14/06/2026
میں ایک ریاست آزاد جموں و کشمیر کا باشندہ ہوں۔
میرے پاس ایک شناختی کارڈ تو ہے، مگر مکمل شناخت، سہولتیں اور بنیادی حقوق نہیں۔
صحت کا نظام یہ ہے کہ ضلع کے بڑے ہسپتالوں تک میں MRI اور CT اسکین جیسی بنیادی سہولیات موجود نہیں۔ مظفرآباد جیسے مرکزی شہر میں بھی مریضوں کا بوجھ اتنا ہے کہ لوگوں کو ایبٹ آباد اور پنڈی ریفر کر دیا جاتا ہے۔
سڑکوں کی حالت یہ ہے کہ یہ ترقی نہیں، کھنڈرات کا نقشہ پیش کرتی ہیں۔ پرانی اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں آج بھی ہماری مجبوری ہیں۔
تعلیم کا حال یہ ہے کہ نوجوانوں کے لیے وسائل محدود ہیں، یونیورسٹیاں ناکافی ہیں، اور مستقبل کی راہیں دھندلی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ نوجوان روزگار کے لیے باہر جانے پر مجبور ہیں، اور وہاں بھی انہیں طعنے سننے پڑتے ہیں۔
ہم نے صرف بنیادی حقوق مانگے ہیں—روٹی، کپڑا، مکان، صحت، تعلیم اور عزت۔
ہم پرامن ہیں، اور پرامن طریقے سے اپنے حقوق کی بات کر رہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر ہمیں سننے کے بجائے ہم پر ہی سختی کیوں؟
کیا بنیادی حقوق مانگنا جرم ہے؟ کیا ہم اپنے لیے ایک بہتر زندگی چاہنا غلط ہیں؟میں ایک ریاست آزاد جموں و کشمیر کا باشندہ ہوں۔
میرے پاس ایک شناختی کارڈ تو ہے، مگر مکمل شناخت، سہولتیں اور بنیادی حقوق نہیں۔
صحت کا نظام یہ ہے کہ ضلع کے بڑے ہسپتالوں تک میں MRI اور CT اسکین جیسی بنیادی سہولیات موجود نہیں۔ مظفرآباد جیسے مرکزی شہر میں بھی مریضوں کا بوجھ اتنا ہے کہ لوگوں کو ایبٹ آباد اور پنڈی ریفر کر دیا جاتا ہے۔
سڑکوں کی حالت یہ ہے کہ یہ ترقی نہیں، کھنڈرات کا نقشہ پیش کرتی ہیں۔ پرانی اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں آج بھی ہماری مجبوری ہیں۔
تعلیم کا حال یہ ہے کہ نوجوانوں کے لیے وسائل محدود ہیں، یونیورسٹیاں ناکافی ہیں، اور مستقبل کی راہیں دھندلی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ نوجوان روزگار کے لیے باہر جانے پر مجبور ہیں، اور وہاں بھی انہیں طعنے سننے پڑتے ہیں۔
ہم نے صرف بنیادی حقوق مانگے ہیں—روٹی، کپڑا، مکان، صحت، تعلیم اور عزت۔
ہم پرامن ہیں، اور پرامن طریقے سے اپنے حقوق کی بات کر رہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر ہمیں سننے کے بجائے ہم پر ہی سختی کیوں؟
کیا بنیادی حقوق مانگنا جرم ہے؟ کیا ہم اپنے لیے ایک بہتر زندگی چاہنا غلط ہیں؟
عوامی ایکشن کمیٹی AJK.