18/12/2025
سُکّی کناری ہائیڈرو پاور پروجیکٹ — ترقی کے نام پر ناانصافی؟
سُکّی کناری ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کو ایک بڑے قومی ترقیاتی منصوبے کے طور پر پیش کیا گیا۔
یہ منصوبہ تقریباً 2017 میں عملی طور پر شروع ہوا اور اسے خیبر پختونخوا خصوصاً وادیٔ کاغان اور مانسہرہ کے لیے توانائی کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا۔
بجلی پیدا کرنا یقیناً ایک قومی ضرورت ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ: کیا یہ ترقی مقامی لوگوں کو ساتھ لے کر کی گئی، یا ان کی قربانی پر؟
زمین، قبضہ اور مقامی آبادی کا مسئلہ
اس منصوبے کے لیے بڑی مقدار میں زمین حاصل کی گئی۔
قبضہ مالکان (جو کےنصف کاپورا حق رکھتے تھے)ان کو اس حق سے محروم کیاگیا۔
یہاں اصل مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ منصوبہ بندی کے وقت مقامی لوگوں کو نہ تو مکمل اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی ان کے حقوق کو واضح کیا گیا۔
یہاں سب سے بنیادی اور سنجیدہ سوال یہ ہے:
کیا قبضہ مالکان، جو نصف کا پورا حق رکھتے تھے، انہیں ان کا جائز حق (نصف معاوضہ) ادا کیا گیا؟
یہ سوال آج بھی جواب کا منتظر ہے۔
اگر کسی فرد کا قانونی اور روایتی طور پر زمین میں نصف حق تھا، تو:
کیا اسے تحریری طور پر تسلیم کیا گیا؟
یا اسے مکمل طور پر نظرانداز تو نہیں کیا گیا؟
یا پھر ترقی کے نام پر اس کے حق کو دبا دیا گیا؟
مانسہرہ تا جالکھڈ موٹر وے — ایک انتباہ، ایک سبق
مانسہرہ تا جالکھڈ موٹر وے کو علاقے کی ترقی کے لیے ایک اہم منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری
یہ سڑک بلاشبہ سہولت، سیاحت اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کر سکتی ہے، مگر ماضی کے تجربات ہمیں محتاط رہنے کا سبق دیتے ہیں۔
سُکّی کناری ہائیڈرو پاور پروجیکٹ میں جو کچھ ہوا، وہ آج بھی مقامی لوگوں کے لیے ایک کھلا زخم ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ مانسہرہ تا جالکھڈ موٹر وے میں وہی غلطیاں دوبارہ نہ دہرائی جائیں۔
ایک نیا منصوبہ — مانسہرہ تا جالکھڈ موٹر وے۔
اب ایک اور نیا موٹر وے منصوبہ زیرِ غور ہے، جسے عام طور پر مانسہرہ تا جالکھڈ موٹر وے کے نام سے جانا جا رہا ہے۔
یہ منصوبہ بظاہر ترقی کا ایک نیا باب لگتا ہے،
لیکن عوام کے دلوں میں ایک فطری خدشہ پیدا ہو چکا ہے:
کہیں ایسا نہ ہو کہ اس منصوبے میں بھی سُکّی کناری ہائیڈرو پاور پروجیکٹ جیسی ناانصافیاں دہرائی جائیں۔
اب ایک بار پھر لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کر رہے ہیں:
کیا یہاں بھی قبضہ مالکان کو جو کہ نصف کا پورا حق رکھتے ہیں ایک بار پھر نظرانداز کیے جائے گے؟
کیا لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ان کے حقوق سلب کیے جائیں گے؟
کیا وعدے ہوں گے، مگر عمل نہیں؟
قبضہ مالکان کے حقوق — کوئی رعایت نہیں، پورا حق
یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ: قبضہ مالکان خیرات نہیں مانگ رہے، وہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔
جو لوگ:
روایتی، قانونی یا خاندانی طور پر زمین میں حق رکھتے ہیں
جو نصف یا مکمل حق کے مالک ہیں
انہیں:
پورا پورا حق
پورا پورا معاوضہ
اور تحریری، شفاف طریقے سے ادائیگی
ملنی چاہیے۔
یہ کسی احسان کی بات نہیں، یہ انصاف کی بات ہے۔
نوجوانوں کا کردار — آج نہیں تو کبھی نہیں
یہ وقت خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ہے۔
نوجوان صرف:
جسمانی طاقت نہیں رکھتے
بلکہ:
سوچ
شعور
اور مستقبل بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں
اگر آج نوجوان خاموش رہے، تو کل ان کے پاس شکایت کا حق بھی نہیں بچے گا۔
ایک آواز، ایک اتحاد
ضرورت اس بات کی ہے کہ:
نوجوان ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں
ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر سوچیں
اور اجتماعی طور پر اپنی آواز بلند کریں
یہ آواز:
نفرت کی نہیں
انتشار کی نہیں
بلکہ:
حق
انصاف
اور شفافیت کی ہونی چاہیے
واضح مطالبہ
ہم یہ واضح اور دو ٹوک مطالبہ کرتے ہیں:
1. کسی بھی نئے موٹر وے یا ترقیاتی منصوبے میں
قبضہ مالکان کو پورا پورا حق دیا جائے۔
2. سُکّی کناری ہائیڈرو پاور پروجیکٹ جیسی ناانصافیاں
دوبارہ نہ دہرائی جائیں۔
3. تمام فیصلے
عوام کو اعتماد میں لے کر، تحریری اور شفاف طریقے سے کیے جائیں۔
ترقی ضروری ہے،
مگر انصاف کے بغیر ترقی قبول نہیں۔
اگر آج ہم نے آواز نہ اٹھائی،
تو کل صرف پچھتاوا رہ جائے گا۔
آؤ، مل کر کھڑے ہوں —
اپنے حق کے لیے،
اپنے مستقبل کے لیے۔
واسلام ۔
#ایڈمن #
نوجوان اتحاد امن ویلفیئر سوسائٹی راجوال