M.Tariq143

M.Tariq143 asalam O Alaikum All guys in this page specially for entertainment video tiktok snack

Support me
06/08/2025

Support me

05/08/2025
04/08/2025

آٹھ وطن کے نوجوان ...

5 اگست ہے للکار ۔۔عمران خان کا نیو سونگ ۔
04/08/2025

5 اگست ہے للکار ۔۔عمران خان کا نیو سونگ ۔

5 اگست ہے للکار ۔۔عمران خان کا نیو سونگ ۔ ...

04/08/2025

Pi is a network of tens of millions of humans mining Pi cryptocurrency to use and build the Web3 app ecosystem.

Qasim aur Shulman apna farz Nibha rahay Hain. Life,share follow please
04/08/2025

Qasim aur Shulman apna farz Nibha rahay Hain. Life,share follow please

Share, Like,follow
04/08/2025

Share, Like,follow

04/08/2025
04/08/2025
          پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا جاری فراڈایک نوجوان لندن کے ایک بین الاقوامی بینک میں معمولی سا کیشیر تھا اس نے بی...
05/07/2025









پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا جاری فراڈ

ایک نوجوان لندن کے ایک بین الاقوامی بینک میں معمولی سا کیشیر تھا اس نے بینک کے ساتھ ایک ایسا فراڈ کیا جس کی وجہ سے وہ بیسویں صدی کا سب سے بڑا فراڈیا ثابت ہوا‘
وہ کمپیوٹر کی مدد سے بینک کے لاکھوں کلائنٹس کے اکاؤنٹس سے ہر روز ایک‘ ایک پینی نکالتا تھا.
اور یہ رقم اپنی بہن کے اکاؤنٹ میں ڈال دیتا تھا۔
وہ یہ کام پندرہ برس تک مسلسل کرتا رہا۔
یہاں تک کہ اس نے کلائنٹس کے اکاؤنٹس سے کئی ملین پونڈ چرا لیے،۔
آخر میں یہ شخص ایک یہودی تاجر کی شکایت پر پکڑا گیا‘
یہ یہودی تاجر کئی ماہ تک اپنی بینک سٹیٹ منٹ واچ کرتا رہا۔
اور اسے محسوس ہوا کہ اس کے اکاؤنٹ سے روزانہ ایک پینی کم ہو رہی ہے۔
چنانچہ وہ بینک منیجر کے پاس گیا‘ اسے اپنی سابق بینک اسٹیٹمنٹس دکھائیں۔
اور اس سے تفتیش کا مطالبہ کیا...
منیجر نے یہودی تاجر کو خبطی سمجھا ‘
اس نے قہقہہ لگایا اور دراز سے ایک پاؤنڈ نکالا۔
اور یہودی تاجر کی ہتھیلی پر رکھ کر بولا
’’ یہ لیجئے میں نے آپ کا نقصان پورا کر دیا ۔
یہودی تاجر ناراض ہو گیا‘
اس نے منیجر کو ڈانٹ کر کہا ۔
’میرے پاس دولت کی کمی نہیں‘
میں بس آپ لوگوں کو آپ کے سسٹم کی کمزوری بتانا چاہتا تھا‘‘
وہ اٹھا اور بینک سے نکل گیا،
یہودی تاجر کے جانے کے بعد منیجر کو شکایت کی سنگینی کا اندازا ہوا‘
اس نے تفتیش شروع کرائی تو شکایت درست نکلی*
اور یوں یہ نوجوان پکڑا گیا.
یہ لندن کا فراڈ تھا لیکن ایک فراڈ پاکستان میں بھی ہو رہا ہے۔
اس فراڈ کا تعلق پیسے کے سکے سے جڑا ہے۔
پاکستان کی کرنسی یکم اپریل 1948ء کو لانچ کی گئی تھی۔
اس کرنسی میں چھ سکے تھے‘
ان سکوں میں ایک روپے کا سکہ‘
اٹھنی‘ چونی‘ دوانی‘ اکنی‘ ادھنا
اور ایک پیسے کا سکہ شامل تھے‘
پیسے کے سکے کو پائی کہا جاتا تھا،
اس زمانے میں ایک روپیہ 16 آنے
اور 64 پیسوں کے برابر ہوتا تھا۔
یہ سکے یکم جنوری 1961ء تک چلتے رہے‘
1961ء میں صدر ایوب خان نے ملک میں عشاریہ نظام نافذ کر دیا۔
جس کے بعد روپیہ سو پیسوں کا ہو گیا۔
جبکہ اٹھنی‘ چونی‘ دوانی اور پائی ختم ہو گئی۔
اور اس کی جگہ پچاس پیسے‘ پچیس پیسے‘ دس پیسے‘ پانچ پیسے
اور ایک پیسے کے سکے رائج ہو گئے.
یہ سکے جنرل ضیاء الحق کے دور تک چلتے رہے۔
لیکن بعد ازاں آہستہ آہستہ ختم ہوتے چلے گئے۔
یہاں تک کہ آج سب سے چھوٹا سکہ ایک روپے کا ہے۔
اور ہم نے پچھلے تیس برسوں سے۔
ایک پیسے‘ پانچ پیسے‘ دس پیسے اور پچیس پیسے کا کوئی سکہ نہیں دیکھا۔
کیوں...؟
کیونکہ اسٹیٹ بینک یہ سکے جاری ہی نہیں کر رہا
لیکن آپ حکومت کا کمال دیکھئے
حکومت جب بھی پیٹرول‘ گیس اور بجلی کی قیمت میں اضافہ کرتی ہے
تو اس میں روپوں کے ساتھ ساتھ پیسے ضرور شامل ہوتے ہیں
مثلاً آپ پیٹرول کے تازہ ترین اضافے ہی کو لے لیجئے‘
حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 92 پیسے اضافہ کیا۔
جس کے بعد پٹرول کی قیمت 266 روپے 13 پیسے‘
ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 273 روپے 65 پیسے
اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 269 روپے 94 پیسے ہو گئی ۔
اب سوال یہ ہے کہ ملک میں پیسے کا تو سکہ ہی موجود نہیں ھے۔
لہٰذا جب کوئی شخص ایک لیٹر پیٹرول ڈلوائے گا تو کیا پمپ کا کیشیر اسے 87 پیسے واپس کرے گا...؟
نہیں وہ بالکل نہیں کرے گا
چنانچہ اسے لازماً 62 کی جگہ 63 روپے ادا کرنا پڑیں گے...
یہ زیادتی کیوں ہے...؟
اب آپ مزید دلچسپ صورتحال ملاحظہ کیجئے‘
پاکستان میں روزانہ 3 لاکھ 20 ہزار بیرل پیٹرول فروخت ہوتا ہے،
آپ اگراسے لیٹرز میں کیلکولیٹ کریں
تو یہ 5 کروڑ 8 لاکھ 80 ہزار لیٹرز بنتا ہے،
آپ اب اندازا کیجئے اگر پٹرول سپلائی کرنے والی کمپنیاں* *ہر لیٹر پر87 پیسےاڑاتی ہیں
تویہ کتنی رقم بنے گی...؟

یہ 4 کروڑ 42 لاکھ 65 ہزار روپے روزانہ بنتے ہیں جناب...
یہ رقم حتمی نہیں کیونکہ تمام لوگ پیٹرول نہیں ڈلواتے‘
کچھ صارفین ڈیزل اور مٹی کا تیل بھی خریدتے ہیں
اور زیادہ تر لوگ پانچ سے چالیس لیٹر پیٹرول خریدتے ہیں
اور بڑی حد تک یہ پیسے روپوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں
لیکن اس کے با وجود پیسوں کی ہیرا پھیری موجود رہتی ہے،
مجھے یقین ہے اگر کوئی معاشی ماہر اس ایشو پر تحقیق کرے ‘
وہ پیسوں کی اس ہیرا پھیری کو مہینوں‘
مہینوں کو برسوں
اور برسوں کو 30 سال سے ضرب دے
تو یہ اربوں روپے بن جائیں گے گویا ہماری سرکاری مشینری
30 برس سے چند خفیہ کمپنیوں کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچا رہی ہے
اور حکومت کو معلوم تک نہیں.

ہم اگر اس سوال کا جواب تلاش کریں
تو یہ پاکستان کی تاریخ کا بہت بڑا اسکینڈل ثابت ہوگا...
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کرپشن کا والیم۔
ساڑھے چار کروڑ روپے نہ ہو
لیکن اس کے با وجود یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا
کہ جب اسٹیٹ بینک پیسے کا سکہ جاری ہی نہیں کر رہا
تو حکومت کرنسی کو سکوں میں کیوں ماپ رہی ہے
اور ہم ’’راؤنڈ فگر‘‘ میں قیمتوں کا تعین کیوں کرتے ہیں...؟
ہم 62 روپے 13 پیسوں کو
62 روپے کر دیں یا پھر پورے 63 روپے کر دیں
تا کہ حکومت اور صارفین دونوں کو سہولت ہو جائے۔
حکومت اگر ایسا نہیں کر رہی تو پھر اس میں یقیناً کوئی نہ کوئی ہیرا پھیری ضرور موجود ہے۔
کیونکہ ہماری حکومتوں کی تاریخ بتاتی ہے۔
ہماری ظالم بے حس کرپٹ بیورو کریسی کوئی ایسی غلطی نہیں دہراتی۔
جس میں اسے کوئی فائدہ نہ ہو ۔
#منقولة

Address

Bahwalpur
Liaquatpur
64000

Telephone

+923040753326

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M.Tariq143 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to M.Tariq143:

Share