے ہیں ہمیں بھی توبہ نصوح کرنے کی توفیق عطا فرما۔

Copied
‎ #موناسکندر

08/03/2024

ایک کہانی جو سقراط سے منسوب ہے :

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سقراط بازار کے ایک کونے میں ایک بڑے پتھر پر کھڑا ہو کر زندگی اور فلسفے کے اہم موضوعات پر عوامی تقریر کرتا تھا، بازار میں سے گزرتے ہوئے لوگ ہوں یا دکاندار وہ چند منٹ سقراط کا فلسفہ سنتے تھے اور پھر کان جھاڑ کر اپنے اپنے کام کاج کو چلے جاتے تھے، وہاں کوئی بھی ایسا نہیں ہوتا تھا جو اس کے فلسفے میں دلچسپی دکھائے اور سوال و جواب کا آغاز کرے۔

جب سقراط نے دیکھا کہ لوگ اس کے فلسفے پر زیادہ توجہ نہیں دے رہے ہیں تو سقراط نے کچھ مختلف کرنے کا فیصلہ کیا، اس نے سامعین کے سامنے اعلان کیا کہ وہ ایک بہت ہی دلچسپ کہانی سنانے والا ہے۔جن لوگوں نے اس کا اعلان سنا وہ بے تابی سے اس کی کہانی سننے کے لیے اس کے اردگرد جمع ہونا شروع ہوگئے ۔

اس نے اپنی کہانی اس طرح شروع کی:
ایک سوداگر تھا جس کے پاس فروخت کرنے کے لیے بہت سا سامان تھا، اس نے دوسرے بڑے شہر میں جا کر سارا سامان بیچنے کا فیصلہ کیا، اس نے اپنا سامان باندھا، کندھے پر اٹھایا اور صبح ہونے سے پہلے ہی اپنی منزل کی جانب نکل گیا۔
بڑے شہر کا ایک ہی داخلی راستہ تھا جو دشوار گزار پہاڑی گزرگاہوں سے ہوکر جاتا تھا.
اس نے رستہ منتخب کیا اور ایک بڑے پہاڑ پر چڑھنا شروع کردیا، جب وہ چل رہا تھا تو اسے رستے میں ایک اور آدمی ملا جس کے ساتھ ایک گدھا بھی تھا، وہ آدمی گدھے کو لے کر اسی شہر کی طرف جا رہا تھا.
سوداگر اور دوسرا شخص ایک ساتھ سفر کرتے ہوئے دوست بن گئے. چلتے چلتے سوداگر نے دوسرے آدمی سے کہا کہ اگر تم اپنا گدھا کرایہ پر دے دو تو میں اس پر اپنا سامان لادھ لیتا ہوں، اور تمھیں معقول کرایہ ادا کر دیتا ہوں، شہر پہنچ کر میں ایک گدھا خرید لوں گا اور یوں تمھیں تمھارا گدھا کرائے کی رقم سمیت مل جائے گا۔ وہ شخص تھوڑی سی پس و پیش کے بعد ایک خاص رقم کے عوض گدھا کرایہ پر دینے کے لیے راضی ہو گیا۔

اس مرحلے پر؛
سقراط کو معلوم ہوا کہ کہانی سننے کے لیے سامعین کی ایک بڑی تعداد اس کے گرد جمع ہو گئی ہے اور بہت سے لوگ اس کی کہانی سنتے ہوئے اپنے فرائض بھول گئے ہیں، جو لوگ بازار میں خرید و فروخت کے لیے چند منٹوں میں آنے اور جانے کے عادی تھے وہ بھی اپنے کام کاج بھول کر کہانی سننےکھڑے ہو گئے تھے اور بھول گئے تھے کہ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں پر انہیں جانا تھا۔ آگے کی کہانی سنو؛

سقراط نے اپنی کہانی جاری رکھی:
سوداگر نے اپنا سامان گدھے پر رکھ لیا تھا اور ابھی صبح کا سورج طلوع نہیں ہوا تھا کہ انہوں نے اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے اونچے پہاڑ پر چڑھنا جاری رکھا، رات کا کچھ پہر ہو یا علی الصبح پیدل چلنا آسان ہوتا ہے، تو اسی آسانی میں انہوں نے کافی فاصلہ طے کر لیا لیکن جوں جوں دن چڑھتا گیا، ان کے لیے پہاڑ پر چڑھنا مشکل تر ہوتا گیا۔ وہ پسینے سے شرابور ہو رہے تھے اور بہت زیادہ تھک چکے تھے۔ جب سورج ان کے سروں کے اوپر آکر چمکنا شروع ہوا تو انہوں نے تھوڑی دیر سستانے کا فیصلہ کیا۔

سقراط کے ارد گرد زیادہ لوگ جمع ہو چکے تھے، اور وہ سب اردگرد سے بے خبر بے تابی سے اس کی کہانی سن رہے تھے۔

سقراط نے اپنی کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا:
دوپہر کا وقت تھا اور وہ تھک چکے تھے، اس لیے انہوں نے کچھ دیر آرام کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن اس چٹیل پہاڑ پر کوئی درخت یا سایہ دار چیز نہیں تھی جس کے نیچے بیٹھ کر وہ آرام کر سکیں، وہاں صرف ان کے گدھے کا سایہ تھا جو سامان لے کر اوپر جا رہا تھا۔

اس گدھے کے سائے میں اگر کوئی سستانا چاہتا تو صرف ایک آدمی کی گنجائش تھی، دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور گدھے کے مالک نے سوداگر سے کہا کہ گدھے کا سایہ اس کا ہے کیونکہ وہ گدھے کا مالک ہے، لیکن سوداگر نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے شہر پہنچنے تک گدھے کو کرائے پر لے رکھا ہے لہٰذا اس گدھے کے سایے پر اس کا حق ہو گا۔
گدھے کے مالک نے کہا کہ اس نے صرف گدھا کرائے پر دیا ہے سایہ نہیں، لیکن سوداگر نے کہا کہ جب اس نے گدھا کرائے پر دے دیا تو اس میں گدھے کا سایہ بھی شامل تھا۔ گدھے کے سائے پر دونوں آدمیوں میں شدید جھگڑا ہو گیا، دونوں نے خوب بحث کی کہ یہ قانونی اور اخلاقی طور پر ان کا ہے.

اس مقام پر:
سقراط کے اردگرد ایک بہت بڑا ہجوم تھا، پھر وہ جہاں کھڑا تھا وہاں سے اُتر کر بازار کی دوسری جانب چلا گیا، لوگ اس کے پیچھے ہو لیے اور اسے کہانی جاری رکھنے کو کہا، اس نے ان کی طرف توجہ نہ کرنے کا بہانہ کیا اور چلتا رہا، لوگ اس کے پیچھے پیچھے آ رہے تھے، اور اس سے کہانی کو مزید مکمل کرنے کے لیے شور کرنے لگے تھے، جب اس ہجوم نے سقراط پر زور دیا کہ اسے ابھی ہر صورت کہانی کا اختتام سنانا چاہیے ، تو سقراط نے چلنا چھوڑ کر ان کی طرف متوجہ ہوا اور کہا:
میں تم لوگوں سے زندگی اور فلسفہ جیسی اہم اور سنجیدہ چیزوں کے بارے میں بات کر رہا تھا، لیکن تم لوگوں نے کوئی توجہ نہیں دی، لیکن جب میں نے گدھے اور اس کے سائے کے بارے میں اساطیری کہانی سنانا شروع کی تو تم سب سننے کے لیے اس قدر بے تاب ہو گئے کہ تم سب نے اپنی ضرورت تجارت اور اپنے قیمتی وقت کی پرواہ نہ کی۔ یقیناً زندگی جیسی اہم ترین اور غیر معمولی چیز کو چھوڑ کر تم لوگ احمقانہ اور معمولی چیزوں کے بارے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہو تو یہی بات تمھاری خرابی کے لیے کافی ہے۔
توقیر بُھملہ

05/03/2024

‏ہائی جیکر 2 لاکھ ڈالر تاوان اکٹھا کر کے دوران پرواز ہی جہاز سے کود گیا، پھر اس کا کیا بنا؟ تاریخ کی پراسرار ترین کہانی جانئے.....

امریکی ایوی ایشن کی تاریخ میں کوئی ایسا جرم نہیں جس کی قلعی نہ کھلی ہو، سوائے ایک کے۔ 49سال قبل ایک طیارے کو ہائی جیک کیا گیا اور ہائی جیکر دوران پرواز طیارے سے پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگا کر اتر گیا اور آج تک کوئی نہیں جان سکا کہ وہ آدمی کون تھا اور کہاں گیا۔ڈیلی سٹار کے مطابق یہ پراسرار آدمی ’ڈی بی کوپر‘ کے فرضی نام سے مشہور ہوا، جس نے 24نومبر 1971ءکے روز نارتھ ویسٹ اورینٹ بوئنگ 727سے چھلانگ لگائی۔ اس کے پاس تاوان میں حاصل کی گئی 2لاکھ ڈالر کی رقم بھی موجود تھی جو بیگ میں بھری ہوئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اس ہائی جیکر نے پورٹ لینڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہنگامی طور پر ٹکٹ خریدا اوراپنا نام ڈین کوپر بتایا۔ یہ پرواز سیٹل جا رہی تھی۔ ٹیک آف کے فوری بعد ہائی جیکر نے فلورنس شیفنر نامی ایئرہوسٹس کو ایک پرچی پکڑائی جس پر لکھا تھا کہ ”میرے پاس بم ہے۔“خوفزدہ ایئرہوسٹس کو ہائی جیکر نے حکم دیا کہ وہ اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ جائے اور آہستگی سے اس کا بیگ کھولے، جس میں بم رکھا تھا۔
ہائی جیکر نے ایئرہوسٹس کو بم دکھانے کے بعد مطالبہ کیا کہ مجھے 2لاکھ ڈالر کی رقم دی جائے اور 4پیرا شوٹ دیئے جائیں۔جہاز کے عملے نے یہ معاملہ باقی 35مسافروں سے مخفی رکھا اور انہیں بتایا کہ جہاز میں خرابی کی وجہ سے سیٹل میں لینڈنگ تاخیر کا شکار ہو گی۔ درحقیقت جہاز اس دوران جہاز پیسیفک کے اوپر بے مقصد چکر لگاتا رہا تاکہ اس دوران ایئرلائن کے منیجرز تاوان کی رقم کا بندوبست کر لیں۔
منیجرز نے رقم کا بندوبست کیا اور قریبی سکائی ڈائیونگ سکول سے پیراشوٹ ادھار مانگے اور سیٹل ایئرپورٹ پر پہنچ گئے۔ اس کے بعد پرواز سیٹل ایئرپورٹ پر لینڈ ہوئی۔ تاوان کی رقم اور پیراشوٹ جہاز کے اندر پہنچائے گئے۔ ہائی جیکر نے لگ بھگ سبھی مسافروں اور جہاز کے عملے کے کچھ افراد کو اترنے کی اجازت دے دی اور پائلٹس کو حکم دیا کہ وہ اسے میکسیکو لے کر جائیں۔تاہم جب جہاز کو سیٹل سے ٹیک آف کیے ابھی آدھ گھنٹہ ہی ہوا تھا، ہائی جیکر نے رقم کا بیگ اٹھایا اور پیراشوٹ کے ذریعے جہاز سے چھلانگ لگا دی۔ آج بھی اس آدمی کے متعلق کوئی کچھ نہیں جانتا۔ حتیٰ کہ اس کا اصل نام بھی کسی کو معلوم نہیں ہو سکا.....
Copied

04/03/2024

‏چودہ سو سال پہلے اللہ تعالیٰ نے ایک انسان کو رحمت العالمین بنا کر بھیجا

درود ان پر

اللہ کی مصلحت کہیں یا مشیت

بس بیٹیاں ہی زندہ رہیں ان کی
بیٹے وفات پا گئے

ان کے بڑے بیٹے کا نام قاسم تھا سو کنیت ابو قاسم تھی
بیٹے کی وفات کا اتنا صدمہ تھا کہ ایک روز بازار میں کسی نے
صدا لگائی

یا ابوالقاسم

بےتابی سے مڑ کے دیکھا
کسی اور قاسم کے والد کو پکارا جا رہا تھا
دل گرفتگی سے کہا

کوئی یہ کنیت نہ رکھے
معتقدین نے اسے حکم سمجھا تو کفار ایذا رسانی کے لیے طعنے کسنے لگے کہ

بیٹے تو ہیں ہی نہیں اس شخص کے
یہ تو بے جڑ ہی رہے گا
نعوذ باللہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان طعنوں سے بہت آزردہ رہنے لگے تو محب نے اپنے محبوب کی دلجوئی کے لیے سورت نازل فرمائی

مختصر ترین مگر پُر اثر سورت
جس میں خداوند عالم ان لوگوں کو تنبیہ کر رہا ہے جو اس کے محبوب بندے کا دل دکھاتے ہیں

"بے شک ہم نے آپ کو کوثر دی۔
پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔
بے شک آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان ہے۔"

اور خدا کا کہنا تو ہو کر رہتا ہے

جو لوگ طعنے کستے تھے، بے نام و نشان رہ گئے اور خدا کے محبوب کا نام آج دنیا میں سب سے زیادہ رکھا جانے والا نام ہے

سبحان اللہ

پھر کچھ لوگ اٹھے
خاندان رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم کو مٹانے

خاندان کے ایک چھوٹے بچے کے سوا تمام مردوں کو شہید کر ڈالا

عورتوں کو ننگے سر بازاروں میں پھرایا

دربار میں بلا کر استہزاء کیا

کہ دیکھو تمہارا نام لیوا کون ہے اب
میں ہوں تخت نشین
میرے وارث بیٹھیں گے اب تخت پر

تمہارا نام تک ہوگا نہ داستانوں میں

نعوذبااللہ

اسی وقت اذان کی آواز آئی

أَشْهَدُ أَنْ لَّا إلٰهَ إلَّا اللّٰهُ،

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰهِ،

ابو القاسم کی نواسی نے ظالم حکمران سے کہا

یہ کس کا نام ہے اذان میں؟؟
یہ نام تا قیامت گونجتا رہے گا
بے شک اس نام کا دشمن ہی بے جَڑ رہے گا

اور وہی ہوا

جس کی نسل کشی کی گئی تھی
اربوں لوگ اس کے نام لیوا ہیں

اور بہت لوگ ہیں جو سادات کے گھرانے سے کہلاتے ہیں

کون ہے جو فخریہ خود کو اس ظالم، متکبر حاکم کی اولاد کہے؟؟
آپ کو کہیں ملا؟؟

زمانے گزرتے گئےجو حق کی راہ پر کھڑا ہوتا ہے
زندہ وہی رہتا ہے
چاہے سولی چڑھا دو
زہر دو
یا سر قلم کرو
مگر کوئی سبق سیکھتا ہی نہیں

کوئی نہیں - - - -

تحریر۔ "مونا سکند‎ر"

01/02/2024

اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ°

24/01/2024

ووٹ اس کا جس نے ہیلتھ کارڈ دے کر بنا کسی ایم پی اے ایم این کی پرچی فون کال کے غریب کا مہنگے ترین اسپتالوں میں فری علاج کرایا مفت سٹنٹ پڑے مفت ڈائیلسیز ہوئے مفت آپریشن ان اسپتالوں میں ہوئے ہوئےجہاں غربا کا داخلہ بھی منع تھا ۔


Address

1061 B Grand Avenue Housing Ferozpure Road
Lahore
53100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Digital Ninjas posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Digital Ninjas:

Share