National Peace & Justice Council Government of Pakistan

National Peace & Justice Council Government of Pakistan Promotion of of peace and justice in pakistan by creating inter-religious harmony.

این ایف سی ایوارڈ، صوبوں کی تقسیم اور حقیقت کا آئینہہم اکثر سنتے ہیں کہ پاکستان میں کون سا صوبہ زیادہ دیتا ہے اور کون زی...
25/10/2025

این ایف سی ایوارڈ، صوبوں کی تقسیم اور حقیقت کا آئینہ
ہم اکثر سنتے ہیں کہ پاکستان میں کون سا صوبہ زیادہ دیتا ہے اور کون زیادہ لیتا ہے۔ خاص طور پر این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل کی تقسیم کو لے کر بحث چھڑتی ہے:
"کون کس کو کھاتا ہے؟"
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ وسائل کی یہ تقسیم کیسے ہوتی ہے؟ کیا واقعی کچھ صوبے اپنی محنت سے کم لیتے ہیں اور کچھ بغیر محنت کے زیادہ؟ آئیے آسان زبان میں اس پورے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
این ایف سی ایوارڈ کیا ہے؟
جب وفاقی حکومت مختلف ٹیکسز (جیسے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی) جمع کرتی ہے، تو ان کا ایک بڑا حصہ صوبوں میں بانٹا جاتا ہے۔ اس تقسیم کو این ایف سی ایوارڈ کہا جاتا ہے۔
یہ ایوارڈ ایک فارمولا کے تحت ہوتا ہے، جو ہر چند سال بعد وفاق اور صوبوں کے اتفاق سے طے کیا جاتا ہے۔
سن 2010 میں جو ساتواں این ایف سی ایوارڈ آیا، اس میں طے ہوا کہ:
وفاق اپنے کل ٹیکس ریونیو کا 57.5 فیصد صوبوں کو دے گا
اور باقی 42.5 فیصد وفاق خود رکھے گا۔
اب یہ 57.5 فیصد، چاروں صوبوں میں ایک طے شدہ فارمولے کے مطابق بانٹا جاتا ہے۔ اس فارمولے میں صرف آبادی نہیں بلکہ کچھ اور چیزیں بھی دیکھی جاتی ہیں، جیسے:
غربت
پسماندگی
ٹیکس اکٹھا کرنے کی صلاحیت
اور علاقے کی وسعت
ہر صوبے کو کتنا ملتا ہے؟
مالی سال 2025-26 کے بجٹ کے مطابق، چاروں صوبوں کو ان کے حصے یوں ملے:
پنجاب: 51.74٪
سندھ: 24.55٪
خیبر پختونخوا: 14.62٪
بلوچستان: 9.09٪
یہ فیصد ہر سال بجٹ میں اعلان ہوتے ہیں اور اسی حساب سے رقم صوبوں کو دی جاتی ہے۔
صوبوں کی معاشی شراکت کتنی ہے؟
اب ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ کون سا صوبہ ملکی معیشت میں کتنا حصہ ڈالتا ہے؟ یعنی جی ڈی پی (GDP) میں کس کی کتنی شرکت ہے؟ اندازوں کے مطابق:
پنجاب: تقریباً 60.58٪
سندھ: تقریباً 23.7٪
لخیبر پختونخوا: تقریباً 9.9٪
بلوچستان: تقریباً 2.9٪
ان نمبروں سے واضح ہے کہ پنجاب معیشت کا سب سے بڑا حصہ دار ہے، جبکہ بلوچستان کا حصہ سب سے کم ہے۔
پھر مسئلہ کہاں ہے؟
اب اگر ہم اوپر کی دونوں فہرستوں کا موازنہ کریں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ:
پنجاب معیشت میں سب سے زیادہ (60.58٪) حصہ ڈال رہا ہے، مگر اسے صرف 51.74٪ مل رہا ہے، یعنی تقریباً 9 فیصد کم
سندھ تقریباً برابر وصول کر رہا ہے
خیبر پختونخوا کو اس کی معاشی شراکت سے زیادہ حصہ مل رہا ہے
بلوچستان کو تو اپنی حصے داری سے تین گنا سے زیادہ حصہ مل رہا ہے
تو کیا واقعی “کون کس کو کھا رہا ہے؟”
یہ سوال صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ نقطہ نظر کا ہے۔
اگر ہم صرف یہ دیکھیں کہ کون کتنا کما رہا ہے، تو پنجاب کا کم حصہ لینا غیر منصفانہ لگے گا۔
لیکن اگر ہم یہ دیکھیں کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے پسماندہ صوبوں کو اٹھانا بھی ضروری ہے، تو زیادہ حصہ دینا انصاف کہلائے گا، ظلم نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ:
پنجاب ایک معاشی طاقت ہے، مگر اسی کے کندھوں پر باقی ملک کے کمزور حصوں کو سہارا دینا بھی قومی ذمہ داری ہے
سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو زیادہ حصہ اس لیے مل رہا ہے تاکہ پورے ملک میں ترقی کا توازن قائم ہو
اگر وسائل کی یہ تقسیم نہ ہو تو چھوٹے صوبے مزید پیچھے رہ جائیں گے، اور ملک میں عدم توازن پیدا ہوگا
لیکن سوال یہاں ختم نہیں ہوتا
ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ:
کیا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ صحیح استعمال بھی ہوتا ہے؟
اگر صوبے اپنا حصہ ترقی پر خرچ نہ کریں، بدعنوانی ہو، یا منصوبے صرف کاغذوں میں رہ جائیں، تو پھر یہ اضافی حصہ کسی کام کا نہیں۔
اسی لیے وسائل کی تقسیم کے ساتھ ساتھ:
شفافیت ہونی چاہیے
منصوبوں کی نگرانی ہونی چاہیے
اور عوام کو حساب لینے کا حق ملنا چاہیے

پاکستان صرف زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ چاروں صوبوں کا ایک مشترکہ خواب ہے۔
کوئی اگر زیادہ دے رہا ہے تو وہ قربانی دے رہا ہے۔
اور کوئی اگر زیادہ لے رہا ہے تو اس سے توقع ہے کہ وہ ترقی کرے، محنت کرے، اور اپنی حالت بدلے۔

ہمیں وسائل کی تقسیم کو ایک دوسرے پر الزام لگانے کا ذریعہ نہیں بلکہ ترقی کا موقع سمجھنا چاہیے۔
سوال “کون کس کو کھاتا ہے؟” سے نکل کر ہمیں یہ سوچنا چاہیے:
"ہم سب مل کر ملک کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟"

سورسز اور حوالہ جات
1. Ministry of Finance, Government of Pakistan
National Finance Commission (NFC) Awards — Official Reports & Documents.
وزارتِ خزانہ کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود این ایف سی ایوارڈ سے متعلق دستاویزات، جن میں ساتویں این ایف سی ایوارڈ 2010 کی مکمل تفصیلات (وفاق و صوبوں کا مالی تناسب، تقسیم کا فارمولا، آبادی و پسماندگی کے عوامل) درج ہیں۔
🔗 https://www.finance.gov.pk/nfc/

2. Pakistan Economic Survey 2023–24
Chapter 3: National Accounts & Fiscal Developments.
اس باب میں صوبائی و وفاقی مالی اعداد و شمار، محصولات کی تقسیم، اور جی ڈی پی میں صوبوں کے تخمینے شامل ہیں۔
🔗 https://www.finance.gov.pk/survey_2324.html

3. Federal Board of Revenue (FBR) — Year Book 2022–23 & 2023–24
Annual Statistical Reports on Tax Collection.
ان رپورٹس میں کراچی سمیت بڑے شہری مراکز سے حاصل شدہ ٹیکس ریونیو کی تفصیل دی گئی ہے۔
🔗 https://www.fbr.gov.pk/

4. State Bank of Pakistan — Annual Report 2023
The State of Pakistan’s Economy.
اس رپورٹ میں صوبائی و علاقائی سطح پر معیشتی شرحِ نمو، صنعتی پیداوار، اور مالیاتی توازن پر تفصیلی تجزیہ شامل ہے۔
🔗 https://www.sbp.org.pk/

5. Pakistan Institute of Development Economics (PIDE)
The 7th NFC Award: An Evaluation — Muhammad Asif & Eatzaz Ahmad (PIDE Working Paper Series, 2010).
اس تحقیقی مقالے میں این ایف سی ایوارڈ کے اثرات، صوبائی حصوں کے معاشی نتائج، اور تقسیم کے فارمولے کی افادیت پر اعداد و شواہد کے ساتھ تجزیہ موجود ہے۔
🔗https://file.pide.org.pk/pdfpideresearch/ms-08-the-7th-nfc-award-an-evaluation.pdf

6. Karachi Chamber of Commerce & Industry (KCCI)
Karachi’s Contribution to National Economy — Press Releases and Statistical Briefs, 2022–2024.
ان رپورٹس کے مطابق کراچی وفاقی محصولات (FBR) میں 50٪ سے زائد حصہ فراہم کرتا ہے۔
🔗 https://www.kcci.com.pk/

7. Sustainable Development Policy Institute (SDPI)
Strengthening Fiscal Federalism in Pakistan: A Roadmap for Reforms — Policy Brief, 2024.
اس رپورٹ میں مالی وفاقیت کے نظام میں شفافیت، صوبائی خودمختاری، اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر تجاویز دی گئی ہیں۔
🔗 https://sdpi.org/

8. Pakistan Bureau of Statistics (PBS)
Provincial GDP and Development Indicators (2019–2023).
یہاں سے صوبوں کی معاشی شراکت کے تخمینے (Punjab ~ 60.5%, Sindh ~ 23.7%, KP ~ 9.9%, Balochistan ~ 2.9%) لیے گئے ہیں۔
🔗 https://www.pbs.gov.pk/

9. Dawn Business, The News, and Profit by Pakistan Today

مختلف تحقیقی رپورٹس اور آرٹیکلز میں کراچی کی ٹیکس اور ایکسپورٹ شراکت سے متعلق اعداد و شواہد شائع ہوئے۔
🔗 https://www.dawn.com/business
🔗 https://www.thenews.com.pk/

10. Wikipedia — List of Pakistani administrative units by gross state product

جی ڈی پی کے صوبائی تناسب کا خلاصہ جو مختلف سرکاری و تحقیقی رپورٹس سے مرتب کیا گیا ہے۔
🔗 https://en.wikipedia.org/wiki/List_of_Pakistani_administrative_units_by_gross_state_product

نوٹ:
تمام اعداد و شمار سرکاری یا نیم سرکاری اداروں کی رپورٹس پر مبنی ہیں، مگر سال بہ سال بجٹ اپڈیٹس کی وجہ سے معمولی فرق ممکن ہے۔ لہٰذا حوالہ دیتے وقت مخصوص مالی سال (Fiscal Year) لازمی ذکر کیا جائے، جیسے "Economic Survey 2023–24" یا "FBR Year Book 2022–23"۔

Dear Indians,1) Stop supporting terror groups in neighborhood, and you too will live in peace 2) Stop believing your med...
01/06/2025

Dear Indians,
1) Stop supporting terror groups in neighborhood, and you too will live in peace
2) Stop believing your media, it's a s**t show with no credibility
3) Stop being a part of Moodi's election campaign, your sons and daughters paid the price in blood for it.
4) Stop believing that India is the regional power, China has far surpassed everyone to be the next Superpower.
5) Freedom is a basic human right and Kashmiris and Punjabis are entitled to it, it's only a matter of time
6) India is not Israel and should not try to be so, India will be left orphan at global stage

I truly hope for regional peace and development of people on booth side of the border

#مارخور IAF, , , , #

18/05/2025

03/05/2025

‏وہ اپنا حلیہ بدل کر پختونخواہ کے انتہائی مصروف بازار میں تکہ بوٹی کا سٹال سجا کر بیٹھ گئے۔

وہ سارا دن تکے لگاتے اور مطلوبہ اشخاص پر گہری نظر رکھتے۔

تین ہفتوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا‏وہ کئی مشکوک افراد کو شارٹ لسٹ کر چکے تھے مگر ٹارگٹ ابھی تک لا حاصل تھا۔۔۔

مگر ایک دن ان کا شکار ان کی عقابی نظروں میں آہی گیا..

انہوں نے اپنی ذہانت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے بل بوتے پر‏مطلوبہ شخص کا پتہ لگا لیا۔

یہ سرحد پار سے آئے ہوئے دہشتگردوں کا میزبان تھا اسکا تعاقب کیا گیااور دہشتگردوں کی کمین گاہ کا پتہ لگا لیا گیا۔

یہ تمیرگرہ اپر دیر کا انتہائی دشوارگزار اور پرخطر علاقہ تھا‏جہاں دشمن اپنی بھرپور تیاری کے ساتھ موجود تھا..

9 اگست 2017 کی رات تھی، میجر علی سلمان اپنے گھر سے سینکڑوں کلومیٹر دور دیر کے پہاڑوں میں بیٹھا موبائل پر اپنی اہلیہ اور ننھے بیٹے سے باتیں کر رہا تھا۔ بیٹا بار بار بابا سے جلدی گھر آنے کا ضد کر رہا تھا اور میجر علی نے وعدہ کیا کہ وہ جلد ہی آئیگا۔

9اگست 2017 کی دوپہر علی سلمان کو اطلاع ملی کہ ایک درے میں دہشت گرد خفیہ ٹھکانہ بنا کر علاقے میں حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

میجر علی سلطان نے فورا" حوالدار غلام نظیر شہید،حوالدار اختر شہید اور سپاہی عبدالکریم شہید کو ساتھ لے کر دہشتگردوں کے خفیہ ٹھکانے کا گھیراوء کر لیا۔
دہشتگردوں سے شدید جھڑپ ہوئ جس میں میجر علی سلمان نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے ایک خدکش بمبار سمیت کئ دہشتگرد مارگرائے، لیکن تب تک میجر علی سلمان کے ساتھی شدید زخمی ہو چکے تھے(جو کہ بعد میں زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے شہید ہو گئے)

اسی دوران ایک خودکش بمبار عمارت سے نکل کر آبادی کی طرف دوڑ پڑا، چونکہ اسلحہ ختم ہو چکا تھا لہزا میجر علی سلمان نے بھاگ کر دہشتگرد کو دبوچ لیا۔نتیجے میں ایک زور دار دھماکہ ہوا جس سے علی سلمان شہید کے جسم کے چیتھڑے اڑ گئے۔

لیکن تب تک میجر علی سلمان شہید اور اسکے ساتھی دہشتگردوں کے مزموم عزائم خاک میں ملا چکے تھے۔
میجر علی سلمان شہید کے دو چھوٹے چھوٹے بیٹےتھے جن میں سے بڑے بیٹے سے اس نے ایک دن پہلے ہی جلد گھر آنے کا واعدہ کیا تھا۔

اگر میجر علی سلمان اور ان کی ٹیم ہم پر اس طرح جان نچھاور نہ کرتے، خودکش بمباروں کو وہی پر ختم نہ کرتے اور وہ کسی مسجد کسی سکول یا بازار میں پھٹتے تو میرے علاقے میں کتنے جنازے اٹھتے کتنے گھر اجڑتے، سوچتا ہوں تو کانپ جاتا ہوں۔
میجر علی سلمان کے شہید ہونے کے بعد انکی جوان بیوی بیوہ ہو گئ لیکن شہید نے اپنی جان قربان کرکے کئ عورتوں کے سہاگ اُجڑنے سے بچا لیے۔

فوج سے بعض چند بے غیرت لوگوں اور گٹیھا دانشوروں کا تو ہوسکتا ہے لیکن جب ایسے واقعات دیکھتا ہوں تو دل گواہی دیتا ہے کہ یہ فوج محبت کی لائق ہے۔ یہی ہماری محافظ اور محسن ہے اور جو کوئی مجھے ان سے نفرت اور دشمنی کرنے کا کہے وہی میرا اصل دشمن ہے۔

میجر سلمان علی کی شہادت کے ٹھیک چار دن بعد قوم نے یومِ آزادی بھرپور جوش و جذبے سے منایا۔

اے راہ حق کے شہیدوں وفا کے تصویروں
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں۔۔۔

#مارخور 🦌🇵🇰

🖕پیج کو لائیک کریں National Peace & Justice Council Government of Pakistan 🇵🇰n
🇵🇰 Real Infotainment

بلیک ڈائمنڈ ایپل، تبت میں اگائی جانے والی ایک الگ قسم، اپنی گہری بنفشی رنگت کے لیے مشہور ہے عام طور پر سیب کا رنگ سرخ، س...
17/04/2025

بلیک ڈائمنڈ ایپل، تبت میں اگائی جانے والی ایک الگ قسم، اپنی گہری بنفشی رنگت کے لیے مشہور ہے عام طور پر سیب کا رنگ سرخ، سبز، پیلا یا ان تینوں کا ملاجلا ہو تا ہے لیکن مخصوص جغرافیائی حالات میں سیب کا رنگ گہرا ارغونی ، تقریباً سیاہ، بھی ہوسکتا ہے۔ ایسے سیبوں کو سیاہ ہیرے یا بلیک ڈائمنڈ کہا جاتا ہے۔ ایسے سیب صرف تبت کے پہاڑوں پر کاشت کیے جا رہے ہیں۔
یہ سیب ہوا نیو(Hua Niu) سیبوں کی ایک قسم ہے۔ یہ سیب نینگچی، تبت کے علاقے میں کاشت کیےجاتے ہیں۔

ایک چینی کمپنی نے یہاں پر 50 ہیکٹر ہر ان سیبوں کا باغ کاشت کیا ہے۔ سطح سمندر سے 3100 میٹر بلندی پر یہ جگہ ان سیبوں کی کاشت کے لیے بہترین ہے۔ یہاں دن اور رات میں درجہ حرارت کا فرق بہت زیادہ ہے۔ اس باغ میں سیبوں پر بھرپور سورج کی روشنی اور الٹرا وائلٹ شعاعیں پڑتی ہیں، جس سے ہوا نیوا قسم کے سیب گہرے ارغوانی ہو جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق زمین کی اندرونی تہہ جو کہ دراصل ایک گرم بھاری مقناطیس کی مانند ہے کی رفتار سن 2010 سے سست ہو چکی تھی (کچ...
13/04/2025

ماہرین کے مطابق زمین کی اندرونی تہہ جو کہ دراصل ایک گرم بھاری مقناطیس کی مانند ہے کی رفتار سن 2010 سے سست ہو چکی تھی (کچھ رپورٹس کے مطابق یہ گردش رک چکی تھی) جو کہ رواں سال یعنی 2025 میں الٹی سمت میں گھومنا شروع ہو چکی ہے۔
جس کا مطلب ہے سطح زمین پر بڑی تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں
یہی وجہ ہے کہ سمندروں کی گہرایوں میں پائی جانی والی مخلوقات ساحلوں پر نظر آرہی ہیں۔
سمندری پانیوں کے پیٹرنز میں بھی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔
جب زمین کی اندرونی تہہ الٹی سمت میں گھومے گی
تو بڑے پیمانے پر زلزلے ظہور پذیر ہونا ایک لازمی امر ہے۔
صرف یہی نہیں بلکہ جب اندرونی سطح مکمل طور الٹی سمت میں گھوم جائے گی
تو یہ وہی دور شروع ہوگا
جس میں سورج مغرب سے طلوع ہوگا
اور احادیث کے مطابق توبہ کے دروازے بند جائیں گے۔
تو اب جب سائنس بھی یہ ثابت کر چکی ہے کہ زمین مکمل طور الٹی سمت میں گھومنے والی ہے
تو کیا اب بھی سورج کے مغرب سے طلوع ہونے میں کوئی شبہ باقی ہے؟؟

کیا ابھی بھی اللہ سے نہیں ڈرنا؟؟؟
توبہ نہیں کرنی؟
زیادتیاں نہیں چھوڑنی؟
ناحق قتل نہیں چھوڑنا؟
لوگوں کے مال اور جائیداد پر نظر رکھنی نہیں چھوڑنی ؟

Copied #

کُچھ سال پہلے ترکی میں ایک بھیڑ (Sheep) نے نجانے کیوں پہاڑی سے چھلانگ لگا دی اور اس کی دیکھا دیکھی پندرہ سو مزید بھیڑوں ...
03/04/2025

کُچھ سال پہلے ترکی میں ایک بھیڑ (Sheep) نے نجانے کیوں پہاڑی سے چھلانگ لگا دی اور اس کی دیکھا دیکھی پندرہ سو مزید بھیڑوں نے چھلانگ لگائی اور چار سو پچاس بھیڑیں موت کی بھینٹ چڑھ گئیں۔

لاشوں کا ڈھیر اونچا ہونے کی وجہ سے باقی یا بچ گئیں یا زخمی ہوگئیں ۔۔ اسے کہتے ہیں ہرڈ سائیکالوجی۔

یعنی ریوڑ کی نفسیات
Herd Psychology
اور عام زبان میں بھیڑ چال

ہرڈ تھیوری (Herd theory) کا مطلب کسی انفرادی عمل کا پورے گروپ یا گروہ کا فالو کرنا یا عمل کرنا بغیر کسی براہ راست ڈائرکشن کے۔

یہ بات زیادہ تر جانوروں میں دیکھی جا سکتی ہے جیسے مچھلیوں کا ایک سمت تیرنا یا پرندوں کا اڑنا یا بھیڑوں کا چلنا۔

مگر انسانوں میں بھی یہ عمل اس وقت بہت زیادہ دیکھا جاتا ہے جب سیاست یا مذہب کا معاملہ ہو کیونکہ اس میں مرکزی یا بنیادی ہدایات سے انحراف کر لیا جاتا ہے۔

اور صرف ایک بھیڑ چال میں لوگ چلتے ہیں اور اپنے اور سماج کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔

اس وقت دنیا کا سب سے بڑا چیلنج ہی مذہبی اور سیاسی بھیڑ چال کو ختم کرنا ہے۔

میں نے اپنی ماں کو پڑوسیوں سے نمک مانگتے سنا۔ حالانکہ ہمارے گھر میں نمک موجود تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے پڑوسیوں س...
27/03/2025

میں نے اپنی ماں کو پڑوسیوں سے نمک مانگتے سنا۔ حالانکہ ہمارے گھر میں نمک موجود تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے پڑوسیوں سے نمک کیوں مانگا۔ اور پھر والدہ نے جواب دیا، 'کیونکہ ہمارے پڑوسیوں کے پاس زیادہ پیسے نہیں ہیں، اور وہ اکثر ہم سے کچھ نہ کچھ مانگتے رہتے ہیں۔ وقتاً فوقتاً میں ان سے کوئی چھوٹی اور سستی چیز بھی مانگتی رہتی ہوں تو وہ محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں بھی ان کی ضرورت ہے۔ اس طرح، وہ زیادہ آرام دہ محسوس کریں گے اور ہم سے ہر وہ چیز مانگنا آسان ہو جائے گا جس کی انہیں ضرورت ہے۔'
اور یہی میں نے اپنی ماں سے سیکھا ہے... آئیے ہمدرد، شائستہ، اور معاون بچوں کی پرورش کریں جن کا ذکر کرنے کے لیے بہت سی اقدار ہیں!
نامعلوم مصنف"

25/02/2025

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when National Peace & Justice Council Government of Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share