14/09/2026
"آہ"
طبیبِ جدید نے جیسے ہی انجکشن لگانے کے لیے میری آستین اوپر اٹھائی، تو کلائی کے پاس جلنے کا پرانا زخم دیکھ کر مشکوک نظروں سے پوچھا
"یہ کس چیز کا نشان ہے خان صاب؟"
میں نے غور سے اس نشان کو دیکھا اور نظریں چراتے ہوئے جواب دیا
"کچھ نہیں طبیب صاب۔۔۔ شاید پیدائشی ہوگا۔۔۔ کبھی غور نہیں کیا۔"
طبیبِ جدید کو کیا بتاتا کہ سنہ انیس سو ستانوے کی وہ سرد رات کیسے بھول سکتا ہوں، جب میں اپنے کزن گل محمد خان عرف مامودی حرام النسل کے ساتھ بیٹھا ہوا مارون گولڈ میں چھپے وادیٔ تیراہ کے گردے کے سوٹے لگا رہا تھا۔ اُس دن میں نے سارے سستے برانڈز جیسے کے ٹو، ریڈ اینڈ وائٹ اور کیپسٹن سمیت کل بیس سگریٹ پیے ہوں گے۔ مامودی نے غم کا سبب پوچھا تو بےاختیار منہ سے نکل گیا
"شیرین جان بی بی کے عشق نے آگ بھری ہوئی ہے اندر۔ یہ اُسی کا دھواں ہے، اور کچھ نہیں۔"
یہ کہہ کر بے بسی سے مکا اپنے سینے پر دے مارا۔ کیونکہ اس ہفتے میں نے یکے بعد دیگرے شاہ رخ خان کی سات فلمیں دیکھی تھیں اور آخری فلم غالباً "رام جانے" تھی، سو اس کا اثر بھی تازہ تازہ تھا، اور اوپر سے کچھ گردا بھی ناقص تھا۔ حالانکہ سچ یہ تھا کہ سیکنڈ ایئر میں پھر فزکس اور کیمسٹری کے پرچے فیل ہوگئے تھے۔ اور ابا نے اس بار قسم کھائی تھی کہ اگر اس بار فیل ہوا تو ننگا کرکے سنجے دت جیسی لمبی زلفیں سارے گاؤں کے سامنے کاٹیں گے اور ننگا کرکے پورا گاؤں گھمائیں گے۔ دراصل سارا ڈپریشن اسی بات کا تھا۔
گل محمد خان عرف مامودی، جو خود بھی شیرین جان بی بی کا امیدوار تھا، کی آنکھوں سے چنگاریاں نکلنے لگیں۔ اُس نے پوچھا:
"کتنا پیار کرتے ہو؟"
میں نے سگریٹ کا طویل کش لیا، سارا دھواں پھیپھڑوں میں اتارتے ہوئے اک مدہوشی کی کیفیت میں جواب دیا
"اتنا پیار کرتے ہیں کہ اس کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔"
ہمارے لہجے کی مضبوطی نے مامودی کو ہلا کر رکھ دیا۔ حالانکہ مجھے رام جانے کا وہ منظر یاد آگیا تھا جس میں ہیرو کو پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ مامودی نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں، کہنے لگا
"تیرے عشق کو تب مانوں گا گر یہ جلتا سگریٹ خود پر بجھا دو۔"
ہم نے فوراً اپنا ہاتھ آگے کیا اور اُس روسیاہ نے جلتا سگریٹ ہماری کلائی پر رکھ دیا۔ ہمارے اندر دھواں سا بھر گیا۔ تکلیف کی شدت سے آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے، مگر اس خوف سے "آہ" تک نہ کی کہ کہیں مامودی کل گاؤں کے لونڈوں کے سامنے مذاق نہ اُڑائے۔ اگر ہماری کمزوری کی خبر شیرین جان بی بی تک پہنچی تو وہ بھی ہنسے گی، اور اُس کی بڑی بہن کے ساتھ بھی ہمارا بریک اپ ہو جائے گا کہ "منحوس مارا اتنا بزدل نکلا۔"
تھوڑی دیر بعد سگریٹ بجھ گیا اور ہم تکلیف سے نڈھال ہوگئے۔ مگر مجال ہے کہ منہ سے سسکی تک نکلی ہو۔ مامودی حیران و پریشان بلکہ شکست خوردہ ہو کر چلا گیا۔ جب یقین ہوگیا کہ وہ سگ زاد جا چکا ہے تو ادھر اُدھر دیکھا، کوئی ہے یا نہیں۔ اور پھر زمین پر لوٹ پوٹ ہوکر وہ چیخیں ماریں جیسے کوئی بیوہ دوسری بار بیوگی کا دکھ سہہ رہی ہو۔
اگلے دن گاؤں کے لونڈوں سے بذریعہ زبانی کمیونیکیشن یہ خبر شیرین جان بی بی تک پہنچی۔ جب وہ سر پر کچرے کا ٹوکرا اُٹھائے ہماری طرف دیکھ کر مسکرائی تو ہم سمجھ گئے کہ عشق کا دھواں بالآخر اُس تک پہنچ چکا ہے۔
پورا دن سوچتے رہے کہ اب شیرین جان بی بی سے رابطہ کرکے حالِ دل کیسے پہنچایا جائے۔ کیونکہ وہ چٹی ان پڑھ اور ہم کیڈٹ کالج کے فیل یافتہ۔ بہت سوچنے کے بعد بین الاقوامی زبان کا سہارا لیا، جسے آج کل یار لوگ "جذبات سے کھیلنا" کہتے ہیں۔
ابا کی بیگم نے کسی بات کی منت مانی ہوئی تھی۔ سو دوپہر کو اصیل مرغ ذبح ہوا تو ہم نے بھی فائدہ اُٹھاتے ہوئے گرم گرم خون میں قلم ڈبو کر ایک سفید کاغذ پر دل بنایا، اور ایک تیر اُس دلِ ناتواں کے آر پار کر ڈالا۔ شام کو پنگھٹ پر وہ کاغذ پھینک دیا۔ وہ پانی کا مٹکا بھر رہی تھی۔ لہجے میں نہایت محبت سمو کر ہم بول پڑے
"ہم نے اپنے خون سے دل بنا کر بھیجا ہے، سنبھال کر رکھیے گا۔"
اس نے بغور کاغذ کو دیکھا۔ تھوڑی دیر بعد اُس نے نمناک آنکھوں سے ہماری طرف دیکھا اور ہلکے سے فقط اتنا بولی
"اتنی محبت مت کرو فرہاد ہم سے، کہ کل ہم آپ کے محبت نامے کا جواب دیتے ہوئے اپنی جان تک دے دیں۔"
طبیبِ جدید نے میری آستین سمیٹتے ہوئے کہا
"خٹک صاب، پریشان ہونے کی بات نہیں۔ آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔"
کلینک سے باہر نکلا تو سوچا کہ شہر آیا ہوں تو رشتہ داروں سے بھی مل لوں۔ بڑے عرصے سے مامودی سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ سو اُس کے گھر کا نمبر موبائل فون سے ڈائل کیا۔ فون کسی خاتون نے اٹھایا۔
"مامودی گھر پر نہیں ہیں، آپ کون؟"
ہم سے سوال پوچھا گیا۔
"بھابھی، میں آپ کا دیور گاؤں سے آیا ہوں۔۔۔"
خاتون نے جذبات پر قابو پاتے ہوئے لرزتی آواز میں کہا
"بھیا تو آجائیں ناں، مامودی بس آنے والے ہیں۔"
میں نے اپنا ہاتھ اٹھا کر وہی پرانا زخم دیکھا اور ایک سرد آہ بھری۔ شیرین جان بھابھی، مامودی نسلِ خنزیر کے آٹھ بچوں کی ماں ہے۔
😭😭😭
تحریر: عارف خٹک