Arsh Agro Fertilizers

Arsh Agro Fertilizers We deals in Bulk sale of Micronutrients, Folliar,Fertilizers,Plastic bags etc

14/01/2026
03/01/2026

😜 اﯾﮏ Teacher ﮐﻮ ﺟﺎﺏ ﻧﮧ ﻣﻠﯽ تو ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﯿﻨﮏ ﮐﮭﻮل لیا ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﺮ بورڈ پر ﻟﮑﮭﺎ
''ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮟ، اگر ﻋﻼﺝ ﻧﮩﯿﮟ ھوﺍ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ھزﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﻭﺍﭘﺲ''
ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ھﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻣﻮﻗﻊ ھے۔ ﻭﮦ کلینک ﭘﺮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ: ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﻬﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﻣﺰﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ.
میرا ٹیسٹ (ذائقہ) خراب ھے
Teacher
نے نرس سے کہا: ﺑﺎﮐﺲ ﻧﻤﺒﺮ 22 ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﻭﺍﺋﯽ ﻧﮑﺎﻟﻮ ﺍﻭﺭ 3 ﺑﻮﻧﺪﯾﮟ اس مریض کو پلا دو۔ ﻧﺮﺱ ﻧﮯ بوندیں ﭘﻼ دیں۔
ﻣﺮﯾﺾ: ﯾﮧ ﺗﻮ ﭘﭩﺮﻭﻝ ھﮯ!
Teacher:
ﻣﺒﺎﺭﮎ ھﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ٹیسٹ ﻣﺤﺴﻮﺱ ھﻮ ﮔﯿﺎ۔
ﻻﺅ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ.😜😉😀
(ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﻮ ﻏﺼﮧ ﺁ ﮔﯿﺎ)
ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﭘﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﮔﯿﺎ، ﭘﺮﺍﻧﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ کے چکر میں۔
ﻣﺮﯾﺾ: ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩدﺍﺷﺖ ﮐمزور ھﻮﮔﺌﯽ ھے۔
Teacher
ﺑﺎﮐﺲ ﻧﻤﺒﺮ 22 ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﻭﺍﺋﯽ ﻧﮑﺎﻟﻮ ﺍﻭﺭ 3 ﺑﻮﻧﺪﯾﮟ پی لو۔
ﻣﺮﯾﺾ: ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ٹیسٹ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﯿﮟ!
Teacher
: ﯾﮧ ﻟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩدﺍﺷﺖ ﺑﻬﯽ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮔﺌﯽ.
ﻻﺅ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ😉😜😀
(اﺱ ﺑﺎﺭ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻏﺼﮧ سے پاگل ھو گیا)
کچھ دنوں کے بعد پھر پیسے پورے کرنے کے چکر میں teacher کے پاس گیا)
ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ کمزور ھﻮ ﮔﺌﯽ teacher
: ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻭﺍﺋﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ھﮯ۔ ﻟﻮ ﯾﮧ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ!
مریض: مگر ﯾﮧ ﺗﻮ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﻮ ﮐﺎ ﻧﻮﭦ ھﮯ۔!
Teacher
: مبارک هو آپ کی ﻧﻈر واپس آگئی۔
لائیں تین ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ!!!🤣
نتیجہ
استاد آخر استاد ہوتا ہے😎

ایک مرتبہ قائداعظم بمبئی سے دہلی کے پارلیمانی اجلاس کے لیے ٹرین میں سفر کر رہے تھے کہ ایک جدید لباس میں خاتون اُن کے ڈبے...
21/11/2025

ایک مرتبہ قائداعظم بمبئی سے دہلی کے پارلیمانی اجلاس کے لیے ٹرین میں سفر کر رہے تھے کہ ایک جدید لباس میں خاتون اُن کے ڈبے میں داخل ہوئی۔ بیٹھتے ہی اُس نے کہا: “مجھے ایک ہزار روپے دو، ورنہ میں چیخ کر الزام لگا دوں گی کہ تم نے مجھے ہراساں کیا ہے۔” قائداعظم نے خاموشی سے اخبار پڑھنا جاری رکھا۔ جب اُس نے بار بار دھمکی دہرائی تو قائداعظم نے اشارے سے ظاہر کیا کہ وہ بہرے ہیں۔ خاتون نے اپنی بات کاغذ پر لکھ دی، تو قائداعظم نے فوراً ٹرین کی زنجیر کھینچی، عملے کو کاغذ دکھایا اور واقعہ بیان کیا۔ نتیجتاً وہ خاتون موقع پر ہی گرفتار کر لی گئی۔

ٹاٹا اسٹیل کے چیئرمین جمشید پور میں ٹاٹا اسٹیل کے عملے کے ساتھ ہفتہ وار میٹنگ کر رہے تھے، ایک کارکن نے ایک سنجیدہ مسئلہ ...
21/11/2025

ٹاٹا اسٹیل کے چیئرمین جمشید پور میں ٹاٹا اسٹیل کے عملے کے ساتھ ہفتہ وار میٹنگ کر رہے تھے، ایک کارکن نے ایک سنجیدہ مسئلہ اٹھایا۔ اس نے کہا کہ کارکنوں کے لیے بیت الخلاء کا معیار اور صفائی بہت خراب ہے جبکہ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایگزیکٹیو ٹوائلٹس کی صفائی ہمیشہ بہت اچھی تھی۔
چیئرمین نے اپنے سینئر ایگزیکٹو سے پوچھا کہ اسے درست کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہے۔
ایگزیکٹو نے اسے درست کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت مانگا۔
چیئرمین نے کہا کہ میں یہ کام ایک دن میں کروں گا٫ مجھے ایک بڑھئی بھیج دیں۔
اگلے دن جب بڑھئی آیا تو اس نے صرف سائن بورڈز بدلنے کا حکم دیا۔
ورکرز کے ٹوائلٹ پر سائن بورڈ "ایگزیکٹیو" اور ایگزیکٹوز کے ٹوائلٹ پر "مزدور" لکھ دیا گیا
چیئرمین نے پھر ہدایت کی کہ اس نشان کو ہر پندرہ دن بعد تبدیل کیا جائے۔
اگلے تین دنوں میں دونوں بیت الخلاء کا معیار برابر ہو گیا۔
"قیادت" ایک ایگزیکٹیو ہونے سے کہیں زیادہ اوپر کی چیز ہے
کچھ ایسی ہی تبدیلیوں کی پاکستان میں بھی ضرورت ھے۔
مسئلہ بذات خود مسئلہ نہیں ہوتا
ترجیحات کا فقدان اسے مسئلہ بناتا ہے

جاپان میں دفتر میں سونا یا جھپکی لینا کوئی جرم نہیں سمجھا جاتا۔ دراصل وہاں اسے ایک قابلِ احترام عمل مانا جاتا ہے اور محن...
26/10/2025

جاپان میں دفتر میں سونا یا جھپکی لینا کوئی جرم نہیں سمجھا جاتا۔ دراصل وہاں اسے ایک قابلِ احترام عمل مانا جاتا ہے اور محنت و لگن کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ مجھے خود ویتنام میں کام کرنے کا تجربہ ہوا ہے، جہاں ہم دوپہر کے کھانے کے بعد 30 منٹ کی نیند لیتے تھے۔ اس مختصر نیند نے کام کی کارکردگی میں حیرت انگیز بہتری پیدا کی اور گھر واپس لوٹنے پر زیادہ توانائی اور صبر کا احساس ہوتا تھا۔

ایک بوڑھی عورت مسجد کے سامنے بھیک مانگتی تھی۔ایک شخص نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ کا کوئی بیٹا کمانے کے قابل نہیں ہے ؟تو اس ...
18/10/2025

ایک بوڑھی عورت مسجد کے سامنے بھیک مانگتی تھی۔
ایک شخص نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ کا کوئی بیٹا کمانے کے قابل نہیں ہے ؟

تو اس بوڑھی عورت نے کہا کہ ھے تو پھر آپ یہاں کیوں بھیک مانگ رہی ہیں؟
بوڑھی عورت نے کہا کہ میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے۔
میرا بیٹا نوکری کے لئے بیرون ملک گیا ہے۔ جاتے ہوئے اخراجات کے لئے مجھے کچھ رقم دے کر گیا تھا ،
وہ خرچ ہوگئی ہے ،
اسی وجہ سے میں بھیک مانگ رہی ہوں۔
اس شخص نے پوچھا - کیا آپ کا بیٹا آپ کو کچھ نہیں بھیجتا ہے؟
بوڑھی عورت نے کہا - میرا بیٹا ہر ماہ رنگا رنگ کاغذ بھیجتا ہے جسے میں گھر میں دیوار پر چپکا کر رکھتی ہوں۔
وہ شخص اس کے گھر گیا اور دیکھا کہ دیوار پر بینک کے 60 ڈرافٹ چسپاں کردیئے گئے ہیں۔
ہر ڈرافٹ 50،000 روپے کا تھا۔
تعلیم یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے ، وہ عورت نہیں جانتی تھی کہ اس کے پاس کتنی دولت ہے۔
اس شخص نے اسے ڈرافٹ کی اہمیت سمجھا دی تو وہ عورت بہت خوش بھی ہوئی اور حیران بھی ہوئی اور پریشان بھی ہوئی کہ دولت ہوتے ہوئے بھی وہ بھیک مانگتی رہی ہے.
ہماری حالت بھی اس بوڑھی عورت کی طرح ہے
ہمارے پاس قرآن ہے اور ہم اسے اپنے منہ سے چومتے اور ماتھے پر لگا کر اپنے گھر میں رکھتے ہیں
لیکن ہم اس کا فائدہ صرف اس صورت میں اٹھاسکیں گے جب ہم اسے پڑھیں گے،
اس کے معنیٰ اور تفسیر کو سمجھیں گے اور اس کو اپنی عملی زندگی میں لے آئیں گے۔
تب ہی ان شاءاللہ ہماری دنیا اور اس کے بعد کی زندگی دونوں بہتر ہوگی۔
بہت بڑا خزانہ ہمارے پاس موجود ہے لیکن ہماری جہالت کی وجہ سے اس میں چھپے انعامات سے آج ہم سب محروم ہیں

جب بہو کو گھر لے کے آئیں تو خدارا اسے ایڈجیسٹ ہونے کا وقت دیں 20 سے 22 سال کی لڑکی سے آپ پچاس سال کی عورت کی سمجھداری کی...
17/10/2025

جب بہو کو گھر لے کے آئیں تو خدارا اسے ایڈجیسٹ ہونے کا وقت دیں 20 سے 22 سال کی لڑکی سے آپ پچاس سال کی عورت کی سمجھداری کی امید مت کریں جیسے گھر میں بیٹھی آپ کی بیٹی آپ کو بچی لگتی ہے بہو کو بھی بچی سمجھ کے اسکی نادانیوں کو نظر انداز کر دیا کریں آج جس لڑکی سے آپ ایک بیوی بہو بھابھی کی ساری زمہ داریاں پوری کرنے کی امید رکھتے ہیں وہ بھی اپنے والدین کے لیے بچی ہی تھی ساس ماں نہیں بن سکتی تو کیا ہوا اپنی بہو کی دوست بننے کی کوشش کریں کبھی کبھی اسے بولیں آجا بیٹا تیرے سر میں مالش کرتی ہوں وہ کام سے فارغ ہو تو اسکا ماتھا پیار سے چوم کے اتنا کہہ دیں میری بیٹی بہت تھک گئی ہوگی کھانا کھانے لگے تو بہو کو آواز دے کر اپنے پاس بیٹھائیں بیٹے کے سامنے بہو کی تعریف کر دیا کریں
میں یقین سے کہتی ہوں ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے خوش ہو کر وہ دل و جان سے آپکی بن جائے گی اسکی حوصلہ افزائی کریں اس سے گھر کے معاملات میں مشورہ کریں
احساس دلائیں کہ اسکے بنا اپکا گھر ادھورا ہے خوش رہیں خوشیاں بانٹیں.

ایک لڑکا لائبریری میں گیا اور ایک میز پر اکیلی بیٹھی لڑکی سے پوچھا ایکسیوز می! کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں..؟لڑکی نے سر ا...
17/10/2025

ایک لڑکا لائبریری میں گیا اور ایک میز پر اکیلی بیٹھی لڑکی سے پوچھا ایکسیوز می! کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں..؟
لڑکی نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر چیخ کر کہا تمہاری یہ جرات تم مجھے اپنے ساتھ چلنے کا کہو.

لڑکا ہکابکا رہ گیا. ساری لائبریری اسے دیکھ رہی تھی. بچارا کھسیا کر دوسری ٹیبل پر بیٹھ گیا.

کچھ دیر بعد وہ لڑکی کام سمیٹ کر مسکراتی ہوئی اس لڑکے کے پاس آئی اسے آہستہ سے کہا ایکسیوز می! میں نفسیات کی طالبہ ہوں. مجھے احساس ہے تم اس وقت کیسا محسوس کر رہے ہوگے.بس میں ایک تجربہ کر رہی تھی.

لڑکے نے اچانک چیخ کر کہا بے شرم کرو کچھ
باہر جانے کیلئے تم پیسے مانگ رہی ہو.؟
میں تو تمہیں " شریف" سمجھ رہا تھا.

اب پوری لائبریری آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر لڑکی کی طرف دیکھ رہی تھی.

لڑکے نے اسے سرگوشی میں کہا ایکسیوز می! میں قانون کا طالب علم ہوں. مجھے پتہ ہے کسی کو ملزم کیسے ثابت کیا جا سکتا ہے. یہ تو ویسے ہی آپ سے مذاق کر رہا تھا..

افریقہ کے گھاس کے میدانوں میں شیر کے بچے جب کھیل رہے ہوتے ہیں تو بچہ شیر کھیلتے کھیلتے بڑے شیر کے جسم پر اپنے دانت گھاڑ ...
13/10/2025

افریقہ کے گھاس کے میدانوں میں شیر کے بچے جب کھیل رہے ہوتے ہیں تو بچہ شیر کھیلتے کھیلتے بڑے شیر کے جسم پر اپنے دانت گھاڑ دیتا ہے. تب آپ بڑے شیر کا مشاہدہ کریں تو وہ تکلیف میں ایک دہاڑ مارتا ہے. بچہ شیر خوش ہو جاتا ہے. آپ کا کیا خیال ہے اس بچے کے چھوٹے چھوٹے دانت اس بڑے شیر کی مضبوط کھال کو اتنی تکلیف پہنچا سکتے ہیں.؟

اسکا جواب ہے بلکل نہیں. پھر شیر اتنی تکلیف میں دھاڑ کیوں مارتا ہے.؟ اسکا جواب ہے اس چھوٹے شیر کو یہ یقین دلانے کیلئے کہ اس کے پنجوں اور جبڑوں میں اتنی طاقت ہے جو ایک ایسے شیر کی بھی چیخیں نکال سکتا ہے سارا جنگل جس کی دہشت سے ڈرتا ہے. یہی اعتماد لے کر کل جب یہ بچہ شیر بڑا ہوتا ہے تو بڑے بڑے ریوڑ اس کی ہیبت سے بھاگ رہے ہوتے ہیں.

ہم پرورش کرتے اپنے بچوں کو بڑا تو کر دیتے ہیں لیکن اکثر ان سے اعتماد چھین لیتے ہیں. ہمارا تعلیمی نظام بھی بچوں کا اعتماد کمزور کرتا ہے. مثلاً ہمارے سکول میں ایک استاد شاگردوں کو کوئی مضمون لکھنے کا کہتا ہے تو وہ مضمون چیک کرتے یہ دیکھتا ہے کس طالب علم نے وہ لکھا جو استاد کی طلب کے مطابق ہے. اسے اچھے نمبر دے دیتا ہے اور جس نے استاد کی طلب پوری نہ کی اسے کم نمبر دے دیتا ہے.

فن لینڈ کا استاد جبکہ مضمون میں صرف یہ چیک کرتا ہے میرے طالب علم کی سوچ کہاں ہے. وہ اپنے طالب علم کی سوچ کی کمی بیشی نوٹ کرتا ہے لیکن کسی طالب علم کو نمبر نہیں دیتا. وہاں کا استاد طالب علم کو بنا رہا ہوتا ہے ہمارا استاد اسے اپنی سوچ پر تول رہا ہوتا ہے. جو اس ترازو پر پورا نہ اترے وہ فیل کر دیا جاتا ہے اور اسکا اعتماد کچل دیا جاتا ہے.

یہی کام والدین بھی کرتے ہیں. یہی کام خاندان بھی کرتا ہے. بچے زندگی بھر دوسروں کے معیار پر پورا اترنے کی دوڑ میں لگ جاتے ہیں. وہ دوڑ جس میں یہ اپنے آپ کو کھو دیتے ہیں. یہ دوڑ جیت جانے والا بھی خوش نہیں اور ہار جانے والے کو ہم لوگ خوش ہونے کا حق ہی نہیں دیتے. کبھی کبھی لگتا ہے ہم سے اچھی تربیت اور پرورش تو افریقہ کے گھاس کے میدانوں کے شیر اپنے بچوں کی کرتے ہیں. بھلے وہ جانور ہی ہیں لیکن ان میں اعتماد تو ہوتا ہے.

ہم نے گھروں کو کنکریٹ کے قلعے تو بنا لیے ہیں، لیکن ان کے اندر رہنا اکثر گرمیوں میں جہنم اور سردیوں میں برف خانے سے کم نہ...
05/09/2025

ہم نے گھروں کو کنکریٹ کے قلعے تو بنا لیے ہیں، لیکن ان کے اندر رہنا اکثر گرمیوں میں جہنم اور سردیوں میں برف خانے سے کم نہیں ہوتا۔ وجہ صاف ہے: ہمارے انجینئرنگ ڈیزائن قدرت کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں جب کوئی گھر بنتا ہے تو صرف دیواریں کھڑی نہیں کی جاتیں بلکہ رہائشی سکون کو یقینی بنانے کے لیے زمین کی فطری طاقتوں کو بھی ساتھ ملا لیا جاتا ہے۔

ایسا ہی ایک شاندار طریقہ جیو تھرمل سسٹم ہے، جو زمین کے نیچے کے مستقل درجہ حرارت کو استعمال میں لاتا ہے۔ زمین کی ایک میٹر گہرائی میں درجہ حرارت تقریباً 15 سے 25 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہمیشہ یکساں رہتا ہے۔ اگر اسی گہرائی پر ایک بڑا پائپ بچھا دیا جائے جس کا ایک سرا کھلی فضا میں اور دوسرا گھر کے کمرے سے جڑا ہو، تو ایک چھوٹے پنکھے کے ذریعے گزرنے والی ہوا نہ صرف سردیوں میں گرمائش فراہم کرے گی بلکہ گرمیوں میں ایسی ٹھنڈک دے گی جیسے کسی اے سی سے نکلی ہوا ہو۔

یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟
ہوا جب زیرِ زمین پائپوں سے گزرتی ہے تو اس کا درجہ حرارت مٹی کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ یوں سردیوں میں ٹھنڈی ہوا معتدل ہو کر نسبتاً گرم ہو جاتی ہے، اور گرمیوں میں جھلسا دینے والی گرمی زمین کے نیچے کی ٹھنڈک سے ٹکرا کر خوشگوار ہو جاتی ہے۔ اگر اس نظام کو ہیٹ ایکسچینج وینٹیلیشن کے ساتھ ملا دیا جائے تو توانائی کے ضیاع میں 80 فیصد سے زیادہ کمی آ سکتی ہے۔

فوائد

ایئر کنڈیشنرز اور بھاری بھرکم ہیٹروں پر انحصار کم ہو جاتا ہے۔

بجلی اور ایندھن کی بچت ہوتی ہے، یوں کاربن فٹ پرنٹ بھی گھٹتا ہے۔

یہ نظام ہر موسم میں آرام دہ ماحول فراہم کرتا ہے۔

طویل مدتی اعتبار سے یہ سرمایہ کاری انتہائی منافع بخش ہے۔

چیلنجز
مانا کہ ابتدا میں کھدائی اور پائپ بچھانے پر لاگت زیادہ آتی ہے، لیکن یہ وقتی بوجھ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے لوگ دہائیوں سے اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہمارے ہاں ابھی تک گھروں کو ایسے بنایا جاتا ہے جیسے پولخوانہ جیلیں ہوں، جہاں نہ ہوا کا گزر ہے اور نہ ہی درجہ حرارت کو قابو کرنے کا کوئی انتظام۔

ہمارا راستہ
اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے انجینئر اور ماہرین تعمیرات محض سیمنٹ اور لوہے کے ڈبے بنانے کے بجائے قدرتی اصولوں پر مبنی جدید ٹیکنالوجی کو گھروں کے ڈیزائن میں شامل کریں۔ اگر ہم اپنے گھروں کو زمین کی اس فطری ٹھنڈک اور حرارت سے جوڑ لیں تو نہ ہمیں لکڑی کھانے والی بڑی بخاریوں کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی بجلی چوسنے والے ایئر کنڈیشنرز کی۔

خلاصہ یہ ہے کہ زمین کے اندر چھپی یہ ٹھنڈک اور حرارت ہمارے گھروں کو جنت نظیر بنا سکتی ہے، بس شرط یہ ہے کہ ہم اپنے انجینئرز سے سوال کریں اور ان سے تقاضا کریں کہ وہ گھروں کو زندان نہیں، مسکن بنائیں۔

22/07/2025

ایک بڑی کمپنی میں سیلز مینجر کی سیٹ کے تین اُمیدوار تھے. چونکہ تینوں کی قابلیت یکساں تھی تو کمپنی نے کہا میدان میں اپنی قابلیت دکھاو. جو قابل ہوا یہ سیٹ اُس کی ہوگی. ان کو لکڑی کی بنی کنگھیاں دی گئیں اور کہا جاو پہاڑوں میں بنی خانقاہوں کے بھکشوؤں کو کنگھیاں بیچ کر آو. یہ ایک مذاق ہی تھا کیونکہ بھکشو اپنا سر ہی نہیں داڑھی مونچھ اور بھوئیں تک مونڈتے ہیں.

پہلا اُمیدوار واپس آیا وہ مایوسی تھا. اس نے ایک ہی کنگھی فروخت کی تھی. اس نے کہا بھکشو تو مجھ سے لڑنے کو تیار ہوگئے تھے. وہ کہہ رہے تھے تم ہمارا مذاق اڑانے آئے ہو. بڑی مشکل سے ایک کنگھی میں فروخت کر سکا وہ بھی ایک بھکشو کو خارش تھی. میں نے اسے کہا ہاتھوں کی بجائے کنگھی سے اچھی طرح یہ کھجا سکتے ہو.

دوسرا لیکن کافی خوش تھا. اس نے دس کنگھیاں فروخت کی تھیں. اُس نے کہا میں نے بھکشوؤں سے کہا تم لوگوں کے پاس جو زائرین آتے ہیں پہاڑی ہوائیں ان کے بال بکھیر دیتی ہیں. انکا حلیہ ایسا نہیں ہوتا جو خانقاہ کے معیار پر ہو. تم لوگ ان کیلئے چند کنگھیاں رکھ لو تو خانقاہ کے زائرین کا بھلا ہوگا اور تمہیں دعا دیں گے.

تیسرا لیکن سب سے بڑی خانقاہ کے بڑے پروہت کے پاس گیا. اس نے بڑے بھکشو سے کہا تم پر اللہ کرم کرے اتنے بلند پہاڑوں پر خانقاہیں آباد کر کے بیٹھ گئے ہو. دور دور سے لوگ مشکل سفر کر کے یہاں آتے ہیں. میرا مشورہ ہے ان کو اس مذہبی سفر کی کوئی یادگار دی جائے جس پر خانقاہ کی طرف سے دعائیں لکھی ہوں. وہ اسے روز دیکھیں. مثلاً میرے پاس یہ لکڑی کی کنگھیاں ہیں. کنگھی انسان روز استعمال کرتا ہے. وہ روزانہ آپ کو یاد کرے گا.

بڑے بھکشو کو آئیڈیا پسند آیا. اس نے ایک ہزار دعائیہ کنگھیاں خرید لیں. دُنیا اچھے آئیڈیا کی قدردان ہوتی ہے. جن کے پاس آئیڈیا نہیں ہوتا وہ دکاندار بنتے ہیں. صرف ضرورت مند ہی ان کے پاس آتا ہے. جن کے پاس آئیڈیا ہوتا ہے وہ تاجر بنتے ہیں. اور جن کے پاس نہ صرف آئیڈیا بلکہ ایک مکمل پلاننگ بھی ہوتی ہے ایسے لوگ برانڈ بنتے ہیں. ہمارے معاشرے میں دکاندار اور تاجر دونوں موجود ہیں بس پلاننگ میں ہم کمزور ہیں. اسی لئے یہاں برانڈ نہیں بنتے. یہی فرق دُنیا میں ہمارا مقام طے کرتا ہے.

کتنا اچھا آئیڈیا ہے... نیدرلینڈ کے یوٹریچٹ لائبریری میں آپ سائیکل چلا کر اپنے برقی آلات کو ری چارج کر سکتے ہیں 🚲۔
23/06/2025

کتنا اچھا آئیڈیا ہے... نیدرلینڈ کے یوٹریچٹ لائبریری میں آپ سائیکل چلا کر اپنے برقی آلات کو ری چارج کر سکتے ہیں 🚲۔

Address

Industrial Estate Multan
Multan

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Arsh Agro Fertilizers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share