24/05/2026
*یومِ عرفہ: جب عشق نے زمان و مکان کی حدوں کو توڑ دیا*
کاوش: محمد جہانزیب
اے عازمینِ حج, اے ربِ ذوالجلال کے چنے ہوئے ضیوفِ رحمان!
اور اے دیارِ وطن میں بیٹھے ہوئے تشنہ لبو! سن لو! منگل کا سورج کوئی عام سورج نہیں ہوگا۔
یہ کائنات کی تاریخ کا وہ عظیم ترین دن ہے جس کا انتظار عرش والے بھی کرتے ہیں اور فرش والے بھی۔
یہ وہ دن ہے جب عرش کا مالک اپنی شانِ بے نیازی کو چھوڑ کر، دنیا کے آسمان پر نزول فرماتا ہے اور فرشتوں کے سامنے تمہارا فخر سے تذکرہ کرتا ہے۔
اندر کا شور خاموش کر دیجیئے اور ذرا اس لفظ کے جادو میں گم ہو جائیے جو مکہ کے ذرے ذرے سے پھوٹ رہا ہے۔
💎 ع۔ ر۔ ف کا ماخذ 💎
عارف، عرفہ اور عرفات
تاریخ کے اوراق الٹیں، تو کائنات کی سب سے پہلی اور سب سے خوبصورت داستانِ محبت اسی "ع۔ ر۔ ف" (ع ر ف) کے ماخذ سے جڑی ہے۔
*عرفات کیا ہے؟*
یہ وہ مقامِ مقدس ہے جہاں جنت سے زمین پر اتارے جانے کے بعد، طویل جدائی کے ہجر کو کاٹ کر، سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا علیہا السلام کی پہلی ملاقات ہوئی تھی، جہاں انہوں نے ایک دوسرے کو پہچانا (عرف) تھا۔
*عرفہ کیا ہے؟*
یہ وہ زمان ہے، وہ دن ہے، جہاں سیدنا ابراہیم خلیل اللّہ علیہ السلام کو جبرائیلِ امیں نے مناسکِ حج سکھائے اور پوچھا تھا: "کیا آپ نے پہچان لیا؟" اور انہوں نے جواب دیا تھا: "ہاں، میں نے جان لیا" (عرفتُ)۔
*عارف کون ہے؟*
عارف وہ تشنہ لب بندہ ہے جو اس دن اپنے گناہوں کے اعتراف کے ساتھ، اپنے رب کی ربوبیت کا ادراک کر لے!
یہ صرف ایک زمین کا ٹکڑا یا ایک دن کا نام نہیں ہے۔ یہ "ع۔ ر۔ ف" دراصل "معرفت" کا وہ سمندر ہے جہاں پہنچ کر بندہ اپنے نفس کو پگھلا دیتا ہے اور اپنے خالق کی لازوال محبت کو پا لیتا ہے۔
یہ وہ رومانوی اور روحانی مقام ہے جہاں پہنچ کر "میں" مر جاتی ہے اور صرف "تو ہی تو" باقی رہ جاتا ہے۔
اے 2026 کے حاجیوں! منگل کے روز جب تم میدانِ عرفات میں جبلِ رحمت کے سائے تلے کھڑے ہو گے، تو یاد رکھنا کہ تمہارے آقا، تاجدارِ کائنات ﷺ نے اسی میدان میں اونٹنی پر سوار ہو کر، زوالِ آفتاب سے لے کر غروبِ آفتاب تک، ہاتھ اٹھا کر اتنی لمبی دعا مانگی تھی کہ آپ ﷺ کے مبارک ہاتھ تھک گئے تھے مگر التجا ختم نہیں ہوئی تھی۔
قرآنِ پاک گواہی دیتا ہے:
"فَإِذَا أَفَضْتُم مِّنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ"
(پھر جب تم عرفات سے واپس لوٹو، تو مشعرِ حرام (مزدلفہ) کے پاس اللہ کا ذکر کرو)
حدیثِ پاک میں آقا علیہ السلام نے فرمایا: "الحَجُّ عَرَفَة" (حج تو نام ہی عرفہ کا ہے!)۔ یعنی جس کا عرفات چھوٹ گیا، اس کا حج چھوٹ گیا۔
سلف صالحین کے احوال میں آتا ہے کہ حضرت عبداللّٰہ بن مبارکؒ فرماتے ہیں کہ میں یومِ عرفہ کے دن میدانِ عرفات میں حضرت سفیان ثوریؒ کے پاس گیا، وہ گھٹنوں کے بل بیٹھے تھے اور ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں تھا۔ میں نے پوچھا: "آج اس میدان میں سب سے زیادہ بدبخت اور محروم کون ہے؟" انہوں نے تڑپ کر فرمایا: "وہ شخص جو آج کے دن بھی یہ سوچے کہ اللہ اس کے گناہوں کو معاف نہیں کرے گا!" 😭
اے عازمینِ حج! عرفہ کے دن سستی مت کیجئے گا۔ غرق ہو جائیے دعاؤں میں! اپنی انا، اپنے شکوے، اپنے دکھڑے، سب بہا دیجیے اس دن کے آنسوؤں میں۔
مانگیے اپنے لیے، اپنے پیاروں کے لیے، امتِ مسلمہ کے لیے... کیونکہ اس دن رب کی رحمت کا ہاتھ سب سے زیادہ کھلا ہوتا ہے۔
اب ذرا ان تشنہ لبوں کی طرف آئیے جو اس سال مکہ کی مٹی کو چھو نہ سکے، جو اپنے گھروں کی کھڑکیوں سے نیلے آسمان کو تک رہے ہیں۔
میرے رب کا ظرفِ ربانی دیکھیے! اس نے فرمایا: "اگر میرے کچھ عاشق مکہ کے میدان میں کھڑے ہو کر پکار رہے ہیں، تو جو دور بستیوں میں بیٹھ کر ان کی یاد میں تڑپ رہے ہیں، میں انہیں بھی محروم نہیں رکھوں گا!"
آقا علیہ السلام نے فرمایا:
"صِیَامُ یَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ"
(میں اللہ سے گمان رکھتا ہوں کہ عرفہ کے دن کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے)
سبحان اللّہ! ایک دن کی بھوک اور پیاس... اور دو سال کے گناہوں کی معافی؟ یہ کوئی حساب کتاب نہیں ہے، یہ تو سراسر عشق کا سودا ہے!
جب وطن میں بیٹھا مومن عرفہ کے دن روزہ رکھتا ہے، تو اس کا سوکھا ہوا حلق اور اس کی پیاس سیدھی مکہ کے حاجیوں کے احرام کے پسینے سے جا ملتی ہے۔ وہ یہاں پیاسا ہوتا ہے، اور وہاں عرش پر اس کے نام کے پروانے جاری ہو رہے ہوتے ہیں۔
اے نیلے پردوں والے پروردگار! اے ازل سے ابد تک محبت کرنے والے مولا! منگل کا یہ دن عازمینِ حج کے لیے بھی اور ہم گناہگاروں کے لیے بھی مغفرت کا پروانہ بنا دے۔
الٰہی! حاجیوں کے وقوف کو قبول فرما اور وطن میں بیٹھ کر روزہ رکھنے والوں کی پیاس کو قبول فرما۔ ہمیں اس سال کی قربانی کو شرعی حدود کے اندر، پورے ہوش اور سچے دل کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین! 🤲 🕋 🌹