صحت اور تربیت ساتھ ساتھ

صحت اور تربیت ساتھ ساتھ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from صحت اور تربیت ساتھ ساتھ, Mandi Bahauddin.
(3)

آپ تمام احباب کو خوش آمدید۔
یہاں آپکو صحت سے متعلقہ قیمتی معلومات،مزاح اور حقائق سے بھرپور کونٹینٹ ملے گا جسے آپ لازمی پسند کریں گے۔
واٹس ایپ اور فیس بک پیڈ پرموشن (Paid Promotion) کے لیے رابطہ کرسکتے ہیں۔ اسلام علیکم دوستو،
اس پیج میں آپکی تربیت کے ساتھ ساتھ آپکو صحت کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی جائیں گی.
کسی بھی مشورے یا دوا منگوانے کے لیے رابطہ کریں
اپنے دوستو کو پیج ضرور انوائیٹ کیجیۓ گا.شکریہ.
ڈاکٹر عمیر شکور

08/11/2025

آج کل شادی کا مطلب ہے سالوں کی محنت سے کمائی گئی رقم کو ایک ایسے دن پر خرچ کرنا، جس کا مقصد 400 ایسے لوگوں کو خوش کرنا ہوتا ہے، جو کبھی بھی آپکو خوش نہیں دیکھنا چاہتے۔

ڈرائنگ ماسٹر مجھے ہمیشہ کہتے  "اُلّو بناو" مگر مجھ سے نہ بنتا تو غصے سے کہتے ؛"کبھی اُلّو دیکھا ہے؟"میں شرم سے ادھر ادھر...
07/11/2025

ڈرائنگ ماسٹر مجھے ہمیشہ کہتے "اُلّو بناو" مگر مجھ سے نہ بنتا تو غصے سے کہتے ؛
"کبھی اُلّو دیکھا ہے؟"
میں شرم سے ادھر ادھر دیکھنے لگتا تو کہتے
"ادھر ادھر کیا دیکھ رہے ہو میری طرف دیکھو"

ڈاکٹر یونس بٹ 😁

"دماغ کا ڈاکٹر" شوھرِ نامدار کو بیوی کی دماغی حالت پر شبہ تھا. لہذا دماغی امراض کے بہت ھی مقبول ڈاکٹر سے ٹائم لیا اور بی...
07/11/2025

"دماغ کا ڈاکٹر"

شوھرِ نامدار کو بیوی کی دماغی حالت پر شبہ تھا. لہذا دماغی امراض کے بہت ھی مقبول ڈاکٹر سے ٹائم لیا اور بیوی کو لے کر پہنچے.....

جی بی بی....
کیا مسئلہ ھے؟
ڈاکٹر صاحب!! یہ تو آپ نے بتانا ھے نا؟
ڈاکٹر کچھ دیر کے لیئے خاموش ھوا...
اور پھر ھوش سنبھالتے ھوئے گویا ھوئے....
اچھا تو یہ بتائیں کہ کیا مصروفیات ھیں آپکی؟
میرا مطلب ھے سارا دن کیسے بتاتی ھیں؟
ڈاکٹر صاحب!
گھریلو کام کاج میں ھی گزرتا ھے گھر میں شوھر ھیں..... انکی والدہ ھیں..... ھمارے بچے ھیں گھر بار کو دیکھنا..... سارا دن ایسے ھی گزرتا ھے جی.....
اسکے علاوہ کیا مشاغل ھیں؟
بس سر! تھوڑا بہت لکھنے کا شوق ھے...
اوھو... تو میں اس وقت ایک لکھاری سے بات کر رھا ھوں.....
نہیں سر! لکھاری کہاں.. میری تو دماغی حالت ھی سہی نہیں تو.......
اچھا... یہ بتائیں زیادہ تر کیا لکھتی ہیں؟ یعنی کن موضوعات پر لکھنا پسند ھے؟
ایسا کچھ خاص تو نہیں بس عام فہم سا لکھتی ھوں... ھلکی پھلکی تحریریں.... جو سامنے بیت رھا ھو.... جو دیکھ رھی ھوتی ھوں..... بس اسی پہ قلم چل جاتا ھے....
مثال کے طور پر.....
یہ آپکی میز پر آدھا بھرا ھوا گلاس پڑا ھے... تو اسی پر ھی لکھ دوں گی.... کہ ایک ڈاکٹر کی میز پر پانی کا گلاس پڑا ھوا تھا جو کہ ڈھکا ھوا نہیں تھا اور میرے سامنے دو مرتبہ اسکے اوپر مکھی بیٹھی جس کو ڈاکٹر نے ھاتھ مار کر اڑایا.... اور پھر کچھ دیر بعد وھی پانی اٹھا کر پی لیا تھا....
یا پھر ایسے بھی لکھ سکتی ھوں کہ میں دماغی امراض کے ڈاکٹر کے کلینک پر گئ تو اس نے میرے سامنے آدھا پیا ھوا سگریٹ ایش ٹرے میں رگڑ کر بجھایا.... تو میں سوچنے لگی.... یہ ڈاکٹر دماغ کا علاج کرتا ھے تو یقیناً دل اور سانس کی بیماریوں سے بھی واقف ھو گا لیکن اسکے باوجود سگریٹ پیتا ھے جبکہ اسکو سگریٹ کے نقصان بھی معلوم ھوں گے.... تو پھر اسکا مطلب تو یہ ھوا کہ اسکا تو اپنا دماغ کام نہیں کرتا.... تو یہ میرا علاج کیا کرئے گا.....
بس ڈاکٹر صاحب! ایسی ھی چھوٹی چھوٹی تحریریں لکھتی رھتی ھوں......
اور.....
اب....
ڈاکٹر....
شوھر کا بغور جائزہ لے رہا ھے..
😁😁😁

نئے شادی شدہ مردوں کی تین جنسی  غلطیاں ............. غلطی نمبر ایک مردانہ رعب قائم کرنے کیلئے کثرت سے مباشرت ،  نقصان اب...
07/11/2025

نئے شادی شدہ مردوں کی تین جنسی غلطیاں .............
غلطی نمبر ایک
مردانہ رعب قائم کرنے کیلئے کثرت سے مباشرت ،

نقصان
ابتدا شادی میں یہ آپ کیلئے نارمل سی بات ہوسکتی ہے لیکن آہستہ آہستہ سیکس کی زیادتی کی وجہ سے آپ کیلئے اس عمل میں کچھ خاص کشش باقی نہیں رہ جاتی ،
ابتدا شادی میں انسان عموما نوکری سے ایک لمبی چھٹی پر ہوتا ہے ،جسکی وجہ سے اعصاب بھی پرسکون ہوتے ہیں اور سیکس کی زیادتی آپ پر بوجھ بھی نہیں بنتی ،لیکن ڈیڑھ دو ماہ بعد جب آپ کی چھٹیاں ختم ہوجاتی ہیں تو سارا دن کام کاج میں تھک ہار کر گھر لوٹنے کے بعد آپ سیکس کیلئے اتنا میلان نہیں رکھتے ،
لیکن چونکہ آپ اپنے پارٹنر کو ''زیادہ '' کا عادی بنا چکے ہوتے ہیں تو اسکے نتائج اچھے نہیں نکلتے ،(ہر جگہ ایسا نہیں ہوتا لیکن زیادہ تر )....................................
غلطی نمبر دو
ٹائمنگ بڑھانے والی ادویات کا استعمال

نقصان
پورن موویز سے متاثرہ اذہان عموما یہ خیال کرتے ہیں کہ ایک گھنٹے سے کم سیکس کا عمل گویا کمزوری کی علامت ہوتا ہے ، اور اسی مناسبت سے نوجوان شادی کے ابتدائی دنوں میں ہی اپنی بھر پور طاقت کا اظہار ضروری خیال کرتے ہوئے جنسی ادویات کا استعمال شروع کردیتے ہیں ،نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک وقت آتا ہے جب یہ ادویات کم ڈوز میں ان پر اثر انداز ہونا چھوڑ دیتی ہیں اور یہ غیر محسوس طور پر ڈوز بڑھاتے چلے جاتے ہیں یا پھر نسبتا'' زیادہ پاور کی میڈیسن لینا شروع کردیتے ہیں ،اب اسطرح کی ادویات جتنی زیادہ طاقتور ہونگی ان کے سائیڈ افیکٹس بھی اتنے ہی زیادہ ہونگے ،نتجتا'' کچھ ہی عرصے بعد ایسا بندہ مکمل ناکارہ ہوکر ''بڑے حکیم '' صاحب کے مطب میں پیسے برباد کرتا دیکھائی دیتا ہے
..............................
غلطی نمبر تین
تیسری غلطی پہلے بیان کی گئی دو نوں غلطیوں کی جڑ ہے ، ایسا سمجھنا کہ زیادہ سیکس یا زیادہ دیر تک سیکس عورت کو مطمعن کرتا ہے نہایت لغو خیال ہے ،عورت کو محبت مطمعن کرتی ہے ،صرف طاقت کے اظہار والا سیکس اورمحبت کے سیکس میں جو باریک سا فرق ہے اسے سمجھنا ضروری ہے ،

آپ نئے شادی شدہ ہیں یا عنقریب شادی کرنے والے ہیں ، اس ایک نکتے کو یاد رکھیں تو خطرناک قسم کی جنسی ادویات کھا کر نہ صرف اپنی صحت برباد نہیں کرینگے بلکہ سیکس کے حوالے سے حکیموں کی پھیلائی باتوں کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار ہونے سے بھی محفوظ رہینگے ،اور سب سے بڑا فائدہ یہ کہ مستقبل قریب میں ان ازدواجی مسائل سے بھی بچے رہینگے جو پھر نہ کہیں بیان کئے جاسکتے ہیں اور نہ ہی برداشت ہوتے ہیں ،زندگی البتہ ضرور اجیرن ہوتی چلی جاتی ہے...

میں نے اکثر عورتوں کے گروپ میں دیکھا ہے خواتین شدید ڈیپریشن میں ہوتی ہیں اس بات کو سوچ سوچ کر کے "شادی کو اتنے سال ہوگئے...
07/11/2025

میں نے اکثر عورتوں کے گروپ میں دیکھا ہے خواتین شدید ڈیپریشن میں ہوتی ہیں اس بات کو سوچ سوچ کر کے

"شادی کو اتنے سال ہوگئے ہیں اتنے بچے ہیں ہم تیار بھی
رہتی ہیں پھر بھی شوہر توجہ نہیں دیتا ہے بیمار ہوتی ہیں شوہر پوچھتا بھی نہیں ہے۔۔۔
کام سے واپس آ کر موبائل میں پڑا رہتا ہے
"
ان باتوں کی وجہ سے اکثر عورتیں شکوک شبہات میں۔ پائی جاتی ہیں
کچھ شدید ڈیپریشن میں ہوتی ہیں۔۔۔۔

یہ ایک نیچرل پراسسز ہے عورت کی زندگی گھر کے اندر ہوتی ہے 24 گھنٹے باہر نکلنے کا موقعہ کم ملتا ہے اور شوہر ویسے ہی گھومنے پھرنے لے کر نہیں جاتے ہیں ۔۔
دوسرا ماہواری پراسسز ، ہارمونل پراسسز ایک ایسی چیز ہے جس کا عورت کو خود بھی نہیں پتا ہوتا اس میں بہت سے چینجز چل رہے ہوتے ہیں۔۔۔

ان سب باتوں کو کرنے کا مقصد یہ ہے کے میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں ان سب عورتوں سے
کے یہ ذندگی آپ کو اپنے لیے ملی ہے آپ کا اپنی زندگی پر سب سے زیادہ حق ہے خود کو خود تیار کریں اپنے لیے خود کو خود مینٹین رکھیں اپنے لیے۔۔۔۔ خود سے پیار کریں اپنے لیے۔۔۔۔
چھوڑ دیں یہ سوچنا فلانا توجہ نہیں دیتا
اور اتنا حساس ہونا بھی چھوڑ دیں۔۔۔
اگر آپ کو کچھ ہو بھی گیا تب بھی کسی کو فرق نہیں پڑنا ہے اس لیے اپنی زات پر زیادہ بوجھ سوار کرنا چھوڑ دیں
اپنی زندگی اپنے حساب سے گزاریں خود کو مصروف رکھیں بچوں اور گھر کے علاؤہ کوئی ٹائم بچتا ہے تو اپنے شوق پورے کریں گھر کے اندر رہے کر سوشل میڈیا کا دور ہے اگر آرٹ ہے آپ کے اندر کوئی بھی چیز ہے سوشل میڈیا کے ریفرنس سے دنیا کے سامنے لائیں خود کو پہچانیں۔۔
یو ٹیوب ٹک ٹاک انسٹا یہ ایسی جگہیں ہیں جہاں آپ کو ٹی وی ڈرامہ اور ناچ گانے کے علاؤہ بھی بہت کچھ ملے گا آپ اس بہت کچھ میں اپنا کام بھی لگائیں۔۔۔
اور چھ مہینے سے سال یہ سوچ کر کام کریں کے آپ کہیں انٹرن شیپ پر ہیں بغیر کسی سیلری کے۔۔۔۔
جب محنت کریں گی اللّٰہ پاک خود صلہ دیں گی جب چار پیسے کمائیں گی تو خود پر بھی لگائیں گی تب دنیا کا روایہ بھی دیکھیں گی اپنے ساتھ بلکہ اپنے اندر آپ کے بہت بدلاؤ آئے گا خود اعتمادی پیدا ہوگی جب وہ چار پیسے خود پر گھر اور بچوں پر لگائیں گی تو اس کی خوشی ہی الگ ہونی ہے۔۔۔۔۔

خود کی خود کئیر کریں پہلے
بعد میں دوسروں سے امید رکھیں
یہ سوچیں نکال دیں دماغ سے کے میں نے چار بچے پیدا کر لیے ہیں تو اب میری جگہ مضبوط ہوگئی ہے تو میاں میری قدر کرے گا
اسے آدمی کے چار بچے پیدا کرنے کے بعد آپ موٹی بےڈھنگی ہوگئی ہیں آپ کی صحت ویسی نہیں رہی آپ کی شکل ویسی نہیں ایک ٹائم آتا ہے آپ کا خود کو ہی دیکھنے کو دل نہیں کرتا تو اس بندے نے کیا دیکھنا ہے آپ کو۔۔۔۔

پہلے خود سے پیار کریں عزت دیں پھر دوسروں سے امید رکھیں ان باتوں کی۔۔۔

(بہت لوگ سوشل میڈیا کی پوسٹوں سے دوسروں کا امیج بنا لیتے ہیں کے سب کی زندگیاں بہت آئیڈیل اور پرفیکیٹ ہیں۔۔۔
یہاں پر کسی کی زندگی آئیڈیل یا پرفیکیٹ نہیں ہوتی ہے ہر بندا سٹرگل فیز میں ہوتا ہے جو آپ کو پرفیکٹ نظر آرہا ہوتا ہو گا سمجھ جائیے گا وہ انسان فیک ہے۔۔۔
اس لیے دوسروں سے امپریس ہو کر خود کر ڈیپریس کرنا چھوڑ دیں۔۔۔
میں خود ایک عورت ہوں یہ جو اوپر باتیں لکھی ہیں ان سب باتوں سے میں خود بھی گزر چکی ہو۔ شدید ڈیپریشن میں بھی رہی ہوں آپنی اسی حساس طبیعت کی وجہ سے سب کے ساتھ عزتیں محبتیں بنانے کے چکر میں خود کو ہی ڈی ویلیو کر لیا تھا اب جب سے ہر بندے کو اس کے مقام پر رکھا ہے خود کو اہمیت دینا سیکھی ہے تو زندگی میں سکون ہے۔۔۔۔
جو عزت دیتا ہے اسے اس عزت سے بڑھ کر عزت دیتی ہوں جو خود کو ہی افلاطون سمجھنے لگ جاتا ہے اسے میں جوتے کی نوک پر رکھ لیتی ہوں چاہے جتنا بڑا ہو چاہے جتنا کوئی خاص ہو۔۔۔۔
آپ کی پوری شخصیت آپ کے اپنی سیلف رسپکیٹ اور آپ کا زہنی سکون ہے

جب آپ ان دو چیزوں پر کمپرومائز کر لیتے ہیں تو آپ خود کو خود ہی ڈی ویلیو کر لیتے ہیں۔۔۔۔

میں بس اپنے جیسی عورتوں کو یہی کہنا چاہتی ہوں خوش رہیں خود سے پیار کریں آپ کو بھی یہ زندگی ایک ہی بار ملی ہے لوگوں کی توجہ اور لوگوں کی نظروں میں اہم بننے کے لیے خود کو خود ہی غیر اہم کر کے اپنا زہنی سکون خراب نا کریں۔۔۔۔
اس دنیا میں کسی کو آپ اپنا خون کا آخری قطرہ بھی پلا دیں تو تب بھی بےقدرے انسان آپ کی قدر نہیں پہچان سکتے ہیں۔
سب سے پہلے آپ اہم ہیں باقی دنیا بعد میں۔

فرخندہ نور

07/11/2025

تندور پر مردوں کی بڑھتی ہوئی تعداد تعلیم یافتہ خواتین میں اضافے کا ثبوت ہے۔
😂

دیسی مڈل کلاس مردوں کی زندگیمعاشرے میں مڈل کلاس مرد وہ خاموش مجاہد ہیں جو گھر کی چار دیواری سے لے کر دکان ، سڑک یا دفتر ...
07/11/2025

دیسی مڈل کلاس مردوں کی زندگی
معاشرے میں مڈل کلاس مرد وہ خاموش مجاہد ہیں جو گھر کی چار دیواری سے لے کر دکان ، سڑک یا دفتر کی میز تک، ہر جگہ ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں۔ ان کی زندگی ایک مسلسل جدوجہد ہے، جہاں خواب چھوٹے سے چھوٹے ہوتے ہیں مگر پریشانیاں آسمان کو چھوتی ہیں۔
صبح سویرے اٹھتے ہی ان کی دنیا شروع ہو جاتی ہے۔ چائے کی پہلی چسکی بھی ذمہ داریوں کی تلخی سے بھری ہوتی ہے۔ بس، ٹرین یا موٹر سائیکل پر بیٹھے دربدر روزگار کی فکر میں بھاگتے رہنا ، روزگار ہو تو واپسی پر گھر کے اخراجات کا حساب کتاب۔ مڈل کلاس مرد کے لیے تنخواہ ایک جادوئی عدد ہے جو آتے ہی غائب ہو جاتی ہے – کرایہ، بجلی کا بل، بچوں کی فیس، بیوی کی دوائیں، ماں باپ کی ضروریات۔ کچھ بچے تو اگلی تنخواہ کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔
معاشرتی دباؤ ان کی زندگی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ "مرد ہے تو گھر چلائے گا"، "بیوی بچوں کو اچھا کپڑا پہنائے گا"، "رشتہ داروں کی مدد کرے گا"۔ یہ سب توقعات ان پر لاد دی جاتی ہیں، مگر کوئی پوچھنے والا نہیں کہ وہ خود کیسے جیتا ہے۔ شادی کے بعد تو گویا ان کی زندگی کا آخری باب لکھ دیا جاتا ہے – اب خواب نہیں، صرف ذمہ داریاں۔ بیوی کی خواہشات، بچوں کی تعلیم، گھر کی مرمت – سب کچھ ان کے کندھوں پر۔
دفتر میں بھی سکون نہیں۔ باس کی ڈانٹ، ساتھیوں کی حسد، ترقی کا خواب جو کبھی پورا نہیں ہوتا۔ اوور ٹائم کر کے گھر دیر سے پہنچیں تو بیوی کا طنز، بچوں کا ناراض ہونا۔ رات کو سوتے ہوئے بھی فکر مند: "کل کا بل کیسے ادا ہوگا؟" بیماری آ جائے تو علاج کے پیسے کہاں سے؟ بچوں کی شادی کی فکر تو ابھی سے کھائے جا رہی ہے۔

ان کی زندگی میں خوشیاں چھوٹی چھوٹی ہیں – ہفتہ وار چھٹی پر فیملی کے ساتھ پارک جانا، یا کبھی کرکے میچ دیکھنا۔ مگر یہ خوشیاں بھی قرض کی طرح ہوتی ہیں، جلد ہی واپس لوٹ آتی ہیں۔ دیسی مڈل کلاس مرد روتا نہیں، بس خاموشی سے برداشت کرتا ہے۔ وہ ہنستا ہے تو سب کے لیے، روتا ہے تو تنہائی میں۔

یہ مرد نہ ہیرو ہیں نہ ولن، بس ایک عام انسان جو معاشرے کی مشینری کا پرزہ بن کر چل رہا ہوتا ہے
سرمایہ دار نے عام آدمی کو اپنا ایک اوزار بناکر رکھ دیا ہے

07/11/2025

مُحبت سے درودِ پاک

اَللّٰھُمَّ صَــّلِ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّد..!
💖

ہمارے بچے مساجد سے دُور کیوں..؟؟تحریر : انجینئر نوید قمر چھوٹا بچہ گھر میں جب امی اور ابو کو نمازپڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو...
07/11/2025

ہمارے بچے مساجد سے دُور کیوں..؟؟
تحریر :
انجینئر نوید قمر

چھوٹا بچہ گھر میں جب امی اور ابو کو نمازپڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کے دل میں بھی ویسا کرنے کی خواہش جنم لیتی ہے۔ وہ بغیر کہے مصلے کے ساتھ آکر کھڑا ہو جاتا ہے رکوع و سجود کی نقل اُتارتا ہے۔ بالکل سنجیدگی کے ساتھ ویسا ہی کرتا ہے جیسا وہ کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ پھر وہ اپنے ابو کو مسجد میں جاتے دیکھتا ہے۔ وہ بھی چاہتا ہے کہ میں بھی ان کے ساتھ وہاں جاؤں اور بغیر کہے وہ پیچھے پیچھے مسجد چلا جاتا ہے۔کبھی گھر سے کوئی نہ بھی جائے تو وہ خود مسجد پہنچ جاتا ہے۔ وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ یہاں آکر لوگ کیا کرتے ہیں یہاں لوگ جمع کیوں ہوتے ہیں؟

وہ مسجد آتا ہے لیکن اسے مسجد کے آداب کا علم نہیں ہوتا وہ یہاں بھی گھر کی طرح دوڑتا بھاگتا ہے، شرارتیں کرتا ہے، کبھی اس صف میں جاتا ہے کبھی دوسری صف میں ، کبھی وضو خانے پر آکر دوسروں کی طرح منہ ہاتھ دھوتا ہے وہ بھی ٹونٹی کھولتا ہے اور ویسا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ ٹونٹی کھول بیٹھتا ہے۔ کافی دیر تک ہاتھ پاؤں دھوتا رہتا ہے کیونکہ اُسے ایسا کرنے میں مزا آتا ہے، اسے اچھا لگتا ہے وہ بھی دوسروں کی طرح ’’بڑے بڑے ‘‘ کام کرنا چاہتا ہے اور وہ ان تمام کاموں میں بالکل سنجیدہ ہوتا ہے۔ دل سے کرتا ہے اپنی طرف سے ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دل میں خوشی محسوس کرتا ہے۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی بابا جی اُسے وضو خانے پر جھڑکتے ہیں ’’اوئے ادھر کیا کر رہے ہو‘‘ ’’اتنی زیادہ ٹونٹی کیوں کھولی ہے؟‘‘ ’’اتنی دیر سے پانی ضائع کر رہے ہو‘‘ ’’چلو اُٹھو دفع ہو جاؤ یہاں سے ‘‘ بعض اوقات تو ہاتھ سے پکڑ کر گھسیٹ کر اُسے وہاں سے نکال دیتے ہیں۔ بعض بابے اُسے کھینچ کر مسجد سے نکال دیتے ہیں۔بعض مساجد کے بزرگ تو بچوں کو دیکھتے ہی اُن کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور جب تک وہ مسجد سے نکل نہیں جاتے یا اُن کی مرضی کے مطابق ٹک کر نہیں بیٹھتے اُنہیں چین نہیں آتا۔

کچھ نمازی تو ایسے ہیں کہ بچے دیکھ کر ہی غصے میں آجاتے ہیں ۔ صف میں بیٹھے دیکھا تو قمیض سے پکڑ کر پیچھے کر دیا۔ کسی بچے کو باتیں کرتا دیکھا تو جا کر ایک تھپڑ لگا دیا’’بدتمیز یہ مسجد ہے چپ کرو‘‘ وہ نماز پڑھتے ہوئے ہل رہا تھا تو نماز کے دوران یا بعد میں سرعام تذلیل کر دی جاتی ہے۔ جہاں دو تین بچے اکٹھے بیٹھے باتیں کرتے یا ہنستے دیکھے فوراً انہیں مسجد سے باہر نکال دیا جاتا ہے کیونکہ مسجد کا ماحول ’’خراب‘‘ ہوتا ہے۔ وہ قرآن پکڑتا ہے تو چھین لیا جاتا ہے کہ چھوٹا بچہ ہے قرآن پھاڑ دے گا۔ کوئی بچہ صاف ستھرا نہیں تب بھی دھکے دے کر مسجد کے دروازے پر کر دیا جاتا ہے۔ دوران تراویح بچے لمبی نماز سے تھک کر بیٹھے یا ساری تراویح پڑھنے کی بجائے کوئی پڑھ لی کوئی چھوڑ دی تو اس پر کوئی صاحب انہیں گھوریں گے، منہ بنائیں گے، باتیں سنائیں گے کوئی بازو سے پکڑ کر یا جھپٹ کر اُسے زبردستی نماز میں کھڑا کریں گے یا کہیں گے نہیں نماز پڑھنی تو مسجد سے دفع ہو جاؤیا اے سی والے ہال سے نکال کر گرم صحن میں بھیج دیا جاتا ہے۔ یہی صوتحال خواتین کے ہال میں بچیوں کے ساتھ ہوتی ہے ۔ ان سب دُرشت رویوں ، گرم لہجوں، سخت غصے والے مزاجوں اور بچوں کے بے عزتی کرنے، ڈانٹنے ڈبٹنے اور مانے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟

انہیں گھورنے، مارنے کے لیے دوڑنے اور گھسیٹنے کا انجام کیا ہوتا ہے؟
ہماری مساجد بچوں سے خالی رہتی ہیں حالانکہ انہی بچوں نے تو کل جواں ہو کر پختہ نمازی بننا تھا ’’لیکن افسوس ان غنچوں پر جو بِن کھلے مُرجھا گئے‘‘
دوسرا سبب مساجد کے قاری صاحبان ہیں کہ جن کے پاس بچے سپارہ / قاعدہ پڑھنے آتے ہیں ۔ اب یہاں بھی ’’نظم و ضبط‘‘ کا ’’عظیم مسئلہ‘‘ سامنے آتا ہے۔کسی بچے کی پڑھنے کی غلطی نکلی نہیں اور ٹھاہ کر کے ڈنڈا، مکا یا چپت اس کے جسم پر لگی نہیں۔ خوف اور جبر کا ماحول! ہر غلطی پر سزا، ہر بار سبق یاد نہ ہونے پر بے عزتی اور مارکٹائی یا کم از کم سرعام ’’انعام‘‘

مجھے کتنے لوگ ایسے ملے کہ جنھوں نے کہا کہ میری بچپن میں خواہش تھی کہ میں عالم دین بنوں ، حافظ قرآن بنوں ، دین سیکھوں لیکن فلاں قاری صاحب کی وجہ سے میں ایسا متنفر ہوا کہ دوبارہ مسجد داخل نہیں ہوا، ’’میں نے فلان بچے کی خوفناک پٹائی لگتے دیکھی اور میں وہاں سے بھاگ گیا‘‘ مجھ پر قاری صاحب کے رعب کی وجہ سے سبق یاد ہی نہیں ہوتا تھا یا یاد کیا ہوا بھی بھول جاتا تھا‘‘ قاریوں اور نمازیوں کے ان رویوں نے ہماری مساجد کو بے رونق کر رکھا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کیا ہوتا تھا؟ مسجد نبوی میں کیا صورت حال تھی؟ بچے تو ہر دور میں شرارتی رہے۔ بھاگنے دوڑنے، باتیں کرنے، اچھلنے کودنے والے۔ ابھی انہیں کیا پتا کہ مسجد کے آداب کیا ہیں؟مساجد میں آتے جاتے رہیں گے نمازیوں کو دیکھتے رہیں گے تو آہستہ آہستہ سب سیکھ جائیں گے کہ مسجد میں کس طرح رہا جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی بچے ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ کبھی اس صف میں دوڑ کبھی اس صف میں کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر چڑھ گئے ۔ کبھی سجدے میں آپ ہیں تو آپ کی پیٹھ پر چڑھ کر کھیلنے لگے۔ کبھی منبر پر چڑھ گئے کبھی رونے لگے کبھی کچھ کبھی کچھ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ کیا تھا؟

سر سجدے میں ہے تمام صحابہ بطور مقتدی بھی سر بسجود ہیں۔ سجدہ طویل ہو گیا طویل سے طویل تر۔ صحابہ کے دل میں مختلف خیالات آرہے ہیں کہ آج اللہ خیر کرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سر سجدے سے کیوں نہیں اُٹھا رہے۔ بہت دیر بعد سر اُٹھایا ،نماز مکمل کی، سلام پھیرا صحابہ کو متفکر پایا تو فرمایا بات دراصل یہ تھی کہ ایک بچہ میری پیٹھ پر چڑھ کر کھیلنے لگا میں نے اُسے اُتارنا مناسب نہیں سمجھا جب وہ خود ہی اُترا تو پھر میں نے سر اُٹھایا ۔ کتنی عزت کتنا احترام مسجد میں نماز کے دوران بھی ایک بچے کے کھیل یا اُس کی شرارتوں کا!

بچے کے رونے کی آواز آتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مختصر کر دیا کرتے تھے۔ لیکن یہ کبھی نہیں کہتے تھے کہ لوگو یا عورتو ! اپنے بچوں کو مساجد میں نہ لایا کرو۔ اس سے ہماری نمازیں خراب ہوتی ہیں ۔ کیا ہماری نمازوں کا خشوع و خضوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام کی نمازوں سے زیادہ ہے کہ جو کسی بچے کی آواز پر فوراً خراب ہوجاتا ہے۔ بلکہ آپ تو لوگوں کو کہتے کہ عورتوں کو مساجد میں آنے سے نہ روکو۔ اب عورتیں آئیں گی تو اُن کے ساتھ بچے بھی آئیں گے اور وہ ہنسیں گے بھی روئیں گے بھی ۔۔۔تو کیا کیا جائے؟ برداشت کیا جائے ! اپنے اندر صبرو تحمل پیدا کیا جائے لیکن ہم جوں جوں پہلی دوسری صف کے پختہ نمازی بنتے جاتے ہیں ہمارا مزاج اتنا ہی سخت ہوتا چلاجاتا ہے، اتنا ہی تکبر آجاتا ہے مزاج گرم ہوجاتا ہے۔ یہ کیسی عبادت ہے؟ اس کا نتیجہ تو دل کی نرمی کی صورت میں نکلنا چاہیے۔ اچھے اخلاق ، نرم گفتگو بچوں سے محبت کی شکل میں ظاہر ہونا چاہیے۔ہوناتو یہ چاہیے کہ ہم بچوں کو مساجد میں آنے کی ترغیب دیں۔

کوئی بچہ مسجد آئے اس کا استقبال کریں اُسے گلے لگائیں اُسے بوسہ دیں اُسے اتنی محبت، اتنا پیار، اتنی عزت و احترام دیں کہ اُسے لگے کہ دنیا میں اس سے بہترین جگہ کوئی نہیں، ایسے اعلیٰ لوگ کہیں نہیں، اُس کی شرارتوں، غلطیوں ، باتوں، اچھلنے کودنے کو برداشت کریں اور کبھی سمجھائیں تو علیحدگی میں نرمی اور شفقت سے اسطرح کہ اُس کی عزتِ نفس محفوظ رہے غصے کی بجائے مسکرائیں اور اُنھیں دیکھ کر اپنے بچپن کو یاد کریں کہ ہم سب بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ بچے شیطان نہیں ہوتے بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں۔ معصوم ہوتے ہیں، گناہوں سے پاک لیکن ناتجربہ کار ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں دیکھ کر کچھ سیکھنا چاہتے ہیں وہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں وہ ان مساجد سے جڑیں گے تو کل زندگی کے کسی بھی شعبے میں جائیں گے تو مساجد کو اعلیٰ مقام دیں گے، مساجد کے اماموں قاریوں کو عزت دیں گے،علماء کا احترام کریں گے بلکہ خود بھی عالم بنیں گے۔ وہ دنیا کے دیگر اداروں کی بجائے مساجد کو بنیادی مقام دیں گے۔

اکثر بچوں کو تو کئی سال اور بڑا ہونے پر علم ہوتا ہے کہ انھوں نے کیا غلطی کی تھی جس کی وجہ سے انھیں مسجد میں بے عزت کیا گیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ جس وقت بچوں کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا ہے تو وہ بے خبر ہوتے ہیں کہ انھوں نے کیا غلط کیا نہ ہی انھیں کوئی سمجھاتا ہے۔ ایک دوبار سمجھانا بھی کافی نہیں ہوتا بلکہ دس بار سمجھانا بھی نہیں !!! بس اپنے عمل اور ماحول سے سمجھائیں وہ خود بخود اندازہ لگا ئے کہ یہاں کا ماحول مختلف ہے اور یہاں مجھے کیسے آنا جانا ہے اور کیا کس طرح کرنا ہے؟
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے تو درکنار کسی بڑے انسان کے مسجد میں پیشاب کرنے کو بھی برداشت کیا اور لوگوں کو اُسے مارنے یا ڈانٹنے سے منع کیا ۔ پھر اُسے بلا کر شفقت سے سمجھایا کہ مساجد نماز کی ادائیگی کے لیے ہوتی ہیں نہ کہ ایسے کاموں کے لیے ، وہ اس سلوک سے اتنا متاثر ہوا فوراً کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔

کیا آج ہم کسی غیر مسلم کے لیے اپنی مساجد میں اتنی برداشت اور حوصلہ رکھتے ہیں؟ کم از کم مسلمان بچوں کے لیے تو پیدا کریں۔
میرے خیال میں تو بچے مساجد میں اگر پیشاب یا پاخانہ بھی کر دیں تو اس پر ہنگامہ کھڑا نہ کریں اور نہ ان کے والدین کو شکایات لگائیں کہ انھوں نے بچوں کو مسج د میں کیوں بھیجا۔ سکول اپنے کاروبار کے لیے اڑھائی تین سال کے بچے کو برداشت کرتا ہے۔ اُن کے لیے آیا یا ماسی کا بندوبست کرتا ہے ۔ انھیں ہر صورت صاف ستھرا رکھتا ہے۔ پیمپرز کا بندوبست رکھتا ہے یا کم از کم والدین کے تعاون سے اسے سر انجام دیتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ باوجود اس تمام تکالیف کے زیادہ سے زیادہ بچے سکول میں آئیں۔ یہی وجہ ہے کہ سکول بچوں سے بھرے ہوئے ہیں کلاسز میں جگہ نہیں لیکن مساجد؟ مساجد کی صفائی ستھرائی کے لیے ہم خرچ کرتے ہیں ایک اور صفائی والے آدمی کا خرچہ برداشت کر لیں تو ہماری نئی نسلیں نمازی بن سکتی ہیں۔

جب سے ہماری مساجد میں قیمتی قالین بچھانے اور شیشے والی کھڑکی اور دروازوں کا رجحان پیدا ہوا ہے اس وقت سے مساجد کی انتظامیہ بچوں کے حوالے سے اور زیادہ حساس ہو گئی ہے۔انھیں ہر وقت یہ خدشہ رہتا ہے کہ بچے قیمتی قالین خراب کر دیں گے۔ شیشے والے دروازے ٹوٹ سکتے ہیں۔ ہم یہ سوچ لیں کہ بچے زیادہ قیمتی ہیں یا قالین؟ بچوں کی تربیت زیادہ ضروری ہے یا شیشوں والے دروازوں کی حفاظت؟
آئیے مساجد اور اپنے دلوں کے دروازے بچوں کے لیے کھول دیجیے۔
یہی هماری ذمے داری ہے۔

انجیر سے قبض اور بواسیر کا شافی علاج..!بواسیر کے تین اہم اسباب ہیں۔1۔ پرانی قبض 2۔ تبخیر معدہ 3۔ اور کرسی نشینی (یعنی کر...
07/11/2025

انجیر سے قبض اور بواسیر کا شافی علاج..!

بواسیر کے تین اہم اسباب ہیں۔

1۔ پرانی قبض 2۔ تبخیر معدہ
3۔ اور کرسی نشینی (یعنی کرسی پر زیادہ دیر بیٹھنا)

ان چیزوں سے مقعد کے آس پاس کی اندرونی اور بیرونی وریدوں میں خون کا ٹھہراؤ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ رگیں پھول کر مسوں کی صورت میں باہر نکل آتی ہیں اور پاخانہ کرتے وقت ان سے خون آتا ہے۔
ان تمام مسائل کا آسان غذائی علاج انجیر ہے۔
انجیر پیٹ میں تبخیر ہونے ہی نہیں دیتی۔
انجیر قبض کو توڑ دیتی ہے۔
انجیر خون کی نالیوں سے سدے نکالتی ہے اور ان کی دیواروں کو صحت مند بناتی ہے۔
انجیر خون کی نالیوں میں جمی ہوئی غلاظتوں کو نکال دیتی ہے.

قارئین سردیوں کا سیزن شروع ہوچکااب کافی احباب کی شادیاں ہورہی ہیں.انسانی فطرت ہے کہ اس سے غلطیاں کوتاہیاں ہوتی رہتی ہیں....
07/11/2025

قارئین سردیوں کا سیزن شروع ہوچکا
اب کافی احباب کی شادیاں ہورہی ہیں.
انسانی فطرت ہے کہ اس سے غلطیاں کوتاہیاں ہوتی رہتی ہیں. بہرحال توبہ شرط ہے, مایوسی گناہ ہے اور علاج سنت نبوی ہے.
میری اکثر یہ کوشش ہوتی ہے کہ ایسا نسخہ دوستوں کو بتایا جاۓ جو کہ وہ آسانی سے خود بنا سکیں,
بشرطیکہ خالص چیزوں کی پہچان ہونی چاہیے.

تو تمام احباب کے لیے ایک خاص نسخہ شباب آور پیش خدمت ہے جس کے استعمال سے سستی کمزوری
اور سرعت انزال کا خاتمہ ہو گا منی کو گاڑھا کرے گا اور سپرمز کی تعداد بڑھائے گا.
پٹھوں اور اعصاب کی کمزوری دور کرے گا

☀ثعلب مصری 4تولہ
☀ثعلب پنجہ4تولہ
☀سنگھاڑا 4تولہ
☀کلونجی 2تولہ
☀بہمن سرخ 1تولہ
☀بہمن سفید ۱تولہ
☀موصلی سفید2تولہ
☀موصلی سیاہ 2تولہ
☀اوٹنگن 2تولہ
☀کشتہ نقرہ۱تولہ
☀کشتہ قلعی ۱تولہ
☀زعفران ۱تولہ
☀سمندر سوکھ 2تولہ
☀تالمکھانہ 4تولہ

تمام کو کوٹ پیس کر سفوف بنالیں زیرو سائز کے کیپسول بھر لیں ایک کیپسول صبح و شام دودھ کے ساتھ استعمال کریں ....
جو افراد خود تیار نہ کرسکتے ہوں وہ ہم سے منگوا سکتے ہیں.
مزید معلومات کے لیے ہمارے نمبر پہ رابطہ کر سکتے ہیں
whats app No : 03426677508

05/11/2025

‏سب سے بڑی جنگ تنہا بیٹھے شخص کا
اپنے خیالات سے لڑنا ہے.

Address

Mandi Bahauddin
50400

Telephone

03426677508

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when صحت اور تربیت ساتھ ساتھ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to صحت اور تربیت ساتھ ساتھ:

Share