24/03/2026
ابھی تک کے حالات کو دیکھتے ہوئے آنے والے دنوں میں کیا کیا ممکن ہے؟
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ سب لازمی ہوگا مگر جو کچھ ممکنات میں سے لگ رہا ہے وہ یہ ہے:
- اگلے ماہ سے لڑائی میں مزید شدت آئے گی۔ وہ ممالک جو جنگ سے دور تھے ہو سکتا ہے کہ جنگ میں شامل ہو جائیں۔ سعودی عرب اور عرب امارات کے اس جنگ میں شمولیت کے امکانات کہیں زیادہ ہیں۔
- امریکہ کی جانب سے ہار دیکھتے ہوئے نیوکلئیر آپشن کا استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اگر اسرائیل اور امریکہ ایران میں فوج اتارتے ہیں تو نیوکلئیر آپشن کا استعمال نہیں ہوگا۔
- اسرائیل اور امریکہ اس وقت ایرانی میزائیلوں کو روکنے کی صلاحیت تقریباً ختم کر چکے ہیں جبکہ ایران کی جانب سے نئے اور دور تک مار کرنے والے میزائیلوں کا استعمال بتا رہا ہے کہ ان کے پاس دکھانے کو ابھی بہت کچھ ہے۔
- امریکہ اگر زمینی فوج اتارتا ہے تو اس سے امریکہ اور اسرائیل کا نقصان مزید بڑھے گا۔ یاد رہے کہ امریکی قوم زمینی کاروائی اور پرائی جنگ میں اپنے فوجی مروانے کے سخت خلاف ہے۔
- ٹرمپ کے لئے اگلا ماہ بہت اہم ہے اور میں اب بھی اپنی بات دہراؤں گا کہ جے ڈی وانس امریکہ کا اگلا صدر ہے۔
- ایران امریکی بحری بیڑے پر حملہ نہیں کرے گا، اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ ٹرمپ کو اس جنگ میں کوئی فائدہ ہو اور بحری بیڑے کو نقصان پہنچانے کا مطلب ٹرمپ کی جنگ کو وجہ دینے کے برابر ہے۔ امریکی عوام جو اس جنگ کے خلاف ہے وہ فوری طور پر جنگ کے حق میں ہوگی۔
- مسجد الاقصیٰ کو گرانے والا کام بھی اسی جنگ کے دوران ہو سکتا ہے۔
- اسرائیل کا اس جنگ کا سب سے بڑا مقصد مشرق وسطیٰ سے امریکہ کو باہر نکال کر Pax Judaica کا قیام ہے جس سے وہ خطے میں سوپر پاور بن کر گریٹر اسرائیل کا خواب پورا کر سکتا ہے۔ جو کہ اس جنگ کے اختتام تک ہوتا نظر آرہا ہے۔
- یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والے چند سالوں میں مکہ کا انتظام اس سعودی حکومت کے ہاتھ سے نکل جائے۔