Meer Abbasi

Meer Abbasi سنبھال خود کو ابھی داستان باقی ہے♥️🧿

یہ وہ شخص ہے جسکا نام نعیم اکرم، والد کا نام محمد اکرم شاہ اور اسکے بوس کا نام سید رضا شاہ ہے یہ اور اسکا بوس لوگوں سے ف...
30/12/2022

یہ وہ شخص ہے جسکا نام نعیم اکرم، والد کا نام محمد اکرم شاہ اور اسکے بوس کا نام سید رضا شاہ ہے یہ اور اسکا بوس لوگوں سے فراڈ کرتے موبائیل انسٹالمینٹ دینے کے بہانے سے لوگوں سے پیسے منگواتے ہیں پہلے بولتے ہیں آپ ایڈوانس دے اور اس کے بعد بولتے ہیں آپ کو jazzcash کرنا تھا easy paisa نہیں پہر ايسے ہی دوبارا کرے اور اپنی رقم واپس لے پہر ایسا بولتے ہیں آپ کو easy paisa کرنا تھا jazzcash نہیں پھر بولتے ہے اب پہد سے دوبارا کرو اور اپنی پہلی والی رقم واپس لو پہر وہ بیجھنے والا آدمی بہی کیا کر سکتا ہے وہ بولتا بس مجھے پیسے واپس چائیے اس حساب سے اور غلطی کرتا اور پیسے بیجھتا ہے اور وہ فراڈ والے ہر دفعا ایسا کرتا اور ا لاکھ سے زیادہ پیسا منگواتا پہر لوگ تنگ آ کر پیسے واپس کے لیے بولتے ہیں تو بولتا ہے اور کرو تو میں آپکو واپس کرونگا سب پیسے پہر وہ اپنے بوس سے بات کرواتا ہے پہر اسکا بوس بہی یقین دلا کر کے پیسے واپس کرونگا پہر لوگ بہی یقین کرکے اسے پیسے بھجتے ہیں اور وہ بہی پھر ایسا کرتا ہے اور جب واپس ک بولتے ہیں تو وہ اپنا نمبر ہی بلاک کر دیتا ہے اور جب اس سے پیسے واپس کا بولتے ہیں تو بولتا کرتا ہوں واپس پہر بولتا ہے یہ App ،ڈاؤنلوڈ کرو اور اپنا اکاؤنٹ بناو اس پر بجھونگا پہر بولتا اب دوسرا کرو ایسے ہی ہر دفع نیا App ڈاؤنلوڈ کرواتا ہے اور بولتا اس پر بہی اکاؤنٹ بناو ایسے ہی کرکے پیسے واپس ہی نہی بیجھتا اور آخر میں یہ بھی اپنا نمبر بند کتر دیتا ہے اور لوگوں کو پیسے واپس ہی نہی کرتے
اور یہ ہیں انکے ثبوت یہ کچھ ثبوت جو اسکرین شارٹ messages
میں پولیس سےگزارش کرتا ہوں کہ ایسے فراڈی لوگوں کو جلدی سے جیل میں ڈالو اور بڑی سزا دے جیسے یہ ایسا دوبارا کرنے کا سوچے بھی نہی
اور اسے آگے share کرے اور پورے پاکستان میں انکی حقیقت ظاہر ہو
مھربانی-__

Address

Larkana
Larkana

Telephone

+923333245811

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Meer Abbasi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Meer Abbasi:

Share