27/03/2026
میں ایک سکول ٹیچر تھا۔ پوری زندگی کی جمع پونجی، اپنا بنیادی بسیرا، وہ زمین جو باپ دادا سے ورثے میں ملی تھی، سب کچھ بیچ کر اپنے اکلوتے بیٹے کو اٹلی بھیج دیا۔ وہ اس وقت صرف چھبیس برس کا تھا، میری آنکھوں کا تارا، میری امید کا اکیلا سہارا۔
پہلے پہل تو وہ فون کرتا رہا۔ آواز میں تھکاوٹ تھی، مایوسی تھی۔ "ابّا، کام نہیں مل رہا، اور پیسے بھیج دو، کرایہ دینا ہے، کھانا ہے۔" میں اپنی سوکھتی ہوئی جیب سے اور پیسے نکالتا، قرض لیتا، اور اسے بھیج دیتا۔ ماں کہتی، "بیٹا، واپس آ جا، یہاں بھی روزی ہے۔" لیکن اسے عزت کا مسئلہ تھا، یا شاید کوئی اور بات جو ہم سمجھ نہ سکے۔
پھر ایک دن وہ فون رک گیا۔
اب پچھلے چوبیس سال سے اس نے ایک فون نہیں کیا۔ چوبیس سال۔ اتنا عرصہ کہ میں نے پوری زندگی اس کے راستے کی طرف تکتے تکتے گزار دی۔ آنکھیں، جو کبھی طالب علموں کے مستقبل پر جگمگاتی تھیں، اب روشنی ہی بھول گئیں۔ سامنے کا صحن، جہاں سے وہ آخری بار نکلا تھا، وہی دروازہ، وہی راستہ—میں وہیں کھڑا رہا، شاید آج آئے گا، شاید کل۔
اس کی ماں، میری بیوی، روتے روتے سوکھ کر رہ گئی۔ رات کو وہ مجھے کوستی، "تیرا لالچ ہی تھا جس نے بیٹا چھین لیا، تعلیم کا ڈینگ، اٹلی کا خواب۔" اور صبح وہ پھر اس کی پرانی شرٹ کو سینے سے لگا کر روتی۔ ایک دن وہ بھی کوستے کوستے، ہجر میں تڑپ تڑپ کر اوپر چلی گئی۔ اس کی آخری نگاہ اسی دروازے پر تھی، جہاں سے بیٹا گیا تھا۔
آج میں تنہا ہوں۔ رشتے دار، جو کبھی میرے بیٹے کی تعلیم پر فخر کرتے تھے، اب روز ذلیل کرتے ہیں۔ "لے، بیٹا اٹلی لے گیا، بوڑھا بنجر ہو کر رہ گیا۔" کوئی پوچھنے والا نہیں، کوئی سہارا دینے والا نہیں۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں، ہم نے ایسا کیا گناہ کر دیا؟ صرف بیٹے کو خواب دکھایا؟ صرف اپنی ساری محبت ایک ہاتھ میں رکھ کر دے دی؟
پتہ نہیں وہ زندہ ہے یا مردہ۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ شاید اس کے پاس فون کرنے کی ہمت نہیں رہی، یا شاید اس کی دنیہ ہی بدل گئی۔ لیکن ایک باپ کی آنکھیں، ایک ماں کا دل—کیا وہ اس سے بے خبر ہو سکتے ہیں؟
آج میں اندھیرے میں بیٹھا ہوں، کھڑکی سے باہر اس راستے کو دیکھتا ہوں جہاں کبھی وہ سائیکل چلا کر سکول جاتا تھا۔ مجھے نہیں معلوم اب میں کس کا انتظار کر رہا ہوں—اس کا، یا صرف اپنی موت کا۔