Free Wheelchair Foundation

Free Wheelchair Foundation Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Free Wheelchair Foundation, Social Media Agency, Mattani.

26/06/2025
18/06/2025
18/06/2025

ہماری منتخب ایم این اے محترمہ شاندانہ گلزار صاحبہ فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنے کے لیے اسلام آباد تک احتجاج میں شریک ہو سکتی ہیں، جو قابل ستائش بات ہے۔ لیکن ہمیں انتہائی دکھ اور پریشانی ہے کہ جس آضاخیل گاؤں سے آپ منتخب ہوئیں، یہاں کے عوام برسوں سے بنیادی ضرورت یعنی پانی کے حصول کے لیے ترس رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ فلسطین کے مسلمانوں کے لیے آنکھیں کھول سکتی ہیں، تو اپنے ہی حلقے کے آضاخیل کے مسلمان بہن بھائی، جو شدید مشکلات اور غم میں گھرے ہوئے ہیں، آپ کو کیوں نظر نہیں آتے؟ ہمارا گاؤں پانی کے شدید بحران کی وجہ سے کربلا بنا ہوا ہے بچے، بوڑھے، مائیں، بہنیں سب پانی کی ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔
یہ وہی عوام ہیں جن کے دروازوں پر آپ الیکشن سے پہلے ڈور ٹو ڈور جا کر ووٹ مانگتی پھرتی تھیں۔ آج وہی آپ کو پکار رہے ہیں کہ اپنی قوم کے اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی ہوں۔ اگر آپ فلسطین کے لیے سڑکوں پر نکل سکتی ہیں، تو براہِ کرم آضاخیل آئیں اور اپنے لوگوں کی اس ہلاکت خیز ضرورت پر فوری عمل کریں۔ ہم آپ سے التجا کرتے ہیں: پانی کا بحران ایمرجنسی ہے، فوری ریلیف دیں۔ فلسطین کی حمایت جاری رکھیں، مگر اپنے گھر کے مسلمانوں پر بھی رحم فرمائیں۔ ہماری آواز بنیں، ہمارے ساتھ کھڑی ہوں۔
زاہد تلاش جرنلسٹ۔

18/06/2025

ابھی ایک ممبر نے ویڈیو بھیجی، اس میں ایک بزرگ فریاد کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں یہ ہمارے حالات ہیں اور ہم پانی ٹینکیوں میں لاتے ہیں۔ابھی بھی سوچنے کی بات ہے ہمارے منتخب نمائندے کہاں مصروف ہیں؟ اکثر شادیوں میں نظر آتے ہیں۔ سچ ہے کہ صرف شادیوں میں ہی نظر آتے ہیں۔ اسلام آباد تک احتجاج کے لیے جا سکتے ہیں، لیکن ازخیل قوم کے پاس نہیں آسکتے؟ ہفتہ گزر گیا، عوام کو کوئی جواب نہیں ملا۔ منتخب نمائندوں سے درخواست ہے: آج ازخیل قوم آپ کی ضرورت ہے۔ آجائیں اور مسئلہ حل کریں...

fans

15/06/2025

آواز اٹھاؤ آضاخیل کے لیے! پانی کا حق ہمارا بنیادی حق ہے!

گاؤں والو! ماؤں بہنو! نوجوانو! اور خاص طور پر آضاخیل کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھیرنے والے معصوم بچو!
یہ پوسٹ دل کا درد، آنسوؤں کی زبان اور آضاخیل کی سسکیوں کا مرثیہ ہے۔ ہمارا پیارا گاؤں آضاخیل آج پانی کی تلاش میں کربلا بن چکا ہے۔ وہ کربلا جس کی داستانیں ہم کتابوں میں پڑھتے تھے، آج ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، اپنی بے بسی سے جی رہے ہیں۔ ہاں، آضاخیل آج کربلا ہے۔ اور اس کربلا میں قربانی دے رہے ہیں ہمارے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے... ہماری مائیں... ہماری بہنیں۔
سوچیں! ترقیاتی علاقوں کے بچے صبح سویرے بستہ اٹھاتے ہیں، سکول، مدرسے جانے کو تیار ہوتے ہیں۔ اور ہمارے آضاخیل کے پیارے بچے؟ وہ صبح اٹھتے ہی پانی کی تلاش میں گھروں سے نکل پڑتے ہیں۔ ان کی معصوم آنکھوں میں سوال ہے: "کیوں؟" ان کے ننھے ہاتھ پانی کے ڈبوں کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہیں۔ یہ عمر ڈبوں کی نہیں، قلم اور کتابوں کی ہے! یہ عمر سکول اور مدرسے کی ہے!
نوجوانو! یہ آواز اٹھانے کا وقت ہے کب تک خاموش رہو گے؟ کب تک اپنے گھر، اپنے بہن بھائیوں، اپنی ماؤں کی اس اذیت کو دیکھتے رہو گے؟ جاگو! آضاخیل کے لیے آواز بنو! ان ننھے فرشتوں کی آواز بنو جن کی خوشیاں پانی کی تلاش میں دفن ہو رہی ہیں۔ ان کی صحت تباہ ہو رہی ہے، ان کا مستقبل داؤ پر لگا ہے۔
ہمارا مطالبہ واضح، سادہ اور فوری ہے
1. ہمیں پینے کا صاف پانی چاہیے ابھی! فوراً!
2. ہمیں ابھی "میگا پراجیکٹس" نہیں چاہیے پہلے اس بنیادی حق کا حل نکالو۔ یہ مسئلہ برسوں پرانا اور نہایت سنگین ہے!
3.فوری حل بڑی بڑی پانی کی ٹینکیاں لگائی جائیں۔
4.مستقل حل سلور ٹیوب ویلز لگائی جائیں۔ اور خاص طور پر سولر ٹیوب ویلز کا انتظام کیا جائے۔ میں جان بوجھ کر سولر کا ذکر کر رہا ہوں کیونکہ آپ لوگوں کی "بجلی آئے گی" کی تسلیوں پر اب یقین نہیں رہا۔ سولر ٹیوب ویل بجلی کی بندش سے آزاد، پائیدار حل ہے۔
براہ مہربانی، ہمارے منتخب نمائندوں کی توجہ چاہیے!
محترم ایم پی اے شیرعلی آفریدی صاحب آپ ہمارے نمائندہ ہیں۔ آضاخیل آپ کا اپنا گاؤں ہے۔ ہمیں پانی کا انصاف چاہیے۔ ہمارے بچے پانی مانگ رہے ہیں۔ براہ کرم، فوری کارروائی کریں۔ اس بنیادی مسئلے کو ترجیح دیں۔
محترمہ ایم این اے شاندانہ گلزار صاحبہ! آپ خواتین اور بچوں کے حقوق کی علمبردار ہیں۔ آضاخیل کی مائیں اور بچے آپ سے فریاد کرتے ہیں۔ ہمارے گاؤں میں پانی کا قحط ہے۔ براہ کرم، ہمارے لیے آواز اٹھائیں، اس مسئلے کو قومی اسمبلی میں اٹھائیں، فوری حل کے لیے دباؤ ڈالیں۔
ہم سب مل کر آواز بنیں آضاخیل کے بچوں کی بے بسی، ماؤں کے آنسو، نوجوانوں کا غصہ اور پورے گاؤں کی امنگ... یہ سب ایک ہی آواز میں گونجے ہمیں پینے کا صاف پانی چاہیے! ابھی چاہیے!

خدارا... آضاخیل کے بچے پانی مانگ رہے ہیں۔ ان کی فریاد سنو۔ ان کے مستقبل کو بچاؤ۔

یہ پانی نہیں، انصاف مانگ رہے ہیں!

زاہد تلاش

پشاور کے قریب وزیرستان سے بدتر حالت: آضاخیل میں ایک سال 2 ماہ سے تاریکیتاروں پر کپڑے، گھروں میں اندھیرا: ایم پی اے شیرعل...
11/06/2025

پشاور کے قریب وزیرستان سے بدتر حالت: آضاخیل میں ایک سال 2 ماہ سے تاریکی

تاروں پر کپڑے، گھروں میں اندھیرا: ایم پی اے شیرعلی کے حلقے کا المیہ
پشاور، (زاہد تلاش) گزشتہ 1 سال 2 ماہ سے ایم این اے شاندانہ گلزار اور ایم پی اے شیرعلی کے حلقے میں واقع گاؤں آضاخیل (پشاور سے محض 25 کلومیٹر دور) تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے، جہاں آضا خیل فیڈر کی بجلی منقطع ہونے سے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔ سڑکوں پر لٹکے بجلی کے تاروں پر کپڑوں کا لٹکنا اس بحران کی خاموش گواہی ہے۔ ہم یقیناً تسلیم کرتے ہیں کہ بلوں کی عدم ادائیگی عوامی کوتاہی ہے، لیکن جب حکومت بل وصولی کے لیے طاقت کا استعمال کر سکتی ہے تو پھر 14 ماہ تک مسلسل بجلی منقطع رکھنا، نہ تو قانونی ہے نہ انسانی خاص طور پر جب نوجوانوں سے لے کر سیاسی کارکنان، ایم پی اے اور ایم این اے تک ہر سطح کے نمائندے اپنے فرائض میں ناکام رہے ہوں۔ ہمارے غریب عوام پارکوں میں کیسے وقت گزاریں؟ جنازہ گاہیں کیسے چلیں؟ کیسے بیمار بجلی کے بغیر ہسپتال پہنچیں؟ آضاخیل کی حالت وزیرستان سے بھی بدتر ہے، جہاں پانی، صحت اور روشنی جیسی بنیادی ضروریات تک رسائی نہ ہونا، ہماری اجتماعی ناکامی کی علامت ہے۔ ہم دست بستہ التجا کرتے ہیں: سیاسی کارکنان، ایم پی اے اور ایم این اے کوہ دامان خصوصاً آضاخیل پر رحم کریں یہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں۔ فوری طور پر بجلی بحال کریں، بنیادی مسائل کے حل کے لیے ہنگامی اقدامات لیں، اور عوام کو ریلیف دیں۔

07/06/2025

اپنی گاؤں کے مسائل حل کرنے کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر اپنے حقوق کے لیے ضروری آواز اٹھانا پڑتا ہے۔
ایسے نوجوان زندہ آباد۔
PK77
Sher Ali Afridi

آضاخیل کی ترقی کے لیے آواز اٹھانا میرا فرض ہے!ہمارا گاؤں آضاخیل صدیوں سے بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ 2013 سے پاکستان تحر...
05/06/2025

آضاخیل کی ترقی کے لیے آواز اٹھانا میرا فرض ہے!

ہمارا گاؤں آضاخیل صدیوں سے بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ 2013 سے پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی حکومت ہے، لیکن ہمارے علاقے کے نقشے میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ ہمارے MPA اور MNA نے ترقیاتی منصوبوں پر کام نہیں کیا، خاص طور پر تعلیم، صحت اور صاف پانی جیسے بنیادی مسائل پر۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے مقامی سیاسی کارکنان بھی کمزور ہیں اور صرف چھوٹے مطالبوں تک محدود رہتے ہیں۔

میرے بنیادی مطالبے:

1. صاف پانی کا بحران:
ہمارے گاؤں میں صدیوں سے پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ ہماری مطالبہ ہے کہ ہر گھر تک پائپ لائن پہنچائی جائے، تاکہ عوام کو کنوؤں اور گندے پانی پر انحصار نہ کرنا پڑے۔

2. تعلیم، خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم:
ہمارے اسکولوں میں اساتذہ اور سہولیات کی شدید کمی ہے۔ حکومت کو ہر اسکول میں مکمل سٹاف تعینات کرنا چاہیے اور گرلز ایجوکیشن کو فروغ دینے کے لیے خصوصی اقدامات کرنے چاہئیں۔

3. ہسپتال کی بے حسی:
ہمارا RHC ہسپتال 2022 سے اپ گریڈ نہیں ہوا۔ عوام کو علاج کے لیے دور دراز شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ پہلے موجودہ ہسپتال کو بہتر بنایا جائے، تب ہی نئے منصوبوں پر یقین آئے گا۔

تنقید پر پابندی نہیں، ترقی چاہیے!
جب باشعور نوجوان سوشل میڈیا پر اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں، تو انہیں "پروپیگنڈا"کہہ کر خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کیا تنقید کا حق ہمارا جمہوری حق نہیں؟ کیا ہم اپنے علاقے کی ترقی کا مطالبہ نہیں کر سکتے؟

میں عہد کرتا ہوں کہ جب تک سانس ہے، آضاخیل کی بے بسی ختم ہونے تک لڑتا رہوں گا۔ہماری زمین، ہماری محبت، ہماری جنگ۔ ہم آضاخیل والے ہیں—یہاں جینا بھی ہے، یہاں مرنا بھی!





زاہد تلاش
صحافی و سماجی کارکن، آضاخیل.

 👇شاہ جی آباد 15 سالوں سے  بلخصوصاور پورے گاوں اضاخیل کونٹ کونٹ پانی کیلئے ترس رہے ہیں۔مگر MNA and MPA نے ذاتی کام بہت ک...
04/05/2025

👇
شاہ جی آباد 15 سالوں سے بلخصوص
اور پورے گاوں اضاخیل
کونٹ کونٹ پانی کیلئے ترس رہے ہیں۔
مگر MNA and MPA نے ذاتی کام بہت کئے
اور ووٹ کے وقت ھر در پر دستک دیتے ان غریبوں سے
ووٹ لے کر علاقہ کے کوئی خبر تک نہیں لیتے۔
اور گاوں اضاخیل پارٹی صدران تو چمچے سے کم نہیں قوم
کو ان چمچوں نے ذلیل کیا اور خود اپنے لئے سب کچھ کرلیا جیسا کہ برا ٹیوب ویل ڈبل ڈبل ٹینکی۔
ذاتی گھر کیلئے پکے سڑک۔ذاتی بجلی ٹرانسفر مر مگر عمومی بجلی پر مکمل گونگے۔
صد افسوس

گروپ ممبر

19/04/2025

یوتھ فار آضاخیل فیوچر!

ہماری تنظیم کا مقصد آضاخیل گاؤں میں پھیلی غیر اسلامی رسومات، غیر قانونی کاموں، اور فحاشی کے خلاف سوشل میڈیا کے ذریعے آواز اٹھانا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ:

1. غیر اسلامی رواجوں کی مخالفت:
گاؤں میں رائج ہر وہ رسم یا عمل جو اسلام یا قانون کے خلاف ہو، اُس کے خلاف باضابطہ مہم چلائی جائے۔
2. ترقیاتی کاموں کی حمایت:
سوشل میڈیا پر گاؤں کی ترقی کے لیے منصوبوں (جیسے سڑکوں، اسکولوں، صحت اور دیگر مسائل کو اجاگر کیا جائے اور ایم پی اے/ایم این اے کو ان کی ذمہ داری یاد دلائی جائے۔
3. تنازعات کا اسلامی حل:
گاؤں کے لوگوں کے درمیان جھگڑوں کو شریعت کی بنیاد پر حل کیا جائے۔ علماء کی مدد سے صلح کروائی جائے، تاکہ کسی کو "زمانت" (بے جا رقم) ادا نہ کرنی پڑے۔
4. نوجوانوں کی شمولیت:
صرف وہ پڑھے لکھے نوجوان اس تحریک کا حصہ بنیں جو سوشل میڈیا پر فعال ہوں، حق بات کہنے کی ہمت رکھتے ہوں، اور گاؤں کی بہتری کے لیے کام کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں۔

ہماری کوشش ہے کہ آضاخیل ایک پُرامن، ترقی یافتہ، اور اسلامی اقدار پر چلنے والا گاؤں بنے۔
ان شاء اللہ!

Address

Mattani

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Free Wheelchair Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share