29/08/2025
جب سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں میں
گرجتی ہوئی آوازوں میں لاؤڈ اسپیکر پر یہ اعلان گونجتا ہے کہ
"اپنے گھر خالی کر دیں!"
تو وہ لمحہ صرف ایک اطلاع نہیں ہوتا
وہ ایک دل دہلا دینے والا فیصلہ ہوتا ہے
دل و جاں کے درمیان چُبھن پیدا کرتا ہوا
سانسیں ساکت، دل مضطرب
آنکھوں میں اک انجانی نمی ہوتی
کیا واقعی اتنا آسان ہوتا ہے؟
ایک در و دیوار سے بنا، مٹی سے اٹھا،
سانسوں سے بسا گھر چھوڑ دینا؟
وہ آنگن،
جہاں پہلی بار ننھے پاؤں رکھے تھے
وہ چھت،
جس کے نیچے خوشنما خواب دیکھے تھے
بچپن کی یادیں لیے وہ مٹیالے درودیوار
کیا ان سب کو ایک لمحے میں پیچھے چھوڑ دینا ممکن ہے؟
کیا آسان ہوتی یہ ہجرت؟
ہجرت بھی وہ جس میں واپسی کا علم نہ ہو
نہیں!
یہ ہجرت محض جسموں کی نہیں ہوتی،
یہ جڑوں سے بچھڑنے کا المیہ ہوتا ہے
دل کے اندر ایک جنگ چھڑتی ہے
کون سی چیز لے جائیں؟
کون سی چیز چھوڑیں؟
بند بکسوں میں کیا رکھیں؟
ماں کے ہاتھوں سے کڑھے دوپٹے؟
بچپن کے سنبھالے کھلونے؟
میڈل اور ٹرافیاں؟
پھولدار رضائیاں؟
تصویروں کا پرانا البم؟
یا بارشوں کے دنوں کی مہک لیے کتابیں؟
کیا وہ خواب اٹھائیں یا چھت کی چُپ اٹھائیں؟
مگر معلوم ہے ناں
"ایک گٹھڑی میں پورا گھر تو نہیں سما سکتا!🖤🥀"
یادیں، محبتیں، لمس، آوازیں
سب بیچ راستے میں کہیں رہ جاتے
اور انسان؛
اپنے اندر ایک خالی مکان لے کر
کسی بے نام پناہ گاہ کی طرف نکل پڑتا ہے
یہ جو لوگ خالی ہاتھ جاتے ہیں،
ان کے دل بھاری ترین سامان لے جاتے ہیں
جو برسوں تک کھلتے نہیں
بس فقط،
آنکھوں کی نمی میں گھلتے رہتے ہیں
یہ سیلاب صرف بستیاں نہیں بہاتا،
یہ خواب، یادیں، اور جذبات بھی
اپنے ساتھ بہا لے جارہا ہے