22/02/2026
اس بھاگتی ہوئی زندگی میں، اپنی ذات میں کم از کم اتنا ٹھہراؤ ضرور پیدا کریں
کہ آپ نماز سکون، توجہ اور خشوع کے ساتھ ادا کر سکیں۔
ہم اپنے ہر کام کو سنوارتے ہیں،
وقت لیتے ہیں، محنت کرتے ہیں،
ہر چیز بہترین طریقے سے کرنا چاہتے ہیں…
مگر جب بات نماز کی آتی ہے
تو ہم اسے جلدی جلدی نمٹا کر
جنت کے طلبگار بننا چاہتے ہیں۔
یاد رکھیں،
جس رب کے سامنے ہم کھڑے ہوتے ہیں
وہ ہمارے وقت کا نہیں
ہمارے دل کا حال دیکھتا ہے۔
اگر دل کو واقعی سکون چاہیے،
تو دنیا سے نہیں
اللہ سے جُڑ جاؤ ✨🤍