Saifi Media

Saifi Media Saifi Forum

15/09/2026
14/09/2026
بڑی گیارہویں شریف بنیادی طور پر حضور غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد، ایصالِ ثواب اور ذکر الٰہی کی ...
14/09/2026

بڑی گیارہویں شریف بنیادی طور پر حضور غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد، ایصالِ ثواب اور ذکر الٰہی کی ایک بابرکت محفل ہے۔ صوفیانہ نقطہ نظر سے اولیاء اللہ کی یاد منانا اور ان کے وسیلے سے اللہ کی بارگاہ میں رجوع کرنا قرآن و حدیث کی روشنی میں عینِ ایمان ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ سنو! جو اللہ کے دوست ہیں ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ ایک اور مقام پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے کہ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں (صادقین) کے ساتھ ہو جاؤ۔ اولیاء اللہ کی صحبت اور ان کی یاد ہمیں اسی سچائی اور تقویٰ کی طرف راغب کرتی ہے، کیونکہ وہ اللہ کے دین کے سچے علمبردار ہوتے ہیں۔
احادیث مبارکہ سے بھی اولیاء کرام کی عظمت اور ان کے ذریعے برکت حاصل کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میرا اس کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ اور میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے، ان میں مجھے فرائض سب سے زیادہ پسند ہیں، اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، پس جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔ صوفیاء کرام اسی حدیثِ قدسی کی روشنی میں فرماتے ہیں کہ غوثِ پاک جیسی ہستیوں کو اللہ پاک وہ روحانی قوت عطا فرماتا ہے جس سے وہ امتِ محمدیہ کی رہنمائی اور داد رسی کرتے ہیں۔
صوفیانہ مشاہدے اور طریقت کے مطابق اولیاء اللہ کے وصال کا دن درحقیقت ان کی ابدی زندگی کی شروعات اور بارگاہِ الٰہی میں ان کے درجات کی بلندی کا دن ہوتا ہے، اسی لیے اسے عرس یعنی خوشی کا دن کہا جاتا ہے۔ گیارہویں شریف کے موقع پر جو لنگر، صدقہ و خیرات اور قرآن خوانی کی جاتی ہے، اس کا مقصد مسلمانوں کے دلوں میں محبت اور بھائی چارے کو فروغ دینا اور صالحین کی ارواح کو ثواب پہنچانا ہے۔ یہ محفلیں ہمیں غوثِ اعظم کی تعلیمات یاد دلاتی ہیں کہ کس طرح انہوں نے شریعت اور طریقت کو یکجا کر کے لاکھوں انسانوں کے دلوں کو ایمان کے نور سے منور کیا۔ یہ دن محض ایک رسم نہیں بلکہ اپنے ایمان کو تازہ کرنے، گناہوں سے توبہ کرنے اور اولیاء کرام کے نقشِ قدم پر چلنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

مریض کی عیادت کرنا اور بیماری میں صبر کا مظاہرہ کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی پسندیدہ عمل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ رب ...
05/09/2026

مریض کی عیادت کرنا اور بیماری میں صبر کا مظاہرہ کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی پسندیدہ عمل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے صبر کرنے والوں کے لیے عظیم بشارتیں دی ہیں، چنانچہ سورہ البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ "اور ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک، مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی کے ذریعے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے، جنہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ بیشک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں"۔ یہ آیت کریمہ واضح کرتی ہے کہ بیماری اور تکالیف انسان کے لیے ایک آزمائش ہوتی ہیں جس پر صبر کرنے سے وہ رب کریم کے قرب کا مستحق بن جاتا ہے۔

سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات عالیہ بھی ہمیں اس بات کی تسلی دیتے ہیں کہ بیماری انسان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ بیمار کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جیسے درخت کے خشک پتے جھڑتے ہیں۔ جب کوئی مومن کسی جسمانی تکلیف یا بیماری میں مبتلا ہوتا ہے اور اس پر راضی برضا رہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے صغیرہ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے اور اس کے درجات بلند کرتا ہے، گویا بیماری ظاہری طور پر تکلیف دہ ہے لیکن باطنی طور پر یہ روح کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔

تصوف اور صوفیاء کرام کے نقطہ نظر سے بیماری کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص توجہ اور باطنی تربیت کا درجہ حاصل ہے۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ صحت اور فراخی میں انسان بسا اوقات غفلت کا شکار ہو جاتا ہے، لیکن بیماری اور کمزوری کی حالت میں اس کا دل نرم ہوتا ہے اور وہ اپنے عجز و انکساری کے ساتھ اپنے خالق کے سب سے زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔

صوفیانہ نظر میں ہر وہ تکلیف جو بندے کو دنیا سے بے رغبت کر کے اپنے رب کی یاد میں مشغول کر دے، وہ دراصل اللہ کی رحمت اور اس کا خاص فضل ہوتی ہے جو انسان کے نفس کا تزکیہ کرتی ہے۔

🌹 دعوتِ عام — زیارتِ اولیاء، راحتِ جاں 🌹عارفِ باللہ، مخدومِ ملت، پیرِ طریقت رہبرِ شریعت، حضرت  میاں محمد حنفی سیفی ماتری...
03/09/2026

🌹 دعوتِ عام — زیارتِ اولیاء، راحتِ جاں 🌹
عارفِ باللہ، مخدومِ ملت، پیرِ طریقت رہبرِ شریعت، حضرت میاں محمد حنفی سیفی ماتریدی صاحب (دامت برکاتہم العالیہ/حفظہ اللہ) کے دیدارِ مبارک اور زیارت کی ایک کھلی دعوت!

اولیاء اللہ زمین پر ربِ ذوالجلال کی رحمت کا سب سے بڑا مظہر ہوتے ہیں۔ ان کا چہرہ دیکھنا دل کی مرجھائی ہوئی کھیتی کو ہرا کر دیتا ہے اور ان کی پاکیزہ محفل میں گزارا ہوا ایک ایک لمحہ روح کو معرفتِ الٰہی سے روشناس کرواتا ہے۔ حضرت میاں محمد حنفی سیفی ماتریدی صاحب وقت کے وہ عظیم ولی اور صوفیِ باصفا ہیں جن کا ہر قول و فعل سنتِ مصطفیٰ ﷺ کا آئینہ دار ہے، اور جن کا وجودِ مسعود عقیدۂ حق کی ترویج اور دلوں کو یادِ خدا سے آباد کرنے میں مصروفِ عمل ہے۔
بقول شاعر:
نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی!
ان کے آستانے پر محبت کا لنگر بھی عام ہے اور معرفت کا فیض بھی۔ آپ تمام عاشقانِ اولیاء اور مخلصین کو پرخلوص دعوت دی جاتی ہے کہ اس بابرکت محفل میں تشریف لائیں، میاں صاحب کی زیارتِ مبارک سے اپنی آنکھوں کو نور بخشیں اور اپنی جھولیوں کو صوفیانہ برکات سے بھریں۔ کیا معلوم کس کی کس ادا پر ربِ کریم راضی ہو جائے اور دامنِ مراد خوشیوں سے بھر جائے۔
✨ اللہ پاک ہمیں اپنے ان نیک بندوں کا سچا ادب، محبت اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مرشدِ کامل کی صحبت صرف چند باتیں سن لینے یا چند اذکار سیکھ لینے کا نام نہیں، بلکہ یہ دل سے دل تک پہنچنے والی وہ نسبت ہے ...
03/09/2026

مرشدِ کامل کی صحبت صرف چند باتیں سن لینے یا چند اذکار سیکھ لینے کا نام نہیں، بلکہ یہ دل سے دل تک پہنچنے والی وہ نسبت ہے جو انسان کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطن کی بھی تربیت کرتی ہے۔ اہلِ تصوف کے نزدیک سچے طالب کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے مرشد کی مجلس میں صرف الفاظ نہ سنے بلکہ ان کے ادب، خاموشی، تواضع، ذکر، فکر اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہنے کے انداز کو بھی اپنے دل میں محفوظ کرے۔ کبھی مرشد کی ایک نگاہ وہ سبق دے جاتی ہے جو طویل گفتگو بھی نہیں دے سکتی۔

اپنے مرشد کو محبت و ادب سے دیکھنا دراصل شخصیت پرستی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس نسبت کے ذریعے اُس راستے کو پہچاننا مقصود ہے جو اللہ تعالیٰ اور حضور نبی کریم ﷺ کی محبت و اطاعت کی طرف لے جائے۔ مرشد منزل نہیں، منزل کی طرف رہنمائی کرنے والا رہبر ہے۔ سچا مرشد اپنے مرید کو اپنی ذات میں نہیں روکتا بلکہ اس کے دل کو اللہ تعالیٰ کے ذکر، سنتِ مصطفیٰ ﷺ، اصلاحِ نفس اور حسنِ اخلاق کی طرف موڑ دیتا ہے۔

اس لیے مرشد کی محفل میں بیٹھو تو صرف چہرہ نہ دیکھو، حال دیکھو؛ صرف بات نہ سنو، تربیت سمجھو؛ صرف نسبت کا دعویٰ نہ کرو، نسبت کے تقاضے اپنے کردار میں پیدا کرو۔ مرشد کی محبت کا سب سے خوبصورت ثبوت یہی ہے کہ انسان کے اندر عاجزی بڑھے، زبان نرم ہو، دل ذکرِ الٰہی سے آباد ہو، گناہوں سے نفرت پیدا ہو اور مخلوقِ خدا کے لیے محبت و خیرخواہی بڑھتی جائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اولیائے کاملین کی صحبت کا ادب، صالحین سے سچی نسبت، اپنے نفس کی اصلاح اور اپنے مرشد کی نیک تعلیمات کو دل میں محفوظ کرکے زندگی میں اتارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲🌹

مرشد کو دیکھتے رہو، مرشد سے سیکھتے رہو، اور مرشد کی تربیت کو اپنے کردار میں محفوظ کرتے جاؤ۔ ❤️🌹

تصوف صرف ذکر، ورد اور خلوت کا نام نہیں؛ تصوف تو یہ ہے کہ آپ کے وجود سے کسی دوسرے انسان کو خیر پہنچے۔ اگر آپ کسی کے لیے خ...
03/09/2026

تصوف صرف ذکر، ورد اور خلوت کا نام نہیں؛ تصوف تو یہ ہے کہ آپ کے وجود سے کسی دوسرے انسان کو خیر پہنچے۔ اگر آپ کسی کے لیے خیر کا دروازہ نہیں بن سکتے تو کم از کم ایسا سبب بن جائیں جس سے اس کی زندگی میں امید اور روشنی داخل ہو۔

اہلِ تصوف نے ہمیشہ دل جوڑنے، گرتوں کو تھامنے اور تھکے ہوئے مسافروں کو سہارا دینے کی تعلیم دی ہے۔ اللہ والے اپنی ذات کے لیے نہیں جیتے؛ ان کی صحبت، ان کی دعا، ان کی شفقت اور حتیٰ کہ ان کی خاموشی بھی کسی نہ کسی کے لیے آسرا بن جاتی ہے۔ یہی وہ اخلاق ہے جس میں بندہ اپنی ذات سے نکل کر مخلوقِ خدا کے کام آنا سیکھتا ہے۔

ہر شخص چراغ نہیں بن سکتا، ہر شخص منزل نہیں دکھا سکتا، مگر ہر شخص کسی تھکے ہوئے انسان کے لیے دیوار ضرور بن سکتا ہے جس سے وہ چند لمحے ٹیک لگا سکے۔ کبھی کسی کا دکھ سن لینا، کسی کی پردہ پوشی کرنا، کسی مجبور کی مدد کرنا، کسی پریشان دل کو تسلی دینا اور کسی خطاکار کو حقارت کی بجائے محبت سے سنبھال لینا بھی راہِ سلوک کے خوبصورت اعمال ہیں۔

حضرت شیخ سعدیؒ کا مشہور مفہوم ہے کہ بنی آدم ایک دوسرے کے اعضا کی مانند ہیں۔ ایک عضو تکلیف میں ہو تو باقی جسم بے قرار ہو جاتا ہے۔ صوفیانہ نگاہ بھی یہی سکھاتی ہے کہ دوسرے کی تکلیف کو صرف "اس کا مسئلہ" سمجھ کر گزر نہ جاؤ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا دل عطا فرمائے جو کسی کو توڑے نہیں، ایسی زبان عطا فرمائے جو زخم نہ دے، ایسے ہاتھ عطا فرمائے جو گرتوں کو تھامیں، اور ایسی زندگی عطا فرمائے کہ ہمارے گزر جانے کے بعد بھی کوئی یہ کہہ سکے:
"اس شخص کی وجہ سے میرے سفر کی کچھ تھکن کم ہوئی تھی۔" 🤍

اللّٰهم اجعلنا مفاتيحَ للخير، مغاليقَ للشر۔
یا اللہ! ہمیں خیر کے دروازے کھولنے والا اور شر کے دروازے بند کرنے والا بنا۔ آمین۔

#تصوف #صوفی #محبت #خیر #روحانیت

تصوف کا اصل راستہ دنیا سے بھاگنے کا نہیں بلکہ دل سے دنیا کی محبت نکال کر اللہ کی محبت پیدا کرنے کا راستہ ہے۔ بندہ دنیا م...
01/09/2026

تصوف کا اصل راستہ دنیا سے بھاگنے کا نہیں بلکہ دل سے دنیا کی محبت نکال کر اللہ کی محبت پیدا کرنے کا راستہ ہے۔ بندہ دنیا میں رہتا ہے، اپنے حقوق و فرائض ادا کرتا ہے، رزقِ حلال کماتا ہے، اہل و عیال کی ذمہ داریاں نبھاتا ہے، مگر اس کا دل اپنے رب کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ قرآنِ کریم فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ﴾ یعنی ایمان والے سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ (البقرۃ: 165)

اہلِ تصوف کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی محبت محض ایک دعویٰ نہیں، بلکہ اس کی علامت اتباعِ رسول اللہ ﷺ، ذکرِ الٰہی، تزکیۂ نفس، اصلاحِ باطن اور اخلاق کی پاکیزگی ہے۔ قرآن کا واضح اصول ہے: ﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ﴾ یعنی فرما دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا۔ (آل عمران: 31) اسی لیے حقیقی تصوف شریعت سے الگ کوئی راستہ نہیں، بلکہ شریعت پر اخلاص کے ساتھ چلتے ہوئے باطن کو سنوارنے کا نام ہے۔

حضرت جنید بغدادیؒ، جنہیں اکابرِ صوفیہ میں انتہائی بلند مقام حاصل ہے، ان سے منقول ہے کہ ہمارا یہ راستہ کتاب و سنت کے اصولوں کا پابند ہے۔ اسی مفہوم کو امام قشیریؒ نے الرسالۃ القشیریۃ میں اکابرِ صوفیہ کے احوال و اقوال کے ضمن میں نمایاں کیا ہے۔ یعنی کشف، حال، جذب، وجد یا کوئی روحانی کیفیت قرآن و سنت سے بالاتر نہیں؛ اصل میزان ہمیشہ شریعتِ محمدی ﷺ ہی ہے۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی تعلیمات میں بھی بار بار یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ اپنے نفس، خواہشات اور دنیا کی غلامی سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اختیار کی جائے۔ فتوح الغیب میں ان کی تعلیم کا مرکزی رخ توکل، اخلاص، نفس کی مخالفت اور اللہ تعالیٰ کی طرف کامل توجہ ہے۔ دنیا ہاتھ میں ہو تو نقصان نہیں، لیکن دنیا دل پر حکومت کرنے لگے تو وہ انسان اور اس کے رب کے درمیان حجاب بن جاتی ہے۔

حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ نے اپنے مکتوبات میں محبتِ الٰہی، اتباعِ سنت، ذکر، اصلاحِ نفس اور شریعت کی پابندی کو روحانی ترقی کی بنیاد قرار دیا۔ ان کے مکتوبات کا ایک نمایاں سبق یہی ہے کہ طریقت اور حقیقت کی قدر اسی وقت ہے جب وہ شریعت کی خدمت کریں؛ روحانی منازل کا مقصد انسان کو احکامِ الٰہی سے آزاد کرنا نہیں بلکہ اس کی بندگی کو مزید کامل بنانا ہے۔

حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ کی مثنوی بھی بار بار انسان کو ظاہری دنیا سے آگے اپنے باطن کی طرف دیکھنے، نفس کی قید توڑنے اور محبوبِ حقیقی کی طرف سفر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ صوفیہ کے ہاں یہی سفر دراصل دل کا سفر ہے: غفلت سے ذکر کی طرف، تکبر سے عاجزی کی طرف، حرص سے قناعت کی طرف، مخلوق کی غلامی سے خالق کی بندگی کی طرف، اور نفس کی محبت سے اللہ و رسول ﷺ کی محبت کی طرف۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾ — سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ (الرعد: 28) یہی تصوف کا خوبصورت حاصل ہے کہ انسان کا ظاہر سنتِ مصطفیٰ ﷺ سے آراستہ ہو، باطن ذکرِ الٰہی سے زندہ ہو، اخلاق مخلوقِ خدا کے لیے رحمت بن جائیں اور دل اپنے حقیقی محبوب، اللہ رب العزت، کی طرف متوجہ ہوجائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اولیائے صالحین کی صحبت و تعلیمات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شریعت، سنت، ذکر، اخلاص، محبت اور ادب کے ساتھ اپنا سفرِ زندگی طے کرنے اور اپنے دل کو اپنی محبت و معرفت سے زندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

تصوف اور سلوک کی راہ میں مرشدِ کامل کی ذات پر کامل یقین اور غیر متزلزل عقیدت ہی وہ بنیادی ستون ہے جس پر مرید کی تمام تر ...
01/09/2026

تصوف اور سلوک کی راہ میں مرشدِ کامل کی ذات پر کامل یقین اور غیر متزلزل عقیدت ہی وہ بنیادی ستون ہے جس پر مرید کی تمام تر روحانی ترقی کا دارومدار ہوتا ہے۔ تصویر میں موجود مبارک قول "مرشد کی ذات پر اگر ایک جو کے دانے کے برابر بھی شک پیدا ہو جائے تو فیض منقطع ہو جاتا ہے" اس گہرے روحانی راز کو فاش کرتا ہے کہ تصوف کی دنیا میں شک، وسوسہ اور اعتراض دلی وابستگی کو دکھی کر دیتے ہیں اور باطنی فیوض و برکات کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ بزرگوں کے نزدیک مرشد کا مقام ایک ایسے وسیلے کا ہے جو طالب کو دنیا کی تاریکیوں سے نکال کر معرفتِ الٰہی کے نور کی طرف لے جاتا ہے۔ اگر اس وسیلے کے بارے میں دل کے کسی کونے میں بھی ذرا برابر شبہ یا اعتراض سر اٹھائے، تو وہ باطنی رابطہ ٹوٹ جاتا ہے جو پیر اور مرید کے دلوں کے درمیان قائم ہوتا ہے۔

امامِ ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی مکتوباتِ شریف میں اس حقیقت پر بہت زور دیتے ہیں کہ مرید کے لیے سب سے بڑا زہر اپنے مرشد کے افعال یا ذات پر اعتراض کرنا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ مرید کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کے چہرے کو تمام اطراف سے موڑ کر صرف اور صرف اپنے پیر کی طرف متوجہ کر لے اور اس کا دل اپنے شیخ کی محبت میں اس طرح گم ہو جائے کہ اسے کائنات میں اپنے پیر سے بہتر کوئی نظر نہ آئے۔ مجدد الف ثانی کے نزدیک اگر مرید اپنے مرشد کے کسی عمل پر اعتراض کرتا ہے یا اس کی نیت پر شک کرتا ہے، تو وہ شریعت اور طریقت دونوں کے آداب سے گر جاتا ہے اور ایسا مرید کبھی بھی ولایت کے اعلیٰ مقامات پر فائز نہیں ہو سکتا کیونکہ اعتراض کا اٹھنا دراصل باطنی محرومی کی علامت ہے۔

سلطان الاولیاء غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی اپنی تعلیمات اور مجالس میں مرید کو سپردگی کا درس دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ مرید کو اپنے شیخ کے سامنے اس طرح ہونا چاہیے جیسے غسال کے ہاتھوں میں مردہ ہوتا ہے، جو اپنی مرضی سے کوئی حرکت نہیں کر سکتا۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب تک مرید اپنے نفس کی چالاکیوں، اعتراضات اور شکوک و شبہات کو اپنے مرشد کی حکمتِ عملی کے سامنے قربان نہیں کر دیتا، تب تک اس کے دل کا تزکیہ ممکن ہی نہیں۔ غوثِ پاک کے مطابق مرشد کا ہر فیصلہ اور ہر تربیت مرید کی باطنی بھلائی کے لیے ہوتی ہے، خواہ ظاہری طور پر مرید کی عقل اس کا احاطہ نہ کر سکے، اس لیے شک کرنا اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔

خواجۂ خواجگان حضرت شاہ بہاؤالدین نقشبند بھی اسی باطنی ربط اور خلوصِ نیت کو طریقت کا نچوڑ قرار دیتے ہیں۔ آپ کے نزدیک نقشبندی سلسلے کی بنیاد ہی صحبت اور مرشد کی کامل محبت پر ہے، جہاں دل سے دل کو فیض منتقل ہوتا ہے۔ شاہ بہاؤالدین نقشبند فرماتے ہیں کہ ہماری اس راہ میں قبولیت کا مدار حسنِ ظن اور تسلیم و رضا پر ہے، اور جو شخص اپنے مرشد کی نسبت کے بارے میں دل میں ادنیٰ سا وسوسہ یا شک لاتا ہے وہ اس باطنی چشمے سے پیاسا رہ جاتا ہے جو اولیاء کے دلوں سے جاری ہوتا ہے۔ پس، تصوف کا یہ متفقہ اصول ہے کہ مرشد کامل کی چوکھٹ پر عقل اور شک کے ہتھیار ڈال کر ہی عشق اور یقین کی دولت سمیٹی جا سکتی ہے۔

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saifi Media posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share