خیبر سے بڑھ کر ہے معرکہ غزہ و فلسطین
کیا تم اک بھی حیدر کرار نہیں
گزشتہ دو سال سے یہود کے غزہ میں بے انتہا ظلم و بربریت پر امت کی دائمی خاموشی یہی بتاتی ہے کہ معرکہ غزہ و فلسطین تو خیبر سے بڑھ کر ہے کہ یہود کے خلاف لڑا جائے مگر افسوس صد افسوس امت میں کوئی حیدر کرار کے راستے پر چلنے والا نظر نہیں آتا تھا ایسے اسلام آباد کی سڑکوں پر سینٹر مشتاق احمد خان صاحب کہیں گرفتار ہوتے ہیں پھر نکلتے ہیں پھر پکڑے جاتے ہیں حتیٰ کہ بارہا گرفتار ہوئے لیکن غزہ کے مظلوموں کی حمایت میں بار بار میدان کارزارِ میں نظر آتے اور اب تیونس کے سمندروں سے بحر نیل کی طغیانیوں کا سفر کرتے ہوئے جب مظلوم کی مدد کو غزہ کے دھانے پر پہنچے تو گرفتار ہوگئے لیکن ایک فکر ایک نظریہ بتاگے کہ اگر امت کا درد ہو مظلوموں کی داد رسی کی فکر ہو سرحدوں کی پابندیاں ختم ہوجایا کرتی ہیں اور ناممکن کی بھی ممکن ہوتا ہے تمام اراکین عالمی گلوبل صمود فلوٹیلا کی جلد رہائی کے لیے مسلم ممالک کو اقدامات کرنے چاہئیں اور غزہ کے مظلوموں تک امداد پہنچانے میں عملی کردار ادا کرنا چاہیے
Mushtaq Ahmad Khan
Greta Thunberg
01/10/2025
دین محبت اخوت امن کے ساتھ ساتھ غیرت کا بھی پیغام دیتا ہے گلوبل صمود فلوٹیلا کو تحفظ دو
04/07/2025
کربلا بیان کرنا مشکل ہے
تو سہنا کتنا مشکل ہو گا۔
تحریر محمد عاطف مصطفائی ۔
آج مورخہ چار جولائی 2025بمطابق 8محرم الحرام 1447ہجری بروز جمعہ المبارک جامع مسجد غازی علم الدین شہید رنگ محل لاہور میں جمعہ کا خطبہ دینے کی سعادت حاصل ہوئی الحمدللہ بچپن سے ہی تقریری فن سے ایک لگاؤ ہے اور کم عمری میں ہی اتنی کثرت کے ساتھ مختلف مواقعوں پر بیان کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے بسبب ایں کے اب مجمعے کا کچھ خوف نہیں ہوتا ۔
جبکہ آج کا خطبہ کچھ مختلف تھا کربلا کے مکمل موضوع پر گفتگو کو جی چا رہا تھا رات اور صبح بھی کتب تاریخ سے لو لگائی تاریخ کربلا نے پڑھتے ہوئے بھی رونے پر مجبور کیا پھر حضرت شیخ محمد ثاقب مصطفائی صاحب کا واقعہ کربلا پر بیان بھی سنا اور آخر کار خطبہ کا وقت ہوا چونکہ ارادہ مکمل بیان کا تھا اسی لئے مدینہ کے دارلامارت سے شروع کیا امام حسین رضی اللہ عنہ کی بہادری کے قصے سنائے اور پھر امام حسین رضی اللہ عنہ کا مدینہ سے الوداع کہہ کر مکہ جانا اور آٹھہ زلحج کو مکہ مشرفہ سے کوفہ کی جانب گامزن ہونا اور حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر کے بعد بھی سفر جاری رکھنا اور پھر میدان کربلا میں خیمہ زن ہونا اور 7محرم الحرام کوثر کے مالکین پر نہر فرات کے پانی کا بند ہونا حضرت علی اصغر کا امام حسین رضی اللہ عنہ کے ہاتھ مبارک میں شہید ہونا 18سالہ علی اکبر کا میدان میں لڑتے ہوئے شہید ہونا اور پھر بھائی عباس کے کٹے بازو اور المناک شہادت بتھجیے قاسم کی شہادت یہاں تک کہ ایک ایک کرکے 71افراد کا شہید ہونا اور امام حسین رضی اللہ عنہ کا میدان میں جانا بہن حضرت زینب بنت علی رضی اللہ عنہ کا پریشان ہونا لیکن امام حسین کا اکیلے بائیس ہزار کے لشکر کا سامنا کرنا کائنات میں بہادری کی تاریخ ساز مثال ہے یزیدی لشکر کا محمدی کچھار سے نکلے ہوئے حیدری شیر کے آگے بھیڑ بکریوں کی طرح بھاگنا گویا وہ یہ آواز لگا رہے ہوں۔
(کون باوقار ہے بلا کا شہسوار ہے
لباس ہے پٹھا ہوا غبار سے اٹا ہوا
تمام ہی جسم ہے زخموں سے چھیدا کٹا ہوا
وہ نبی کا نور عین ہے
بالیقین حسین ہے بالیقین حسین ہے)
اور پھر سجدہ کی حالت میں شہید ہونا اور پھر اس کے بعد خانوادہ نبوت کے ساتھ جو ہوا وہ بیان کرنے سے لب قاصر اور لکھتے ہوئے ہاتھ کانپتے ہیں لیکن آخر میں پھر وہی کہ کربلا بیان کرنا اتنا مشکل ہے سہنا کتنا مشکل ہوگا
آل نبی کی استقامت کو سلام
اہلبیت سے محبت اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں ۔
اے نازش آل نبی تم پر سلام
اے حسین ابنِ علی تم پر سلام #
24/06/2025
آیا ہوں اپنے گاؤں میں چھوٹے سے کام سے
ہر شخص مل رہا ہے بڑے احترام سے
حالانکہ سالوں بعد میں آیا ہوں اس طرف
ہر شخص آشنا ہے یہاں میرے نام سے
شہروں کی بھیڑ لے گئی القاب چھین کر
مجھ کو گرا دیا گیا میرے مقام سے
میں کیا بتاؤں شہر ہے مصنوعی زندگی
روٹھے ہوئے سے لوگ ہیں رشتے ہیں خام سے
شہروں کی زندگی کی چمک ٹھیک ہے مگر
کیسا موازنہ بھلا گاؤں کی شام سے
Be the first to know and let us send you an email when ATIF NAZIR posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.