18/09/2026
مغلاں دے منڈے ایک واری فیر بازی لے گئے
مزدوروں نے اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر تین بیٹیوں کے گھر بسا دیے
مریدکے میں ایک بار پھر انسانیت، اخوت اور جذبۂ خدمت کی ایسی مثال سامنے آئی جس نے ہر آنکھ کو نم اور ہر دل کو خوش کر دیا۔
آل پاکستان تنظیم مغلیہ کے زیرِ اہتمام ایک نجی شادی ہال میں اجتماعی شادیوں کی خوبصورت اور پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہر کی سیاسی، سماجی، کاروباری اور صحافتی شخصیات سمیت گورنر پنجاب جناب سلیم حیدر خان نے بھی خصوصی شرکت کی اور تقریب سے خطاب کیا۔
مہمانوں کی آمد پر ڈھول کی تھاپ گونجتی رہی، پرتپاک استقبال کیا گیا، مالائیں پہنائی گئیں اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ نجی شادی ہال میں ایک ہزار سے زائد افراد کے لیے کھانے پینے کا بھی بھرپور انتظام کیا گیا۔
تقریب میں تین بیٹیوں کی اجتماعی شادیاں کروائی گئیں، جہاں ہر بارات کے ساتھ آنے والے افراد کی تعداد کی کوئی پابندی نہیں تھی۔ دلہنوں کو علیحدہ علیحدہ جہیز فراہم کیا گیا جس میں ضروریاتِ زندگی کی مختلف اشیاء شامل تھیں۔
لیکن اس تقریب کی اصل خوبصورتی صرف یہ نہیں تھی کہ تین بیٹیوں کے گھر بسائے گئے، بلکہ اصل خوبصورتی یہ تھی کہ ان بیٹیوں کو اپنوں سے بڑھ کر اپنائیت کے ساتھ رخصت کیا گیا۔
جس طرح ایک باپ اپنی بیٹی کی بارات کا استقبال کرتا ہے، اسی محبت اور خلوص کے ساتھ براتیوں کا استقبال کیا گیا۔ رخصتی کے وقت بیٹیوں کے سروں پر پیار دیا گیا، انہیں انگوٹھیاں پہنائی گئیں، قرآنِ پاک تحفے میں دیے گئے اور دلہوں کو گھڑیاں پہنائی گئیں۔
جب ان دلہنوں سے بات کی گئی تو ان کے چہروں پر خوشی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ انہوں نے آل پاکستان تنظیم مغلیاں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا کہ تنظیم نے ان کی زندگی کا سب سے بڑا خواب پورا کرنے میں کردار ادا کیا۔
لیکن اس پوری تقریب کی سب سے بڑی خبر کیا تھی؟
یہ شادیاں کسی بڑے صنعت کار، کروڑ پتی یا سیاسی شخصیت نے نہیں کروائیں۔
یہ کام کرنے والے وہ لوگ تھے جو خود محنت مزدوری کرتے ہیں۔
کوئی ویلڈنگ کا کام کرتا ہے، کوئی موٹر سائیکلوں کا کام کرتا ہے، کسی نے چھوٹی سی دکان بنا رکھی ہے۔ مگر ان مزدوروں نے اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کاٹ کر، اپنی ضروریات محدود کرکے اور اپنی محنت کی کمائی میں سے حصہ نکال کر ان بیٹیوں کے گھر بسانے کا بیڑا اٹھایا۔
ان کا کہنا تھا کہ:
اگر ہم سب مل کر اسی طرح ایک دوسرے کی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کا عزم کرلیں تو وہ دن دور نہیں جب کوئی بیٹی صرف اس لیے اپنے والدین کی دہلیز پر بیٹھی نہیں رہے گی کہ اس کے باپ کے پاس شادی کے اخراجات یا جہیز کے پیسے نہیں۔
یہ صرف تین شادیاں نہیں تھیں…
یہ تین گھر آباد ہوئے، تین بیٹیاں دعاؤں کے ساتھ رخصت ہوئیں اور تین خاندانوں کی زندگی میں خوشیوں کا نیا باب شروع ہوا۔
اس نیک اور قابلِ تحسین کارِ خیر پر شہر بھر سے آل پاکستان تنظیم مغلیہ کے عہدیداران اور کارکنان کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
اس موقع پر چیئرمین ارشدمحمود مغل، سرپپرست اعلی حاجی منیر صاحب صدر غلام مصطفی جنرل سیکرٹری ابرار حسین مغل اور انفارمیشن سیکرٹری یاسین مغل سمیت تنظیم کے دیگر عہدیداران نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اجتماعی شادیوں جیسے فلاحی کاموں کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
آج کے دور میں جب شادی ایک عام مزدور اور غریب باپ کے لیے ایک بہت بڑا مالی بوجھ بن چکی ہے، وہاں ان مزدوروں کا اپنی محنت کی کمائی سے دوسروں کی بیٹیوں کے گھر بسانا واقعی ایک قابلِ ذکر مثال ہے۔
مغلاں دے منڈے ایک واری پھر بازی لے گئے…
اور اس بار بازی دولت سے نہیں،
دل سے جیتی گئی ہے۔
کیونکہ اصل امیری بینک بیلنس میں نہیں ہوتی…
اصل امیری کسی کی بیٹی کو عزت، محبت اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کرنے میں ہوتی ہے۔