25/10/2025
این ایف سی ایوارڈ، صوبوں کی تقسیم اور حقیقت کا آئینہ
ہم اکثر سنتے ہیں کہ پاکستان میں کون سا صوبہ زیادہ دیتا ہے اور کون زیادہ لیتا ہے۔ خاص طور پر این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل کی تقسیم کو لے کر بحث چھڑتی ہے:
"کون کس کو کھاتا ہے؟"
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ وسائل کی یہ تقسیم کیسے ہوتی ہے؟ کیا واقعی کچھ صوبے اپنی محنت سے کم لیتے ہیں اور کچھ بغیر محنت کے زیادہ؟ آئیے آسان زبان میں اس پورے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
این ایف سی ایوارڈ کیا ہے؟
جب وفاقی حکومت مختلف ٹیکسز (جیسے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی) جمع کرتی ہے، تو ان کا ایک بڑا حصہ صوبوں میں بانٹا جاتا ہے۔ اس تقسیم کو این ایف سی ایوارڈ کہا جاتا ہے۔
یہ ایوارڈ ایک فارمولا کے تحت ہوتا ہے، جو ہر چند سال بعد وفاق اور صوبوں کے اتفاق سے طے کیا جاتا ہے۔
سن 2010 میں جو ساتواں این ایف سی ایوارڈ آیا، اس میں طے ہوا کہ:
وفاق اپنے کل ٹیکس ریونیو کا 57.5 فیصد صوبوں کو دے گا
اور باقی 42.5 فیصد وفاق خود رکھے گا۔
اب یہ 57.5 فیصد، چاروں صوبوں میں ایک طے شدہ فارمولے کے مطابق بانٹا جاتا ہے۔ اس فارمولے میں صرف آبادی نہیں بلکہ کچھ اور چیزیں بھی دیکھی جاتی ہیں، جیسے:
غربت
پسماندگی
ٹیکس اکٹھا کرنے کی صلاحیت
اور علاقے کی وسعت
ہر صوبے کو کتنا ملتا ہے؟
مالی سال 2025-26 کے بجٹ کے مطابق، چاروں صوبوں کو ان کے حصے یوں ملے:
پنجاب: 51.74٪
سندھ: 24.55٪
خیبر پختونخوا: 14.62٪
بلوچستان: 9.09٪
یہ فیصد ہر سال بجٹ میں اعلان ہوتے ہیں اور اسی حساب سے رقم صوبوں کو دی جاتی ہے۔
صوبوں کی معاشی شراکت کتنی ہے؟
اب ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ کون سا صوبہ ملکی معیشت میں کتنا حصہ ڈالتا ہے؟ یعنی جی ڈی پی (GDP) میں کس کی کتنی شرکت ہے؟ اندازوں کے مطابق:
پنجاب: تقریباً 60.58٪
سندھ: تقریباً 23.7٪
لخیبر پختونخوا: تقریباً 9.9٪
بلوچستان: تقریباً 2.9٪
ان نمبروں سے واضح ہے کہ پنجاب معیشت کا سب سے بڑا حصہ دار ہے، جبکہ بلوچستان کا حصہ سب سے کم ہے۔
پھر مسئلہ کہاں ہے؟
اب اگر ہم اوپر کی دونوں فہرستوں کا موازنہ کریں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ:
پنجاب معیشت میں سب سے زیادہ (60.58٪) حصہ ڈال رہا ہے، مگر اسے صرف 51.74٪ مل رہا ہے، یعنی تقریباً 9 فیصد کم
سندھ تقریباً برابر وصول کر رہا ہے
خیبر پختونخوا کو اس کی معاشی شراکت سے زیادہ حصہ مل رہا ہے
بلوچستان کو تو اپنی حصے داری سے تین گنا سے زیادہ حصہ مل رہا ہے
تو کیا واقعی “کون کس کو کھا رہا ہے؟”
یہ سوال صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ نقطہ نظر کا ہے۔
اگر ہم صرف یہ دیکھیں کہ کون کتنا کما رہا ہے، تو پنجاب کا کم حصہ لینا غیر منصفانہ لگے گا۔
لیکن اگر ہم یہ دیکھیں کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے پسماندہ صوبوں کو اٹھانا بھی ضروری ہے، تو زیادہ حصہ دینا انصاف کہلائے گا، ظلم نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ:
پنجاب ایک معاشی طاقت ہے، مگر اسی کے کندھوں پر باقی ملک کے کمزور حصوں کو سہارا دینا بھی قومی ذمہ داری ہے
سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو زیادہ حصہ اس لیے مل رہا ہے تاکہ پورے ملک میں ترقی کا توازن قائم ہو
اگر وسائل کی یہ تقسیم نہ ہو تو چھوٹے صوبے مزید پیچھے رہ جائیں گے، اور ملک میں عدم توازن پیدا ہوگا
لیکن سوال یہاں ختم نہیں ہوتا
ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ:
کیا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ صحیح استعمال بھی ہوتا ہے؟
اگر صوبے اپنا حصہ ترقی پر خرچ نہ کریں، بدعنوانی ہو، یا منصوبے صرف کاغذوں میں رہ جائیں، تو پھر یہ اضافی حصہ کسی کام کا نہیں۔
اسی لیے وسائل کی تقسیم کے ساتھ ساتھ:
شفافیت ہونی چاہیے
منصوبوں کی نگرانی ہونی چاہیے
اور عوام کو حساب لینے کا حق ملنا چاہیے
پاکستان صرف زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ چاروں صوبوں کا ایک مشترکہ خواب ہے۔
کوئی اگر زیادہ دے رہا ہے تو وہ قربانی دے رہا ہے۔
اور کوئی اگر زیادہ لے رہا ہے تو اس سے توقع ہے کہ وہ ترقی کرے، محنت کرے، اور اپنی حالت بدلے۔
ہمیں وسائل کی تقسیم کو ایک دوسرے پر الزام لگانے کا ذریعہ نہیں بلکہ ترقی کا موقع سمجھنا چاہیے۔
سوال “کون کس کو کھاتا ہے؟” سے نکل کر ہمیں یہ سوچنا چاہیے:
"ہم سب مل کر ملک کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟"
سورسز اور حوالہ جات
1. Ministry of Finance, Government of Pakistan
National Finance Commission (NFC) Awards — Official Reports & Documents.
وزارتِ خزانہ کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود این ایف سی ایوارڈ سے متعلق دستاویزات، جن میں ساتویں این ایف سی ایوارڈ 2010 کی مکمل تفصیلات (وفاق و صوبوں کا مالی تناسب، تقسیم کا فارمولا، آبادی و پسماندگی کے عوامل) درج ہیں۔
🔗 https://www.finance.gov.pk/nfc/
2. Pakistan Economic Survey 2023–24
Chapter 3: National Accounts & Fiscal Developments.
اس باب میں صوبائی و وفاقی مالی اعداد و شمار، محصولات کی تقسیم، اور جی ڈی پی میں صوبوں کے تخمینے شامل ہیں۔
🔗 https://www.finance.gov.pk/survey_2324.html
3. Federal Board of Revenue (FBR) — Year Book 2022–23 & 2023–24
Annual Statistical Reports on Tax Collection.
ان رپورٹس میں کراچی سمیت بڑے شہری مراکز سے حاصل شدہ ٹیکس ریونیو کی تفصیل دی گئی ہے۔
🔗 https://www.fbr.gov.pk/
4. State Bank of Pakistan — Annual Report 2023
The State of Pakistan’s Economy.
اس رپورٹ میں صوبائی و علاقائی سطح پر معیشتی شرحِ نمو، صنعتی پیداوار، اور مالیاتی توازن پر تفصیلی تجزیہ شامل ہے۔
🔗 https://www.sbp.org.pk/
5. Pakistan Institute of Development Economics (PIDE)
The 7th NFC Award: An Evaluation — Muhammad Asif & Eatzaz Ahmad (PIDE Working Paper Series, 2010).
اس تحقیقی مقالے میں این ایف سی ایوارڈ کے اثرات، صوبائی حصوں کے معاشی نتائج، اور تقسیم کے فارمولے کی افادیت پر اعداد و شواہد کے ساتھ تجزیہ موجود ہے۔
🔗https://file.pide.org.pk/pdfpideresearch/ms-08-the-7th-nfc-award-an-evaluation.pdf
6. Karachi Chamber of Commerce & Industry (KCCI)
Karachi’s Contribution to National Economy — Press Releases and Statistical Briefs, 2022–2024.
ان رپورٹس کے مطابق کراچی وفاقی محصولات (FBR) میں 50٪ سے زائد حصہ فراہم کرتا ہے۔
🔗 https://www.kcci.com.pk/
7. Sustainable Development Policy Institute (SDPI)
Strengthening Fiscal Federalism in Pakistan: A Roadmap for Reforms — Policy Brief, 2024.
اس رپورٹ میں مالی وفاقیت کے نظام میں شفافیت، صوبائی خودمختاری، اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر تجاویز دی گئی ہیں۔
🔗 https://sdpi.org/
8. Pakistan Bureau of Statistics (PBS)
Provincial GDP and Development Indicators (2019–2023).
یہاں سے صوبوں کی معاشی شراکت کے تخمینے (Punjab ~ 60.5%, Sindh ~ 23.7%, KP ~ 9.9%, Balochistan ~ 2.9%) لیے گئے ہیں۔
🔗 https://www.pbs.gov.pk/
9. Dawn Business, The News, and Profit by Pakistan Today
مختلف تحقیقی رپورٹس اور آرٹیکلز میں کراچی کی ٹیکس اور ایکسپورٹ شراکت سے متعلق اعداد و شواہد شائع ہوئے۔
🔗 https://www.dawn.com/business
🔗 https://www.thenews.com.pk/
10. Wikipedia — List of Pakistani administrative units by gross state product
جی ڈی پی کے صوبائی تناسب کا خلاصہ جو مختلف سرکاری و تحقیقی رپورٹس سے مرتب کیا گیا ہے۔
🔗 https://en.wikipedia.org/wiki/List_of_Pakistani_administrative_units_by_gross_state_product
نوٹ:
تمام اعداد و شمار سرکاری یا نیم سرکاری اداروں کی رپورٹس پر مبنی ہیں، مگر سال بہ سال بجٹ اپڈیٹس کی وجہ سے معمولی فرق ممکن ہے۔ لہٰذا حوالہ دیتے وقت مخصوص مالی سال (Fiscal Year) لازمی ذکر کیا جائے، جیسے "Economic Survey 2023–24" یا "FBR Year Book 2022–23"۔