23/07/2025
ملیں یا بچھڑیں مگر تمہی سے وفا کریں گے یہ طے ہوا تھا
ہمیشہ اک دوسرے کے حق میں دعا کریں گے یہ طے ہوا تھا
کہیں رہو تم کہیں رہیں ہم مگر محبت رہے گی قائم
جو یہ خطا ہے تو عمر بھر یہ خطا کرینگے یہ طے ہوا تھا
اداسیاں ہر گھڑی ہو چاہے حیات کانٹوں بھری ہو لیکن
خطوط پھولوں کی پتیوں پر لکھا کرینگے یہ طے ہوا تھا
جہاں مقدر ملائے گا اب وہاں ملینگے یہ شرط کیسی
جہاں ملے تھے وہیں ہمیشہ ملا کرینگے یہ طے ہوا تھا
لپٹ کے رو لینگے جب ملینگے غم اپنا اپنا بیاں کرینگے
مگر زمانے سے مسکرا کر ملا کرینگے یہ طے ہوا تھا
کسی کے آنچل میں کھو گئے تم بتاؤ کیوں دور ہو گئے تم
کہ جان دے کر بھی حق وفا کا ادا کرینگے یہ طے ہوا تھا