27/12/2025
مارکیٹنگ میں اخلاقیات؟
آج طبیعت کچھ اداس بھی ہے اور کچھ فلسفیانہ بھی، اور اس کیفیت کی وجہ وہ ایک شعر ہے جو میرے ذہن میں اٹک گیا ہے، یہ شعر آج کے ڈیجیٹل دور اور ہماری گرتی ہوئی مارکیٹنگ کی اقدار کا ایسا نقشہ کھینچتا ہے کہ بندہ دنگ رہ جاتا ہے
ہر گھڑی چشم خریدار میں رہنے کے لیے
کچھ ہنر چاہئے بازار میں رہنے کے لیے
اب تو بدنامی سے شہرت کا وہ رشتہ ہے کہ لوگ
ننگے ہو جاتے ہیں اخبار میں رہنے کے لیے
یہ شعر صرف شاعری نہیں، یہ ہمارے آج کے بزنس ماڈل انفلونسر اور دیگر ڈیجیٹل دنیا سے جڑے لوگوں کا نوحہ ہے۔ آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، وہاں "توجہ" (Attention) سب سے مہنگی کرنسی بن چکی ہے۔ اور اس کرنسی کو کمانے کے لیے لوگ اور برانڈز کس حد تک گر سکتے ہیں، آج ہم اسی پر کھل کر، بنا کسی لاگ لپٹ کے بات کریں گے۔
دیکھیں! مارکیٹنگ دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک وہ جو "برانڈ" بناتا ہے، اور ایک وہ جو صرف "روٹی" کے لیے کی جاتی ہے۔
مجھے اکثر لاہور اسٹیشن کے وہ شربت بیچنے والے یاد آتے ہیں جو چلچلاتی دھوپ میں 100 روپے کا روح افزا اور دودھ کا شیک بیچنے کے لیے گلے پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہے ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد برانڈ بنانا نہیں ہوتا، ان کا مسئلہ "سروائیول" (Survival) ہوتا ہے۔ انہیں پتا ہے کہ اگر وہ نہیں چیخیں گے، اگر وہ گاہک کے کان نہیں کھائیں گے، تو ان کی دیہاڑی نہیں لگے گی۔
یہ جو "گھٹیا مارکیٹنگ" ہے نا، یہ دراصل سروائیول والوں کی پہچان ہے۔
اور یہاں میں ایک بہت تلخ مثال دوں گا، شاید کچھ لوگوں کو بری لگے مگر سچ یہی ہے۔ ایک "طوائف" یا بازار میں بیٹھنے والی عورت جب گاہک کو بلاتی ہے، تو وہ کون سی مارکیٹنگ کرتی ہے؟ وہ اپنی ادائیں دکھاتی ہے، وہ اپنا جسم دکھاتی ہے، وہ اشارے کرتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ مجبور ہے، اسے "ابھی" گاہک چاہیے، اسے اپنا سودا بیچنے کے لیے پست ترین سطح پر آنا پڑتا ہے کیونکہ اس کے پاس بیچنے کو "اقدار" نہیں، صرف "گوشت" ہے۔
جو برانڈز اپنی مارکیٹنگ میں صرف ناچ گانا، فحاشی یا سستی جگتیں استعمال کرتے ہیں، وہ دراصل اسی "نفسیاتی کوٹھے" پر بیٹھے ہیں جہاں مقصد صرف گاہک کو پھنسانا ہے، چاہے عزت کا جنازہ نکل جائے۔
جنسیت، مذہبیت اور تعصب
جو لوگ اس "سروائیول موڈ" میں ہوتے ہیں، وہ انسانی دماغ کی کمزوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کے پاس تین ہتھیار ہوتے ہیں
جنسیت (Sexuality) ننگا پن دکھاؤ، ویوز (Views) لو۔
مذہبیت لوگوں کے ایمان کو کیش کرو، جذباتی کرو اور مال بیچو۔
تعصب نفرت پھیلاؤ، گالی دو، تنازع (Controversy) پیدا کرو تاکہ لوگ مڑ مڑ کر دیکھیں۔
یہ ہتھکنڈے آپ کو "مشہور" تو کر سکتے ہیں (جیسے شعر میں کہا گیا کہ ننگے ہو جاتے ہیں اخبار میں رہنے کے لیے)، مگر یہ آپ کو "معتبر" نہیں بنا سکتے۔ بدنامی سے شہرت کا رشتہ تو جڑ سکتا ہے، مگر عزت کا نہیں۔
لطافت اور تہذیب
لیکن دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو معاشرے میں بہتری چاہتے ہیں، جو انسانی زندگی کو اور کاروبار کو بامقصد سمجھتے ہیں (Purpose Driven Business)۔ انہوں نے کاروبار کی بھی اخلاقیات بنائی ہیں۔
اچھی مارکیٹنگ، مہذب مارکیٹنگ وہ ہے جو انسان کی حیوانی جبلت کو نہیں، بلکہ اس کے "ذوق" کو ٹارگٹ کرے۔
میرے نزدیک حسن، فطرت، اچھے جذبات، ذہین مزاح، اور تجسس—یہ وہ چیزیں ہیں جو انسان کو اپنی طرف کھینچتی بھی ہیں اور اس کی عزتِ نفس کو مجروح بھی نہیں کرتیں۔
مارکیٹنگ اصل میں "کمیونیکیشن" کا نام ہے، اور کمیونیکیشن میں "پردہ" اور "لحاظ" ہی سب سے بڑی اخلاقیات ہے۔
اسے میں آپ کو دو بہت ہی بولڈ لیکن حقیقت پسندانہ مثالوں سے سمجھاتا ہوں کہ کس طرح "ضرورت" وہی ہوتی ہے، مگر بیان کرنے کا طریقہ "بازاری" یا "مہذب" ہو سکتا ہے۔
ایک مرد جس کو مردانہ کمزوری کا مسئلہ ہے یا وہ پوشیدہ امراض کا علاج کروانا چاہتا ہے۔ جب وہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے تو کیا وہ جاتے ہی یہ کہتا ہے کہ "اوئے ڈاکٹر! میرا لن بڑا کر دو؟"
نہیں! حالانکہ اس کی طلب یہی ہے، مگر وہ انسان ہے، جانور نہیں۔ وہ ایک "لحاظ" رکھ کر، شرماتے ہوئے، مہذب الفاظ کا چناؤ کر کے اپنی کیفیت بیان کرتا ہے۔ اور ڈاکٹر بھی آگے سے اسے بازاری زبان میں جواب نہیں دیتا بلکہ طبی اصطلاحات میں سمجھاتا ہے۔ یہی مارکیٹنگ کی بھی اخلاقیات ہیں۔
اسی طرح اگر ایک شادی شدہ خاتون، جسے کچھ جسمانی مسائل ہیں اور وہ ڈاکٹر سے "Vaginal Tightening" (نسوانی اعضاء کی تنگی) کا علاج کروانا چاہتی ہے۔ تو کیا وہ کلینک میں گھس کر چیخے گی کہ "ڈاکٹرنی میری ٹائٹ کر دو؟"
ہرگز نہیں! یہ گھٹیا پن ہے۔ وہ ڈاکٹر کے پاس جائے گی، اپنی تکلیف بتائے گی، وہ اسے "Post-Pregnancy Issues" (حمل کے بعد کے مسائل) یا "Rejuvenation" (بحالی) کا نام دے گی۔
ڈاکٹر جب اس کی مارکیٹنگ کرے گی تو وہ یہ نہیں لکھے گی کہ "آؤ ہم ٹائٹ کرتے ہیں" بلکہ وہ لکھے گی "خواتین کی صحت اور اعتماد کی بحالی"۔
دیکھا آپ نے؟ پروڈکٹ وہی ہے، ضرورت وہی ہے، جسم وہی ہے—مگر ایک طریقہ "طوائف" والا ہے اور دوسرا طریقہ "طبیب" والا ہے۔
ایک میں "ہوس" ہے، دوسرے میں "حل" ہے۔
ایک میں "نمائش" ہے، دوسرے میں "پوشیدگی" ہے۔
تو میرے بھائیو! بازار میں رہنے کے لیے ہنر چاہیے، ننگا ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ کے پاس پروڈکٹ میں جان ہے، اگر آپ کے پاس الفاظ کا چناؤ ہے، اگر آپ کے پاس مزاح اور ذہانت ہے، تو آپ کو گاہک متوجہ کرنے کے لیے بھونپو لگانے کی یا ننگا ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
گھٹیا مارکیٹنگ سروائیول والوں کی پہچان ہے۔ بیچاری طوائف مجبور ہوتی ہے کہ برے طریقے اختیار کرے تاکہ اسکے گاہک بڑھ سکیں۔ ۔ ۔ ریڑھی والا بھونپو لگا کر چیختا ہے تو اسکا سودا بکتا ہے۔ انکے لیے اخلاقیات کا لیکچر فضول ہے۔
البتہ جو لوگ معاشرے میں بہتری چاہتے ہیں۔ انسانی بھلائی کی بات کرتے ہیں۔ اس انسانی زندگی کو بامقصد سمجھتے ہیں انہوں نے کاروبار کی بھی اخلاقیات بنائی ہیں مارکیٹنگ کی بھی۔ سب اس پر عمل نہیں کرتے مگر اخلاقی کوڈ موجود ہے۔
میرے مطابق حسن، فطرت، اچھے جذبات، مزاح، اور تجسس جیسی چیزیں اچھی مارکیٹنگ میں استعمال ہوتی ہیں۔
اور جنسیت، مذہبیت، اور تعصب گھٹیا ترین مارکیٹنگ والے استعمال کرتے ہیں۔
فیصلہ آپ کا ہے کہ آپ اپنے گاہک کو "تماش بین" سمجھتے ہیں یا "ذیشعور انسان"۔
(نوٹ- یہ تحریر ان لوگوں کے لیے ہے جو کاروبار کو صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک فن سمجھتے ہیں۔)