04/12/2021
🌹🌹ایک عظیم علمی روحانی ہستی کا مختصر تعارف🌹🌹*
*صفات وکمالات*
(1): آپکی کی عمر مبارک 83 برس ہے۔
(2): آپ کے استاذہ میں مفتی اعظم سرحد مفتی شائستہ گل صاحب حضور محدث اعظم پاکستان ۔جامع المعقولات مولانا اللہ بخش تونسوی صاحب ۔شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفی الازہری صاحب اور ملک المدرسین علامہ عطا محمد بندیالوی رحمۃ اللہ علیھم جیسی عظیم ہستیاں شامل ہیں۔
(3):آپ کے مربی و استاذ آپ کے والدِ گرامی مفتی اعظم ( کے پی کے) مفتی شائستہ گل رحمہ اللہ ہیں جو کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالى کے شاگرد ہیں۔
(4):آپکی ساری زندگی درس وتدریس اور خدمتِ دین گزری اور گزر رہی ہے (بارک اللہ فی عمرہ)
(5): جن کا تدریسی تجربہ کم و بیش باسٹھ برس پر محیط ہے۔
(6):آپ مختلف علوم وفنون بالخصوص علم العقیدہ والکلام کے ماہر ہیں۔
(7): ہزاروں کی تعداد میں علما و مفتیان آپ کے شاگرد ہیں جو کہ ملک و بیرون ملک خدمتِ دین کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں-
(8): آپ کے علوم وفنون اور علم العقیدہ کی سند" علامہ فضل حق خیرآبادی، نظام الدین سہالوی، جلال الدین دوانی، سید شریف جرجانی، قاضی بیضاوی، امام رازی، امام غزالی، امام الحرمین الجوینی سے ہوتی ہوئی امام الائمہ امام ابو الحسن الاشعری" تک پہنچتی ہے۔
(9):فقہ میں آپ کی سند اعلى حضرت امام احمد رضا، مفتی مکہ مفتی عبد اللہ سراج، عبد الغنی النابلسی، حسن شرنبلالی، علامہ عمرابن نجیم صاحب النہر الفائق، علامہ ابن ِ ہمام، خبازی، قاری الہدایہ، بزدوی، حلوانی، امام محمد، امام اعظم ابو حنیفہ ، پھرصحابی رسول حضرت عبد اللہ بن مسعود کے واسطے سے نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ تک جاپہنچتی ہے۔
(10): آپ کا اندازِ تدریس انتہائی سہل,الفاظ نپے تلے,اور جس موضوع پر بھی کلام کرتے ہیں اس کے مالھا و ماعلیھا کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں چھوڑتے کمالِ حیرت یہ ہے کہ اتنی عمر کے باوجود حافظہ کمال درجے کا قوی ہے- آپ بغیر سہارا لیے اور کروٹ بدلے ایک ہی انداز میں دو دو تین تین گھنٹے تک تدرریس فرماتے ہیں۔
(11): طبیعت نہایت ہی سادہ ، تصنع وبناوٹ سے بے نیاز، عاجزی وانکساری کے پیکر، علم وعلماء کی دل سے قدرکرنے والے ہیں-
(12): طلبہ زمین پر بیٹھ کر پڑھیں تو خود بھی زمین پر بیٹھ کر پڑھانا پسند کرتے ہیں اور اوپر بیٹھنے کو طلبہ کی بے ادبی تصور کرتے ہیں۔
(13): فی الوقت جس کتاب کا درس دے رہے ہیں وہ کتاب محقق على الاطلاق علامہ کمال الدین ابن ہمام کی "المسایرہ" ہے جو علم العقیدہ والکلام میں متن کا درجہ رکھتی ہے۔
(14): اس ہستی کا نامِ نامی اسمِ گرامی: سلسلہ خیر آبادی وبندیالوی کے عظیم استاذ، بقیۃ السلف، ماہرِ علوم وفنون، امام المدرسین، جامع المعقول والمنقول حضرت علامہ مفتی فضل سبحان صاحب دامت برکاتھم العالیہ ہے۔
دعاگوہ۔
ابونصرمنصوراحمدرضوی قادری۔