14/09/2026
بڑی گیارہویں شریف بنیادی طور پر حضور غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد، ایصالِ ثواب اور ذکر الٰہی کی ایک بابرکت محفل ہے۔ صوفیانہ نقطہ نظر سے اولیاء اللہ کی یاد منانا اور ان کے وسیلے سے اللہ کی بارگاہ میں رجوع کرنا قرآن و حدیث کی روشنی میں عینِ ایمان ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ سنو! جو اللہ کے دوست ہیں ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ ایک اور مقام پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے کہ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں (صادقین) کے ساتھ ہو جاؤ۔ اولیاء اللہ کی صحبت اور ان کی یاد ہمیں اسی سچائی اور تقویٰ کی طرف راغب کرتی ہے، کیونکہ وہ اللہ کے دین کے سچے علمبردار ہوتے ہیں۔
احادیث مبارکہ سے بھی اولیاء کرام کی عظمت اور ان کے ذریعے برکت حاصل کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میرا اس کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ اور میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے، ان میں مجھے فرائض سب سے زیادہ پسند ہیں، اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، پس جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔ صوفیاء کرام اسی حدیثِ قدسی کی روشنی میں فرماتے ہیں کہ غوثِ پاک جیسی ہستیوں کو اللہ پاک وہ روحانی قوت عطا فرماتا ہے جس سے وہ امتِ محمدیہ کی رہنمائی اور داد رسی کرتے ہیں۔
صوفیانہ مشاہدے اور طریقت کے مطابق اولیاء اللہ کے وصال کا دن درحقیقت ان کی ابدی زندگی کی شروعات اور بارگاہِ الٰہی میں ان کے درجات کی بلندی کا دن ہوتا ہے، اسی لیے اسے عرس یعنی خوشی کا دن کہا جاتا ہے۔ گیارہویں شریف کے موقع پر جو لنگر، صدقہ و خیرات اور قرآن خوانی کی جاتی ہے، اس کا مقصد مسلمانوں کے دلوں میں محبت اور بھائی چارے کو فروغ دینا اور صالحین کی ارواح کو ثواب پہنچانا ہے۔ یہ محفلیں ہمیں غوثِ اعظم کی تعلیمات یاد دلاتی ہیں کہ کس طرح انہوں نے شریعت اور طریقت کو یکجا کر کے لاکھوں انسانوں کے دلوں کو ایمان کے نور سے منور کیا۔ یہ دن محض ایک رسم نہیں بلکہ اپنے ایمان کو تازہ کرنے، گناہوں سے توبہ کرنے اور اولیاء کرام کے نقشِ قدم پر چلنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔