Mr. Poet

Mr. Poet Highly intrested inHeart touching Poetry. Motivated and try to express my words

23/07/2025

ملیں یا بچھڑیں مگر تمہی سے وفا کریں گے یہ طے ہوا تھا
ہمیشہ اک دوسرے کے حق میں دعا کریں گے یہ طے ہوا تھا

کہیں رہو تم کہیں رہیں ہم مگر محبت رہے گی قائم
جو یہ خطا ہے تو عمر بھر یہ خطا کرینگے یہ طے ہوا تھا

اداسیاں ہر گھڑی ہو چاہے حیات کانٹوں بھری ہو لیکن
خطوط پھولوں کی پتیوں پر لکھا کرینگے یہ طے ہوا تھا

جہاں مقدر ملائے گا اب وہاں ملینگے یہ شرط کیسی
جہاں ملے تھے وہیں ہمیشہ ملا کرینگے یہ طے ہوا تھا

لپٹ کے رو لینگے جب ملینگے غم اپنا اپنا بیاں کرینگے
مگر زمانے سے مسکرا کر ملا کرینگے یہ طے ہوا تھا

کسی کے آنچل میں کھو گئے تم بتاؤ کیوں دور ہو گئے تم
کہ جان دے کر بھی حق وفا کا ادا کرینگے یہ طے ہوا تھا

20/07/2025

شاہوں کی طرح تھے نہ امیروں کی طرح تھے۔۔۔!!
ہم شہر محبت میں فقیروں کی طرح تھے..!!

دریاؤں میں ہوتے تھے جزیروں کی طرح ہم۔۔!!
صحراؤں میں پانی کے ذخیروں کی طرح تھے۔۔!!

افسوس کے سمجھا نہ ہمیں اہلِ نظر نے۔۔!!
ہم وقت کی زنبیل میں ہیروں کی طرح تھے۔۔!!

غم طوق گلو پاؤں میں زنجیر انا کی ۔!!
آزاد بھی تھے ہم تو اسیروں کی طرح تھے۔۔!!

اب رہ گئے ہم صرف روایات کی صورت۔۔!!
جب تھے تو ہم رنگ نظیروں کی طرح تھے۔۔!!

حیرت ہے کہ وہ لوگ بھی اب چھوڑ چلے ہیں۔۔!!
جو میری ہتھیلی میں لکیروں کی طرح تھے۔۔!!

سوچی نہ بری سوچ کبھی اُن کے لیۓ بھی۔۔!!
پیوست میرے دل میں جو تیروں کی طرح تھے۔۔!

19/07/2025

کبھی یاد آؤں تو پوچھنا
ذرا اپنی فرصتِ شام سے

کِسے عِشق تھا تیری ذات سے
کِسے پیار تھا تیرے نام سے

ذرا یاد کر کہ وہ کون تھا
جو کبھی تجھے بھی عزیز تھا

وہ جو جی اُٹھا تیرے نام سے
وہ جو مر مٹا تیرے نام پے

ہمیں بے رُخی کا نہیں گلہ
کہ یہی وفاؤں کا ہے صلہ

مگر ایسا جرم تھا کونسا ؟
گئے ہم دعا ؤ سلام سے

کبھی یاد آؤں تو پوچھنا
ذرا اپنی فرصتِ شام سے

18/07/2025
18/07/2025

کسی کا عشق، کسی کا خیال تھے ہم بھی
گئے دنوں میں بہت با کمال تھے ہم بھی

ہماری کھوج میں رہتی تھیں تِتلیاں اکثر
کہ اپنے شہر کا حسن و جمال تھے ہم بھی

زمیں کی گود میں سر رکھ کر سو گئے آخر
تمہارے عشق میں کتنے نِڈھال تھے ہم بھی

ہم عکس عکس بکھرتے رہے اسی دُھن میں
کہ زندگی میں کبھی لازوال تھے ہم بھی

18/07/2025

تمہی کو یاد نہ کرتا تو اور کیا کرتا !
تمہارے بعد سبھی نے بھلا دیا ہے مجھے 😢

میں وہ چراغ ہوں،جو آندھیوں میں روشن تھا
خود اپنے گھر کی ہوا نے بجھا دیا ہے مجھے🥀

18/07/2025

تم سے ملنا بھی ہے ملنا بھی نہیں ہے تم سے
آؤ! تم سے سرِ بازار کہیں ملتے ہیں

وہ خوش انداز و خوش اطوار کہیں ملتے ہیں
زندگی! تیرے پرستار کہیں ملتے ہیں

جیسے اک موڑ پہ ملتے ہیں کہیں شام و سحر
اس طرح بھی دل و دلدار کہیں ملتے ہیں

جو سماعت کو کریں قلب و نظر سے آمیز
اس کہانی میں وہ کردار کہیں ملتے ہیں

جیسی آنکھیں ہیں تری اور یہ دل ہے جیسا
ایسے شرمندۂ اظہار کہیں ملتے ہیں

ڈھونڈتے ہیں جسے ہم آپ سرِ راہِ سلوک
وہ لطائف تو سرِ دار کہیں ملتے ہیں

ایک دیوانۂ دنیا کا تھا جنت سے سوال
کیا یہاں درہم و دینار کہیں ملتے ہیں

کسی بازار میں ملتی ہے جنوں نام کی شے
حوصلے عشق کے تیار کہیں ملتے ہیں

تم سے ملنا بھی ہے ملنا بھی نہیں ہے تم سے
آؤ! تم سے سرِ بازار کہیں ملتے ہیں

ڈھونڈ لے ڈھونڈ سکے کوئی اگر راہِ فرار
ایک جانب در و دیوار کہیں ملتے ہیں

یا تری بزم میں ہیں یا مرے دل میں ظفر
زندگی کے اگر آثار کہیں ملتے ہیں

18/07/2025

مُحبّت کے صحیفوں میں جہاں تحریف ہوتی ہے
وہاں پھر ہجر کی آیات کی تصنیف ہوتی ہے

محبت تو نہیں لیکن انوکھا ربط ہے کوئی
مجھے اک شخص_کی تکلیف سے تکلیف ہوتی ہے

Address

Main Sofia Abad Attari Darbar Lahore
Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mr. Poet posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share