صحت اور تربیت ساتھ ساتھ

صحت اور تربیت ساتھ ساتھ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from صحت اور تربیت ساتھ ساتھ, Mandi Bahauddin.

آپ تمام احباب کو خوش آمدید۔
یہاں آپکو صحت سے متعلقہ قیمتی معلومات،مزاح اور حقائق سے بھرپور کونٹینٹ ملے گا جسے آپ لازمی پسند کریں گے۔
واٹس ایپ اور فیس بک پیڈ پرموشن (Paid Promotion) کے لیے رابطہ کرسکتے ہیں۔ اسلام علیکم دوستو،
اس پیج میں آپکی تربیت کے ساتھ ساتھ آپکو صحت کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی جائیں گی.
کسی بھی مشورے یا دوا منگوانے کے لیے رابطہ کریں
اپنے دوستو کو پیج ضرور انوائیٹ کیجیۓ گا.شکریہ.
ڈاکٹر عمیر شکور

"آہ"طبیبِ جدید نے جیسے ہی انجکشن لگانے کے لیے میری آستین اوپر اٹھائی، تو کلائی کے پاس جلنے کا پرانا زخم دیکھ کر مشکوک نظ...
14/09/2026

"آہ"

طبیبِ جدید نے جیسے ہی انجکشن لگانے کے لیے میری آستین اوپر اٹھائی، تو کلائی کے پاس جلنے کا پرانا زخم دیکھ کر مشکوک نظروں سے پوچھا
"یہ کس چیز کا نشان ہے خان صاب؟"

میں نے غور سے اس نشان کو دیکھا اور نظریں چراتے ہوئے جواب دیا
"کچھ نہیں طبیب صاب۔۔۔ شاید پیدائشی ہوگا۔۔۔ کبھی غور نہیں کیا۔"

طبیبِ جدید کو کیا بتاتا کہ سنہ انیس سو ستانوے کی وہ سرد رات کیسے بھول سکتا ہوں، جب میں اپنے کزن گل محمد خان عرف مامودی حرام النسل کے ساتھ بیٹھا ہوا مارون گولڈ میں چھپے وادیٔ تیراہ کے گردے کے سوٹے لگا رہا تھا۔ اُس دن میں نے سارے سستے برانڈز جیسے کے ٹو، ریڈ اینڈ وائٹ اور کیپسٹن سمیت کل بیس سگریٹ پیے ہوں گے۔ مامودی نے غم کا سبب پوچھا تو بےاختیار منہ سے نکل گیا
"شیرین جان بی بی کے عشق نے آگ بھری ہوئی ہے اندر۔ یہ اُسی کا دھواں ہے، اور کچھ نہیں۔"

یہ کہہ کر بے بسی سے مکا اپنے سینے پر دے مارا۔ کیونکہ اس ہفتے میں نے یکے بعد دیگرے شاہ رخ خان کی سات فلمیں دیکھی تھیں اور آخری فلم غالباً "رام جانے" تھی، سو اس کا اثر بھی تازہ تازہ تھا، اور اوپر سے کچھ گردا بھی ناقص تھا۔ حالانکہ سچ یہ تھا کہ سیکنڈ ایئر میں پھر فزکس اور کیمسٹری کے پرچے فیل ہوگئے تھے۔ اور ابا نے اس بار قسم کھائی تھی کہ اگر اس بار فیل ہوا تو ننگا کرکے سنجے دت جیسی لمبی زلفیں سارے گاؤں کے سامنے کاٹیں گے اور ننگا کرکے پورا گاؤں گھمائیں گے۔ دراصل سارا ڈپریشن اسی بات کا تھا۔

گل محمد خان عرف مامودی، جو خود بھی شیرین جان بی بی کا امیدوار تھا، کی آنکھوں سے چنگاریاں نکلنے لگیں۔ اُس نے پوچھا:
"کتنا پیار کرتے ہو؟"

میں نے سگریٹ کا طویل کش لیا، سارا دھواں پھیپھڑوں میں اتارتے ہوئے اک مدہوشی کی کیفیت میں جواب دیا
"اتنا پیار کرتے ہیں کہ اس کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔"

ہمارے لہجے کی مضبوطی نے مامودی کو ہلا کر رکھ دیا۔ حالانکہ مجھے رام جانے کا وہ منظر یاد آگیا تھا جس میں ہیرو کو پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ مامودی نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں، کہنے لگا
"تیرے عشق کو تب مانوں گا گر یہ جلتا سگریٹ خود پر بجھا دو۔"

ہم نے فوراً اپنا ہاتھ آگے کیا اور اُس روسیاہ نے جلتا سگریٹ ہماری کلائی پر رکھ دیا۔ ہمارے اندر دھواں سا بھر گیا۔ تکلیف کی شدت سے آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے، مگر اس خوف سے "آہ" تک نہ کی کہ کہیں مامودی کل گاؤں کے لونڈوں کے سامنے مذاق نہ اُڑائے۔ اگر ہماری کمزوری کی خبر شیرین جان بی بی تک پہنچی تو وہ بھی ہنسے گی، اور اُس کی بڑی بہن کے ساتھ بھی ہمارا بریک اپ ہو جائے گا کہ "منحوس مارا اتنا بزدل نکلا۔"

تھوڑی دیر بعد سگریٹ بجھ گیا اور ہم تکلیف سے نڈھال ہوگئے۔ مگر مجال ہے کہ منہ سے سسکی تک نکلی ہو۔ مامودی حیران و پریشان بلکہ شکست خوردہ ہو کر چلا گیا۔ جب یقین ہوگیا کہ وہ سگ زاد جا چکا ہے تو ادھر اُدھر دیکھا، کوئی ہے یا نہیں۔ اور پھر زمین پر لوٹ پوٹ ہوکر وہ چیخیں ماریں جیسے کوئی بیوہ دوسری بار بیوگی کا دکھ سہہ رہی ہو۔

اگلے دن گاؤں کے لونڈوں سے بذریعہ زبانی کمیونیکیشن یہ خبر شیرین جان بی بی تک پہنچی۔ جب وہ سر پر کچرے کا ٹوکرا اُٹھائے ہماری طرف دیکھ کر مسکرائی تو ہم سمجھ گئے کہ عشق کا دھواں بالآخر اُس تک پہنچ چکا ہے۔

پورا دن سوچتے رہے کہ اب شیرین جان بی بی سے رابطہ کرکے حالِ دل کیسے پہنچایا جائے۔ کیونکہ وہ چٹی ان پڑھ اور ہم کیڈٹ کالج کے فیل یافتہ۔ بہت سوچنے کے بعد بین الاقوامی زبان کا سہارا لیا، جسے آج کل یار لوگ "جذبات سے کھیلنا" کہتے ہیں۔

ابا کی بیگم نے کسی بات کی منت مانی ہوئی تھی۔ سو دوپہر کو اصیل مرغ ذبح ہوا تو ہم نے بھی فائدہ اُٹھاتے ہوئے گرم گرم خون میں قلم ڈبو کر ایک سفید کاغذ پر دل بنایا، اور ایک تیر اُس دلِ ناتواں کے آر پار کر ڈالا۔ شام کو پنگھٹ پر وہ کاغذ پھینک دیا۔ وہ پانی کا مٹکا بھر رہی تھی۔ لہجے میں نہایت محبت سمو کر ہم بول پڑے
"ہم نے اپنے خون سے دل بنا کر بھیجا ہے، سنبھال کر رکھیے گا۔"

اس نے بغور کاغذ کو دیکھا۔ تھوڑی دیر بعد اُس نے نمناک آنکھوں سے ہماری طرف دیکھا اور ہلکے سے فقط اتنا بولی
"اتنی محبت مت کرو فرہاد ہم سے، کہ کل ہم آپ کے محبت نامے کا جواب دیتے ہوئے اپنی جان تک دے دیں۔"

طبیبِ جدید نے میری آستین سمیٹتے ہوئے کہا
"خٹک صاب، پریشان ہونے کی بات نہیں۔ آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔"

کلینک سے باہر نکلا تو سوچا کہ شہر آیا ہوں تو رشتہ داروں سے بھی مل لوں۔ بڑے عرصے سے مامودی سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ سو اُس کے گھر کا نمبر موبائل فون سے ڈائل کیا۔ فون کسی خاتون نے اٹھایا۔

"مامودی گھر پر نہیں ہیں، آپ کون؟"

ہم سے سوال پوچھا گیا۔

"بھابھی، میں آپ کا دیور گاؤں سے آیا ہوں۔۔۔"

خاتون نے جذبات پر قابو پاتے ہوئے لرزتی آواز میں کہا
"بھیا تو آجائیں ناں، مامودی بس آنے والے ہیں۔"

میں نے اپنا ہاتھ اٹھا کر وہی پرانا زخم دیکھا اور ایک سرد آہ بھری۔ شیرین جان بھابھی، مامودی نسلِ خنزیر کے آٹھ بچوں کی ماں ہے۔
😭😭😭
تحریر: عارف خٹک

نصرت فتح علی خانہمارے پاکستانیوں کے نزدیک ہر بیماری کا علاج پینا ڈال کی گولی اور ہر پریشانی کا علاج ایک کپ اچھی چائے سمج...
14/09/2026

نصرت فتح علی خان

ہمارے پاکستانیوں کے نزدیک ہر بیماری کا علاج پینا ڈال کی گولی اور ہر پریشانی کا علاج ایک کپ اچھی چائے سمجھی جاتی ہے۔
ہم ایک ڈھابے پہ بیٹھ کر چائے پی رہے تھے اور زوہیب بھائی پچھلے دو گھٹنوں سے مسلسل نصرت فتح علی خان کی قوالیاں سن رہے تھے۔
ایک موٹر سائیکل ڈھابے کے سامنے اکر رکی، پیچھے ایک خاتون بیٹھی تھی جس کا دوپٹہ ذرا نیچے ٹائر کے ساتھ لگ رہا تھا۔ اپنا قومی فریضہ سرانجام دیتے ہوئے بھٹی صاحب بولے
Siso please update your scarfs
خاتون نے بھٹی صاحب کی بات ان سنی کر دی۔ بھٹی صاحب نے سمجھا شاید خاتون ان پڑھ ہے اس لیے اتنی اعلیٰ قسم کی انگریزی سمجھ نہ پائی تو اردو میں بولے " باجی اپنا دوپٹہ اوپر کر لیں۔"

خاتون نے بائیک پر بیٹھے مرد کے کان میں کچھ کہا اور اس نے مڑ کر بھٹی صاحب کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تو بھٹی صاحب بھیگی بلی بن کر خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔

زوہیب بھائی کے اندر نیکی کا جذبہ پیدا ہوا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور بھٹی صاحب کو کہنے لگے "خواتین بہت نازک ہوتی ہیں، اُن سے ادب و احترام سے بات کی جاتی ہے جو میں تمہیں ابھی سکھاتا ہوں اور دیکھنا یہ خاتون اپنا دوپٹہ فوراً اوپر کر لے گی۔"
زوہیب بھائی اس بائیک کے پاس گئے اور پتہ نہیں کیا کہا کہ بائیک والے نے بائیک کھڑی کی اور زوہیب بھائی کو پیٹنا شروع کر دیا اور ہمارے پہنچنے سے پہلے وہاں آٹھ دس لوگ جمع ہو چکے تھے جو زوہیب بھائی کو لاتوں، مکوں اور گھونسوں سے ایسے پیٹ رہے تھے جیسے کسی زمانے میں کپڑوں سے میل نکالنے کے لئے انہیں ڈنڈوں سے پیٹا جاتا تھا۔

ہم نے زوہیب بھائی کو چُھڑوانے کے بعد ان لوگوں سے زوہیب بھائی پر تشدد کی وجہ پوچھی توبائیک والا شخص کہنے لگا " بھائی جان یہ گینڈا عاشق میری بیوی کے ساتھ بدتمیزی کر رہا تھا اور اسے لائن مارتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ سنمبھالو ذرا اپنا آنچل گلابی۔"
تب مجھے سمجھ آیا کہ زوہیب بھائی اصل میں اُس خاتون کو نصرت فتح علی خان کی زبان میں دوپٹہ اوپر کرنے کا کہہ رہے تھے مگر وہ بدذوق اور اردو ادب سے نابلد لوگ زوہیب بھائی کی دانائی کو سمجھ نہ سکے۔

ہم زوہیب بھائی کو ہسپتال لے آئے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔
لیڈی ڈاکٹر نے ہم سے پوچھا کہ اس کا منہ سوجا ہوا ہے جس پر بھٹی صاحب نے جواب دیا کہ
No dr lady miss his dirty face is earlier and still same same
اس کا منہ شروع سے ایسے ہی سوجا ہوا ہے۔

اِس سے پہلے کہ بھٹی صاحب کے ساتھ ساتھ لیڈی ڈاکٹر مجھے بھی ہسپتال کے گارڈز کے ساتھ محفوظ اور باعزت طریقے سے ہسپتال بدر کرتی میں بھٹی صاحب کو پکڑ کر باہر آ گیا تاکہ زوہیب بھائی کی دوائیں لا سکیں۔
پندرہ منٹ کے بعد ہم دوائیں لے کر ہسپتال واپس پہنچے تو دیکھا کہ زوہیب بھائی کو پولیس ڈالے میں ڈال کر اپنے ساتھ لے جا رہی تھی۔
میں نے ساتھ کھڑے گارڈ سے پوچھا کہ کیا ہوا تو وہ کہتا
"یہ نصرت فتح کا سانڈھ ہماری لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ بدتمیزی کر رہا تھا، لیڈی ڈاکٹر اس کا بلڈ پریشر چیک کر رہی تھی تو اسے کہتا "کالی کالی زلفوں کے پھندے نہ ڈالو ہمیں زندہ رہنے دو اے حُسن والو۔"
اب مجھے فقط یہ پریشانی ہے کہ زوہیب بھائی پولیس والوں کو کون کون سی قوالیاں سنائیں گے۔

14/09/2026

پاکستان میں اکثر لوگ جب کسی بڑے سرکاری عہدے پر فائز ہوتے ہیں تو سب سے پہلے انسانیت کے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہیں۔

14/09/2026

دفتر میں اُس کی موت کا اعلان ہوا،دو منٹ خاموشی رہی،
پھر اُس کا کام بانٹ دیا گیا۔
​وہ برسوں اس خوف سے چھٹی نہیں لیتا تھا کہ اُس کے بغیر کام کیسے چلے گا۔
"ہستی تمام شُد"

13/09/2026

"زندگی میں کچھ مانگیں نہ مانگیں یہ ضرور مانگیں کہ
وہ رب آپ کو ایسے لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے جو آپ کے سامنے مخلص ہوں
مگر اندر آپ کے خلاف ہوں.

ابا جی ڈیڈی اور پاپا میں زمین اور آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ جب میں نے ہوش سنبھالا اس وقت تمام گھروں میں والد کو اباجی کہا جا...
13/09/2026

ابا جی ڈیڈی اور پاپا میں زمین اور آسمان کا فرق ہوتا ہے۔

جب میں نے ہوش سنبھالا اس وقت تمام گھروں میں والد کو اباجی کہا جاتا تھا۔ اُس دور میں اباجی صرف بچوں کے لیے ہی نہیں بلکہ بچوں کی ماں کے لیے بھی خوف کی علامت ہُوا کرتے تھے، ادھر ابا جی گھر پہنچتے اور اُدھر گھر کے صحن پر سناٹا چھا جاتا، بچے گھر کے کونوں کُھدروں میں دبک جاتے اور بچوں کی اماں سر پر دوپٹہ اوڑھ لیتی۔

ابا جی کے ہاتھ سے تھیلا وغیرہ پکڑ کر مقررہ جگہ پر رکھ دیا جاتا اور ابا جی چارپائی پر بیٹھ کر جُوتے اُتارتے جنہیں فوراً ایک طرف اُٹھا کر رکھا جاتا۔ پھر ابا جی کوئی بھی حُکم جاری کرتے تو فوراً اُس کی تعمیل ہوتی، پھر ابا جی کو کھانا پیش کیا جاتا اور امی جان اُنہیں قریب بیٹھ کر کھانا کھلاتیں اور سب بہن بھائی بھاگ بھاگ کر اُنہیں کبھی نمک اور کبھی چٹنی مہیا کیا کرتے تھے۔

ابا جی کے غُسل سے پہلے امی جان غُسل خانے کا معائینہ کرتیں اور وہاں ڈبہ تولیہ صابن وغیرہ ہر چیز رکھ دیتیں اور پھر ابا جی کے کپڑے استری ہوتے، ابا جی جب دفتر جاتے تو امی اُن کو دروازے تک رخصت کرنے جاتیں اور ابا جی کے روانہ ہوتے ہی گھر میں چھائی خاموشی کے بند ٹُوٹتے اور بچوں کی شرارتیں اور امی جان کی دھمکیاں شروع ہوجاتیں کے شام کو تمہارے ابا آئیں گے تو تمہاری شکایت لگاؤں گی۔

اُس دور میں ابا جی کی دہشت ہر وقت بچوں پر چھائی رہتی تھی، مُجھے اچھی طرح یاد ہے کے سکول کی پراگرس رپورٹ پر ابا جی سے دستخط کروانا ایک مشکل ترین مرحلہ ہوتا تھا۔

پھر زمانہ بدلا تو بچے ابا جی کو ڈیڈی اور ماں جی کو ممی کہنے لگے ، ڈیڈی کہلوانے والوں کا وہ رعب اور دہشت نہیں ہوتی تھی جو ابا جی کہلوانے والوں کی ہوتی تھی، ڈیڈی وہ حضرات تھے جو عورت اور مرد کی برابری پر یقین رکھتے تھے اوران کا خیال تھا کہ بیوی اور بچوں کو ڈرا کر رکھنے کی بجائے ان سے دوستانہ تعلقات ہونے چاہیے، چنانچہ ڈیڈی حضرات حکم آخر جاری کرنے کی بجائے مشاورت پر یقین رکھتے تھے اور گھروں میں ان کا طرز عمل ابا صاحبان سے کافی بہتر ہوتا تھا جو مخاطب کی پُوری بات سُنے بغیر ہی جوتا اُتار لیا کرتے تھے۔

ڈیڈی کہلوانے والے صاحبان کو اگر کھانے میں کوئی نقص نظر آتا تو وہ انتہائی شائستگی سےاُس کی نشاندہی کرتے اور ابا صاحبان کی طرح کھانا صحن میں اُٹھا کر نہیں پھینکتے تھے، ڈیڈی کہلوانے والے بچوں کے سوالات کے جوابات انتہائی پیار و محبت سے دیتے اور بیوی کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات و مطالبات کے جواب بھی خندہ پیشانی اور دلبری سے دیتے اور گھروں میں توازن کی فضا برقرار رکھتے تھے۔

زمانہ اور اور آگے بڑھا اور ابا صاحبان کو پاپا اور والدہ کو ماما کہا جانے لگا، یہاں سے گھروں میں ایک بڑی تبدیلی آنی شروع ہُوئی اور گھر میں حکمرانی کا تاج پاپا کی بجائے ماما کے سر پر سجایا جانے لگا اور پاپا کی حثیت گھر میں ایک عام شہری جیسی ہو گئی، پاپا صاحبا ن جب دفتر سے گھر واپس آتے ہیں تو اُن کی طرف کوئی متوجہ نہ ہوتا، ماما ٹی وی دیکھتی رہتی ہیں اور بچے موبائل فون پر ایس ایم ایس کرتے رہتے ہیں ، پاپا حضرات کپڑے وغیرہ تبدیل کرکے کھانا مانگتے ہیں تو ماما کہتی ہیں ذرا صبر کریں ڈرامے میں وقفہ آتا ہے تو کھانا دے دیتی ہُوں ، اگر پاپا موصوف زیادہ بھوک لگی ہونے کی شکایت کرتے ہیں تو ماما کہتی ہیں کے دفتر سے نکلتے ہی فون کر دیا کریں میں کھانا گیٹ پر ہی رکھ دیا کروں گی۔

اس جواب کے بعد پاپا دبک کر بیٹھ جاتے ہیں اور ڈرامے میں وقفے کا انتظار کرتے ہیں، خُدا خُدا کر کے ڈرامے میں کمرشل بریک آتا ہےتو ماما بھاگ کر کچن میں جاتی ہیں اور کھانا لاکر شوہر کے سامنے یُوں رکھتی ہیں جیسے وہ پیش نہ کیا جارہا ہو بلکہ اُسے ڈالا جارہا ہو اور شوہر کے ہاتھ سے ٹی وی کا ریموٹ جسے شوہر نے بیوی کی غیر موجودگی میں اُٹھا لیا ہوتا ہےواپس جھپٹ لیتی ہیں اور بولتی ہیں ابھی تو بڑا بھوک بھوک کا شور مچایا ہُوا تھا اور اب خبریں سُننے کی پڑ گئی ہے چُپ کر کے کھانا کھاؤ اور اگر پاپا کھانے کے بعد ٹی وی کا ریموٹ دوبارہ مانگتے ہیں تو ماما کہتی ہیں کہ چُپ کر کے جا کر سو جائیں اور یُوں پاپا حضرات دُم دبا کر سونے چلے جاتے ہیں۔

آج کے پاپا کی حثیت اے ٹی ایم مشین سے زیادہ نہیں رہ گئی اور میں یہ سوچتا ہُوں کہ کہاں وہ کل
کے ابا جان اور کہاں آج کے پاپا، زمانہ کیا سے کیا ہوگیا۔

`وُلِدَ فِي مَكَّةَ فَأَصْبَحَتْ مُكَرَّمَةً،`وہ مکہ میں پیدا ہوئے، تو مکہ معظم اور باعزت بن گیا۔`وَعَاشَ فِي المَدِينَة...
13/09/2026

`وُلِدَ فِي مَكَّةَ فَأَصْبَحَتْ مُكَرَّمَةً،`
وہ مکہ میں پیدا ہوئے، تو مکہ معظم اور باعزت بن گیا۔
`وَعَاشَ فِي المَدِينَةِ فَأَصْبَحَتْ مُنَوَّرَةً،`
*اور مدینہ میں زندگی گزاری، تو مدینہ روشن و منور ہو گیا
`وَدَخَلَ قُلُوبَنَا فَأَصْبَحَتْ مُطَهَّرَةً.`
اور جب وہ ہمارے دلوں میں اُترے، تو دل پاکیزہ ہو گئے۔

صلى الله عليه وآلہ وسلّم

گرل فرینڈ..آپ کسی کی گرل فرینڈ ہیں تو آپ خوش قسمت ہیں اور اگر نہیں تو پھر وہ خوش قسمت ہے..ہمارا مشاہدہ ہے کہ گرل فرینڈ ب...
13/09/2026

گرل فرینڈ..

آپ کسی کی گرل فرینڈ ہیں تو آپ خوش قسمت ہیں اور اگر نہیں تو پھر وہ خوش قسمت ہے..

ہمارا مشاہدہ ہے کہ گرل فرینڈ بنانے کے بڑے فائدے ہیں۔ بندہ بے شک ساری زندگی گھر میں کدو گوشت کھاتا رہے
لیکن جیسے ہی اس کی کوئی گرل فرینڈ بنتی ہے، وہ اچانک پیزا کھانے لگتا ہے، کپڑے استری کرنے لگتا ہے اور ہر چوتھے روز نہانے بھی لگتا ہے۔
یہی حال لڑکی کا بھی ہوتا ہے۔ آپ نے آج تک کسی ایسی گرل فرینڈ کے بارے میں نہیں سنا ہوگا جس نے اپنے بوائے فرینڈ سے نان چھولے کھانے کی فرمائش کی ہو۔ لڑکیوں کو پتا ہوتا ہے کہ انہوں نے ایسی کوئی فرمائش کی تو بیٹھے بٹھائے ڈی گریڈ ہو جا ئیں گی۔

لہذا یہ اسٹارٹ ہی زنگر برگر سے لیتی ہیں۔ یہ کبھی کبھی خود بھی لڑکے کو فون کرلیتی ہیں لیکن ایک منٹ کی گفتگو کے بعد ہی اسے احتیاطاَ بتا دیتی ہیں کہ اگر میرا فون بند ہو جائے تو پلیز تم کرلینا۔ ٹھیک ایک منٹ بعد یہ کوئی بات کرتے کرتے اچانک فون بند کردیتی ہیں، لڑکا فوراَ رنگ بیک کرتا ہے اور پندرہ منٹ میں اپنا سو والا کارڈ ختم کروا بیٹھتا ہے۔

اچھی گرل فرینڈ لڑکے کو کافی ساری احتیاطی "تدابیر" بھی سمجھا دیتی ہے۔ مثلاَ یہ کہ جب بھی مجھ سے بات کرنی ہو پہلے کوئی عام سا لطیفہ فارورڈ کرنا، اگر میری طرف سے جواب نہ آئے تو سمجھ جانا میں "چکر" میں ہوں۔ اسی طرح اگر کبھی میری بجائے گھر میں سے کوئی اور فون اٹھا لے تو فون بند نہ کردینا بلکہ اطمینان سے کہنا، کیا یہ رشید پلمبر کا نمبر ہے؟ اور اگر کبھی میں بات کرتے کرتے اچانک فون بند کردوں تو مجھے فوراَ دوبارہ فون نہ کرنا، ہاں اگر مسڈ کال دوں تو پھر بے شک کرلینا۔

ایسی گرل فرینڈز ہمیشہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ وہ صرف آپ سے ہی بات کرتی ہیں، ورنہ ان کے پاس کسی کیلئے کوئی ٹیم نہیں۔ ایسے میں اگر آپ کبھی رات کے دو بجے ان کو چیک کرنے کیلئے فون کریں تو اکثر کے فون سے یہی آواز آئے گی "آپ کا مطلوبہ نمبر پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے مصروف ہے" اگر آپ بعد میں شکوہٰ کریں کہ اتنی رات کو کس سے بات ہورہی تھی تو اس کا جواب دینے کی بجائے فوراَ رونی صورت بنا کر کہیں گی "شکیل! تم مجھ پر شک کر رہے ہو، اپنی گڑیا پر؟؟؟"
ظاہری بات ہے شکیل صاحب اس جذباتی حملے سے کہاں محفوظ رہ سکتے ہیں، لہذا فوراَ گھگھیا کر کہتے ہیں "کیسی بات کررہی ہو جان، میں اپنے باپ پر تو شک کرسکتا ہوں، تم پر نہیں" لیکن یہ الٹا شکیل پر چڑھ دوڑتی ہیں، فوراَ روتے ہوئے کہیں گی "نہیں نہیں نہیں! تم نے مجھ پر شک کیا ہے، میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میرا شکیل اتنا گھٹیا بھی ہوسکتا ہے، تم نے میرے اعتماد کا خون کردیا ہے، پلیز مجھے کہیں سے زہر لادو، میں اب زندہ نہیں رہنا چاہتی" اور شکیل صاحب کو فون کی بات بھول کر اپنی فکر پڑ جاتی ہے
ہمارا مشورہ یہ ہے کہ گرل فرینڈ وہ بنانی چاہیئے جو کم ازکم آپ جتنا ضرور پڑھی ہوئی ہو
ورنہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایم اے پاس لڑکے کی میٹرک پاس گرل فرینڈ اکثر اس بات پر ناراض ہوکر بیٹھ جاتی ہے کہ "تم نے مجھے موبائل میں رنگ ٹونیں کیوں نہیں بھروا کے دیں
اسی طرح وہ گرل فرینڈ جو آپ سے تعلیم میں زیادہ ہو، وہ ایک اور قسم کی مصیبت بن جاتی ہے۔ فرض کیا کہ لڑکا میٹرک ہے اور گرل فرینڈ ایم اے ہے تو اس کا ہر دن یہی شکوٰہ ہوگا "خدا کیلئے نذیر، کبھی تو ڈھنگ کے کپڑے پہن آیا کرو، کوٹ پنٹ کے نیچے جوگر کون پہنتا ہے؟"
اب بھلا نذیر کیسے بتائے کہ اس نے جوگر پہلی دفعہ نہیں پہنے، کوٹ پنٹ پہلی دفعہ پہنا ہے۔😊😊

گل نوخیز اختر

13/09/2026

"پاکستان کا موجودہ ذریعہ آمدن
صرف بجلی ، تیل اور گیس کے بلز ہیں،
جو کہ فقط غریب عوام ادا کر رہی ہے۔"

پولی سسٹک اووریز سنڈروم (PCOS) ہارمون کے عدم توازن سے پیدا ہونے والا ایک مرض ہے۔​پی سی او ایس کیا ہے؟پی سی او ایس کا مطل...
13/09/2026

پولی سسٹک اووریز سنڈروم (PCOS) ہارمون کے عدم توازن سے پیدا ہونے والا ایک مرض ہے۔

​پی سی او ایس کیا ہے؟
پی سی او ایس کا مطلب ہارمون کی خرابی ہے۔ یہ دماغ اور بیضہ دانی میں ہارمون کے توازن کو کم کرتا ہے۔
​عام طور پر اووریز ہارمون بناتی ہیں جسے ایسٹروجن اور پروگیسٹیرون کہتے ہیں۔
​اووریز اینڈروجنز بھی بناتی ہیں جو کہ مردانہ ہارمون ہوتے ہیں۔ پی سی او ایس میں اووریز بہت زیادہ ہارمون پیدا کرتی ہیں، جس سے ہارمون کا توازن خراب ہو جاتا ہے جو کہ جسم پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کے اثرات ہلکے یا پھر بہت تیز بھی ہو سکتے ہیں۔
​پی سی او ایس کا اثر ہر دس میں سے ایک خاتون پر ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ اپنے جسم کا خیال رکھیں اور ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق علاج کریں تو یہ بیماری قابو میں آسکتی ہے۔
​پی سی او ایس کا مطلب اووریز میں بہت زیادہ سسٹس کا پیدا ہونا ہے۔ پولی سسٹس کا مطلب ہے بہت زیادہ سسٹس۔
​پولی سسٹک اووریز سنڈروم (PCOS)
پختہ کار چھوٹی تھیلی کے ساتھ ایک نارمل بیضہ دانی، اور بند تھیلیوں والی کئی سسٹوں پر مشتمل بچہ دانی۔
بیضہ دان رطوبت سے بھرے باریک تھیلے بناتا ہے جو اووا یا انڈے رکھتے ہیں۔ یہ انڈے فالیکلز یا سسٹس کہلاتے ہیں۔ ایسی عورتیں جو پی سی او ایس کا شکار ہوتی ہیں، ان میں فولیکلز اچھی طرح انڈے نہیں چھوڑتے اور وہ کئی چھوٹے سسٹس میں بڑھ جاتے ہیں۔
​اووریز سیال مادے سے بھرے ہوئے تھیلے پیدا کرتی ہیں جن میں انڈے ہوتے ہیں۔ ان تھیلوں کو فولیکلز یا سسٹس کہتے ہیں۔ ہر مہینے جب عورتوں کا سائیکل ہوتا ہے، پکے ہوئے فولیکل پھٹ جاتے ہیں اور انڈے باہر نکل جاتے ہیں۔ اس عمل کو اوولوشن کہتے ہیں۔
​جن خواتین کو پی سی او ایس ہوتا ہے، ان کا دماغ ہارمون کا پیغام اووری کو نہیں بھیجتا کہ تیار انڈے نکال دے۔ اس لیے اوولوشن کبھی ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی۔ فولیکلز پھٹنے کی بجائے بڑے ہو جاتے ہیں اور اووریز میں سسٹس کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
​پی سی او ایس کی علامات اس وقت شروع ہوتی ہیں جب لڑکیوں کو پہلی بار پیریڈز شروع ہوتے ہیں، جس کی وجہ اینڈروجنز کی زیادتی ہوتی ہے، لیکن جن خواتین کو پی سی او ایس ہوتا ہے انہیں پیریڈز کم یا بالکل نہیں ہوتے۔

​پی سی او ایس کی ممکنہ علامات یہ ہو سکتی ہیں:
​چہرے اور جسم پر غیر ضروری بال
​وزن میں توازن رکھنے میں مشکل
​چہرے پر کیل اور مہاسے
​ایسی اووریز جن میں سسٹس زیادہ ہو جاتی ہیں
​خون میں چربی کا بڑھنا
​انسولین یا شوگر کا بڑھنا
​خون میں اینڈروجنز کا بڑھنا
​لیکن تمام خواتین کو یہ شکایات نہیں ہوتیں
​پی سی او ایس کی تشخیص مریض کی ہسٹری، امتحان اور خون کے ٹیسٹ سے ہوتی ہے۔
پی سی او ایس کے لیے کوئی ایک ٹیسٹ نہیں ہوتا۔ اس کو جانچنے کے لیے ڈاکٹر کچھ سوالات کرتے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:
​پیریڈز سے متعلق
​بالوں اور جلد کے مسائل
​وزن کا بڑھنا
۔

اگر پی سی او ایس کا علاج نہ کیا جائے تو صحت کے بہت سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ صحت کے مسائل مندرجہ ذیل ہیں:
​دل کی بیماری
​شوگر
​موٹاپا
​بچہ دانی کا کینسر
​حاملہ ہونے میں رکاوٹ
​پی سی او ایس کا علاج
پی سی او ایس کا علاج اس کی علامات پر منحصر ہے۔ کیونکہ پی سی او ایس سے وزن بڑھता ہے، اس لیے آپ کو بہت اچھی خوراک کھانے اور ورزش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
​غیر ضروری بالوں سے نجات
ہارمون میں توازن سے غیر ضروری بالوں کا خاتمہ ہو گا۔ یہ پہلے سے موجود بالوں کو ختم نہیں کر سکتا لیکن ان کو ختم کرنے کے دیگر طریقے بھی ہیں، جن کو جاننے کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کیجیے۔
​پی سی او ایس اور حاملہ ہونا
پی سی او ایس کے ساتھ حاملہ ہونا مشکل ہو جاتا ہے، جبکہ کچھ کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ پی سی او ایس کی وجہ اووری میں سسٹس کا پیدا ہونا ہے۔ پی سی او ایس والی خواتین کی بچہ دانی اور انڈے نارمل ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ حاملہ ہونا چاہتی ہیں تو اپنے ڈاکٹر سے بات کیجیے۔ ایسے علاج موجود ہیں جس سے آپ کے حاملہ ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
​
​پی سی او ایس ہارمون کا عدم توازن ہوتا ہے جو خواتین کو متاثر کرتا ہے۔
​اس کی علامات میں ماہواری میں بے قاعدگی کا ہونا ہے۔
​دوسری علامات میں کیل مہاسے، موٹاپا اور غیر ضروری بالوں کا ہونا ہے۔
​اگر پی سی او ایس کا علاج نہ کیا جائے تو اس سے بانجھ پن، دل کا مرض اور اووری کا کینسر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے!

Address

Mandi Bahauddin
50400

Telephone

03426677508

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when صحت اور تربیت ساتھ ساتھ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to صحت اور تربیت ساتھ ساتھ:

Shortcuts

Share