13/01/2026
کنو / مالٹا
سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی خوبصورت ، خوشبودار اور منفرد ذائقے سے بھرپور کینو اور نارنجیاں جابجا دکھائی دینے لگتے ہیں۔ قدرت کے اس خاص تحفے میں صحت اور جسم کے لیے بہت قیمتی خزانے پوشیدہ ہیں۔ زرعی اجناس میں کینو پاکستان کا سب سے بڑا برآمدی پھل ہے، اور ہمارا ملک کینو پیدا کرنے والا دنیا کا 12 واں بڑا ملک ہے۔ روس پاکستانی کینو کی ایک بڑی درآمدی منڈی ہے اور پاکستان روس کو سالانہ 5 ہزار کنٹینر یعنی 0.13 ملین ٹن کینو برآمد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے۔ پچھلے برس پاکستان میں 4 لاکھ ٹن کینوؤں کی پیداوار ہوئی۔ محکمہ زراعت سے لیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سرگودھا سے سالانہ ساڑھے تین ارب روپے سے زائد مالیت کا 210 ملین ٹن کینو ملائشیا، انڈونیشیا، ایران، افغانستان، روس برآمد کیا جاتا ہے۔ کینو کی مجموعی ملکی پیداوار کا 60 فیصد سرگودھا کے باغات سے حاصل ہوتا ہے، جس کی پروسیسنگ کے لیے وہاں 350 سے زائد فیکٹریاں موجود ہیں اور ہر گزرتے سال کے ساتھ ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق کینو میں وافر مقدار میں قدرتی طور پر وٹامن سی ملتا ہے، کینو میں اسٹرک ایسڈ، وٹامن سی،کیلشیم، میگنیشیم، فولاد، پوٹاشیم، اسفورس، جست اور تانبا وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں، جو اس پھل کو فائدے مند بناتے اور انسانی صحت کو بے شمار فوائد فراہم کرتے ہیں۔ یہ سیب کی طرح بھرپور افادیت والا پھل ہے۔