13/03/2026
**محترم جناب السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ،*
محترم جناب قابل احترام
سینئر افسران بالا ۔
میپکو کمپنی ملتان ۔۔
لیاقت پور سب ڈویژن
چند اہم نکتہ نظر قابل توجہ
**آئی اوپس (ایپس) سسٹم میں پیش آنے والی تکنیکی و انتظامی خامیوں اور صارفین کو درپیش مشکلات سے متعلق
چند اہم گزارشات*
چند ماہ قبل کمپنی کی جانب سے ایسے نظام کو ختم کر کے ایک نیا **ایپس سسٹم** متعارف کرایا گیا۔ اس نظام کا بنیادی مقصد ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے شفافیت لانا اور موجودہ نظام سے کرپشن کا خاتمہ تھا۔ تاہم عملی طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ اس سسٹم پر کام کرتے ہوئے محکمانہ ذمہ داران اپنے فرائض از خود انجام نہیں دے رہے، جس کی وجہ سے صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
نیا سسٹم حسب ذیل مراحل پر مشتمل ہے:
1. درخواست آن لائن جمع ہونا۔
2. تصدیق شدہ دستاویزات کا معائنہ (ویریفیکیشن ڈاکومنٹ)۔
3. ڈی آر ایم سیکشن سے تصدیق کہ مذکورہ مکان یا بلڈنگ پر کوئی بقایا جات ) تو نہیں ہیں۔
4. فیلڈ سروے یعنی لائن سپریڈنٹ کا موقع پر جا کر معائنہ کرنا۔
5. آخر میں میٹر انسپیکٹر بمعہ ایس ڈی سی کا ریفرنس نمبر الاٹ کرنا
**پیش نظر مسئلہ:**
اصولی طور پر یہ توقع کی گئی تھی کہ سسٹم خودکار طریقے سے تمام ذمہ داران (ٹائپ ون سے ٹائپ فور) کو مطلع کر دے گا اور وہ بغیر کسی تاخیر کے اپنے مراحل مکمل کر کے ڈیمانڈ نوٹس جاری کریں گے۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو رہا ہے۔
**مشاہدات اور خامیوں کا ازالہ:**
- آج بھی صارف کو خود ہر متعلقہ ذمہ دار کو جا کر بتانا پڑتا ہے کہ ان کے سسٹم پر ایک درخواست آئی ہے اور اس کی ویریفکیشن کا پراسس کیا جائے۔
- جبکہ تمام ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ خود سسٹم کو مانیٹر کریں اور صارف کے بتانے کی نوبت ہی نہ آئے۔
- مزید برآں، مختلف حوالوں سے صارفین کو پریشان کیا جاتا ہے اور الجھاؤ پیدا کیا جاتا ہے کہ "فلاں کا کام پہلے ہوگا، پھر میرا کام ہوگا"۔ یہ رویہ انتہائی غیر پیشہ ورانہ اور سمجھ سے بالاتر ہے۔
1. کیا کمپنی نے تمام ذمہ داران افسران کو **ایپس مینجمنٹ سسٹم** چلانے کی باقاعدہ تربیت (ٹریننگ) فراہم نہیں کی؟ اگر فراہم کی گئی تھی تو پھر عملے کی اس بے عملی کی وجہ کیا ہے؟
2. براہ کرم نظام میں خودکار (آٹومیشن) کو بہتر بنایا جائے تاکہ کوئی بھی درخواست کسی مرحلے پر التوا کا شکار نہ ہو۔
3. تمام افسران کو ہدایت جاری کی جائے کہ وہ از خود سسٹم کو چیک کریں اور صارفین کو دفتر کے چکر لگانے کی نوبت نہ آئے۔
امید ہے کہ اعلیٰ حکام اس اہم مسئلے کو مد نظر رکھتے ہوئے فوری اصلاحات عمل میں لائیں گے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے اور نظام پر اعتماد بحال ہو۔
از تحریر عاطف جی