SUFI Marketing

SUFI Marketing Sufi marketing is the reputed digital media marketing Agency in Pakistan

27/12/2025

مارکیٹنگ میں اخلاقیات؟

آج طبیعت کچھ اداس بھی ہے اور کچھ فلسفیانہ بھی، اور اس کیفیت کی وجہ وہ ایک شعر ہے جو میرے ذہن میں اٹک گیا ہے، یہ شعر آج کے ڈیجیٹل دور اور ہماری گرتی ہوئی مارکیٹنگ کی اقدار کا ایسا نقشہ کھینچتا ہے کہ بندہ دنگ رہ جاتا ہے

ہر گھڑی چشم خریدار میں رہنے کے لیے
کچھ ہنر چاہئے بازار میں رہنے کے لیے

اب تو بدنامی سے شہرت کا وہ رشتہ ہے کہ لوگ
ننگے ہو جاتے ہیں اخبار میں رہنے کے لیے

یہ شعر صرف شاعری نہیں، یہ ہمارے آج کے بزنس ماڈل انفلونسر اور دیگر ڈیجیٹل دنیا سے جڑے لوگوں کا نوحہ ہے۔ آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، وہاں "توجہ" (Attention) سب سے مہنگی کرنسی بن چکی ہے۔ اور اس کرنسی کو کمانے کے لیے لوگ اور برانڈز کس حد تک گر سکتے ہیں، آج ہم اسی پر کھل کر، بنا کسی لاگ لپٹ کے بات کریں گے۔

دیکھیں! مارکیٹنگ دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک وہ جو "برانڈ" بناتا ہے، اور ایک وہ جو صرف "روٹی" کے لیے کی جاتی ہے۔

مجھے اکثر لاہور اسٹیشن کے وہ شربت بیچنے والے یاد آتے ہیں جو چلچلاتی دھوپ میں 100 روپے کا روح افزا اور دودھ کا شیک بیچنے کے لیے گلے پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہے ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد برانڈ بنانا نہیں ہوتا، ان کا مسئلہ "سروائیول" (Survival) ہوتا ہے۔ انہیں پتا ہے کہ اگر وہ نہیں چیخیں گے، اگر وہ گاہک کے کان نہیں کھائیں گے، تو ان کی دیہاڑی نہیں لگے گی۔
یہ جو "گھٹیا مارکیٹنگ" ہے نا، یہ دراصل سروائیول والوں کی پہچان ہے۔

اور یہاں میں ایک بہت تلخ مثال دوں گا، شاید کچھ لوگوں کو بری لگے مگر سچ یہی ہے۔ ایک "طوائف" یا بازار میں بیٹھنے والی عورت جب گاہک کو بلاتی ہے، تو وہ کون سی مارکیٹنگ کرتی ہے؟ وہ اپنی ادائیں دکھاتی ہے، وہ اپنا جسم دکھاتی ہے، وہ اشارے کرتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ مجبور ہے، اسے "ابھی" گاہک چاہیے، اسے اپنا سودا بیچنے کے لیے پست ترین سطح پر آنا پڑتا ہے کیونکہ اس کے پاس بیچنے کو "اقدار" نہیں، صرف "گوشت" ہے۔
جو برانڈز اپنی مارکیٹنگ میں صرف ناچ گانا، فحاشی یا سستی جگتیں استعمال کرتے ہیں، وہ دراصل اسی "نفسیاتی کوٹھے" پر بیٹھے ہیں جہاں مقصد صرف گاہک کو پھنسانا ہے، چاہے عزت کا جنازہ نکل جائے۔

جنسیت، مذہبیت اور تعصب
جو لوگ اس "سروائیول موڈ" میں ہوتے ہیں، وہ انسانی دماغ کی کمزوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کے پاس تین ہتھیار ہوتے ہیں

جنسیت (Sexuality) ننگا پن دکھاؤ، ویوز (Views) لو۔
مذہبیت لوگوں کے ایمان کو کیش کرو، جذباتی کرو اور مال بیچو۔
تعصب نفرت پھیلاؤ، گالی دو، تنازع (Controversy) پیدا کرو تاکہ لوگ مڑ مڑ کر دیکھیں۔

یہ ہتھکنڈے آپ کو "مشہور" تو کر سکتے ہیں (جیسے شعر میں کہا گیا کہ ننگے ہو جاتے ہیں اخبار میں رہنے کے لیے)، مگر یہ آپ کو "معتبر" نہیں بنا سکتے۔ بدنامی سے شہرت کا رشتہ تو جڑ سکتا ہے، مگر عزت کا نہیں۔

لطافت اور تہذیب
لیکن دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو معاشرے میں بہتری چاہتے ہیں، جو انسانی زندگی کو اور کاروبار کو بامقصد سمجھتے ہیں (Purpose Driven Business)۔ انہوں نے کاروبار کی بھی اخلاقیات بنائی ہیں۔
اچھی مارکیٹنگ، مہذب مارکیٹنگ وہ ہے جو انسان کی حیوانی جبلت کو نہیں، بلکہ اس کے "ذوق" کو ٹارگٹ کرے۔
میرے نزدیک حسن، فطرت، اچھے جذبات، ذہین مزاح، اور تجسس—یہ وہ چیزیں ہیں جو انسان کو اپنی طرف کھینچتی بھی ہیں اور اس کی عزتِ نفس کو مجروح بھی نہیں کرتیں۔

مارکیٹنگ اصل میں "کمیونیکیشن" کا نام ہے، اور کمیونیکیشن میں "پردہ" اور "لحاظ" ہی سب سے بڑی اخلاقیات ہے۔
اسے میں آپ کو دو بہت ہی بولڈ لیکن حقیقت پسندانہ مثالوں سے سمجھاتا ہوں کہ کس طرح "ضرورت" وہی ہوتی ہے، مگر بیان کرنے کا طریقہ "بازاری" یا "مہذب" ہو سکتا ہے۔


ایک مرد جس کو مردانہ کمزوری کا مسئلہ ہے یا وہ پوشیدہ امراض کا علاج کروانا چاہتا ہے۔ جب وہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے تو کیا وہ جاتے ہی یہ کہتا ہے کہ "اوئے ڈاکٹر! میرا لن بڑا کر دو؟"
نہیں! حالانکہ اس کی طلب یہی ہے، مگر وہ انسان ہے، جانور نہیں۔ وہ ایک "لحاظ" رکھ کر، شرماتے ہوئے، مہذب الفاظ کا چناؤ کر کے اپنی کیفیت بیان کرتا ہے۔ اور ڈاکٹر بھی آگے سے اسے بازاری زبان میں جواب نہیں دیتا بلکہ طبی اصطلاحات میں سمجھاتا ہے۔ یہی مارکیٹنگ کی بھی اخلاقیات ہیں۔

اسی طرح اگر ایک شادی شدہ خاتون، جسے کچھ جسمانی مسائل ہیں اور وہ ڈاکٹر سے "Vaginal Tightening" (نسوانی اعضاء کی تنگی) کا علاج کروانا چاہتی ہے۔ تو کیا وہ کلینک میں گھس کر چیخے گی کہ "ڈاکٹرنی میری ٹائٹ کر دو؟"
ہرگز نہیں! یہ گھٹیا پن ہے۔ وہ ڈاکٹر کے پاس جائے گی، اپنی تکلیف بتائے گی، وہ اسے "Post-Pregnancy Issues" (حمل کے بعد کے مسائل) یا "Rejuvenation" (بحالی) کا نام دے گی۔
ڈاکٹر جب اس کی مارکیٹنگ کرے گی تو وہ یہ نہیں لکھے گی کہ "آؤ ہم ٹائٹ کرتے ہیں" بلکہ وہ لکھے گی "خواتین کی صحت اور اعتماد کی بحالی"۔

دیکھا آپ نے؟ پروڈکٹ وہی ہے، ضرورت وہی ہے، جسم وہی ہے—مگر ایک طریقہ "طوائف" والا ہے اور دوسرا طریقہ "طبیب" والا ہے۔
ایک میں "ہوس" ہے، دوسرے میں "حل" ہے۔
ایک میں "نمائش" ہے، دوسرے میں "پوشیدگی" ہے۔
تو میرے بھائیو! بازار میں رہنے کے لیے ہنر چاہیے، ننگا ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے پاس پروڈکٹ میں جان ہے، اگر آپ کے پاس الفاظ کا چناؤ ہے، اگر آپ کے پاس مزاح اور ذہانت ہے، تو آپ کو گاہک متوجہ کرنے کے لیے بھونپو لگانے کی یا ننگا ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

گھٹیا مارکیٹنگ سروائیول والوں کی پہچان ہے۔ بیچاری طوائف مجبور ہوتی ہے کہ برے طریقے اختیار کرے تاکہ اسکے گاہک بڑھ سکیں۔ ۔ ۔ ریڑھی والا بھونپو لگا کر چیختا ہے تو اسکا سودا بکتا ہے۔ انکے لیے اخلاقیات کا لیکچر فضول ہے۔

البتہ جو لوگ معاشرے میں بہتری چاہتے ہیں۔ انسانی بھلائی کی بات کرتے ہیں۔ اس انسانی زندگی کو بامقصد سمجھتے ہیں انہوں نے کاروبار کی بھی اخلاقیات بنائی ہیں مارکیٹنگ کی بھی۔ سب اس پر عمل نہیں کرتے مگر اخلاقی کوڈ موجود ہے۔

میرے مطابق حسن، فطرت، اچھے جذبات، مزاح، اور تجسس جیسی چیزیں اچھی مارکیٹنگ میں استعمال ہوتی ہیں۔

اور جنسیت، مذہبیت، اور تعصب گھٹیا ترین مارکیٹنگ والے استعمال کرتے ہیں۔

فیصلہ آپ کا ہے کہ آپ اپنے گاہک کو "تماش بین" سمجھتے ہیں یا "ذیشعور انسان"۔

(نوٹ- یہ تحریر ان لوگوں کے لیے ہے جو کاروبار کو صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک فن سمجھتے ہیں۔)

"کیا آپ کا بزنس بھی جمیل اور پپو کی طرح چل رہا ہے؟ 👇"پاکستان میں کاروبار کرنے کا ایک سادہ سا "قومی فارمولا" ہے۔جب ایک گل...
04/12/2025

"کیا آپ کا بزنس بھی جمیل اور پپو کی طرح چل رہا ہے؟ 👇"

پاکستان میں کاروبار کرنے کا ایک سادہ سا "قومی فارمولا" ہے۔
جب ایک گلی میں کوئی شخص "فرنچ فرائز" کا ٹھیلا لگاتا ہے اور اس کا کام چل پڑتا ہے، تو اگلے ہی ہفتے پوری گلی میں 10 مزید ٹھیلے لگ جاتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ میں برگر لگا لوں یا جوس بیچ لوں۔ سب کو بس وہی کرنا ہے جو "وہ سامنے والا" کر رہا ہے۔
اسے بزنس کی زبان میں "بھیڑ چال" (Herd Mentality) کہتے ہیں۔ اور یہی وہ دروازہ ہے جہاں سے "سیل، سیل، سیل" کا ناسور اندر داخل ہوتا ہے۔
آج ہم کپڑوں کے کاروبار، خاص طور پر "ریپلیکا" (Replica) انڈسٹری کے ذریعے اس بیماری کی تشخیص کریں گے اور اس کا علاج بھی ڈھونڈیں گے۔

آئیے اپنے ایک فرضی کردار "جمیل بھائی" سے ملتے ہیں۔ جمیل بھائی نے دیکھا کہ خواتین برانڈڈ کپڑے (ثانیہ ماسکاتی، ماریہ بی، کھاڈی) مہنگے ہونے کی وجہ سے نہیں خرید سکتیں، مگر پہننا وہی چاہتی ہیں۔ انہوں نے دماغ لڑایا اور ایک دکان کھولی "جمیل کلیکشن" جہاں وہ مشہور برانڈز کی ہوبہو نقل (Master Replica) بیچنے لگے۔
شروع میں بہت اچھا رسپانس ملا۔ ایک سوٹ جو اصلی 15 ہزار کا تھا، جمیل بھائی 3 ہزار میں بیچ رہے تھے۔ خواتین خوش، جمیل بھائی خوش۔
لیکن پھر کیا ہوا؟
محلے کے دوسرے دکاندار "پپو بھائی" نے دیکھا کہ جمیل کے پاس بہت رش ہے۔ انہوں نے جمیل کی دکان کے بالکل ساتھ "پپو فیشن" کھول لیا۔ انہوں نے وہی مال، اسی ہول سیلر سے اٹھایا اور بورڈ لگا دیا: "جمیل سے 200 روپے سستا"۔
جمیل بھائی گھبرا گئے۔ انہوں نے جواب میں بورڈ لگایا: "500 روپے کا ڈسکاؤنٹ"۔
پپو نے 600 کم کر دیے۔
جمیل نے "بائے ون گیٹ ون فری" (Buy 1 Get 1 Free) کی سیل لگا دی۔
نتیجہ؟
دونوں کا منافع ختم ہوگیا۔ دونوں صبح سے شام تک مکحیاں مارنے لگے کیونکہ گاہک اب صرف اس انتظار میں رہتا تھا کہ کب یہ مزید سستا کریں گے تو ہم خریدیں گے۔ انہوں نے اپنی دکان کو "برانڈ" نہیں، ایک "سستی منڈی" بنا دیا۔
(ہمارے ہاں سیل کا بورڈ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ دکان کا نام نظر ہی نہیں آتا، اور پھر ہم کہتے ہیں گاہک وفادار نہیں رہا)

مشہور کتاب "بلیو اوشن اسٹریٹجی" (Blue Ocean Strategy) میں مصنفین (W. Chan Kim & Renée Mauborgne) ایک کمال کی بات کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مارکیٹ دو طرح کی ہوتی ہے۔
ریڈ اوشن (لال سمندر) جہاں شارک مچھلیاں (دکاندار) گوشت کے ٹکڑے (گاہک) کے لیے آپس میں لڑ لڑ کر سمندر کو خون سے لال کر دیتی ہیں۔ (جیسے جمیل اور پپو کی لڑائی)۔
بلیو اوشن (نیلا سمندر) جہاں آپ اکیلے تیرتے ہیں، کیونکہ آپ مقابلہ کرتے ہی نہیں، آپ اپنا راستہ الگ بنا لیتے ہیں۔
پے پال (PayPal) کے بانی پیٹر تھیل (Peter Thiel) اپنی کتاب "Zero to One" میں اس سے بھی سخت جملہ کہتے ہیں:
"مقابلہ ہارنے والوں کے لیے ہوتا ہے۔" (Competition is for losers)
اب سوال یہ ہے کہ ایک "ریپلیکا" بیچنے والا، جو بیچ ہی "نقل" رہا ہے، وہ "الگ" کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا ریپلیکا بیچ کر برانڈ بنا جا سکتا ہے؟
ریپلیکا بزنس کو "برانڈ" میں کیسے بدلیں؟
جواب ہے "جی ہاں"۔ ( میں خود اس وقت 4 ریپلیکا بزنس کی مارکیٹنگ کر رہا ہو اور ان کا ڈیلی کا ایڈ بجٹ 7 ہزار سے زائد ہے )

لیکن اس کے لیے آپ کو "کپڑا" بیچنا بند کرنا ہوگا اور "اعتماد" بیچنا شروع کرنا ہوگا۔
یاد رکھیں، گاہک کو پتا ہے کہ یہ "کاپی" ہے۔ وہ بیوقوف نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اسے ڈر ہے کہ کہیں یہ پہلی دھلائی میں سکڑ نہ جائے یا رنگ نہ چھوڑ دے۔
اگر جمیل بھائی نے پپو سے مقابلہ کرنے کے بجائے یہ 3 کام کیے ہوتے تو وہ برانڈ بن جاتے۔
1. سچائی کی طاقت (The Power of Radical Honesty)
عام دکاندار قسمیں کھاتا ہے "باجی اللہ دی قسم اے اوریجنل اے"۔ گاہک کو پتا ہے یہ جھوٹ بول رہا ہے۔
برانڈ بننے کے لیے جمیل بھائی کو کہنا چاہیے تھا

"دیکھیں باجی، یہ اصلی نہیں ہے، یہ ماسٹر کاپی ہے۔ لیکن اس کے کپڑے اور رنگ کی 100 فیصد گارنٹی میری ہے۔ اگر رنگ خراب ہوا تو سوٹ بھی رکھ لینا اور پیسے بھی واپس لے جانا۔"

یہ جملہ پپو کے 500 روپے ڈسکاؤنٹ سے زیادہ بھاری ہے۔ یہ "اعتماد" ہے۔
2. پریزنٹیشن کا جادو (Packaging & Experience)
ریپلیکا اکثر شاپر (Shopper) میں لپیٹ کر دے دیا جاتا ہے۔
جمیل بھائی کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے نام کا خوبصورت "باکس" بنواتے۔ سوٹ کو "بٹر پیپر" میں لپیٹتے اور ساتھ ایک "تھینک یو کارڈ" (Thank you card) رکھتے جس پر لکھا ہوتا: "آپ نے ہمیں چنا، شکریہ۔ اسے پہن کر آپ شہزادی لگیں گی۔"
جب گاہک 3 ہزار کے سوٹ پر 15 ہزار والی "فیلنگ" (Feeling) لیتا ہے، تو وہ قیمت نہیں دیکھتا۔
3. مشاورت (Curated Styling)
دکاندار صرف سوٹ پھینکتا ہے۔ برانڈ "مشورہ" دیتا ہے۔
اگر جمیل بھائی گاہک کو کہتے "باجی یہ نیلا رنگ آپ پر بہت جچے گا، لیکن اس کے ساتھ آپ سفید ٹراؤزر کے بجائے اگر کریم کلر کا ٹراؤزر لیں تو بالکل بوتیک والا لک آئے گا۔"
اب جمیل بھائی صرف سیلزمین نہیں رہے، وہ "فیشن کنسلٹنٹ" بن گئے۔
(خواتین درزی کی کڑوی باتیں صرف اس لیے سنتی ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ وہ انہیں خوبصورت بنا سکتا ہے۔ اگر آپ وہی یقین اپنی دکان پر دے دیں تو گاہک کہیں نہیں جائے گا)

اگر آپ بھیڑ چال چلیں گے تو آپ کو وہی ملے گا جو بھیڑ کو ملتا ہے، گھاس اور کٹنے کا ڈر۔ اگر آپ شیر بننا چاہتے ہیں تو اپنا شکار خود منتخب کریں۔
چاہے آپ جوتوں کا کام کریں، کپڑوں کا یا کاسمیٹکس کا۔ اگر آپ وہی کر رہے ہیں جو آپ کا پڑوسی کر رہا ہے، اور آپ کا واحد ہتھیار "قیمت کم کرنا" ہے، تو معاف کیجیے گا، آپ بزنس نہیں کر رہے، آپ آہستہ آہستہ خودکشی کر رہے ہیں۔
برانڈ وہ نہیں جو سب سے سستا بیچے۔
برانڈ وہ ہے جس پر گاہک آنکھ بند کر کے یقین کرے کہ "یہاں سے غلط چیز نہیں ملے گی"۔

چلیں میں نے بہت لکھ لیا اور اپ نے پڑھ لیا اب آپ بتائیں
کیا آپ نے کبھی کسی دکاندار سے صرف اس لیے مہنگی چیز خریدی کیونکہ آپ کو اس کے مشورے یا رویے پر یقین تھا؟ یا آپ ہمیشہ سب سے سستی دکان ڈھونڈتے ہیں؟
سچ سچ بتائیے گا، ہم کونسا ایف بی آر (FBR) والے ہیں۔ 👇
ضروری نوٹ: نقل کپڑوں کی کریں، مارکیٹنگ کی نہیں۔ اپنی کہانی خود لکھیں۔
ڈبل ضروری نوٹ: سردیوں میں لان کا سوٹ دیکھ کر جذبات میں مت آئیں، نمونیہ برانڈ دیکھ کر حملہ نہیں کرتا۔ 🥶

آپ کا گاہک انگریزی میں سوچتا ہے یا اردو میں؟ہم پاکستانیوں کی نفسیات میں ایک عجیب گرہ لگی ہوئی ہے۔ جب ہم اسکول میں ہوتے ہ...
04/12/2025

آپ کا گاہک انگریزی میں سوچتا ہے یا اردو
میں؟

ہم پاکستانیوں کی نفسیات میں ایک عجیب گرہ لگی ہوئی ہے۔ جب ہم اسکول میں ہوتے ہیں تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ کامیابی کا راستہ انگریزی زبان سے ہو کر گزرتا ہے۔ جب ہم دفتروں میں جاتے ہیں تو وہاں سوٹ بوٹ اور انگریزی بولنے والے کو ہی عقلمند سمجھا جاتا ہے۔ یہی سوچ لے کر جب ہم اپنا کاروبار شروع کرتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم نے اپنے اشتہار میں بھاری بھرکم انگریزی نہ لکھی تو شاید ہمارا برانڈ "سستا" یا "عام" لگے گا۔
آج ہم اس غلط فہمی کا مکمل آپریشن کریں گے۔

پاکستان کے مشہور سیلز ٹرینر اشرف چوہدری اکثر اپنی تحریروں میں یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ "لوگ منطق سے نہیں، جذبات سے خریدتے ہیں"۔ اب سوال یہ ہے کہ جذبات کی زبان کونسی ہے۔ نیلسن منڈیلا کا ایک قول ہے کہ اگر آپ کسی شخص سے اس زبان میں بات کریں جو وہ سمجھتا ہے (یعنی سیکنڈری زبان) تو بات اس کے دماغ میں جاتی ہے۔ لیکن اگر آپ اس سے اس کی مادری زبان میں بات کریں تو بات سیدھی اس کے دل میں اترتی ہے۔
مارکیٹنگ کا مقصد صرف "معلومات دینا" نہیں ہوتا، بلکہ "محسوس کروانا" ہوتا ہے۔

پاکستان کا ایک نامور مصالحہ جات بنانے والا ایک برانڈ ہے۔ شان مصالحہ ایک ڈبہ یا ایک روایت
ذرا پاکستانی مارکیٹ کے سب سے بڑے دیو، "شان فوڈز" کی مثال لیں۔ شان مصالحہ آج 60 سے زیادہ ملکوں میں بکتا ہے۔ وہ ایک عالمی برانڈ ہے۔ ان کے پاس بجٹ کی کمی نہیں کہ وہ ہالی وڈ کے لکھاریوں سے انگریزی میں ٹیگ لائن لکھوائیں۔
مگر ان کی ٹیگ لائن کیا ہے؟
"خوشبو جو بھوک جگائے"
غور کریں۔ انہوں نے یہ نہیں لکھا "The smell that makes you hungry"۔ انگریزی میں وہ بات تو ہو جاتی، مگر وہ "چٹخارہ" اور وہ "اپنائیت" ختم ہو جاتی جو لفظ "خوشبو" اور "بھوک" میں چھپی ہے۔ شان نے سمجھ لیا تھا کہ پاکستانی عورت جب کچن میں ہوتی ہے تو وہ انگریزی میں ترکیبیں نہیں سوچتی، وہ اپنی نانی دادی کے ذائقوں کو یاد کرتی ہے۔ اور نانی دادی انگریزی نہیں بولتی تھیں۔
(ویسے بھی ہمارے ہاں اگر کھانے کی تعریف انگریزی میں کی جائے تو لگتا ہے جیسے کھانا پیٹ بھرنے کے لیے نہیں بلکہ صرف تصویر بنانے کے لیے پکایا گیا ہے)
یہی حکمت عملی "جیمز جمشید" (J.) نے اپنائی۔ انہوں نے اپنے برانڈ کو "Soully East" (روح سے مشرقی) کہا۔ انہوں نے ہمارے تہواروں، ہمارے رنگوں اور ہماری مشرقی اقدار کو اپنی مارکیٹنگ کا حصہ بنایا۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔

آئیے اپنے فرضی برانڈ "کھل وَنٹ" (Khall Wont) کے دفتر چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہاں کیا کھچڑی پک رہی ہے۔
کھل وَنٹ کے مالک نے شروع میں سوچا کہ چونکہ وہ لیدر کے مہنگے بیگ بیچ رہے ہیں، لہذا ان کا اشتہار بھی "ولایتی" ہونا چاہیے۔ انہوں نے ایک اشتہار ڈیزائن کیا جس پر لکھا تھا

"Experience the epitome of genuine leather craftsmanship and elegance."

نتیجہ کیا نکلا۔ لوگوں نے اشتہار دیکھا، تصویر کو پسند کیا، مگر خریدا نہیں۔ کیوں۔ کیونکہ لفظ "Epitome" پڑھ کر آدھے لوگوں کو لگا کہ شاید یہ کوئی طبی آلہ بیچ رہے ہیں یا پھر یہ برانڈ ان کی پہنچ سے بہت دور ہے۔( ویسے مجھ کو بھی اس کا ترجمہ نہیں آتا)

پھر کھل وَنٹ نے اپنی حکمت عملی بدلی۔ انہوں نے سوچا کہ ہمارا گاہک کون ہے۔ وہ پاکستانی جو مضبوطی بھی چاہتا ہے اور خوبصورتی بھی۔ انہوں نے نیا اشتہار بنایا اور اس بار پیڈ لائن لکھی

"نسلوں کا ساتھ۔۔۔ خالص چمڑے کی ایسی مضبوطی جو وقت کے ساتھ اور نکھر جائے۔"

جادو ہوگیا۔
یہ جملہ پڑھ کر گاہک کے ذہن میں وہ پرانے زمانے کا بیگ آگیا جو اس کے والد استعمال کرتے تھے۔ اسے "اپنائیت" محسوس ہوئی۔ اسے لگا کہ یہ برانڈ اس کی بات کر رہا ہے، کسی انگریز کی نہیں۔ سیلز میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔

اب آپ پوچھیں گے کہ کیا ہم انگریزی بالکل چھوڑ دیں۔ نہیں۔ پاکستان ایک عجیب مارکیٹ ہے۔ یہاں مکمل اردو لکھیں تو کچھ لوگ اسے "پرانا فیشن" سمجھتے ہیں اور مکمل انگریزی لکھیں تو آدھے لوگ سمجھ نہیں پاتے۔
یہاں "قاسم علی شاہ" صاحب کی کمیونیکیشن کی تھیوری کام آتی ہے کہ "سامع کی سطح پر آکر بات کرو"۔
آج کا پاکستانی ڈیجیٹل گاہک "رومن اردو" (Roman Urdu) کا عادی ہے۔ یہ وہ زبان ہے جو ہم واٹس ایپ پر لکھتے ہیں۔ یہ انگریزی اور اردو کا ایک حسین سنگم ہے۔ یہ "برگر" طبقے کو بھی سمجھ آتی ہے اور "بن کباب" کھانے والے کو بھی۔
(سچ تو یہ ہے کہ ہمارے آدھے سے زیادہ گاہک "Price Please" بھی انگریزی میں پوچھتے ہیں مگر جب آپ انگریزی میں جواب دیں تو کہتے ہیں "بھائی اردو میں بتاؤ، سمجھ نہیں آئی")

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا کاروبار صرف ایک دکان نہ رہے بلکہ ایک "برانڈ" بن جائے، تو زبان کے رعب سے باہر نکلیں۔ برانڈ وہ ہوتا ہے جو گاہک کا دوست بن جائے۔ اور دوست کبھی بھی ایسی زبان میں بات نہیں کرتا جس کے لیے لغت (Dictionary) کھولنی پڑے۔
اگر شان مصالحہ اردو بول کر انٹرنیشنل ہو سکتا ہے، تو آپ بھی اپنی مقامی زبان، اپنے مقامی لہجے اور اپنے لوگوں کے انداز کو اپنا کر کامیاب ہو سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، انگریزی صرف ایک زبان ہے، کوئی قابلیت نہیں۔ قابلیت یہ ہے کہ آپ اپنا پیغام اگلے کے دل میں اتار سکیں۔(ویسے میں سوچ رہا ہوں کیا اگر میں اپنی تحریروں کو پنجابی میں لکھنا شروع کروں تو کیا ہوگا)
آج آپ سے ایک چھوٹا سا سوال ہے اور مجھے امید ہے آپ ایمانداری سے جواب دیں گے۔
جب آپ فیس بک پر کوئی لمبی انگریزی پوسٹ دیکھتے ہیں، تو کیا آپ اسے پورا پڑھتے ہیں یا صرف تصویر دیکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
اپنا جواب کمنٹس میں ضرور بتائیے گا، شاید آپ کا جواب کسی نئے کاروباری کی آنکھیں کھول دے۔

ضروری نوٹ۔ یہ باتیں آپ کو کوئی نوٹ لے کر بھی نہیں بتائے گا اس لیے مجھ کو فالو کر لیں۔

ڈبل ضروری نوٹ۔ میرا کام ہے آپ کو سمجھنا ٹھنڈ آ گئی ہے اب روز مت نہانا۔

This is the exact structure I am following now to get 20+ ROAS for a hair care brand in Pakistan after the Meta Andromed...
28/10/2025

This is the exact structure I am following now to get 20+ ROAS for a hair care brand in Pakistan after the Meta Andromeda update.

Keep in mind that running multiple ads in a campaign is not a strategy; creating ads that talk about your buyer persona's exact pain points, solutions, and benefits is what brings the most profitable sales.

Andromeda is delivering! Our new customer Meta campaign results are consistently improving as we adapt to the new update...
27/10/2025

Andromeda is delivering!

Our new customer Meta campaign results are consistently improving as we adapt to the new update. Better and better every day!

We on board this brand lats week and his business now going up to sky
If you want successful results in meta ads contact us today
03215061707

26/10/2025

How to Get 10+ ROAS After the Meta Ads Andromeda Update?

While most advertisers are panicking about poor Meta Ads results, I’m consistently getting 10–20 ROAS for multiple clients — and here’s exactly what you need to do if you want to see the same results.

Forget whatever campaign structure you were using before September 2025. After the Andromeda update, there’s only one structure that can deliver maximum sales:

✅ 1 CBO Campaign
✅ 1 Ad Set
✅ Up to 50 diverse ads inside that ad set

The key is diversity. Meta’s algorithm now thrives on variety — using just one ad type for your brand is old news.

Your ad set should include at least 5 of the following creative types:

✅ Founder’s Story
✅ Us vs. Them
✅ Product Demo
✅ Customer Testimonials
✅ AI-Generated Ads
✅ Features & Benefits
✅ Face-to-Camera Videos
✅ Whitelisting Content
✅ Positioning Test
✅ UGC (User-Generated Content)

And here’s a golden rule:
If you use ad formats 1, 2, 4, 6, and 10, you’ll get guaranteed results — no matter your budget.

For new ads, always launch a separate testing campaign first. Once an ad performs well in the test campaign, move it into your main scaling campaign (same ad set) and pause it in the testing one.

It’s really that simple. If you understand this structure, you’ll start getting great results on Meta again even after the Andromeda update.

If you still think nothing changed after andromeda and only bunch of YouTubers are creating hype out of it.Here’s a real...
26/10/2025

If you still think nothing changed after andromeda and only bunch of YouTubers are creating hype out of it.

Here’s a reality check for you

Before andromeda, meta was spending your entire budget of ad set to a single ad and rest of your ads not get enough spending. That’s why we needed to create multiple campaigns & ad sets so meta can spend budget on all of ours & only 1 ad type was enough to generate good sales.

But things changed & for real, now if you add all of your creatives in 1 campaign & 1 ad set, meta will spend budget on each ad depending on the results so no need to create different campaigns or ad sets.

Meta won’t spend budget on your ad in 2 cases now, if you are using visual similar ads in an ad set meta will take that as one ad group & 2nd is if your ad isn’t good enough for meta to spend budget on.

Below is a client campaign with 7k per day budget and approx 18 ads in it & meta is spending budget on each ad depending on the performance because they are different ads with different angles, hooks, target audience, & talking about different problems.

If you want this type of results in your business WhatsApp now and we discuss about your business
03215061707

25/10/2025

آپ کا آن لائن بزنس ایڈز کے باوجود سیلز نہیں لا رہا؟
تو آپ کے بزنس میں یہ 3 غلطیاں ہیں

1️⃣ آپ کی آفر ایسی ہے جو سب جیسی لگتی ہے۔

آفر کو "دل جیتنے والی" بنائیں۔
صرف ڈسکاؤنٹ نہیں، ایموشن بیچیں۔
مثلاً “3999 روپے میں اپنی بیوی کو آج ہی منا لیں وہ بھی ڈیزائنر جوڑے کے ساتھ!”

یہی وہ آفر ہے جو دل اور دماغ دونوں کو ہِٹ کرتی ہے۔

2️⃣ آپ کی مارکیٹنگ فنل سٹریٹجی کے بغیر ہے۔

اپنی مارکیٹنگ فنل کو تین حصوں میں بانٹیں
Awareness → Engagement → Sales
تاکہ کسٹمر step-by-step آپ سے خریدنے کے لیے تیار ہو۔

3️⃣ آپ صرف مارکیٹنگ کر رہے ہیں، سیلز نہیں۔

اپنی ویب سائٹ اور ایڈز کو “سیل کرنے” کے لیے ڈیزائن کریں،
نہ کہ صرف “دکھانے” کے لیے۔

چیک آؤٹ آسان بنائیں، ریویوز اور آفر واضح رکھیں،
تاکہ وزیٹر فوراً ایکشن لے۔

🚀 اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بزنس صرف reach نہیں بلکہ ریونیو لے کر آئے،
تو ابھی نیچے دیے گئے واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں 📲

میں آپ کو فری کنسلٹیشن میں بتاؤں گا کہ
آپ کے بزنس کو سیلز کیوں نہیں آرہی
اور کس طرح اسے سیلز جنریٹ کرنے والی مشین بنایا جا سکتا ہے۔

👇👇
ابھی واٹس ایپ پر میسج کریں — یہ کنسلٹیشن 100% فری ہے۔

14/10/2025

How to Run SUCCESSFULLY Replica Business in Pakistan.
اگر آپ ایک ریپلیکا بزنس چلا رہے ہیں یا چلانا شروع کرنے والے ہیں تو یہ مارکیٹنگ سیریز
آپ کے لیے ہے اس سیریز کی یہ پہلی ویڈیو ہے
ویڈیو سے متعلق اپنی رائے سے آگاہ ضرور کیجئے گا اور کیا آپ اس طرح کی مزید ویڈیوز دیکھنا چاہتے ہیں تو ضرور بتائیں

میرا نام محمد حسن ہے اور میں 2019 سے پاکستان میں اپنی مارکیٹنگ کی سروسز دے رہا ہوں

جنگ یا  شطرنج  کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کا کاروبار ایک جنگ کا میدان ہے؟میرے عزیز بزنس پارٹنرز! آج میں آپ کو ایک ایسی کہانی...
29/09/2025

جنگ یا شطرنج

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کا کاروبار ایک جنگ کا میدان ہے؟

میرے عزیز بزنس پارٹنرز! آج میں آپ کو ایک ایسی کہانی سنانے جا رہا ہوں جو شاید آپ کے کاروبار کی تقدیر بدل دے۔ یہ کہانی ہے مارکیٹنگ سٹریٹجی کی - ایک ایسی فن کی جسے سمجھ کر آپ اپنے حریفوں کو شہہ اور مات کر سکتے ہیں۔

تصور کریں کہ آپ کا کاروبار ایک شطرنج کا بورڈ ہے، اور آپ اس کے بادشاہ ہیں۔ آپ کے چاروں طرف رانی، وزیر، اونٹ، گھوڑے اور پیادے ہیں - یہ آپ کے ملازمین، آپ کی مصنوعات، آپ کی خدمات اور آپ کے وسائل ہیں۔ سامنے آپ کا مخالف بیٹھا ہے - آپ کی حریف کمپنیاں۔ اب سوال یہ ہے کیا آپ بغیر سوچے سمجھے چالیں چل رہے ہیں، یا آپ کے پاس کوئی منظم حکمت عملی ہے؟

مارکیٹنگ سٹریٹجی کیا ہے؟

مارکیٹنگ سٹریٹجی، سادہ الفاظ میں، آپ کا وہ مکمل منصوبہ ہے جس سے آپ اپنے گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، انہیں اپنا مداح بناتے ہیں، اور بالآخر انہیں اپنا خریدار بناتے ہیں۔ یہ محض اشتہارات لگانا یا فیس بک پر پوسٹ کرنا نہیں ہے - یہ تو بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ سمجھے کہ صرف گولیاں چلانے سے جنگ جیت جائے گی، بالکل نہیں! ( 0-6) یاد ہے

یہ ایک مکمل جنگی منصوبہ ہے جس میں آپ کو یہ طے کرنا ہوتا ہے
- آپ کا ہدف کون ہے؟ (آپ کے مثالی گاہک)
- آپ کی منفرد شناخت کیا ہے؟ (آپ کو دوسروں سے کیا الگ بناتا ہے)
- آپ کیسے اپنے پیغام پہنچائیں گے؟
- کتنے پیسے خرچ کریں گے اور کہاں؟
- کامیابی کی پیمائش کیسے کریں گے؟ ( kpi)

اکبر بادشاہ اور پانی پت کی دوسری جنگ

یہاں میں آپ کو اکبر بادشاہ کی مثال دیتا ہوں۔ جب 1556 میں پانی پت کی دوسری جنگ ہوئی، تو اکبر صرف 13 سال کا تھا، لیکن اس کے پاس ایک عظیم سپہ سالار بیرم خان تھا۔ کیا بیرم خان نے بغیر منصوبے کے جنگ کی؟ بالکل نہیں!

پہلے انہوں نے دشمن کی فوج کا جائزہ لیا - ہیمو ویکرم آدتیہ کے پاس ہاتھی تھے، شاہی فوج تھی، لیکن اس کے پاس توپخانہ کم تھا۔ پھر انہوں نے اپنے وسائل دیکھے - کم فوج، لیکن بہتر توپخانہ اور گھڑ سوار۔ منصوبہ یہ بنا کہ دشمن کو میدان میں کھل کر لڑنے کی بجائے، اسے ایک محدود جگہ میں محصور کرنا ہے، جہاں ہاتھی فائدہ نہ دے سکیں۔

بالکل یہی چیز مارکیٹنگ میں ہوتی ہے۔ آپ کو اپنے حریفوں کا جائزہ لینا ہوتا ہے، اپنے وسائل دیکھنے ہوتے ہیں، اور پھر ایک ایسا میدان تلاش کرنا ہوتا ہے جہاں آپ جیت سکیں۔

مثال کے طور کراچی کا ایک چھوٹا ریسٹورنٹ

کراچی میں ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ کی کہانی سنتے ہیں۔ مالک حسن بھائی کا چھوٹا سا ڈھابہ تھا بُرنس روڈ پر۔ چاروں طرف بڑے ریسٹورنٹس تھے - KFC، McDonald's، Pizza Hut۔ حسن بھائی کے پاس نہ بڑا بجٹ تھا نہ شاندار لوکیشن اور مہنگا فرنیچر۔ لیکن ان کے پاس کیا تھا؟

ان کی والدہ کا ہاتھ کا بنا گوشت کڑاہی اور دال فرائی جس کا ذائقہ یادگار تھا۔ انہوں نے یہ نہیں کیا کہ پیزا یا برگر بنانا شروع کر دیں۔ انہوں نے اپنی منفرد چیز - دیسی کھانا - کو اپنی طاقت بنایا۔

سٹریٹجی بنائی "وہ آدمی جو آفس سے تھک کر آتا ہے اور گھر کا سا کھانا چاہتا ہے"۔ Facebook پر نہیں بلکہ آس پاس کی دکانوں میں چائے پیتے ہوئے لوگوں سے بات چیت۔ آہستہ آہستہ وہ "ماں کے ہاتھ کا کھانا" کے نام سے مشہور ہو گئے۔



شطرنج میں ایک کہاوت ہے "اگر تم صرف ایک چال آگے سوچ رہے ہو تو تم ہار جاؤ گے، تین چال آگے سوچو تو جیت جاؤ گے"۔ مارکیٹنگ میں یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔

فرض کریں آپ کے پاس ایک موبائل فون کی کمپنی ہے۔ آپ نے دیکھا کہ رمضان آ رہا ہے۔

صرف ایک قدم آگے چال والی سوچ "چلو رمضان آفر نکالتے ہیں، 20% ڈسکاؤنٹ!" یہ بہت عام سی سٹریٹجی ہے جس کا توڑ مخالفین 25% ڈسکاؤنٹ کی سورت میں نکال کر آپ کو آسانی سے ہرا سکتے ہیں

اب دیکھتے ہیں کہ یہی موبائل فون برانڈ کس طرح تین قدم آگے سوچ کر بہترین مارکیٹنگ سٹریٹجی بنا سکتا ہے

1. پہلی چال! رمضان میں لوگ روزے رکھتے ہیں، انہیں سحر اور افطار کے وقت الارم چاہیے
2. دوسری چال! لوگ قرآن پڑھنا چاہتے ہیں، انہیں قرآن ایپ کی ضرورت
3. تیسری چال! عید آئے گی، لوگ نئے فون گفٹ کرنا چاہیں گے

ایک خاص "رمضان ایڈیشن" فون بنایا جائے جس میں
- خوبصورت اسلامی ڈیزائن
- مفت قرآن اور اذان ایپ پری انسٹال
- خاص رمضان تھیم
- عید کی خاص پیکیجنگ

نتیجہ صرف ڈسکاؤنٹ دینے والوں سے آپ آگے نکل گئے!

مارکیٹنگ سٹریٹجی کے بنیادی اصولوں اور قواعد ہیں

1. اپنے دشمن کو جانیں (مارکیٹ ریسرچ)

جیسا کہ سن زو نے "Art of War" میں کہا تھا: "اگر تم اپنے دشمن کو جانتے ہو اور خود کو بھی، تو سو جنگوں میں بھی تمہاری شکست نہیں ہوگی"۔

لاہور میں ایک بیکری کی مالکہ فاطمہ بی بی نے یہ کیا
- ہر روز دوپہر کو آس پاس کے آفس کے ملازمین سے پوچھا: "آپ کیا کھانا پسند کریں گے؟"
- حریف بیکریوں میں جا کر دیکھا کہ وہ کیا بیچ رہے ہیں اور کتنے میں
- یہ نوٹ کیا کہ کون سا وقت زیادہ گاہک آتے ہیں

2. اپنے آپ کو جانیں (SWOT تجزیہ)

Strengths (طاقتیں) آپ میں کیا خوبی ہے؟
Weaknesses (کمزوریاں): کہاں آپ کو بہتری چاہیے؟
Opportunities (مواقع): بازار میں کیا خلاء ہے؟
Threats (خطرات): کیا آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے؟
3. اپنا نشانہ طے کریں (Target Audience)

یہ سب سے اہم چیز ہے! آپ سب کو خوش نہیں کر سکتے۔ جیسا کہ کہاوت ہے: "جو سب کا دوست ہو، وہ کسی کا دوست نہیں"۔

اپ یہ سوچ بلکل غلط سوچ ہے "میرا پروڈکٹ سب کے لیے ہے"
بلکہ آپ کو اس طرح سوچنا چاہیے"میرا پروڈکٹ ان خاص لوگوں کے لیے ہے جو یہ خاص مسئلہ رکھتے ہیں"

مثلاً کپڑوں کی دکان

غلط سوچ والے اس طرح اپنا اشتہار لکھتے ہیں "ہمارے یہاں ہر عمر کے لیے کپڑے ہیں"

درست سوچ والے اس طرح اپنا اشتہار لکھتے ہیں
"ہم 25-35 سال کی کام کاج کرنے والی خواتین کے لیے آفس wear بناتے ہیں جو stylish ہونا چاہتی ہیں لیکن comfortable بھی"۔

مارکیٹنگ مکس: آپ کے پاس چار ہتھیار ہیں

1. Product (پروڈکٹ) - آپ کا گھوڑا
یہ وہ چیز ہے جو آپ بیچ رہے ہیں۔ لیکن صرف چیز نہیں، بلکہ تجربہ!

کہانی ایک آدمی ڈرل خریدنے گیا۔ دکاندار نے کہا "آپ ڈرل نہیں خرید رہے، آپ دیوار میں سوراخ خرید رہے ہیں"۔ یہی فرق ہے - لوگ پروڈکٹ نہیں، حل خریدتے ہیں۔

2. Price (قیمت) - آپ کا وزیر
آپ کی قیمت آپ کی positioning بتاتی ہے۔

تین قسم کی قیمتیں ہوتی ہیں
سستا "ہم سب سے کم قیمت دیتے ہیں" (خطرناک کھیل!) آپ بہت جلد اپنے کاروبار کو ختم کر دیں گے
درمیانہ "بہترین value for money" (محفوظ کھیل) اس سے آپ کے گھر کی دال روٹی آرام سے چلتی رہے گی
مہنگا "Premium quality کے لیے premium قیمت" (بہادر کا کھیل) اگر آپ اپنے کاروبار کو برانڈ بنانا چاہتے ہیں تو پریمیم پرائس چارج کریں

ایک آدمی نے اپنی دکان پر لکھا "سب سے سستا"۔ کپڑا کوئی نہیں آیا۔ پھر لکھا "بہترین کوالٹی"، کا کپڑا کچھ لوگ آئے۔ آخر میں لکھا "امیروں کا پسندیدہ" کپڑا - دکان بھر گئی!

3. Place (جگہ) آپ کا کاروبار کہا ہونا چاہیے
یہ صرف فزیکل جگہ نہیں، بلکہ آپ کے گاہک آپ کو کہاں ملتے ہیں۔

آج کل ہر کوئی آن لائن جانا چاہتا ہے۔ لیکن اگر آپ کے گاہک بزرگ ہیں جو فیس بک استعمال نہیں کرتے، تو WhatsApp یا حتیٰ کہ دوست احباب کے ذریعے referral بہتر ہو سکتا ہے۔

4. Promotion (تشہیر) - آپ کے پیادے
یہ صرف اشتہار نہیں، بلکہ آپ کے گاہک سے communication کا بہترین طریقہ ہے۔

پاکستان میں اگر اپ کاروبار کر رہے ہیں تو اپ ان چیزوں کا استعمال کر کے اپنے کاروبار کو بہتر کر سکتے ہیں

1. جذباتی کنکشن بنائیں

پاکستانی معاشرے میں رشتے اور جذبات کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

مث ایک SIM بیچنے والی کمپنی اگر اس طرح کا اشتہار بناے تو لوگ وہ پیکج زیادہ خریدتے ہیں۔ "Mummy سے بات کرنے کے لیے balance کافی نہیں؟" تو پھر ہمارا family packages لگائیں۔

2. مقامی کلچر کا احترام لازمی کریں

ایک international برانڈ نے رمضان میں اپنے اشتہار میں iftar کا منظر دکھایا، برانڈ کا کردار کم، خاندان کا زیادہ۔ لوگوں نے سراہا۔

ایک کمپنی نے Valentine's Day پر پاکستانی بازار میں romantic campaign چلایا۔ controversy ہوئی، کامیابی نہیں ملی۔

3. Word of Mouth کی طاقت

پاکستان میں "کسی نے کہا ہے" کا اثر بہت زیادہ ہے۔

حکمت عملی
- اپنے بہترین گاہکوں کو incentive دیں کہ وہ دوستوں کو بتائیں
- WhatsApp groups میں naturally mentions کروائیں
- محلے کے influential لوگوں کو اپنا مداح بنائیں

Digital Marketing: نئے زمانے کا جنگ

Social Media Strategy

Facebook خاندانی محفل سمجھیں، یہاں formal advertising سے زیادہ community building کام کرتی ہے۔

Instagram نئی نسل کے لیے، visual content کا بادشاہ۔

TikTok Gen Z کے لیے، لیکن content مزاحیہ اور engaging ہو۔

WhatsApp Business: پاکستان میں سب سے powerful tool - personal yet professional۔

ایک کپڑوں کی دکان کی Digital Strategy

1. page: خاندانی تصاویر، بچوں کے کپڑے پہنے خوش خاندان
2. Instagram Fashion shoots، outfit combinations
3. WhatsApp Business Personal styling advice، size consultation
4.TikTok Quick fashion tips، "30 seconds میں perfect look"

اگر آپ کا بجٹ کم ہے تو اپ نیچے دی گئی سٹریٹجی استعمال کریں۔

1. Guerrilla Marketing

یہ فوج کی guerrilla warfare سے آیا ہے - کم وسائل میں بڑا اثر۔

ایک نئے cafe نے کیا کیا؟ ہر روز قریبی آفس میں مفت چائے کے کپ بھیجا صرف اپنا نام اور number کے ساتھ۔ ایک مہینے میں regular customers بن گئے۔

2. Content Marketing

معلومات دیں، فروخت کم کریں۔

ایک AC repair والے نے YouTube پر videos بنائیں "گرمیوں میں AC کیسے maintain کریں"۔ بیچا کچھ نہیں، صرف مفت مشورے دیے۔ نتیجہ وہ شہر کا سب سے مشہور AC technician بن گیا۔

3. Partnership Marketing

اکیلے کا شیر، جماعت کا ڈر۔

ایک wedding hall نے photographer، caterer، decorator اور makeup artist کے ساتھ مل کر "Complete Wedding Package" بنایا۔ سب نے اپنے اپنے clients کو دوسروں کے بارے میں بتایا۔ سب کا فائدہ!

آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ آپ جیت رہے ہیں؟

ROI (Return on Investment)

سادہ فارمولا اگر آپ نے 10 ہزار روپے marketing میں لگائے اور 50 ہزار کا فائدہ ہوا، تو آپ کا ROI 400% ہے۔

Metrics جو matter کرتے ہیں:

1.Customer Acquisition Cost ایک نیا گاہک لانے میں کتنی لاگت؟
2.Customer Lifetime Value ایک گاہک زندگی بھر کتنا فائدہ دے گا؟
3. Conversion Rate 100 میں سے کتنے لوگ خریدار بنتے ہیں؟
4. Brand Awareness لوگ آپ کو کتنا جانتے ہیں؟

-Wife Approval Rate آپ کی بیوی کو آپ کا کام کتنا پسند ہے؟ (اگر وہ خوش ہے تو کام ٹھیک چل رہا ہے!)
-Mother-in-law Pride Index ساس جی کتنے فخر سے آپ کا کام بتاتی ہیں؟
- Chai Wala Recognition محلے کا چائی والا آپ کو businessman کہتا ہے یا صرف "sahab"?

یہ سب کرتے ہوئے اپ کو کچھ مشکلات بھی درپیش ہوں گی ان کا حل بھی ہے میرے پاس۔

مشکل نمبر 1 "پیسے نہیں ہیں Marketing کے لیے"

Creativity > Money. سب سے بہترین marketing campaigns پیسوں سے نہیں، دماغ سے بنتے ہیں۔

ایک نئے restaurant نے اپنے first month میں یہ کیا "اگر آپ کو کھانا پسند نہ آئے تو آپ کو کھانا free، اور ہمیں آپ کو یہ بتانا ہو گا کہ آپ کے taste میں کیا problem ہے!" مزاح کی وجہ سے viral ہو گئی۔

مشکل نمبر 2 "Competition بہت زیادہ ہے"

Competition
سے ڈریں نہیں، اس سے سیکھیں۔ وہ آپ کے لیے market research کر رہے ہیں!

اگر بازار میں 10 دکانیں ہیں، تو 11ویں کے لیے جگہ نہیں؟ ضرور ہے! آپ کو بس اپنا منفرد انداز ڈھونڈنا ہے۔

مشکل نمبر 3 "Digital Marketing سمجھ نہیں آتی"

بچوں سے سیکھیں! آپ کے گھر میں کوئی نہ کوئی بچہ ہے جو TikTok چلاتا ہے۔ ان سے مدد لیں۔

آنے والے Trends

1. Voice Search
"Alexa,
قریبی سب سے اچھا restaurant کون سا ہے؟" - آپ کا نام اس جواب میں ہونا چاہیے۔

2. Video Content
Text کا زمانہ جا رہا ہے،
video کا آ گیا ہے۔
iPhone سے بنی اچھی video،
expensive camera سے بنی بری video
سے بہتر ہے۔
( وہ الگ بات ہے کہ میں خود ویڈیوز بہت کم بناتا ہوں کیونکہ مجھ کو نظر لگ جاتی ہے)

3. Personalization
ہر گاہک کو لگنا چاہیے کہ آپ صرف اس کے لیے کام کر رہے ہیں۔

میرے عزیز کاروباری بھائیو، مارکیٹنگ سٹریٹجی کوئی rocket science نہیں ہے۔ یہ تو بس انسانی فطرت کو سمجھنے کا کھیل ہے۔ لوگ کیا چاہتے ہیں، کیوں چاہتے ہیں، اور آپ ان کی یہ خواہش کو کیسے پورا کر سکتے ہیں - بس!

یاد رکھیں:
1.سٹریٹجی پہلے، tactics بعد میں
2. گاہک آپ کا پروڈکٹ نہیں، حل خریدتے ہیں
3. بڑے بجٹ سے زیادہ، بڑے خیالات ضروری ہیں
4. Consistency سے کامیابی آتی ہے، overnight success سے نہیں

اب آپ کا کام یہ ہے
- آج سے اپنے کاروبار کو شطرنج کی طرح دیکھنا شروع کریں
- ہر قدم تین قدم آگے سوچ کر اٹھائیں
- اپنے گاہک کو سمجھنے میں وقت لگائیں
- چھوٹے چھوٹے experiments کریں

کامیابی آپ کے قدم چومے گی، ( بس آپ نے پاؤ دھو کر رکھنے ہیں) یقین کریں! بس یاد رکھیں کہ ہر عظیم کاروباری کی طرح، آپ بھی پہلے ایک strategies کے کھیل میں مات کھا چکے ہوں گے، لیکن ہر مات سے سیکھ کر اگلی بار بہتر چال چلی ہوگی۔

اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنے کاروباری دوستوں کے ساتھ share کریں۔ یہ بھی ایک marketing strategy ہے - word of mouth! 😉

*"کامیاب وہ نہیں جو کبھی نہ گرا ہو، کامیاب وہ ہے جو گر کر دوبارہ اٹھ جائے اور بہتر strategy کے ساتھ آگے بڑھے"*

اللہ آپ کو کامیاب کرے! آمین!

اگر آپ کو اپنے کاروبار کے لیے مارکیٹنگ کنسلٹیشن کی ضرورت ہے تو آج ہی فری سیشن بک کریں کمنٹ میں I need help لکھیں میں آپ سے خود رابطہ کروں گا
یا پھر اس نمبر پر آپ واٹس ایپ میسج بھی کر سکتے ہیں
03215061707

#مارکیٹنگ

#کاروبار #محمدحسن

Address

Murree

Opening Hours

Monday 07:00 - 21:00
Tuesday 07:00 - 21:00
Wednesday 07:00 - 21:00
Thursday 07:00 - 21:00
Friday 07:00 - 21:00
Saturday 07:00 - 21:00
Sunday 08:00 - 16:00

Telephone

+923215061707

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SUFI Marketing posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to SUFI Marketing:

Share